عوام کو معتبر و مستند علمائے دین سے قریب کیسے کریں؟

عوام کو معتبر و مستند علمائے دین سے کیسے قریب کیا جائے؟

بوالعزم کلیمی

کوئی بھی مکالمہ ہو یامباحثہ زیر بحث مسئلے یا طے شدہ ایجنڈے پر بات کرنے سے پہلے اس سے مستنبط یا منتج ہونے والے نکات کے دائرہ کار اور حلقہ نفاذ کی تعیین ہونی چاہیے۔ ورنہ ہر تفکیر فکرہ بازی اور ہر فکرمندی ذہنی ورزش تک محدود ہوکر رہ جائے گی۔ کیونکہ آئیڈیا چاہے جتنا اچھا ہو جب تک بوبکر وعلی صاحب آئیڈیا کے ساتھ مل کر اس کا ڈیمو نہ دکھائیں عمروعثمان کا سپورٹ نہیں ملتا۔(صلی اللہ علیہ وسلم ورضوان اللہ علیہم اجمعین)
ہر فکرے کی تنفیذ کا ایک لیول ہوتا ہے۔ سب سے پہلا لیول یہ ہوسکتا ہے کہ جو حضرات اس مکالمے میں حصہ لے رہے ہیں وہ اپنی حیثیت کے مطابق مذکورہ آئیڈیے کو عمل میں لائیں۔ عوام سے علماء کے کمزور رابطے کی تشخیص ہوئی ہے یعنی لازمی ہے یہ کمزوری دو طرفہ ہوگی۔ یہ سارے مباحثین حضرات عالم ہیں۔ اس مشن میں علماء کی جو ذمہ داری بنتی ہے اسے اداکریں ۔ نمونےکے طور پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت دیکھ لیں۔ ڈیمو کی کامیابی کے بعد یہ گنتی کے علماء بے شمار ہوجائیں گے۔
دوسرا لیول ہے عوام کی ذہن سازی کا۔ علماء کے اپنی ذمہ داری ادا کرنے کی وجہ سے کچھ عوام خود ہی علماء سے ویسے رابطے میں آجائے گی جیسا رابطہ مطلوب ہے۔ اور جو باقی بچیں گے علماء سے استفادے کے اصول وضوابط ان سے منوانا اور حسب احتیاج عمل کروانا اس فکرے کا دوسرا لیول ہے۔ اس کو نتیجہ خیز بنانے کے لیے پاور کی ضرورت ہے۔ کیونکہ اس کا تعلق اپنی ذمہ داری کی ادائیگی سے نہیں دوسروں پر عائد ہونے والی ذمہ داریوں سے ہے۔ یہ پاور اس وقت ہمارے ملک ہندوستان میں “جمعیت اہل حدیث” کے پاس ہے ۔دوسرے لیول کے لیے سب سے مناسب اسٹیج یہی ہے۔ اس کے باوجود پلان بی ہونا بہت ضروری ہے۔ اگر کسی وجہ سے دوسرے لیول کا کام “جمعیت” سے نہیں ہوتا ہے تو مذکورہ فکرے کے حاملین علماء محض اسی کام کے لیے اپنی ایک الگ ٹیم بنائیں اور پھر اس کا نفاذ کریں۔

(ایڈیٹر)


مکالمہ:

“عوام کو معتبر و مستند علمائے دین سے کیسے قریب کیا جائے”

مرتب: بوالعزم کلیمی

دبستان اردو ایک علمی گروپ ہے، جس میں مختلف صلاحیتوں کے اہل علم اکٹھا ہیں اور اس میں دلچسپ موضوعات پہ سنجیدہ، علمی اور پختہ گفتگو ہوتی ہے، جو عصری تقاضوں کے عین مطابق ہوتی ہے۔ ہماری خواہش تھی کہ یہ گفتگو محفوظ ہوتی رہے تاکہ آئندہ نسلوں کے لیے چراغ راہ ثابت ہو، چنانچہ اس دیرینہ خواب کی تکمیل اور عزم کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ہم نے اسے موقع بہ موقع مرتب کرنےکا فیصلہ کیا ہے۔ جو گفتگو یہاں ہم نشر کرنے جارہے ہیں اس کا مرکزی عنوان تھا:”عوام کو معتبر و مستند علمائے دین سے کیسے قریب کیا جائے”

اس میں ہمارے جن فاضل احباب نے قابل ذکر شرکت درج کرائی وہ ہیں:
سرفراز فیضی
راشد حسن مبارکپوری
شعبان بیدار
ابواشعر فہیم
عبدالغفار سلفی

ذیل کی سطور میں حاضر ہے وہ گفتگو……………. 

سرفراز فيضی:
عوام کو معتبر علماء سے کیسے قریب کیا جائے اس کا نسخہ کیا ہے؟
علماء کے مراتب ہوتے ہیں ، لیکن عوام ان کے مراتب سے واقف ہے نہ ہی اس کا فرق کرتی ہے بلکہ مراتب تو بعد کی بات ہے عوام سرے سے عالم غیرعالم کا بھی فرق نہیں جانتی۔

راشد حسن مبارکپوری:
اس کے بہت سے حل ہوسکتے ہیں۔اس پہ کھل کر گفتگو ہونی چاہیے، میں باقاعدہ شروع کرتا ہوں:
جماعت کی طرف سے تمام شہروں میں ایک مرکزی دارالافتاء قائم کیا جائے، جس میں معتبر اہل علم کو شامل کیا جائے اور عوام میں اس کی اہمیت عام کی جائے، بتایا جائے یہی علمائے دین ہیں جن سے شریعت کے مسائل معلوم کیے جائیں۔اس طرح ہر شہر، ہر مقام اور ہر جگہ کے علماء عوام کی نظر میں آجائیں گے اور لوگ ان سے قریب ہوں گے۔

سرفراز فيضی:
سعودی عرب کی طرز پر ملکی سطح پر ایک “ھیئۃ کبار العلماء” کا گٹھن کیا جائے۔

راشد حسن مبارکپوری:
معتبر اہل علم کے ذریعہ دورہ تدریبہ کا اہتمام کیا جائے جس میں شہر کے لوگوں کو علماء سے براہ راست استفادہ کا موقع دیا جائے، اور ہٹو بچو کی روایت ختم کی جائے۔

سرفراز فيضی:
افتاء کے اہل علماء کے وقفے وقفے سے افتاء کی مجلسیں رکھی جائیں جن سے عوام استفادہ کریں۔
غیر مستند، غیر معتبر اور غیر منہجی لوگوں کی بلیک لسٹ جاری کرنی چاہیے اور عوام کو آگاہ کرنا چاہیے کہ ان سے علم حاصل نہ کریں۔

راشد حسن مبارکپوری:

نام جاری کرنے کے بجائے ان کو تنبیہ کی جائے کہ آپ فتوی نہیں دے سکتے، خاص طور سے بردرس کو …فتوی کا جو سرکل ہے وہ سرکل اتنا مضبوط ہو کہ کسی کی دراندازی ممکن ہی نہ ہو۔

سرفراز فيضی:
مدارس میں افتاء کا کورس الگ سے پڑھایا جائے۔

راشد حسن مبارکپوری:

معتبر علماء جو مدارس میں تدریس کے فرائض انجام دے رہے ہیں ان سے گزارش کی جائے کہ وہ عوام سے قریب ہوں، اس کی مختلف شکلیں ہوسکتی ہیں، مدارس کی چہار دیواری میں قید ہوکر نہ رہ جائیں، لیکن اس کے لیے ذمہ داران مدارس کو راضی کرنا پڑے گا اور وہ راضی نہیں ہوں گے۔
اسی طرح جلسوں کی فرسودہ روایت ختم کرکے عوام کے ذہنوں میں دروس کی اہمیت کو اجاگر کیا جائے اور اس کے لیے ہر خطہ میں علماء تیار کیے جائیں۔

سرفراز فيضی:
قوم کے مطالعے کا ذوق بڑھایا جائے، پڑھنے سے معیار بڑھتا ہے۔اور نوجوانوں کے لیے مختلف علمی کورس رکھے جائیں۔

راشد حسن مبارکپوری:

مرکز سے علماء کے فون نمبرات جاری کیے جائیں کہ عوام فتوی کے لیے ان سے رابطہ کریں۔ ہر جگہ، ہر خطہ میں اس کا اہتمام مرکز کرائے۔البتہ وقت متعین ہو، ہر عالم کی سہولت کے حساب سے۔

سرفراز فيضی:
نوازل پر فوری طور پر آفیشیل موقف آجائے۔جیسے نوٹ بندی اور خواتین ریلی وغیرہ کے موقع پر عوام پریشان تھی کہ جماعت کا موقف کیا ہے۔

راشد حسن مبارکپوری:

جن مسائل میں علماء مختلف ہوں، ایک علمی مباحثاتی پروگرام کے ذریعہ اتفاق کی کوشش ہو اور اسے عوام میں جاری کردیا جائے۔
مثال کے طور پر ایک اہم مسئلہ ہیرا گولڈ کا ہے اس میں ایک بڑی تعداد انوالو ہے اور یہ کوئی وقتی مسئلہ نہیں۔

سرفراز فيضی:
اتفاق نہ بھی ہو تو ایک موقف عوام کے سامنے رکھا جائے جو مضبوط ہو اور جن کو اختلاف ہو وہ بھی عوام کے سامنے اختلاف سے گریز کریں۔

راشد حسن مبارکپوری:

عوام میں اہل علم یہ روایت عام کریں کہ مسئلہ فلاں سے ہی پوچھا جائے اور اس فلاں کا تعین مرکز سے ہو۔

سرفراز فيضی:
مرکزی مساجد میں دار القضاء کا قیام ہو۔

راشد حسن مبارکپوری:

یہ روایت بھی عام کی جائے کہ جہاں کے عوام ہوں وہیں کے علماء فتوی دیں، مثلا دہلی کے لوگ دہلی کے علماء سے، اور ممبئی کے لوگ ممبئی کے علماء سے۔
اور اس دارالقضاء کو اتنا مؤثر بنایا جائے کہ لوگ اس کے پاس آنے کو مجبور ہوجائیں مثلا وکیلوں کو رکھ کر حکومت سے جوڑ دیا جائے اور حکومت ایسے اداروں کو اپنی شرائط کے ساتھ منظوری دینے میں تامل نہیں کرتی کہ ان کا کام آپ کررہے ہیں۔
علماء کو عوام سے جوڑنے کے حوالے سے ایک اہم بات یہ کہ طلبہ کا مزاج دعوتی بنایا جائے، اس کے لیے دعوتی کورسز معاون ہوں گے، ساتھ دعوتی سرگرمیوں میں طلبہ کو شریک کرکے بھی…
ہندوستان کے تمام مدارس کے فضلاء میں جامعہ دارالسلام عمرآباد کے فضلاء کو اس حوالے سے تفوق وامتیاز حاصل ہے، ان کا مزاج بنانے میں دیر اس لیے نہیں لگتی کہ وہ دیندارانہ مزاج رکھتے ہیں اور مخلصانہ کام کا داعیہ زیادہ -ویسے نظر اپنی اپنی ،مزاج اپنا اپنا

ابواشعرفہیم:

ہم جب مدرسے کا کورس سونگھ کر نکلے تو جانتے ہی نہیں تھے کہ یہ “اہل حدیثیت اور سلفیت ” کیا ہوتی ہے اور کیا فرق ہے منہج میں۔ہم جانتے تھے کہ آمین، رفع الیدین اور حنفیوں سے جھگڑا کرنے کا نام اہل حدیث ہونا ہے۔بعد میں پتہ چلا کہ مسئلہ تو کچھ اور ہی ہے۔

سرفراز فيضی:
سلفی منہج بطور مضمون پڑھانا چاہیے کم از کم آخری دو سالوں میں

ابواشعرفہیم:

اگر جماعت اہل حدیث کی تاریخ اور منہج محدثین پہلی جماعت سے لے کر فضیلت تک بطور نصاب نہیں پڑھایا جائے گا ہمارے نوجوان تحریکیت کا شکار ہوں گے، وحید خانی بنیں گے، تبلیغ سے متاثر ہوں گے، کچھ خالص غیر مقلد ہوجائیں گے جو زیادہ تیز ہوں گے وہ خارج قسمت ہوجائیں گے۔افسوس نصاب بنانے والے اس سے بے نیاز ہیں

راشد حسن مبارکپوری:

ہم اس موضوع پہ بھی اظہار خیال کرسکتے ہیں کہ منہج کے نصاب کے مشمولات کیا کیا ہوں، یہ بہت اہم چیپٹر ہے جس پہ کھل کر ڈسکشن ہونا چاہیے، آیئے ہم آغاز کرتے ہیں

سرفراز فيضي:
پچھلے کچھ سالوں میں ایسے نوجوان فارغین سے ملاقات ہوئی جن کا مزاج تکفیری قسم کا تھا۔جبکہ یونیورسٹی کا رخ کرنے والے بہت سارے طلبہ بآسانی اعتزال اور عقلانیت سے متاثر ہوجاتے ہیں۔

راشد حسن مبارکپوری:

اس سے زیادہ وہ طلبہ ہیں جن کا کوئی منہجی رخ ہی نہیں ہوتا… پہلے میرا خیال تھا کہ منہج کے لیے بجائے اس کے کہ باقاعدہ نصاب ہو اساتذہ دوران تدریس ان کا منہجی رخ متعین کرسکتے ہیں، لیکن اب جی چاہتا ہے اس کے لیے ایک نصاب تیار ہو جو دوسالہ ہو پہلا حصہ عالمیت کے لیے دوسرا فضیلت کے لیے…

عبدالغفار سلفی:
موجودہ دور کے فتنوں کو دیکھتے ہوئے یہ اشد ضروری ہے کہ ہم مدارس میں عقیدہ کی اہم کتابوں کے ساتھ ساتھ منہج پر بھی کچھ بنیادی کتابیں داخل نصاب کریں۔ ان کا مقصود صرف طلبہ کو مختلف قسم کے غیر منہجی فتنوں سے بچانا ہی نہیں ہے بلکہ اس لائق بھی بنانا ہے کہ جب وہ فراغت کے بعد فیلڈ میں اتریں تو ان فتنوں سے عوام کو بچانے کی بھی صلاحیت رکھیں۔
عوام میں اہل علم کی صحیح قدر و منزلت نہ ہونے کا ایک اہم سبب یہ بھی ہے کہ دعوتی میدان میں بھی ہمارے کبار علماء زبان و بیان کے سلسلے میں اپنی مخصوص علمی سطح سے نیچے اترنا نہیں چاہتے۔ کم پڑھی لکھی عوام جو صرف اچھا بولنے والوں کو بڑا عالم مانتی ہے وہ ایسے علماء کی علمی منزلت کو سمجھ ہی نہیں پاتی، نتیجتاً جو بول لیں وہی فتوے بھی دینے لگتے ہیں اور پھر…

شعبان بيدار:
ایک سبب اور ہے ضمنی اور جزئ سہی اور کم سہی مگر ہے…. ہمارے بہت سے علماء جنھیں کسی قدر فارغ البالی حاصل ہے وہ عوام میں دروس دینا ان میں دعوت کا کام کرنا ایک جھنجھٹ بھی سمجھتے ہیں…. پھر ان میں سے کچھ نے تو علمی مصروفیات اختیار کر رکھی ہیں مگر بوسیدہ قسم کی جس کی علمی اور عوامی دنیا کو ضرورت نہیں یا اس پر کام پہلے سے ہے… اور کچھ کی وہ بھی مصروفیت نہیں… اب جب کوئی جھنجھٹ سمجھے تو عوام کی سطح تک اترے کیوں۔

3
آپ کے تبصرے

avatar
3 Comment threads
0 Thread replies
0 Followers
 
Most reacted comment
Hottest comment thread
3 Comment authors
عطا رحمانیفیروز عبدالوکیلعبدالله عين الحق Recent comment authors
newest oldest most voted
عبدالله عين الحق
Guest
عبدالله عين الحق

بہت بہترین مکالمہ پیش کیا گیا ہے ـ اس علمی و اصلاحی مکالمہ میں شرکت کرنے والے تمام علما کو اللہ جل شانہ اجر عظیم عطا کرے. مکالمہ کے درمیان شیخ ابو اشعر فہیم حفظہ اللہ کی باتیں بہت اچھی لگئیں، انہوں نے مدارس کے نصاب تعلیم میں” اہل حدیثیت و سلفیت” کے تعارف کے تعلق سے جو مشورہ دیا وہ قابل تعریف و لائق عمل ہے..،اہل حدیث و سلفی فارغین کا اس باب میں معرفت بالکل غیر معتبر ہوتی ہے، بہت سارے متخرجین کو یہ بھی نہیں معلوم ہوتا ہے کہ اہل حدیثیت و سلفیت کی حقیقت کیا ہے..؟… Read more »

فیروز عبدالوکیل
Guest
فیروز عبدالوکیل

Quote from the Holy Quran, Al-Baqara (2:30) وَإِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلَائِكَةِ إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً ۖ قَالُوا أَتَجْعَلُ فِيهَا مَنْ يُفْسِدُ فِيهَا وَيَسْفِكُ الدِّمَاءَ وَنَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَنُقَدِّسُ لَكَ ۖ قَالَ إِنِّي أَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُونَ And when thy Lord said unto the angels: Lo! I am about to place a viceroy in the earth, they said: Wilt thou place therein one who will do harm therein and will shed blood, while we, we hymn Thy praise and sanctify Thee? He said: Surely I know that which ye know not. Quote from the Holy Quran, Al-Baqara (2:33) قَالَ يَا… Read more »

عطا رحمانی
Guest
عطا رحمانی

اسی طرح کسی عالم کو اپنے علاقے کے علاوہ کسی دور دراز کے علاقے میں جا کر اختلافی مسائل میں اپنی رائے نہیں رکھنی چاہیے. بل کہ وہاں کے عوام کو اسی شہر کے علماء کی طرف رجوع کرنے کے لیے بولنا چاہیے. تا کہ اختلافِ رائے کی صورت میں انتشار پیدا نہ ہو اور اس شہر کے عوام کا اپنے علماء پر اعتماد باقی رہے. پھر اگر مجبوری میں جواب دینا ہی پڑ جائے تو اس نئے شہر کے علماء کی موافقت کی کوشش کرنی چاہیے.