فکر و عمل کی ترجیحات

فکر و عمل کی ترجیحات

یاسر اسعد

مولانا سید ابو الاعلی مودودی مرحوم بر صغیر ہندوپاک کے عظیم مصلح تھے جنھوں نے امت کی تعمیر واصلاح میں اپنا بیش بہا کردار نبھایا ہے۔ مولانا کی خدمات بہت ہیں جن سے صرف نظر نہیں کیا جاسکتا، مگر اسی کے ساتھ ایک تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ مولانا نے جہاں الحاد سے امت کو بچایا وہیں اپنی بعض تعلیمات وتفہیمات وتنقیحات سے امت میں ایک نئے فتنے کی آبیاری بھی کرگئے۔ مولانا نیک فطرت تھے، یقیناً وہ نیک نیت تھے، اپنے اس موقف میں ان سے زبردست چوک ہوئی، مولانا کی یہ لغزشیں ان شاء اللہ اللہ تعالی معاف فرما دے گا۔

امت کو یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ نبی کے علاوہ ہر کس وناکس کی بات صد فیصد قابل قبول نہیں ہوا کرتی، خواہ وہ ابن تیمیہ اور ابن عبد الوہاب جیسی برگزیدہ ہستیاں ہی کیوں نہ ہوں۔

مولانا مودودی علیہ الرحمہ بشر تھے، نبی مرسل یا ملک مقرب قطعا نہ تھے کہ آپ کی کہی ہوئی ہر بات من وعن قبول کرلی جائے، خود مولانا مرحوم نے برصغیر کے تقلیدی ماحول پر ضرب لگائی ہے اور اسے تصوف کی بھول بھلیوں سے نکال کر حقائق سے رو برو کرایا ہے۔ اپنی تحریروں سے یہ پیغام بھی دیا ہے کہ انسان صبر وضبط اور “مسلک اعتدال” پر رہے اور “اربابا من دون اللہ” کی روش سے قطعی طور پر باز رہے۔

سید مرحوم نے “جماعت اسلامی” کی بنیاد رکھی جس کا امتیاز تھا کہ اس کی تاسیس میں ہر مکتب فکر کے نمائندوں نے مولانا کا ساتھ دیا، اور اسلام کی نشاة ثانیہ کا خواب لے کر سب اٹھے۔ مگر کب اس تحریک نے دوسرا رخ لے لیا پتہ نہ چلا۔ مولانا سید ابو الحسن علی ندوی، مولانا منظور نعمانی، مولانا عبد الغفار حسن جیسے اساطین علم وفن نے اس کے رخ کو بھانپ کر فورا اس سے علیحدہ ہونے میں ہی عافیت سمجھی۔
رفتہ رفتہ یہ تحریک اسلامی اپنے ہدف سے ہٹ کر دھیرے دھیرے رافضیت اور شیعیت کی گود میں جا بیٹھی، اب اس کا مقصد امر بالمعروف ونہی عن المنکر نہیں رہ گیا بلکہ فقط زمین پر خلافت الہیہ کے قیام کا نعرہ اس کا شیوہ بن گیا۔ اسی فکر نے اسے اخوان المسلمین کا بھائی بنا دیا، رافضیت بھی چونکہ سنی ملکوں میں اپنی حکومت کی شدید متمنی تھی، مذکورہ دونوں تحریکوں نے رافضیت سے اسی بنیاد پر ساٹھ گانٹھ کرلی اور یہ مثلث دنیا میں خلافت اسلامیہ کا نعرہ لے کر چل پڑا۔
خلافت کا تصور یقینا ہر مرد مسلم کے لیے بڑا سہانا ہوتا ہے، اور ہونا بھی چاہیے، مگر اس کے نفاذ کی جو شکل وکیفیت احباب جماعت نے اختیار کی وہ بڑی سخت وشدید تھی، اور اسلامی نظریے کی بہ نسبت رافضی نظریے سے قریب تر تھی۔ اسی نادانی نے امن وامان والے ممالک میں وہ انتشار اور فتنے رونما کیے کہ اللہ کی پناہ، اگر سید صاحب زندہ ہوتے تو عین ممکن تھا کہ خون مسلم کی یہ ارزانی دیکھ کر اپنے اس نظریے سے علیحدگی اختیار کرلیتے۔

موجودہ دور میں خلافت الہیہ کا نعرہ دو جماعتوں کی علامت بن چکا ہے، ایک اخوان یا جماعت اسلامی، دوسرے داعش۔ فکری جڑیں دونوں کی ایک ہیں، اور دونوں کا تھنک ٹینک ایران ہے۔ دنیا کے مسلم ممالک میں بیشتر فی الوقت بد امنی ودہشت گردی کا شکار ہیں، چند ہی مملکتیں ہیں جنھیں اللہ پاک نے اس سے محفوظ رکھا ہے۔اب ان امن وامان والی حکومتوں میں گرچہ صد فی صد اسلامی نظام وقانون نافذ نہیں، مگر پھر بھی اس دور پر فتن میں وہاں کا امن وامان قابل رشک ہے۔ افسوس کہ درج بالا دونوں بلکہ تینوں تحریکات ان ممالک کو محض اس بنا پر معتوب گردانتی ہیں کہ وہاں اسلامی حکومت نہیں ہے اور ہمہ وقت وہاں “انقلاب” پیدا کرنے کے درپے رہتی ہیں، اور یہی ایران بھی چاہتا ہے۔

ایران کی تاریخ بہت قدیم ہے، ایران کے اندر رہنے والوں کی مذہبی اکثریت کیا ہے، ان کے عقائد کیا ہیں، اسلام سے ان کا کیا رشتہ ہے، وقت آگیا ہے کہ ان سب پر سیر حاصل بحث ہو تاکہ امت اپنے لیےدرپیش خطرات کو بھانپ سکے۔ جماعت اسلامی اور اخوانی احباب کو چونکہ فکری غذا وہیں سے فراہم ہوتی ہے اس لیے شاید وہ ان خطرناکیوں کو سمجھ نہ سکیں۔ اس لیے اب انھیں سمجھانے کی ذمہ داری اہل حدیث حضرات پر عائد ہوتی ہے۔ فی الوقت جماعت اہل حدیث کی بہت بڑی ذمہ داری ہے کہ وہ روافض اور ایران کی سازشوں سے ا مت کو باخبر کرے، بتائے کہ حرمین شریفین اور مسلمانوں کے مقامات مقدسہ کے بارے میں ان کا نظریہ کیا ہے اور اس نظریے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے انھوں نے اب تک کیا کیااقدام کیے ہیں اور ان کے خلاف ہماری دفاعی قوت کس قدر ہے۔ ظاہر ہے کہ ایران واخوان کے خلاف بولنے اور حقیقت کو آشکار کرنے پر انھیں “ریالی” اور “سعودی نواز” ہونے کے طعنے تو سننے کو ملیں گے، مگر آنے والے خطرات کی نسبت ان طعنوں کو برداشت کرنا پڑے گا۔ ایک بڑی حقیقت ہے اور ہمارے لیے مسرت کی بات ہے کہ سوشل میڈیا پر حقائق لکھنے والے ہمارے اکثر احباب گرچہ مسلکاً سلفی واہلحدیث ہیں، لیکن الحمدللہ “ریال” سے ان کا کوئی واسطہ نہیں، غیر ریالی حضرات کی ٹیم اس بابت زیادہ متحرک ہے۔ یہ ان لوگوں کے منہ پر طمانچہ ہے جو عقیدے وایمان کو پیسوں سے تولتے ہیں۔ 

قریب پچاسی سال قبل قائم ہونے والی سعودی حکومت اس وقت اللہ رب العزت کا بہت بڑا تحفہ ہے، جس نے اپنے قیام کے وقت سے لے کر تاحال اسلام کی عظیم الشان خدمت کی ہے۔ کتاب وسنت کی بے انتہا نشر واشاعت کے ساتھ اس حکومت نے حرمین شریفین کی جو حفاظت کی ہے اس کا اعتراف ہر حقیقت پسند کرے گا۔ اس حکومت کا قصور بس اتنا ہے کہ یہ اپنے فیصلے برصغیر کے قلمکاروں اور “دانشوروں” سے پوچھ کر نہیں کرتی، اپنی خارجی وداخلی، دفاعی واقدامی پالیسیاں خود طے کرتی ہے اور اس کے لیے کبھی ایران واخوان اور دیگر تحریکات سے مشورے نہیں لیتی۔ حرمین شریفین کا انتظام عالمی مسلم برادری کے سپرد کرنے کے بجائے اس پر وہ خود “قابض”ہے۔ اسی لیے آج تک آپ نے ہمارے اخوانی بھائیوں سے اس حکومت کے بارے میں ایک بھی کلمہ خیر نہ سنا ہوگا، ہر وہ شخص جو ان کا ہم مشرب نہیں ہے وہ ان کو گالی دینا اپنا قومی وملی حق بلکہ فریضہ سمجھتا ہے، خواہ اس کے اپنے ملک کے حالات کیسے بھی ہوں۔ 

جماعت اسلامی کے احباب کا طرفہ تماشا یہ ہے کہ وہ “رواداری” کے اس قدر قائل ہیں کہ اس کا دائرہ غیر مسلموں تک بڑھا دیتے ہیں، لیکن مسلمانوں کو اس سے خارج کردیتے ہیں۔ غیر مسلم عبادت گاہوں کی جی جان سے صفائی کردیتے ہیں، اور اس کو وہ “رواداری” پر محمول کرتے ہیں، مگر اپنا دامن اتنا کشادہ نہیں کرپاتے کہ اپنے قائد جماعت پر کوئی منصفانہ تنقید برداشت کر لے جائیں، غلطیاں اور خطائیں کس سے نہیں ہوتیں، یہ تو انسانی خاصہ ہے، مگر ان خطاوں کو انگیز کرجانا، ان کے لیے وجہ جواز تلاش کرنا، سید مودودی مرحوم کی ہر ایک بات کو شریعت سے بڑھ کر سمجھنا، یہ وہ اعمال ہیں جو سخت قابل گرفت ہیں۔ مجھے اس موقعے پر ایک عظیم علمی شخصیت کی بات یاد آرہی ہے جنھوں نے ایک موقع سے فرمایا تھا کہ “آپ مولانا مودودی کو یہ حق دیتے ہیں کہ وہ صحابہ پر نقد کریں، لیکن مجھے اتنا اختیار نہیں دیتے کہ میں مولانا پر نقد کروں” کاش احباب جماعت اس کو سمجھتے اور مولانا کو نبی یا مجددکے مقام پر فائز کرنے سے پہلے ہزار بار سوچتے۔ 

“رواداری” کا مذکورہ درس ہمارے اہل حدیث بھائیوں پر بھی عائد ہوتا ہے، سعودی حکومت بلا شبہ ایک عظیم الشان حکومت ہے جس کی نظیر نہیں ملتی، مگر اس کے فیصلوں کے اندر بھی خطا وصواب کا امکان بہر حال ہے۔ ہمارا ان سے اتفاق عقائد میں ہے جو بہر حال رہے گا، ان شاء اللہ، ان کی سیاست سے ہمارا متفق ہونا لازمی نہیں ہے۔ “اخوان المسلمین” ان کے نزدیک دہشت گرد ہے تو ان کے اپنے تحفظات کی بنا پر ہے، ممکن ہے وہ تحفظات درست بھی ہوں اور ممکن ہےخطا پر بھی مبنی ہوں، ہمیں جماعتی واخوانی احباب کی طرح غلو ومبالغہ اور تعصب کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔ (اور الحمد للہ بہت حد تک ہم اس سے محفوظ بھی ہیں) ہاں ہماری ذمہ داری دو چند ہوجاتی ہے کہ ہم مملکت اور حرمین شریفین کو جو خطرات در پیش ہیں ان سے عوام کو باخبر رکھیں،اور یہ ذمہ داری ہم ہی نبھا سکتے ہیں کیونکہ دوسرے تو خود “ان” کی عنایتوں سے لبریز ہیں، اس لیے اس کا امکان نہ کے برابر ہے کہ وہ ہوش کے ناخن لیں گے۔

ملک کے جو حالات ہیں وہ کسی فرد سے مخفی نہیں، آل سعود اپنے ملک کی سیاست جانیں، ایران اپنا سمجھے، ہمیں اپنا سمجھنا ہوگا۔ ہمارا ملک دن بدن تعصب ونفرت کے عمیق غار میں گرتا جارہا ہے، ہر آنے والا دن مسلمانوں کے لیے بد سے بدتر ثابت ہورہا ہے، ایسے نازک وقت میں ہماری ساری ذمہ داری اپنے حالات کو سمجھنے اور اسے بہتر بنانے کی ہے، جس میں بلا شبہ ہمارا اتحاد عظیم کردار نبھا سکتا ہے۔ ایران واخوان اور سعودی عربیہ پر بحث سے کچھ نتیجہ حاصل ہونے والا نہیں، ہاں دلوں کی کدورت میں مزید اضافہ ہوگا جو خود ہمارے لیے مضر ہوگا۔ آل سعود اپنے فیصلے ہم سے پوچھ کر نہیں کریں گے، اور نہ ہی ان کے فیصلوں سے ہم پر کچھ اثر ہوگا، ہم پر اثر انداز ہماری حکومت ہے جو دن بدن ہمارا عرصہ حیات تنگ کرنے کے فراق میں ہے، لہذا خدارا! اس بحث کو چھوڑیں، دفنا دیں، اپنی انرجی اور طاقت اپنے ملک کی ترقی میں لگائیں، دوسروں کے دیار میں غلبہ اسلام کی کوشش کرنے سے پہلے اپنے دیار کے مسلمانوں کو سر اٹھانے کے قابل بنائیں۔ 
مولائے کریم ہماری آپسی رنجشیں دور فرمائے، اتحاد واتفاق کے ساتھ رہنے کی توفیق بخشے اور اسلام کو سربلندی عطا کرے۔ آمین

آپ کے تبصرے

avatar