مولانا عبدالوہاب خلجی

آہ! مولانا عبدالوہاب خلجی

سہیل انجم

میں نے 13 اپریل 2018 کو دوپہر کے وقت مولانا عبد الوہاب خلجی صاحب کے بیٹے جناب محمد کو فون کیا۔ ان سے مولانا کے بارے میں دریافت کیا اور یہ جاننا چاہا کہ کیا وہ اب بھی اسپتال میں ہیں؟ انھوں نے بتایا کہ نہیں وہ اب گھر آ گئے ہیں۔ میں نے پوچھا کیسے ہیں؟ انھوں نے جواب دیا کہ اچھے نہیں ہیں۔ میں نے کہا کہ کیا میں کل دن میں گیارہ بجے آکر مولانا سے مل سکتا ہوں یا ان کو دیکھ سکتا ہوں؟ انھوں نے کہا کہ ہاں ہاں کیوں نہیں۔ آپ ضرور آئیے۔ میں اسی روز جانا چاہتا تھا لیکن اس روز دہلی اردو اکادمی کے دفتر میں ایک اہم میٹنگ تھی جس میں میری حاضری ضروری تھی، لہٰذا میں وہاں چلا گیا۔ شام کو گھر آیا تو معلوم ہوا کہ خلجی صاحب کا تین بجے کے بعد انتقال ہو گیا ہے۔ دل و دماغ کو شدید دھچکہ لگا۔ میں خود کو ملامت کرتا رہا کہ آج ہی کیوں نہیں چلا گیا۔ پھر رات تک مختلف احباب سے فون پر تبادلہ خیال ہوتا رہا جن میں نوائے اسلام کے مدیر محبی و مکرمی مولانا عزیز عمر سلفی صاحب قابل ذکر ہیں۔ انھوں نے خلجی صاحب کے انتقال پر انتہائی دکھ درد اور رنج و غم کا اظہار کیا۔ اس حوالے سے جمعیت و جماعت کے تعلق سے کافی دیر تک رنجیدہ قسم کی گفتگو ہوتی رہی۔ انھوں نے خلجی صاحب کے انتقال کو جماعت کا ایک زبردست خسارہ قرار دیا۔
یہ معلوم ہو جانے پر کہ اگلی صبح دس بجے ان کی تدفین ہے اور نماز جنازہ وہیں دریا گنج کے پٹودی ہاو س ہی میں واقع اونچی مسجد کے زیر سایہ ادا کی جائے گی، اگلی صبح میں سوا آٹھ بجے ان کے گھر پہنچ گیا۔ وہاں پہلے سے ہی بہت سے احباب جماعت موجود تھے۔ جماعت کے سرکردہ عالم دین شیخ صلاح الدین مقبول احمد صاحب نے، جو کہ خلجی صاحب کے گہرے دوستوں میں تھے، نماز جنازہ پڑھائی۔ پہلے اعلان کیا گیا تھا کہ ان کی تدفین دہلی گیٹ کے قبرستان میں ہوگی۔ لیکن پھر انھیں قوم پنجابیان کے قبرستان میں دفن کرنے کا فیصلہ کیا گیا جو صرف پنجابی مسلمانوں کے لیے مخصوص ہے۔ وہاں ایک بار پھر نماز جنازہ ادا کی گئی۔ اس بار ان کے بیٹے محمد نے نماز پڑھائی۔ وہ ایک بہت بڑا قبرستان ہے اور وہاں کئی نامی گرامی ہستیاں مدفون ہیں۔ تدفین میں لاتعداد افراد نے شرکت کی۔ دہلی کے بھی اور بیرون دہلی کے بھی۔ مولانا عزیز عمر سلفی صاحب نے ایک گوشے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ وہیں شیخ الکل سید نذیر حسین محدث دہلوی بھی مدفون ہیں۔ حسن اتفاق، اسی گوشے میں خلجی صاحب کو بھی دفن کیا گیا۔ اب وہاں قبروں کے نشانات مٹ گئے ہیں۔ زمین برابر ہو گئی ہے۔
خلجی صاحب ادھر کافی دنوں سے صاحب فراش تھے۔ شوگر لیول بہت بڑھ گیا تھا۔ دل کا بھی عارضہ تھا اور فالج نے بھی حملہ کر دیا تھا۔ 30 مارچ کو جامعہ ملیہ اسلامیہ میں ایک پروگرام کے بعد جب میں دہلی کے سرکردہ وکیل اور جماعت اہلحدیث کے ایک اہم فرد جناب فیروز غازی ایڈوکیٹ کے ساتھ نماز مغرب کی ادائیگی کے بعد باہر نکلنے لگا تو وہیں شعبہ اسلامک اسٹڈیز جامعہ ملیہ میں استاد ڈاکٹر جنید حارث صاحب مل گئے۔ انھوں نے کہا کہ میں آپ کو آپ کے گھر تک چھوڑ دیتا ہوں۔ لاکھ منع کرنے کے باوجود وہ نہیں مانے۔ ان کی گاڑی سے میں ذاکر نگر تک آیا۔ مختلف موضوعات پر گفتگو ہوئی۔ لیکن سوئے اتفاق خلجی صاحب کی کوئی بات نہیں آئی۔ دو روز کے بعد ایک اخبار میں خلجی صاحب کی خبر مع تصویر شائع ہوئی۔ جس سے معلوم ہوا کہ انھیں گوڑ گاو ں کے آرٹیمس اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ اس سے قبل انھیں دہلی گیٹ پر واقع جی بی پنت اسپتال میں داخل کیا گیا تھا۔ لیکن وہاں کوئی افاقہ نہیں ہو رہا تھا۔ تصویر میں ڈاکٹر جنید حارث بھی تھے۔ میں نے ان کو فون کیا۔ انھوں نے بتایا کہ وہی ان کو گوڑ گاو ں کے اسپتال میں داخل کرکے آئے ہیں اور اب پھر دیکھنے جائیں گے۔ میں نے ان سے درخواست کی کہ وہ جب بھی جائیں تو مجھے ضرور لے چلیں۔ اتفاق دیکھیے کہ ڈاکٹر جنید حارث ہی ان کی تدفین میں شریک نہیں ہو سکے۔
ہوا یوں کہ انہی تاریخوں میں مولانا مطیع الرحمان صاحب کے ادارے توحید ایجوکیشنل ٹرسٹ کشن گنج بہار کے تحت وہاں قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے تعاون سے12 اور13 اپریل کو دو روزہ بین الاقوامی سمینار منعقد ہو رہا تھا۔ جس میں شیخ صلاح الدین مقبول احمد اور ڈاکٹر جنید حارث سمیت متعدد علما و ادبی شخصیات شریک ہو رہی تھیں۔ (اسی موقع پر اردو کونسل کی جانب سے وہاں 7 سے 15 اپریل تک ایک کتاب میلہ بھی لگا تھا۔) شیخ صلاح الدین صاحب کا پہلے سے واپسی کا پروگرام تھا اس لیے وہ تدفین میں پہنچ گئے تھے۔ یہاں یہ ذکر غیر مناسب نہیں ہوگا کہ آرٹیمس اسپتال کے اخراجات کا انتظام مولانا مطیع الرحمن صاحب نے کیا تھا۔
مولانا عبد الوہاب خلجی صاحب سے میرے تعلقات اسی وقت سے تھے جب میں مستقل طور پر دہلی آگیا تھا۔ اردو بازار جامع مسجد پر واقع جمعیت اہلحدیث کے دفتر جمعیت منزل میں ہماری خاصی آمد و رفت تھی۔ ایک تو جماعتی وابستگی اور دوسرے ہمارے علاقے کے ایک عالم دین مولانا ابوالوفا صاحب کی جمعیت میں بحیثیت داعی تقرری۔ وہ جمعیت منزل کے ایک کمرے میں رہائش پذیر تھے۔ میں ان سے ملنے جایا کرتا تھا۔ یہ غالباً 1990 ءکی بات ہے۔ خلجی صاحب جمعیت اہلحدیث کے ناظم عمومی کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے تھے۔ اب یہ تو یاد نہیں کہ کس نے ان سے ملاقات کرائی تھی لیکن ان کے دفتر میں ہونے والی پہلی ملاقات آج تک ذہن کے پردے پر نقش ہے۔ ملاقات کرانے والے نے ہم لوگوں کی جماعتی وابستگی کے بارے میں تو بتایا ہی، ساتھ ہی ہمارے والد حضرت مولانا حامد الانصاری انجم کے بارے میں بھی بہت سی باتیں ان کے گوش گزار کی تھیں۔
انھیں جب اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی معلوم ہوا کہ میں اردو کا صحافی ہوں تو وہ بہت خوش ہوئے اور انھوں نے یہ خواہش ظاہر کی میں ‘‘جریدہ ترجمان’’ میں مستقل لکھا کروں۔ اس وقت اس کے ایڈیٹر سینئر صحافی جناب سلیمان صابر صاحب تھے۔ وہ روزنامہ قومی آواز سے سبکدوش ہو چکے تھے اور ترجمان کی ادارتی ذمہ داری نبھا رہے تھے۔ خلجی صاحب نے ایک طرح سے مجھے حکم دیا کہ میں ہر شمارے میں لکھوں۔ اس وقت ترجمان میں ایک مستقل کالم ‘‘آئینہ ایام’’ شائع ہوتا تھا جسے سلیمان صابر صاحب لکھا کرتے تھے۔ خلجی صاحب نے ان سے کہا کہ اب یہ کالم سہیل انجم لکھیں گے۔ میں نے وہ کالم شروع کر دیا۔ خلجی صاحب نے میرے پہلے کالم پر ایک بہت اہم نوٹ نگایا اور میرے بارے میں لکھا کہ یہ جماعت کے ایک نوجوان صحافی ہیں اور اب یہ کالم یہی لکھا کریں گے۔ انھوں نے اس نوٹ کے ذریعے میری بڑی قدرافزائی کی۔ میں نے کافی دنوں تک لکھا۔ لیکن چونکہ اس وقت میں نیا نیا صحافت کے میدان میں آیا تھا اس لیے میری تحریر بڑی ناپختہ تھی۔ یہ الگ بات ہے کہ ہر نئے صحافی کی مانند میں بھی خود کو صحافت کا طرم خاں سمجھتا تھا۔ چند کالموں کے بعد سلیمان صابر صاحب نے بوقت ضرورت قلم چلانا اور ایڈٹ کرنا شروع کر دیا۔ کوئی ایکادھ کالم شائع بھی نہیں ہوا۔ بس اسی بات پر میں نے کالم بند کر دیا۔ بعد میں صحافتی تجربات سے اندازہ ہوا کہ اس قسم کی تراش خراش مضمون کو بہتر بنانے کے لیے ناگزیر ہوتی ہے اور یہ کوئی ضروری نہیں کہ کسی کی ہر تحریر شائع ہی ہو۔ اخبارات کی بہت سی مجبوریاں بھی ہوتی ہیں۔ لیکن میری ناتجربہ کاری کی وجہ سے سلیمان صابر صاحب کی یہ ادا مجھے پسند نہیں آئی۔ جب کئی شمارے میں میرا کالم نہیں چھپا تو ایک ملاقات میں خلجی صاحب نے پوچھ لیا۔ میں خاموش تھا۔ کیا جواب دیتا۔ انھوں نے از راہ شکایت یہ بات کہی اور بجا طور پر کہی کہ جناب ہم نے آپ کے بارے میں اتنا اچھا نوٹ لگایا تھا اور آپ نے لکھنا بند کر دیا۔ بات آئی گئی ہو گئی۔ کچھ دنوں کے بعد سلیمان صابر صاحب کا بھی انتقال ہو گیا اور مولانا ابوالوفا صاحب کو بھی فارغ کردیا گیا۔ ویسے جریدہ ترجمان کو میں پہلے سے ہی پسند کرتا تھا اور اس کی وجہ اس کے سابق مدیر جناب بدر عظیم آبادی کا اداریہ تھا۔ ان کا انداز بہت شگفتہ تھا۔ مجھے ان کا اداریہ بہت پسند تھا۔ اس وقت بھی میں جمعیت منزل جایا کرتا تھا۔ مولانا عزیز عمر سلفی صاحب کے ساتھ میں جامعہ نگر کے غفور نگر میں واقع ان کی رہائش گاہ بھی جا چکا تھا۔
خلجی صاحب نے ان دنوں موری گیٹ پر ‘‘دار العلمیہ’’ نام سے ایک اشاعتی ادارہ قائم کیا تھا۔ لیکن وہ کامیاب نہیں ہو سکا اور بعد میں انھیں اسے بند کر دینا پڑا۔ پھر ان کو جمعیت کی نظامت سے سبکدوش کر دیا گیا۔ ماہنامہ نوئے اسلام کے مئی 2018 کے شمارے میں شائع مولانا عزیز عمر سلفی کے اداریہ کے مطابق خلجی صاحب کو 1987 میں قائم مقام ناظم اعلیٰ بنایا گیا تھا۔ 1990 میں انھیں ناظم عمومی بنایا گیا۔ ‘‘اس طرح خلجی صاحب کے پاس جمعیت کی نظامت اور دفتر میں مستقل قیام کی مدت 17 سال رہی’’۔ ان کے دور نظامت میں ‘‘حرمت حرمین کنونشن’’ کا انعقاد کیا گیا اور حفظ قرآن و احادیث کے مسابقے شروع ہوئے۔
رفتہ رفتہ خلجی صاحب سے میری ملاقاتوں کا سلسلہ بڑھتا گیا۔ پہلے وہ بلی ماران میں رہتے تھے۔ میں وہاں بھی جاتا رہا۔ انہی دنوں انھوں نے دریا گنج کے پٹودی ہاوس میں ایک فلیٹ لے لیا۔ اس وقت میں سابق ایم پی و سابق سفارتکار جناب م۔ افضل صاحب کے اخبار ‘‘اخبار نو’’ سے جزوی طور رپر وابستہ تھا۔ اس کا دفتر بھی وہیں پٹودی ہاوس آ گیا تھا۔ لہٰذا خلجی صاحب سے ملاقاتیں تواتر سے ہونے لگیں۔ میں اسی علاقے میں واقع ‘‘چھوٹی مسجد’’ میں ظہر کی نماز ادا کرتا تھا۔ ایک روز خلجی صاحب بھی اسی مسجد میں مل گئے۔ کہنے لگے کہ چونکہ اس میں پون بجے نماز ظہر ہوتی ہے اس لیے میں اسی میں پڑھتا ہوں۔ وہ مجھے اپنے گھر لے گئے۔ چائے وغیرہ تواضع کی اور آتے رہنے کی ہدایت دی۔
جب بھی اخبار نو میں میرے پاس وقت ہوتا میں ان کو فون کرتا۔ اگر وہ گھر پر ہوتے تو ان سے ملنے چلا جاتا۔ ہمارے ایک مشترکہ دوست مولانا عبد اللہ مدنی جھنڈا نگری جب دہلی آتے تو عموماً ان کے گھر ہی قیام کرتے۔ وہ جب وہاں قیام کرتے تو میں بھی جاتا اور پھر گھنٹوں گفتگو کا سلسلہ رہتا۔ دوپہر کے وقت کھانا بھی وہیں کھایا جاتا۔ اخبار نو کے مینیجنگ ایڈیٹر اور میرے کرم فرما جناب مودود صدیقی صاحب کو جب خلجی صاحب سے میرے تعلقات کا علم ہوا تو انھوں نے کہا کہ وہ ان سے ملنا چاہتے ہیں۔ میں ایک روز ان کو لے کر ان کے گھر گیا۔ کافی دیر تک باتیں ہوتی رہیں۔ ایک بار مولانا عبد اللہ مدنی صاحب بیمار پڑ گئے۔ وہ بھی عارضہ قلب اور شوگر کی زیادتی میں مبتلا تھے۔ غالباً گوڑ گاو ں سے علاج کراکے واپس آئے اور خلجی صاحب کے گھر انھوں نے قیام کیا۔ مجھے فون کیا اور میں اگلی صبح وہاں پہنچ گیا۔
ایسے مواقع بار بار آتے رہے۔ میری کوئی نئی کتاب آتی تو مجھے ان کے گھر جانے کا ایک بہانہ مل جاتا۔ ہمارے چھوٹے بھائی ڈاکٹر شمس کمال انجم کی ہمارے والد صاحب پر کتاب ‘‘نقوش جاوداں’’ اور پھر میری کتاب ‘‘انجم تاباں’’ آئی تو میں نے یہ دونوں کتابیں ان کی خدمت میں پیش کیں۔ نقوش جاوداں ختم کرنے کے بعد انھوں نے شمس کمال کو فون کیا اور بتایا کہ میں نے آپ کی کتاب پوری پڑھ لی ہے۔ ان دونوں کتابوں سے انھیں ہمارے والد کے بارے میں خاصی معلومات ہوئیں۔ مولانا عبد اللہ مدنی صاحب سے ہمارے گھریلو مراسم رہے ہیں۔ انھوں نے بھی ہمارے والد صاحب کی جماعتی خدمات کے بارے میں ان کو بہت کچھ بتایا۔ پھر وہ مجھ سے بہت زیادہ محبت کرنے لگے تھے۔ اکثر کہتے کہ اپنے بچوں کو لے کر آو ۔ ہمارے بچے ان سے مل کر بہت خوش ہوں گے۔ لیکن اس کا کوئی اتفاق ہی نہیں ہو سکا۔ حالانکہ وہ اپنی تقریبات میں مجھے بھی بلایا کرتے تھے۔ 2017ءمیں جب عالمی یوم اردو کی جانب سے ہمارے والد پر خصوصی مجلہ شائع کیا گیا اور پھر اس سے قبل 2015ءمیں جب شیخ الاسلام مولانا ثناءاللہ امرتسری پر مجلہ شائع ہوا تو ان دونوں کو دیکھ کر وہ بہت خوش ہوئے تھے۔ چونکہ امرتسری اور ان کا ایک ہی صوبے سے تعلق تھا اس لیے انھوں نے امرتسری پر خصوصی مجلے کو کافی پسند کیا۔ بزرگ صحافی محفوظ الرحمن صاحب کا انتقال ہوا تو میرے پاس ان کا فون آیا۔ انھوں نے کہا کہ میں محفوظ صاحب کو تو پڑھتا رہا ہوں البتہ ان سے میری ملاقات نہیں تھی۔ ان کے انتقال سے مجھے بڑا صدمہ پہنچا ہے۔ انھوں نے تدفین وغیرہ کے بارے میں پوچھا اور پھر تراہا بہرام خاں کی اس مسجد میں آئے جہاں نماز جنازہ ہونی تھی۔ اتفاق سے انھوں نے ہی نماز جنازہ پڑھائی۔
مولانا عبد اللہ مدنی صاحب جھنڈا نگر نیپال میں اپنے ادارے میں سال میں کئی کئی پروگرام منعقد کرتے تھے۔ وہ اپنے تمام دوستوں کو، بشمول خلجی صاحب، مدعو کرتے۔ میں بھی اکثر و بیشتر ان کے پروگراموں میں شریک ہوتا رہا ہوں۔ کئی سال پہلے کی بات ہے۔ ایک پروگرام کے بعد اگلے روز ناشتے کے بعد دو گاڑیوں میں ہم لوگ وہاں سے واپس آرہے تھے۔ مولانا عبد اللہ مدنی اور مولانا خلجی صاحب کو ڈومریا گنج ضلع سدھارتھ نگر کے ایک پروگرام میں پہنچنا تھا جس میں جناب سید حامد وغیرہ بھی شرکت کر رہے تھے۔ مولانا مدنی صاحب کا گھر بالکل ہند نیپال سرحد کے قریب ہی ہے۔ ہم لوگ جب سرحد پر پہنچے تو وہاں کچھ نوجوان پولیس والے تعینات تھے۔ وہ سب کا سامان چیک کر رہے تھے۔ انھوں نے ہم لوگوں کی بھی گاڑی روکی اور سامان چیک کرنے لگے۔ ان میں سے ایک پولیس والا زیادہ تیز طرار تھا۔ وہ ہم لوگوں کو آگے جانے نہیں دے رہا تھا۔ اتنے میں دوسری گاڑی بھی آگئی جس میں خلجی صاحب موجود تھے۔ وہ لوگ گاڑی سے اتر آئے۔ انھوں نے پولیس والے سے پوچھا کیا بات ہے کیوں نہیں جانے دے رہے ہو۔ اس کے بعد جو پنجابی میں اس کو جھاڑا ہے تو وہ بری طرح بوکھلا گیا۔ اس نے ان کا لمبا قد، گورا چٹا چہرہ، شلوار قمیض اور سر پر اونچی مخملی ٹوپی اور فراٹے سے پنجابی بولتے دیکھا تو اس نے پتا نہیں کیا سمجھا کہ فوراً وہاں سے بھاگ لیا۔ وہاں سے ہندوستانی سرحد کے اندر کچھ دور آنے کے بعد جو ہم لوگوں کی ہنسی چھوٹی ہے تو پھر کافی دیر تک سب ہنستے رہے۔ راستے میں کئی بار اس واقعہ کا تذکرہ ہوا۔ بہر حال ہم لوگ جب ڈومریا گنج پہنچے تو اس وقت سید حامد صاحب تقریر کر رہے تھے۔ میں نے کچھ دیر کے بعد ان لوگوں کا ساتھ چھوڑا اور پروگرام کے مطابق وہاں سے تقریباً چالیس پچاس کلومیٹر کی مسافت پر واقع اپنے گاوں چلا گیا۔
میں نے اوپر ان کے اشاعتی ادارے دار العلمیہ کا ذکر کیا ہے۔ مولانا اس ادارے کے تحت ہر سال ایک ڈائری ‘‘لیل و نہار’’ شائع کرتے تھے۔ انھوں نے 2010ءکی ڈائری مجھے دی اور اس پر کچھ لکھنے کی خواہش ظاہر کی۔ میں نے اس پر تبصرہ لکھا جسے میں نے کئی اخباروں میں چھپوایا تھا۔ میں نے اس میں لکھا تھا:
”یہ ڈائری عام روش سے الگ ہٹ کرہے اور اس بات کا خیال رکھا گیا ہے کہ اسے مکمل طور پر ایک اسلامی ڈائری بلکہ ڈائرکٹری بنا دیا جائے۔مثال کے طور پر اس میں قرآن کریم سے متعلق چند اہم معلومات،تفصیل حروف قرآن، چند مقامات نزول، خطبہ حاجہ، چند اہم فقہی اصطلاحیں، مسائل زکوة، نبی کریم کی پسندیدہ دعائیں، دینی درسگاہوں کا قیام اور علمائے حق کی مساعی، دائمی نقشہ پنج وقتہ نماز برائے دہلی و اطراف، دین خالص کی ترجمان اہم ویب سائٹس وغیرہ تفصیلات بھی موجود ہیں۔ جبکہ عصری ضروریات کے تقاضوں کو بھی ملحوظ رکھا گیا ہے۔ مثال کے طور پر مرکزی حکومت کے وزرا اور ان کے قلمدانوں کی تفصیل مع رہائشی ودفتری پتے اور فون نمبر، راجیہ سبھا اور لوک سبھا کے اہم فون نمبر، پندرہویں لوک سبھا میں مسلم ارکان ان کے حلقے رہائشی و فتری فون نمبر، راجیہ سبھا میں مسلم ارکان کی تفصیل، مرکزی و ریاستی حج کمیٹیوں کے چیئرمین ان کے پتے مع فون نمبر، ریاستی اردو اکیڈمیوں کے چیئرمین اور سکریٹری کے پتے اور فون نمبر، سرکردہ مسلم شخصیات کے فون نمبر وغیرہ۔ اس میں سلفی عقیدہ و منہج کا رنگ بھرنے کی بھی پوری کوشش کی گئی ہے۔اسی لیے اس میں ہندوستان میں جماعت اہلحدیث کے ممتاز علما اور احباب کے فون نمبر مع شہر دیے گئے ہیں۔اس کے بعد دنیائے سلفیت کی چنندہ بین الاقوامی شخصیات کے فون نمبر بھی مع ملک اور شہر مہیا کیے گئے ہیں۔ ہر ماہ کی یومیہ مصروفیات کے لیے صفحات کا بھی اہتمام کیا گیا ہے۔اس میں ایمان افروز منظومات کا بھی گراں قدر حصہ ہے اور ہر صفحے پر ایک حدیث اور خالص اسلامی فکر کا ایک شعر بھی دیا گیا ہے’’۔
دارالعلمیہ کے زیر اہتمام شائع ہونے والی ڈائریوں پر مقتدر شخصیات وقتاً فوقتاً اظہار خیال بھی کرتی رہی ہیں۔ ان کی مختصر آراءبھی اس ڈائری میں موجود تھیں۔ اہم شخصیات میں مولانا عبد الروف رحمانی مرحوم، مولانا مختار احمد ندوی مرحوم، ڈاکٹر وصی اللہ عباس مکہ، ڈاکٹر لقمان سلفی، شیخ صلاح الدین مقبول احمد، علامہ علیم ناصری لاہور، مولانا عبداللہ مدنی نیپال، م۔ افضل سفیر ہند برائے ترکمانستان، مولانا اسرار الحق قاسمی ایم پی، سید شہاب الدین سابق ایم پی، مولانا عمید الزماں کیرانوی،کنور شکیل احمد لندن اور مولانا عبد اللہ مغیثی وغیرہ قابل ذکر ہیں۔
ایک تو جھجک کی وجہ سے اور دوسرے یہ سوچ کر کہ پتا نہیں ان کی طبیعت کیسی ہے، میں ان کو بہت کم کال کرتا تھا۔ وہی مجھے اکثر و بیشتر کال کرتے تھے۔ بعض اوقات تو ایک ایک گھنٹے تک گفتگو ہوتی رہتی۔ مختلف موضوعات زیر بحث آتے۔ لیکن زیادہ تر گفتگو یا تو جمعیت و جماعت کے تعلق سے ہوتی یا پھر مسلمانوں کی عام صورت حال پر یا پھر صحافت پر۔ وہ اکثر مسلمانوں کے موجودہ حالات پر رنج و غم کا اظہار کرتے۔ جب بھی میرا کوئی مضمون ان کو زیادہ پسند آجاتا تو مضمون ختم کرتے ہی فون کرتے اور خوشی کا اظہار کرتے۔ میں نے مولانا ثناءاللہ امرتسری کا جو قلمی خاکہ لکھا تھا وہ انھیں بہت پسند آیا تھا۔ بار بار اس کا تذکرہ کرتے رہے۔ احباب جماعت کے تعلق سے ایسی بہت سی معلومات مجھے ان سے حاصل ہوتیں جو دوسروں سے نہیں ملتیں۔ لیکن تمام قسم کی گفتگو کے دوران انھوں نے جماعت و جمعیت کے ذریعے اپنے ساتھ کیے جانے والے ‘‘سلوک’’ پر کبھی کوئی بات نہیں کی۔
خلجی صاحب کے اندر مسلکی غیرت و حمیت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ یہاں تک کہ ایک بار دار العلوم دیوبند میں قیام کے دوران کسی نے کوئی ایسی بات کہہ دی جو ان کی مسلکی غیرت کے لیے تازیانہ تھی۔ انھوں نے وہیں دنداں شکن جواب دیا۔ یہ واقعہ انھوں نے خود مجھے بتایا تھا۔ ایک بار ایک ملی تنظیم کی جانب سے منعقدہ کانفرنس میں جماعت اہلحدیث کے خلاف کچھ نکات عمداً زیر بحث لائے گئے تھے۔ کانفرنس کے بعد مولانا خلجی نے ‘‘اتحاد بین المسالک’’ نام سے ایک کتابچہ شائع کیا۔ ان کے اندر مسلکی تعصب کا شائبہ تک نہیں تھا۔ اس تعلق سے ان کا کردار مولانا ثناءاللہ امرتسری جیسا تھا۔ سب کے ساتھ دوستانہ و خیرسگالانہ مراسم۔ یہی وجہ ہے کہ وہ دوسرے مسلک کے لوگوں میں بھی مقبول تھے۔ ان کے مسلکی توسع اور ان کی بلند و بالا شخصیت کی وجہ سے ہی ڈاکٹر محمد منظور عالم نے ان کو آل انڈیا ملی کونسل میں باوقار جگہ دی تھی۔ وہ کئی حیثیتوں سے ملی کونسل میں خدمات انجام دیتے رہے ہیں۔ وہ تازندگی آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ میں جماعت اہلحدیث کی نمائندگی کرتے رہے۔ انھوں نے مسلم مجلس مشاورت اور دیگر ملی تنظیموں میں بھی خدمات انجام دیں۔ وہ جامعہ سلفیہ بنارس کی مجلس منتظمہ میں رہے۔ وہ عالمی اسلامی کونسل لندن اور اسلامک ایشین کونسل سری لنکا سے بھی منسلک رہے۔ سیاسی شخصیات سے بھی ان کے دوستانہ مراسم رہے ہیں۔ پاکستان میں متعدد علمی شخصیات سے ان کی دوستی رہی ہے۔ جب بھی وہاں سے ان کا کوئی دوست دہلی آتا تو وہ اس کے اعزاز میں تقریب کا اہتمام کرتے اور اس میں خاکسار کو بھی مدعو کرتے۔ انھیں مذہبی، ملی، سیاسی و سماجی پروگراموں میں بطور مقرر مدعو کیا جاتا اور ان کی باتیں بڑی سنجیدگی سے سنی جاتیں۔ ایسا بہت کم ہوتا کہ کسی ملی تنظیم کی جانب سے منعقد ہونے والے کسی پروگرام میں انھیں اسٹیج پر جگہ نہ دی گئی ہو۔ لیکن وائے افسوس کہ اُسی جماعت نے ان کی قدر نہیں کی جس سے ان کا خاندانی اور جذباتی رشتہ رہا ہے اور جس کی انھوں نے بیش بہا خدمت کی تھی۔
ادھر کچھ برسوں سے وہ بیمار رہنے لگے تھے۔ کافی کمزور ہو گئے تھے۔ پروگراموں میں بہت کم جاتے۔ ایک طرح سے وہ مایوسی کے بھی شکار تھے۔ ان کا اشاعتی ادارہ کافی پہلے ناکامی سے دوچار ہو کر بند ہو چکا تھا۔ کہیں آنے جانے میں کچھ نہ کچھ تو صرف ہوتا ہی ہے۔ اس کا احساس مجھے ایک بار بڑی شدت سے ہوا تھا جس کی تفصیل میں جانا ضروری نہیں۔ ان پر جمعیت میں مالی بدعنوانی کا الزام عاید کیا گیا تھا۔ لیکن مجھے بڑی حیرت ہے کہ انھوں نے کیسی مالی بدعنوانی کی تھی کہ نظامت کا تاج چھنتے ہی تنگ دستی کے شکار ہو گئے۔ امور مملکت خویش خسرواں دانند! لیکن انتہائی سخت حالات کے باوجود انھوں نے اپنی دستار غیرت سنبھالے رکھی۔ ان کے حقیقی حالات کا علم بہت کم لوگوں کو تھا۔ انھوں نے کبھی کسی کے سامنے اپنے حالات واشگاف نہیں کیے۔
مقام افسوس ہے کہ جماعت کی اتنی بڑی اور مقتدر شخصیت ہمارے درمیان سے اٹھ گئی اور ہمیں اس کا احساس ہی نہیں ہے کہ ہم نے کیا کھو دیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دوسرے مکاتب فکر کے درمیان جماعت اہلحدیث کا ایک نمائندہ اور ایک سفیر جماعت اپنی نشست خالی کرکے چلا گیا۔ کوئی دوسرا ایسا نظر نہیں آتا جو اس نشست کو پُر کرنے کا اہل ہو۔ ان کے انتقال کے بعد ان کی یاد میں کوئی پروگرام بھی منعقد نہیں کیا گیا۔ اپنی جماعت کا یہ بہت بڑا المیہ ہے کہ بڑے لوگوں کے بھی اٹھ جانے کے بعد ان کو یاد کرنے کی کوئی روایت نہیں ہے۔ اگر کوئی کچھ سمینار یا تعزیتی نشست کرنا بھی چاہے تو اسے بدعت کہہ کر مسترد کر دیا جاتا ہے۔ اپنے اسلاف کی بے قدری کا یہ عالم جماعت کی بے سی پر ماتم کناں ہے۔ خلجی صاحب کے انتقال کے آس پاس ہی تین مزید شخصیات دنیا سے اٹھ گئیں۔ مولانا محمد سالم قاسمی، جسٹس راجندر سچر اور دہلی کے ایک معروف وکیل سالار محمد خاں۔ انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹیو اسٹیڈیز نئی دہلی کے چیئرمین ڈاکٹر منظور عالم نے ان شخصیات کی یاد میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کے سی آئی ٹی ہال میں ایک مشترکہ تعزیتی اجلاس منعقد کیا تھا۔ انھوں نے مرحومین میں خلجی صاحب کو بھی شامل کیا تھا۔ یہ واقعہ جماعت اہلحدیث کے افراد کے لیے کسی تازیانے سے کم نہیں۔

1
آپ کے تبصرے

avatar
1 Comment threads
0 Thread replies
0 Followers
 
Most reacted comment
Hottest comment thread
1 Comment authors
Abdul Rahman Siddiqui Recent comment authors
newest oldest most voted
Abdul Rahman Siddiqui
Guest
Abdul Rahman Siddiqui

السلام و علیکم ۔انجم صاحب اس مضمون کی اشاعت پر آپ کو اور فری لانسر کو مبارکباد قبول ہو ۔۔جماعت میں اب بھی اگر صحیح لائحہ عمل پر عمل ہو تو اگر نم ہو تو یہ مٹی ۔۔والی بات ہو سکتی ہے۔ ہماری علمیہ ہے کہ ہم اسلاف کی قصیدہ تو بہت گاتے ہیں ۔۔اختلافی مسائل پر خوب لکھتے ہیں پر ہمارے یہاں تربیت اور تکریم اور تعلیم کا فقدان ہے ۔۔1000 صفحات کی کتب لکھی جاتی ہے اختلافی مسائل پر پر اخلاقیات اصلاح پر اور غیر مسلموں میں تبلیغ ندارد اللہ ہمیں صراط مستقیم پر چلنےکی توفیق دے آمین