اصلاح، مصلح، سماج اور تشدد

شمس الرب خان

اصلاح کا عمل تدریجی ہوتا ہے۔ ہر قسم کی اصلاح چاہے سماجی ہو یا مذہبی، تعلیمی ہو یا تہذیبی، سیاسی ہو یا معاشی یا کسی متعین خانہ میں فٹ بیٹھتی ہو یا نہ، اس کا اپنا ایک دورانیہ ہوتا ہے، جو وہ مکمل کر کے رہتی ہے۔
اصلاح کا دورانیہ مختصر ترین بھی ہو سکتا ہے اور طویل ترین بھی۔ اصلاح کی تاریخ میں ہر ایک دورانیے کی مثال ملتی ہے۔ کچھ اصلاحات ایسی ہوتی ہیں جو مختصر ترین وقت میں رونما ہو جاتی ہیں جبکہ کچھ اصلاحات ایسی ہوتی ہیں جن کے وقوع پذیر ہوتے ہوتے ایک عرصہ لگ جاتا ہے۔ عموما اول الذکر قسم کی اصلاحات وہ ہوتی ہیں جن کے تعلق سے سماج میں پہلے سے ہی آمادگی جنم لے لیتی ہے اور سماج انھیں اپنے بنیادی ڈھانچے کے خلاف نہیں سمجھتا، اسباب چاہے جو بھی ہوں۔ اس کے برعکس آخر الذکر قسم کی اصلاحات وہ ہوتی ہیں جن کے تعلق سے سماج میں آمادگی نہیں ہوتی اور جن کے وقوع پذیر ہونے کو سماج اپنے بنیادی ڈھانچے کے خلاف تصور کرتا ہے۔ اصلاحات چاہے جس قسم کی ہوں، ان کے لیے مصلح یا مصلحین کی موجودگی ناگزیر ہے۔ یہ مصلح یا مصلحین افراد بھی ہوسکتے ہیں اور جماعت بھی۔
مصلحین کی مخالفت ہر دور میں ہوئی ہے، کبھی کم تو کبھی زیادہ، کبھی خفیف تو کبھی شدید۔ ایسا بھی ہوتا ہے کہ ایک ہی مصلح کی مختلف اصلاحات کے تئیں سماج کا رویہ مختلف ہو، مطلب کبھی کم اور خفیف تو کبھی زیادہ اور شدید۔ سماجی رویہ کے اس اختلاف کے اسباب متعدد ہو سکتے ہیں، لیکن بنیادی سبب اس خاص اصلاح کے تعلق سے سماج کے تصور کی نوعیت ہی ہوتا ہے۔
میرا یہ ماننا ہے کہ مصلحین کا اصل امتحان سماج کے شدید مخالفانہ رویہ کے وقت ہوتا ہے۔ جب سماج کو یہ لگتا ہے کہ فلاں مصلح اس کے بنیادی ڈھانچہ پر ہی حملہ آور ہے تو ایسی صورت میں سماج کا ردعمل انتہائی شدید اور معاندانہ ہوتا ہے۔ اس صورتحال میں سماج نہ صرف اپنا سافٹ پاور بروئے کار لاتا ہے، بلکہ اپنا پورا ہارڈ پاور استعمال کرنے سے بھی نہیں ہچکچاتا۔ نتیجتا، ظلم وستم کی ایک نئی تاریخ رقم ہوتی ہے نیز مصلح اور اس کی جماعت کے جسمانی وجود کو شدید اور سنجیدہ نوعیت کے خطرات لاحق ہوتے ہیں۔
مصلح اور اس کی جماعت کو لاحق ہونے والے یہ شدید اور سنجیدہ نوعیت کے خطرات بظاہر مایوس کن ہوتے ہیں۔ لیکن اگر مصلح اور اس کی جماعت اس مرحلہ میں ایک بنیادی ناگزیر تدبیر پر مضبوطی کے ساتھ عمل پیرا رہ گئی، تو جلد یا بدیر ان کی جیت یقینی ہے۔ وہ بنیادی ناگزیر تدبیر یہ ہے کہ اس مرحلہ میں رد عمل کی نفسیات سے بچنا ہے اور اشتعال انگیزی کا جواب تحمل مزاجی سے، بد اخلاقی کا جواب حسن اخلاق سے اور تشدد کا جواب عدم تشدد سے دینا ہے۔ اگر اس مرحلہ میں سماجی رویہ کے جواب میں وہی رویہ اپنایا گیا تو اصلاح، مصلح اور اس کی جماعت سب کا قلع قمع ہونا طے ہے۔
یہ بنیادی ناگزیر تدبیر اختیار کرنے کے فوائد بہت زیادہ ہیں۔ اس تدبیر کے اختیار کرنے پر بادی النظر میں یہ محسوس ہوگا کہ مصلح اور اس کی جماعت شکست کھا گئی ہے، لیکن اس عمل کے نتیجہ میں پیدا ہونے والی زیریں لہریں طویل مدتی سطح پر اس شکست کو فتح مبین میں تبدیل کردیں گی۔
پر امن اور عدم تشدد پر عمل پیرا مصلح اور اس کی جماعت کے تئیں انتہائی پر تشدد رویہ اختیار کرنے والے سماج کے تعلق سے وسیع تر سطح پر پہلا پیغام یہ جائے گا کہ اس خاص سماج کے پاس مصلح کے دلائل کی کوئی توڑ نہیں ہے۔ مصلح کے دلائل مضبوط ہوں یا کمزور، سماج کے پاس ان کا توڑ ہو یا نہ ہو، لیکن کسی خاص مصلح کے تئیں سماج کا پر تشدد رویہ یہی پیغام دیتا ہے کہ اس کے پاس مصلح کے دلائل کا کوئی توڑ نہیں ہے۔ یہ مصلح کی پہلی اور اہم جیت ہوتی ہے۔
سماج کے تشدد کو سہتے ہوئے پر امن طور پر اپنے موقف پر ڈٹے رہنے والے مصلح کے تئیں دوسرا پیغام یہ جاتا ہے کہ اس کے پاس یقینا کوئی ایسی چیز ہے جو اتنی اعلی و ارفع ہے کہ ظلم و ستم سہنے کے باوجود اسے چھوڑا نہیں جا سکتا۔ یہ خاموش پیغام سماج کے اندر مصلح اور اس کی دعوت کے بارے میں تجسس پیدا کر دیتا ہے۔ یہ تجسس مصلح کی دوسری جیت ہوتی ہے۔
ایسے مصلح کے تئیں تیسرا رویہ جو سماج کے اندر پیدا ہوتا ہے، وہ ہے ہمدردی کا رویہ۔ ایک سماج کتنا ہی بے رحم کیوں نہ ہو جائے، کسی کو خاموشی کے ساتھ شب و روز ظلم و ستم سہتے ہوئے دیکھ کر اس کے دل میں جلد یا بدیر ہمدردی کے جذبات پیدا ہونا طے ہے۔ ایسا سماج کے ہر طبقہ کے درمیان ہوتا ہے۔ پھر ہر سماج میں بطور خاص ایک ایسا دبا کچلا طبقہ ہوتا ہے جو سماج کے غالب طبقہ سے متنفر ہوتا ہے۔ یہ دبا کچلا طبقہ اس ستم رسیدہ مصلح کو اپنا ہی حصہ سمجھ کر اس کے ساتھ ہمدردی کے جذبات رکھتا ہے۔ گویا سماج کا پر تشدد طرز عمل اور اس کے نتیجہ میں پیدا ہونے والے ہمدردی کے جذبات جلد ہی ستم رسیدہ مصلح کو ایک طبقے کا قائد بنا دیتے ہیں۔ سماج کے دیگر طبقات سے حاصل ہونے والی ہمدردیاں اس پر مستزاد ہوتی ہیں۔ گویا ایک پر تشدد سماج اپنے ہی ہاتھوں اپنے دفاع کا قلعہ ڈھا دیتا ہے۔
چوتھا پیغام جو پر امن مصلح کے تئیں سماج میں جاتا ہے، وہ ہے مصلح کا بلند اخلاق والا ہونا۔ کسی نقطہ نظر کو تشدد کے ذریعہ کچلنا اپنے آپ میں ایک شدید نوعیت کی بداخلاقی کا مظہر ہے۔ پھر اس پر مصلح کا جواب بھی بداخلاقی نہ ہو کر حسن اخلاق ہو، تو پر تشدد سماج کا اخلاقی دیوالیہ پن مکمل طور پر عیاں ہو جاتا ہے اور مصلح کو سماج کے اوپر یک گونہ اخلاقی فضیلت حاصل ہو جاتی ہے۔ یہ صورتحال مصلح کی جیت اور سماج کی شکست پر منتج ہوتی ہے۔
پانچواں پیغام جو تشدد کا جواب تشدد سے نہ دینے والے مصلح کے تئیں سماج میں جاتا ہے وہ ہے اس کا سماج کے بارے میں ہمدردی اور خیر خواہانہ جذبات کا حامل ہونا۔ میری مراد یہ ہے کہ تشدد پر آمادہ سماج کا جواب اگر تشدد سے دیا گیا تو سماج دو تشدد پر آمادہ گروہوں میں بٹ جاتا ہے۔ ہم سب اس سے واقف ہیں کہ سماج میں دو پر تشدد گروہوں کے ہونے کا مطلب ہے خانہ جنگی۔ خانہ جنگی چاہے چھوٹے پیمانہ پر ہو یا بڑے پیمانہ پر، اس کا مطلب ہوتا ہے سماج کی تباہی۔ اس پس منظر میں، جب مصلح تشدد کا راستہ اختیار نہیں کرتا ہے تو سماج میں ہونے والی ممکنہ خانہ جنگی کے لیے ناگزیر دو پر تشدد گروہ نہیں پائے جاتے ہیں۔ یہ فیصلہ عمومی طور پر سماج کو تباہی سے بچاتا ہے۔ سماج کے افراد جلد یا بدیر اس قربانی کے پیچھے چھپے ہمدردی کے جذبات کو محسوس کرتے ہیں اور نتیجتا مصلح کو اپنا سمجھتے ہوئے اس کی طرف کھنچے چلے آتے ہیں۔
یہاں یہ سوال اٹھنا لازمی ہے کہ عدم تشدد پر عمل پیرا رہنے کی یہ حکمت عملی لامحدود ہے یا محدود؟ میرے خیال سے اس کا جواب یہ ہے کہ یہ حکمت عملی لا محدود نہیں بلکہ محدود ہے۔ مصلح اور اس کی جماعت جب خود ایک سماج کی شکل اختیار کر لے تو اس کے لیے اپنے دفاع میں مناسب اور متناسب تشدد کا استعمال کرنا روا اور جائز ہو جاتا ہے۔ دراصل، کسی دوسرے سماج کا چھوٹا حصہ ہونے کی شکل میں عدم تشدد کا راستہ اپنانا اور خود ایک سماج کی شکل اختیار کر لینے کی صورت میں اپنے دفاع کے لیے تشدد کا استعمال کرنا دونوں کے پیچھے دفاع برائے بقاء ہی کا فلسفہ کام کرتا ہے۔ پہلی شکل میں اگر تشدد کا راستہ اپنایا گیا تو انتہائی چھوٹی سی جماعت اور بکھری ہوئی شکل میں ہونے کی وجہ سے تباہی لازمی ہے اور دوسری شکل میں اگر تشدد کے جواب میں عدم تشدد کا استعمال کیا گیا تو نوزائیدہ سماج کی صرف آزادی ہی نہیں بلکہ وجود کا بھی خطرہ میں پڑنا طے ہے۔ اس لیے تشدد اور عدم تشدد میں سے کوئی ایک ہی کلی اور دائمی حل کا راستہ نہیں ہے، بلکہ بدلتے ہوئے حالات کے مطابق بدلتی اسٹریٹجی میں دونوں کے لیے جگہ ہے۔

آپ کے تبصرے

avatar