کیرانا کے نتیجے پر مناقشہ اور مسلمان

ثناء اللہ صادق تیمی

میں ذاتی طور پر جمہوری ملکوں میں مذہبی تعصبات کی بنیاد پر ووٹنگ کے حق میں نہیں ہوں لیکن ظاہر ہے کہ یہ ایک آئیڈیل صورت حال کی کامنا کرنے جیسا ہی ہے کہ لوگ اپنے حقوق اور ذمہ داریوں کے تئیں اتنے سمجھدار ہو چکے ہوں کہ انھیں کسی قسم کا تعصب اپنی طرف نہ کھینچ سکے ۔ یوروپ کو اس کے علم ، شعور اور سماجی تفوق کے لیے جانا جاتا ہے لیکن وہاں بھی کم کم ہی تعصبات سے پیچھا چھٹ پاتا ہے ۔ہندوستان جیسے ملک میں جہاں مذہبی منافرت کو ہوا دے کر ایک پارٹی بہ آسانی صفر سے اٹھ کر زمام حکومت سنبھال سکنے کی پوزیشن میں آجاتی ہے وہاں مذہبی تعصبات کے بارے میں اندازہ لگایا جاسکتا ہے ۔ کیرانا کے ضمنی الیکشن میں تبسم حسن کی جیت کے بعد نیشنل ٹی وی چینلز پر جس طرح یہ سوال ابھارا جارہا ہے کہ کیا 2019 میں بی جے پی کا راستہ مسلمان روک دیں گے یا مودی کو مسلمان دوبارہ پی ایم نہيں بننے دیں گے ، اس نے میرے ذہن میں کئی سوالات کھڑے کردیے ہیں ۔
پہلی بات تو یہ ہے کہ اس قسم کے مناقشے کے پیچھے ایک واضح ذہن یہی ہے کہ ہندو ووٹروں کو متحد کیا جائے اور صورت حال ایسی بنائی جائے کہ وہ ہندوستانی ہونے کے بجائے ہندو ہو کر ووٹ کریں اور موجودہ حکومت میں انھیں جو کچھ جھیلنا پڑا ہے ، اسے مذہب کے نام پر نہ صرف جھیل لیں بلکہ دوبارہ اسے ہی منتخب کریں ۔ جب کہ سچائی یہ ہے کہ یہ جیت صرف مسلمانوں کی وجہ سے نہیں ہوئی ہے بلکہ اپوزیشن کے اتحاد سے بی جے پی کو شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے اور ہر طرف سے تبسم حسن کو سپورٹ ملا ہے ۔
دوسری بات یہ ہے کہ ہار تو اور کئی جگہوں پر ہوئی ہے لیکن پوری توجہ کیرانا پر اسی لیے ہے کہ یہاں سے فرقہ واریت کا زہر آسانی سے گھولا جاسکتا ہے ۔ کئی لوگ سوال کررہے ہیں کہ آخر مسلمان اتنے اتحاد سے بی جے پی کو شکست کیوں دینا چاہتے ہیں لیکن وہ بھول جاتے ہیں کہ مسلمانوں کی بیس فیصد آبادی والی ریاست اترپردیش میں بی جے پی نے ایک بھی مسلمان کو لوک سبھا یا ویدھان سبھا کے لیے ٹکٹ نہیں دیا ۔یہی نہیں بلکہ صاف طریقے سے بی جے پی نے یہ پالیسی بنائی کہ وہ ووٹروں کے بیچ ایک ایسی ہندو نیشنلسٹ پارٹی کی حیثیت سے جائے گی کہ جس کے حساب سے ہندوستان میں مسلمانوں کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے ۔ گجرات ، کرناٹکا کہیں بھی اس نے کسی مسلمان کو ٹکٹ نہیں دیا ۔
اس پر سے ایک اور چيز قابل ذکر یہ بھی ہے کہ وزیر اعظم مودی سے لے کر وزیر اعلی یوگی تک سب نے مسلم مخالف بیانات ضرور دیے ، فرقہ وارانہ ماحول بنانے کی کوشش ضرور کی اور کسی نہ کسی طرح ہندو اتحاد بمقابلہ مسلم اتحاد کا کارڈضرور کھیلا ۔
اس چار سال میں نہ جانے کتنے مسلمان گائے کا گوشت رکھنے کے شبہ میں مارے گئے ، نمازوں کو لے کر ہنگامہ کیا گیا ، مسلمانوں سےکہا گيا کہ وہ پاکستان جائیں اور اس قسم کے تمام تنازعات پر بی جے پی کے نیتاؤں نے دنگائیوں کا ساتھ دیا ، مسلم لڑکی کا ریپ ہوا تو اسے بھی صحیح ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ، کئی ریاستوں میں بی جے پی سے جڑے لوگوں نے علی الاعلان فرقہ وارانہ فساد کرانے کی کوشش کی جس کی تازہ مثال بہار ہےاور ان تمام معاملات پر سب کا ساتھ سب کا وکاس کا نعرہ دینے والے مودی جی نہ صرف یہ کہ خاموش رہے بلکہ کبھی در پردہ تو کبھی کھلے طور پر اسے ہوا دینے کا کام کرتے رہے ۔
سیدھا سا سوال یہ ہے کہ ایک ایسی کمیونٹی جسے آپ ستا میں ساجھیدار نہیں سمجھتے ، جسے آپ پوری طرح سائڈ لائن کرکے چلتے ہیں ، اسے زک پہنچانے کا کوئی راستہ نہیں چھوڑتے ، اس کی دانش گاہوں کو نشانہ بناتے ہیں ، اس کی شریعت میں مداخلت کی کوشش کرتے ہیں ، اس کے خلاف اکثریت کو بھڑکا تے ہیں ، ہر طرح کے تعصبات کا سہارا لے کر اسے بے دست و پا کرنے کی سازشیں رچتے ہیں ۔ اگر وہ کمیونٹی متحد ہوکر خود کو بچانے کے لیے کسی ایسے امیدوار کو جتانا چاہتی ہے جو کم از کم اس کے وجود کے لیے باضابطہ تھریٹ ( دھمکی ) کی حیثیت نہ رکھتا ہو تو اس میں برائی کیا ہے ؟
ہندوستان میں اقتدار تو مسلمانوں کا مسئلہ ہے ہی نہیں ۔ وہ تو ہر صورت میں کسی نہ کسی ہندو کا ہی ہے ۔ اس حقیقت کو سمجھنے کےلیے بہار ، یوپی ، راجستھان ، دلی ، بنگال ، آسام ، کیرالہ، کرناٹک یا کسی بھی ریاست کو سامنے رکھا جاسکتا ہے۔مسلمان کے لیے لے دے کے یہ رہ جاتا ہے کہ وہ کس کے سایے میں زيادہ سکون سے رہ سکتا ہے ، مواقع تو کسی کی جانب سے نہیں ملنے والے ۔ وہ تو ہر صورت میں اپنے ہاتھ کی قوت اور اپنے اللہ پر ہی بھروسہ رکھے گا لیکن سوال اس کے لیے یہی رہتا ہے کہ کون ہے جو اسے فرقہ وارانہ فسادات میں نہیں جھونکے گا ، کون ہے جو اس کی حب الوطنی پر ناجائز سوال نہیں اٹھائے گا ، کون ہے جو اس کی شریعت میں مداخلت کی ناروا کوشش نہیں کرے گا ، کون ہے جو اسے ایک عام شہری کے طور پر دیکھے گا ۔ حالانکہ اسے اس معاملے میں دوسری سیاسی پارٹیوں سے بھی تلخ تجربات ملے ہیں لیکن بہر حال کچھ نہ کچھ فرق تو ضرور رہا ہے ۔
ویسے ہندوتو وادی طاقتیں اپنی ایک سازش میں ضرور کامیاب ہیں کہ مسلمان ایک بڑی تعداد میں ہونے کےباوجود ہمیشہ دفاعی محاذ پر ہوتا ہے ، ڈرا ہوا سہما ہوا ، وجود کی لڑائی لڑرہا ۔ اسے ترقی ، بہتر روزگار ، اچھی تعلیم کے بارے میں سوچنے کا موقع مل ہی نہیں پاتا ۔ ویسے زياد ہ صحیح بات یہ بھی ہے کہ اس ذہنیت کو پروان چڑھانے میں نام نہاد سیکولر قوتوں کا ہاتھ زيادہ ہی رہا ہے ۔
میرے اپنے حساب سے اگر ایسا ممکن ہو پائے کہ مسلمان ہمیشہ ہی ایک مضبوط متحدہ محاذ بن کر ووٹ کرے اور پوری طرح منظم پلان کے تحت ووٹ کرے کہ کس کو جتانا ہے اور کس کو ہرانا ہے توخود مسلمانوں کی تقدیر بھی بدل سکتی ہے ( ویسے یہ ایک خواب ہی ہے کیوں کہ مسلمان جب بہت ڈرا ہوتا ہے تبھی متحد نظر آتا ہے اور جیسے ہی تھوڑی سی راحت ملتی نظر آتی ہے اس کے اتحاد کے غبارے سے ہوا نکل جاتی ہے ) لیکن اس کے باوجود اگر ایسا ہو پائے تو ابھی بھی وہ ہندوستان میں ایک باضابطہ قوت کی حیثیت رکھتا ہے ۔ مذہبی اور سماجی ہی نہیں سیاسی قوت کی بھی حیثيت رکھتا ہے لیکن اس کے لیے ضرور ی ہے کہ وہ خوف کی نفسیات سے نکلے ، اپنے لیے جینے کی بجائے دنیا کو کچھ دینے کے جذبے سے سامنے آئے ، وہ دشمن کے بچھائے ہوئے جال میں نہ پھنسے ، پڑھے لکھے اور سمجھدار لوگ سیاست سےجڑیں ،بہتر سماج کی تشکیل میں ہر طرح کے تعصبات سے اٹھ کر اپنی مضبوط حصہ داری نبھائے ، کمیونٹی بلڈنگ کے لیے تعلیم کو مضبوط پکڑے اور ہر محاذ پر آنکھیں کھولے ہوئے بیدار ذہن سے ڈٹا رہے ۔
اگر مسلم مخالف امیج کے ساتھ زمام حکومت سنبھالنے والے مودی کو اس بات کا احساس ہونے لگے کہ وہ مسلمانوں کو سائڈلائن کرکے پوری طرح کامیاب نہیں ہوسکتے اور وہ مسلمانوں کے بارےمیں کچھ اچھے ریمارکس دینے پر مجبور ہو جائیں تو اسے بھی مثبت ہی لینا چاہیے ، ٹھیک ہے کہ وہ ایسا کرکے اپنی سیاست ہی چمکانا چاہتے ہیں لیکن ایک مجبوری کا احساس تو انھیں بھی ضرور ہورہا ہے ۔ یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ ہم بحیثيت ایک امت کے بہر حال ہندوستان میں اتنے بھی کمزور نہیں ہیں کہ ہوا کا کوئی بھی جھونکا ہمیں لے اڑے ۔ ہنگامہ تو مت کیجیے لیکن اپنے اتحاد اور مثبت طرز عمل سے اپنے دشمن کو شکست دینے کی تیاری ہمیشہ کرتے رہیے ۔

3
آپ کے تبصرے

avatar
3 Comment threads
0 Thread replies
0 Followers
 
Most reacted comment
Hottest comment thread
3 Comment authors
samiullahnaseerNasimakhtaeرفیع الدین نجم الدین Recent comment authors
newest oldest most voted
رفیع الدین نجم الدین
Guest
رفیع الدین نجم الدین

ماشاء اللہ ۔
اچھا اور مفید مشورہ
کاش کہ ہندی مسلمان اس پر عمل پیرا ہوں
اللہ ہم سبھی کو اس کی توفیق بخشے

Nasimakhtae
Guest
Nasimakhtae

بہت اچھی اور مثبت رائے

samiullahnaseer
Guest
samiullahnaseer

ماشاءالله بهت خوب الله تعالى هم تمام مسلمانون كو متحد اور متفق كر دى