مشتاق احمد یوسفی

مشتاق احمد یوسفی; کچھ آج بوئے کفن دامن بہار میں ہے

ریاض الدین مبارک

آخر ‘شام شعر یاراں’ کے خالق کی بھی شام ڈھل گئی اور طنز و مزاح کا صاحب طرز ادیب لوگوں کو پانچ مجموعوں کا ایسا نادر تحفہ دے کر رخصت ہوگیا جسے پڑھتا پڑھتا قاری ہنس کر گزار دے یا اسے رو کر گزار دے!
متحدہ ہندوستان کی دھرتی سے اگنے والا جو روشن آفتاب ضیاپاشی کرتا ہوا دیار غیر میں جا ڈوبا وہ کوئی اور نہیں مشتاق احمد یوسفی ہے۔ اردو کا یہ مایہ ناز اور معروف ظرافت نگار اپنی عمر کی 95 بہاریں گزار کر بدھ کے روز بتاریخ ۲۰ جون ۲۰۱۸ کو اپنے خالق حقیقی سے جا ملا۔

مشتاق احمد یوسفی ہندوستان کی ریاست راجستھان کے مشہور شہر ٹونک میں چار ستمبر 1923 کو پیدا ہوئے، کچھ دنوں جے پور میں تعلیم حاصل کی پھر سینٹ جانس کالج آگرہ سے فلسفے میں ایم اے کی ڈگری حاصل کی اور اس کے بعد علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے ایل ایل بی پاس کیا۔ بعد ازاں ہندوستانی پبلک سول سرویسیز (پی سی ایس) کا امتحان پاس کرکے 1950 تک ہندوستان میں ڈپٹی کمشنر کے پوسٹ پر کام کرتے رہے۔ تقسیم کے وقت چونکہ یوسفی صاحب کے اقرباء پاکستان ہجرت کرچکے تھے اس لیے وہ بھی 1950 میں ہجرت کرکے پاکستان چلے گئے اور کراچی شہر میں سکونت اختیار کر لی۔ ذریعہ معاش کے طور پر ایک بینک میں ملازمت شروع کردی جہاں وہ مختلف عہدوں پر عرصے تک کام کرتے رہے۔ مشتاق یوسفی لندن بھی گئے اور وہاں وہ گیارہ سال تک مقیم رہے۔ عمر کے اس ڈھلان پر وطن عزیز کی یاد ستانے لگی اور 1990 میں کراچی لوٹ آئے۔
مشتاق احمد یوسفی نے کچھ رسالوں میں مضامین لکھ کر اپنے ادبی سفر کا آغاز کیا پھر انہی مضامین کو اکٹھا کرکے ان کے نوک پلک کو سنوارا اور اس طرح ان کا پہلا مجموعہ ‘‘چراغ تلے” ادبی دنیا کے کینوس پر نمودار ہوا۔ پھر یکے بعد دیگرے “خاکم بدہن”، “زرگزشت”، “آب گم” اور ”شام شعرِ یاراں” جیسی لاجواب کتابیں شائع ہوتی رہیں۔
مشتاق یوسفی کی ظرافت نگاری کی خوشبو ان کی کتابوں میں ہر جگہ ایسے بسی ہوئی ہے کہ ورق کھولتے ہی خوشبو بھبھک کر آپ کے مسام جاں کو معطر کردے۔ ان کے اسلوب کی براقی کا ہر کوئی ثنا خواں ہے، ان کا طرز نگارش ایسا اچھوتا ہے کہ قاری پڑھتا جائے اور ذوق وشوق میں لوٹ پوٹ ہوتا رہے یہاں تک کہ کمال فن پر فدا ہوجائے۔
مشتاق احمد یوسفی کی تحریر کا انداز دوسرے مزاح نگاروں سے بالکل الگ ہے یہی وجہ ہے کہ ان کی تمام کتابیں اپنی مزاحیہ چاشنی کے ساتھ قاری کو مسحور کردیتی ہیں اور وہ یوسفی کی پرلطف رو میں بہتا ہوا ان کا گرویدہ ہوجاتا ہے۔ مشتاق یوسفی نے اپنی ان کتابوں میں انشائیہ، خاکہ، آپ بیتی اور پیروڈی سب کچھ سمو لیا ہے اور ان سب میں اپنے کمال فن سے جو دلنشیں روانی پیدا کی ہے وہ قابل تحسین ہے۔
واضح رہے کہ اس فنکار نے سماج کو بہت قریب سے دیکھا تھا، ملکوں کی تقسیم اور ہجرت کے کرب کو از خود محسوس کیا تھا اور شاید یہی وجہ ہے کہ ان کی تحریروں میں سماجی اقدار اور یاد ماضی کا عکس صاف نظر آتا ہے جبھی تو وہ گزرے ہوئے زمانے کو یاد کرکے نوسٹلجیا کا شکار دکھائی دیتے ہیں۔ ٹھیک اسی طرح وہ قاری کو بھی ماضی کے جھروکوں سے تاریخ کی جھلکیاں دکھاتے رہتے ہیں اور اپنی سحر آفرینی سے دلوں کو مسخر کرلیتے ہیں۔
اپنی تخلیقات کے ذریعے مشتاق احمد یوسفی نے اردو ادب میں جو گراں قدر خدمات پیش کی ہیں انہی کار ہائے نمایاں کو سراہتے ہوئے حکومت پاکستان نے ‘ستارۂ امتیاز’ اور ‘ہلال امتیاز’سے نوازا اور ان کی بھر پور عزت افزائی کی۔
مشتاق احمد یوسفی نے اپنے قلم کی جولانیوں کو مہمیز دے کر اردو زبان کے مزاحیہ ادب کو نہ صرف فروغ دیا بلکہ اس کے پیچ دار گیسووں کو درست کیا اور اسے بام عروج پر پہنچایا۔ انھوں نے ان نگارشات میں سماجی مسائل، سیاست، مذہب اور دیگر شعبہ ہائے حیات میں پائی جانے والی خامیوں کو ہدف بنا کر بھر پور طنز کیا اور اس طرح سماجی بے راہ روی کو آشکارا کیا۔
ان کی کتاب “آب گم” ظرافت نگاری کا ایسا شاہکار ہے جس میں یوسفی نے جگہ جگہ اپنے مختلف کرداروں کے ذریعے معاشرے کی ان سچائیوں کو بے نقاب کیا ہے جو سماج کے لیے ناسور بن چکی ہیں۔ رشوت خوری کے تعلق سے مکالماتی انداز میں ان کا مضمون ‘‘اسکول ماسٹر کا خواب”، “کار کابلی والا اور الہ دین بے چراغ” جس میں ایک کھٹارا کار اور ان پڑھ پٹھان وغیرہ پر مشتمل داستان اور اس کے علاوہ دیگر مضامین صرف داستان نہیں بلکہ فکشن اور سچے واقعات کا دلآویز مرقع ہیں۔
یوں تو ‘داستان امیر حمزہ’ اور ‘فسانۂ عجائب’ میں اردو مزاح نگاری کے انمٹ نقوش دیکھے جاسکتے ہیں لیکن یہ بھی ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ ان داستانوں کے مزاح میں تمسخر، پھکڑپن اور ابتذال کی آمیزش غالب ہے، بعد کے دور میں کچھ بہتری آئی لیکن دور جدید میں اس صنف میں کافی سدھار پیدا ہوا اور معیاری مزاح نگاروں کی طویل فہرست دکھائی دینے لگی جس میں ایک طرف شوکت تھانوی، فرحت اللہ بیگ، پطرس بخاری، رشید احمدصدیقی اور کرنل محمد خان کے نام قابل ذکر ہیں تو دوسری طرف اس عہد کا سب سے نمایاں مزاح نگار مشتاق یوسفی کا نام سر فہرست ہے۔ مشتاق یوسفی اپنی تحریروں میں ظرافت کے تمام رنگوں سے پینٹ کرتے ہیں تاکہ اس فن کے تمام اسالیب اور اس کی ساری خوبیاں قاری کے مشاہدے میں آسکیں۔ ان میں بذلہ سنجی، شگفتگی، برجستگی، شیفتگی، ندرت خیال، متناسب الفاظ کا بر محل استعمال، واقعات کی تصویر کشی وغیرہ احسن درجے میں موجود ہیں۔
مشتاق یوسفی کی “زرگشت’’ اور ‘‘آب گم’’ کا اگر ان کی پہلی دو کتابوں ‘‘چراغ تلے’’ اور ‘‘خاکم بدہن’’ سے موازنہ کریں تو اوّل الذکر دونوں کتابوں کے مشمولات زیادہ پراثر اور سحر انگیز ہیں۔ کچھ نقادوں نے ان کی آخری کتاب “شام شعر یاراں” پر تیکھا نقد کیا ہے لیکن سچ تو یہ ہے کہ یہ کتاب بھی ان کی دوسری کتابوں کی طرح اپنے آپ میں ایک نمایاں مقام رکھتی ہے اور قاری کو کسی درجہ مایوس نہیں کرتی۔
قصہ مختصر یہ کہ مشتاق احمد یوسفی ایک شخص نہیں ایک ادارہ نہیں ایک انجمن نہیں بلکہ ایک عہد کا نام ہے جس کی داستان حیات تقریباً ایک مکمل صدی پر محیط ہے جو اپنے ہمعصروں کو ہنساتا رلاتا یہ کہتا ہوا پیوند خاک ہوگیا کہ
مدتوں رویا کریں گے جام و پیمانہ مجھے !!

حوالہ جات:
چراغ تلے– مشتاق احمد یوسفی
خاکم بدہن – مشتاق احمد یوسفی
زرگزشت – مشتاق احمد یوسفی
آب گم – مشتاق احمد یوسفی
شام شعر یاراں – مشتاق احمد یوسفی
— صاحب طرز ظرافت نگار مشتاق احمد یوسفی -ایک مطالعہ، ڈاکٹر مظہر احمد
— مشتاق احمد یوسفی کی مزاح نگاری پر لکھے گئے مختلف مضامین

آپ کے تبصرے

avatar
3000