رمضان کا غریب مسلمان اور جذبہ خیر کا بحران

رمضان کا غریب مسلمان اور جذبہ خیر کا بحران

رشید سلفی

 

امیری و غریبی اللہ کی طرف سے ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے تقسیم دولت کا یہ فرق نہ رکھا ہوتا تو نظام زندگی فساد در فساد کی زد میں ہوتا۔ امیری کے آنگن میں عیش و طرب، خوشی و مسرت، فرحت و انبساط، فخر و مباہات، نخوت و رعونت، کبر و انانیت کا بسیرا ہوتا ہے اور غریب کی زندگی محتاجگی و مفلسی، حسرت و ارمان، بھوک و پیاس، فاقہ وبیماری، بے بسی و مجبوری، محتاجگی ولا چاری، محرومی و مقہوری کے خارزار میں بسر ہوتی ہے۔ امیر دولت دنیا کے ذریعہ خوشیوں کی آخری منزل کو چھو لینا چاہتا ہےاور غریب لطف ومسرت کے ادنی موقع کے لیے بھی ترستا رہ جاتا ہے۔ ہزار محرومیوں کی مار سہتے ہوئے بھی غریب زبان حال سے یہی کہتا ہے:
خوشی جہاں میں بہت ہے ہمارے گھر نہ سہی
ملول کیوں رہیں دنیا کے انتظام سے ہم
یہ سچ ہے کہ غریبوں کی ڈھارس بندھانے اور ان کی اشک شوئی کے لیے ایک سے بڑھ کر ایک حاتم زمانہ پڑے ہیں لیکن ہمدردیاں وبہی خواہیاں صرف زبانی جمع خرچ تک محدودہوتی ہیں۔ اگر کہیں ہمدردی و بہی خواہی کا پر جوش اقدام نظر آرہا ہے تو سمجھ لینا کہ پس پردہ اس اقدام کا ڈانڈا کہیں نہ کہیں مفادات سے جڑا ہوا ہے۔ کیا آپ نے سوشل میڈیا اوراخبارات میں امیر وغریب کی تصویر کو خیرات کے سامانوں کے ساتھ نہیں دیکھا؟ کیا چاول کی ایک چھوٹی سی بوری کے ساتھ شرمندہ شرمندہ سا بوڑھا سراپا احتجاج نظر نہیں آتا؟ وہ مسکین کیمرے کے سامنے شدت احساس سے پگھل جانا چاہتا ہے لیکن دل کو کڑا کرکے فوٹو کھنچوا لیتا ہے کہ چند دنوں کے لیے آتش شکم سے نجات جو مل جائے گی۔ جی ہاں یہ سارا ڈھونگ “نیکی کر فیسبک پر ڈال” کا عملی مظاہرہ ہوتا ہے اور بس۔ کیا کیجیے گا؟ غریبی دراصل نام ہی ہے تذلیل کا رسوائی کا جگ ہنسائی کا۔ امیروں کو کسی کے جذبات اور احساسات سے کیا سروکار؟ امیری کا تو اصول ہی یہ ہے کہ بھوکوں مرو یا تو ہمارے ساتھ سیلفی دے کر ہماری سخاوت کا اشتہار بن جاؤ۔ مرتا کیا نہ کرتا۔احساس تو اس وقت ہوا جب پورے سال ہر ملنے جلنے والے نے طعنہ دیا کہ تمھاری تصویر فیسبک اور واٹسپ پر بہت گھوم رہی تھی۔ وہ تم راشن مانگنے گئے تھے ناں۔ اس مسکین کو کیا پتہ تھا چند کلو اناج کے لیے اتنی بڑی قیمت چکانی پڑے گی۔ غریبی تو پورے سال درد دیتی ہے لیکن رمضان میں یہ ظالم جان ہی نکال لیتی ہے۔ رمضان کثیر اخراجات کا مہینہ ہے، انواع و اقسام کی نعمتوں سے لطف اندوز ہونے کا مہینہ ہے۔ جہاں امیروں کا دستر خوان نگاہوں کو خیرہ کردیتا ہے وہیں غریبوں کا بوسیدہ دسترخوان اپنی بے سروسامانی پر ماتم کناں ہوتا ہے۔ وہ جو عام دنوں میں اچھے کھانوں کی حسرت اور پھلوں سے شادکام ہونے کی خواہش دل میں دبا کر رکھتے تھے وہ رمضان میں بھلا افطار کے لیے ادنی تکلف کا بار کیسے اٹھا سکتے ہیں۔ ہاں کبھی ہمت کرکے بازار میں گئے بھی تو مطلوبہ رقم نہ ہونے کے سبب نیم سڑے ہوئے پھلوں کو سستے داموں میں خرید کر دل کو تسلی دے لیا۔ وہ سڑے ہوئے پھل جو کسی کو بھی بیمار کرنے کے لیے کافی ہوتے ہیں۔ غربت کے سایوں سے دور عیش و طرب کے شبستانوں میں داد عیش دینے والوں کو غموں کی دنیا کے ان مکینوں کی خبر بھی نہیں ہوتی اگر ہو بھی جاتی ہے تو اپنی افطار پارٹی میں بلاکر ایک دن لذت کام ودہن کا سامان کردیا جاتا ہے اور چند تصویریں بھی لے لی جاتی ہیں تاکہ سند رہے۔یہ کیسی ستم ظریفی ہے کہ صرف ایک دیوار کے فاصلے پر زندگی کس طرح الگ الگ فرق کے ساتھ رواں دواں ہے۔ ایک طرف سادہ پانی کے چند گلاسوں کے ساتھ حلق میں اٹکنے والا روایتی کھانا اوردوسری طرف گھر اور بازار کی گوناگوں نعمتوں سے  بوجھل دستر خوان جو معدے کی بھوک سے زیادہ شوق ونگاہ کی تسکین کے لیے ہوتا ہے۔ غریبی کی دکھوں کی کہانی یہیں پر دم نہیں توڑ دیتی بلکہ غربت اور کہاں کہاں خوار ہوتی ہے اور کیسے گھٹ گھٹ کر جیتی ہے یہ ایک لمبی داستان درد و غم ہے۔ کیسا لگے گا جب ایک پردہ نشین خاتون آپ سے آکر یہ کہے: بھائی آپ اپنے گھر کا بچا ہوا افطار ہمارے گھر دے دینا میرے بچے کھالیں گے پھینکنا نہیں۔ ذرا تصور کیجیے! اس جملے کے پردے میں کسمپرسی اور بے بسی کی کتنی ان کہی داستانیں پوشیدہ ہیں۔ کیا یہ سن کر آپ کو جھرجھری نہیں آئے گی۔ آپ کا دل ملول نہیں ہوگا۔ فرط غم میں آپ کا پورا وجود سرد نہیں پڑ جائے گا؟
سوال یہ ہے کہ کیا ہمارے جذبہ ایثار کی ترقی معکوس اب باقی بچے کھانوں اور اترن پر ہی گزارہ کر رہی ہے؟ ہماری بے حسی و بے مروتی اس سے زیادہ کی توقع کی اجازت نہیں دیتی؟ یہی نہیں بلکہ ایسے روزہ دار بھی دنیا میں ہیں جنھیں رمضان میں بھی فاقہ کشی کی زندگی گزارنی پڑتی ہے۔ نہ تو ڈھنگ کی سحری میسر ہے اورنہ سلیقے کا افطار۔
صومالیہ کا ایک مسلمان مفتی حرم سے پوچھتا ہے کہ اگر ہم لوگوں کو سحری اور افطار میں کچھ میسر نہیں اور بغیر اس کے ہم روزہ رکھ لیا کریں تو کیا ہمارا روزہ صحیح ہوگا؟ یہ سوال نہیں تھا بلکہ غریبوں کی مصیبتوں کا ایک تڑپا دینے والا دکھڑا تھا۔ امام حرم سے رہا نہ گیا سوال کا جواب دینے کے بجائے دامن سے اپنے آنسو پوچھنے لگے۔پھر وہ لمحہ بھی کیسا عجیب ہوتا ہوگا جب غریب کا ننھا بچہ ماں سے کہتا ہوگا کہ امی سب کے یہاں کپڑے تو خریدے جاچکے ہیں۔ عید کی تیاریاں مکمل ہوچکی ہیں۔ ہمارے لیے کپڑے کب آئیں گے؟ ہماری خریداری کب ہوگی؟ سنا تو یہ بھی گیا کہ کتنے ہیں جو پیسے لے کر روزانہ بازار جاتے ہیں لیکن ہوشربا مہنگائی میں ناکافی پیسوں کی وجہ سے خالی ہاتھ واپس آجاتے ہیں اور اسی طرح عید آجاتی ہے لیکن نئے کپڑوں کی حسرت دل ہی میں کہیں دفن ہوجاتی ہے۔ رمضان کی شاپنگ بھی کیسی جان لیوا ہوتی ہے غریب زچ ہوکر یہ بھی کہہ بیٹھتا  ہے کہ رمضان آتا ہی کیوں ہے؟ ہمارے زخموں کو ہرا کرنے۔ عید آتی ہی کیوں ہے؟ ہماری محرومیوں میں اضافہ کرنے۔ ایک سرد آہ نکلی جب ہم نے سنا کہ ایک سونار کی دکان پر برقع پوش خواتین کو دیکھ کر کہنے والے نے کہا کہ دیکھو مسلمانوں کے پاس کتنا پیسہ ہے کہ رمضان میں اور اس مندی کے دور میں زیورات خرید رہی ہیں۔ تحقیق کرنے پر معلوم ہوا کہ وہ خواتین رمضان و عید کے اخراجات پورے کرنے کے لیے اپنا سونا بیچنے آئی تھیں زیورات خریدنے نہیں۔
دل کو خون خون کردینے والی اور بھی زندہ مثالیں ہیں جنھیں تحریر کرکے لوگوں کی عید ورمضان کا مزہ کرکرا نہیں کرنا چاہتا۔ رمضان کو لذت کام و دہن کا مہینہ بنانے والو! صرف رمضانی شوق اور چونچلوں پر لاکھوں روپیہ اڑادینے والو!! اپنی زندگی کے خودساختہ حصار سے باہر بھی جھانک کر دیکھو، ذرا انسانیت کے درد کو اپنے دل پر محسوس کرو۔ رمضان کے بھوک و پیاس کے ذریعے رب کے پیغام انسانیت کا ادراک کرو، شاید تمھاری ہمدردی سے کسی غریب کے لبوں کی مسکان لوٹ آئے۔ کوئی کمھلایا اور مرجھایا ہوا چہرہ تروتازہ ہوجائے۔ کسی کا بجھا ہوا چولہا روشن ہوجائے۔ کسی کے آنگن میں خوشیوں کے پھول کھل اٹھیں۔ افسردہ زندگیاں مسکرانے لگیں۔وہ عظیم الشان ذات جس نے دنیا کو رحم ومروت ہمدردی وبہی خواہی کادرس دیا تھا۔ وہ ہمارے اور آپ کے رسول تھے جو عید کے دن ایک مفلوک الحال یتیم کو دھول اور مٹی سے اٹھا کر گھر لے گئے اور اسے اپنی خوشیوں میں اس طرح شامل کرلیا کہ وہ اپنے سارے غم بھول گیا۔ وہ علی کرم اللہ وجہہ ہی تو تھے جو عید کے دن پھٹے پرانے کپڑوں میں ملبوس نظر آئے تو پوچھا گیا آپ عید کے دن پرانے کپڑوں میں؟ جواب دیا مجھے شرم آتی ہے کہ میں نئے اور زرق و برق لباس زیب تن کروں اور مدینہ کے بازاروں میں کچھ غریب پھٹے پرانے کپڑوں میں گھوم رہے ہوں۔ کیا سلف کی ایثار و فداکاری کی یہ روایتیں ہمارے کردار کا عنوان بنیں گی یا پھر تاریخ کے اوراق میں گم ہوجائیں گی؟
اگر شام و فلسطین کے مظلوم مسلمانوں پر مگرمچھ کے آنسو بہانے اور اعداء اسلام کے خلاف زبانی جہاد سے اور رنگ بدلتی ملکی سیاست اور تجارت پر تبادلہ خیال سے فرصت ملے تو پڑوس میں نان شبینہ کے محتاج قسمت کے ماروں پر بھی توجہ مبذول کر لیاجائے شاید کہ دل کے خاموش تاروں میں کچھ حرکت پیدا ہوجائے۔

2
آپ کے تبصرے

avatar
2 Comment threads
0 Thread replies
0 Followers
 
Most reacted comment
Hottest comment thread
2 Comment authors
شمس الرب خانراشد حسن مبارکپوری Recent comment authors
newest oldest most voted
راشد حسن مبارکپوری
Guest
راشد حسن مبارکپوری

بہت خوبصورت مضمون
اللہ کرے زور قلم اور زیادہ

شمس الرب خان
Guest
شمس الرب خان

رلا دیا آپ نے! واقعی یہ ہماری بے حسی کی انتہا ہی ہے کہ ہم ان مفلوک الحال لوگوں کو دیکھتے ہیں، ان کے پاس سے یونہی گزر جاتے ہیں اور پھر اپنی دنیا میں مست ہو جاتے ہیں۔ منبر و محراب سے شب و روز ادھر ادھر کے مختلف ہوائی موضوعات پر گرجنے برسنے والے ہم بے عملوں کو مساجد کے دروازوں پر کھڑے یہ غریب مسلمان نظر نہیں آتے؟ ان کے لیے ہم قولی و فعلی طور پر کیا کر رہے ہیں؟ اسلام نے زکوٰۃ کا نظام اسی لیے قائم کیا تھا تاکہ غریبوں کی مالی کفالت ہو… Read more »