احساس کے شعلوں میں جلنا اور تپنا سیکھیں

رفیق احمد رئیس سلفی

شرکائے دبستان اردو اور رفقائے دی فری لانسر ویب پورٹل!
اللہ آپ سب کو سلامت رکھے، اسی طرح پڑھتے رہیں، دل و دماغ کو کھلا رکھیں اور ضمیر کی آواز کو الیکٹرانک میڈیا پر الفاظ کا جامہ پہناتے رہیں۔ یہ سلسلہ اگر دراز ہوا اور اخلاص موجود رہا تو یقیناً ہوگا اور پھر ان شاء اللہ دور تک بات پہنچے گی اور مسئلے کا کوئی حل ضرور نکلے گا۔ بات ابھی نوجوان سلفی اہل قلم کے درمیان ہو رہی ہے اور ایک مخصوص گروپ کے اندر ہو رہی ہے، چند ایک بزرگوں نے بھی اس کا نوٹس لیا ہے، دائرہ کو مزید وسعت دیں اور بات اداروں کے ذمہ داران، اکابرین جماعت اور تمام صوبائی جمعیتوں کے معزز اراکین تک بھی پہنچے کہ آخر یہ ہنگامہ کیا ہے۔ ہماری نئی نسل کے نوجوانوں کو اس کی پوری خبر ہے کہ اس ملک میں دعوت کے جو علمی تقاضے ہیں، اسلام اور اہل اسلام کے سامنے جو چیلنجز ہیں اور ملت کے وجود اور تشخص کو جو خطرات لاحق ہیں، ان کے لیے تین کروڑ سلفی اگر متحرک ہوجائیں تو انقلاب آسکتا ہے (متحرک اور انقلاب کے الفاظ جملے کے مفہوم کی ادائیگی کے لیے بغیر کسی ذہنی تحفظ کے عام معنوں میں استعمال کررہا ہوں، ویسے منہج سلف کے بعض مناد ان لفظوں میں بھی ارہاب اور دہشت گردی دیکھ رہے ہیں)۔
دعوت دین کے سلسلے میں جو بدنظمی، کوتاہی اور سستی پائی جاتی ہے اور اس تعلق سے میدان حشر میں جو جواب دہی ہونی ہے، اس کی ہولناکی اور برے نتائج سے محفوظ ہوجائیں گے ۔جب خیال اسلام اور اہل اسلام کا آئے گا تو دلوں میں نرمی اور ہمدردی پیدا ہوگی اور جب کبھی ملت پر مڈلانے والے سیاہ بادلوں کی طرف نظر جائے گی تو دلوں میں پوشیدہ غیر ضروری گھن گرج خود بہ خود ختم ہوجائے گی۔
سلفیت، حزبیت نہیں ہے بلکہ رسول رحمت کے لائے ہوئے دین رحمت کا دوسرا نام ہے۔ دشمنوں کو اپنی اخلاقیات سے زیر کرلینے والے نبی محترم سے بے پناہ اور سچی محبت کرنے والی سلفیت ملک کے کمزور طبقات اور مظلوموں کو ظالموں کے رحم وکرم پر کیوں کر چھوڑ سکتی ہے، وہ تو دشمنوں کے دلوں تک پہنچنے کے لیے راستے تلاش کرلے گی-
جس سلفیت کو اتنے عظیم کام کرنے ہیں، کس طرح اس کے نام نہاد دوستوں نے اسے اپنے کلمہ گو بھائیوں ہی سے دور کردیا ہے۔ کتنا برا تھا وہ وقت جب کسی بدخواہ سلفیت نے یہ نعرہ بلند کردیا کہ ہندوستان میں چوں کہ سلفیوں کے علاوہ کسی کا عقیدہ درست نہیں لہذا کسی سلفی کی نماز غیر سلفی کے پیچھے جائز نہیں۔ وہ تو بس نہیں چلا ورنہ نکاح اور ازدواجی رشتے بھی حرام کردیے جاتے۔ (ویسے ایک بھاولپوری بزرگ نے اپنے بعض اجتہاد ات میں اس کی طرف اشارے کردیے ہیں) اہل بدعت کا ایک گروہ یہ کاروبار کہیں خفیہ طریقے پر اور کہیں اعلانیہ کرتا ہے، جنازے میں شریک ہوجانے سے نکاح کی تجدید معمولی بات ہے۔ فضل حق خیرآبادی اور فضل رسول بدایونی نے جو کام کیا تھا، آج اسے اپنے ہی ہاتھوں ہم انجام دینے لگے ہیں۔
سلفیت کی سب سے عظیم شخصیت مولانا محمد اسماعیل گوجرانوالہ کی روح کتنی بے چین ہوگی کہ آج ان کے خانوادے کے لوگ غیر سلفیوں کے پیچھے نماز نہ پڑھنے کو سلفی غیرت وحمیت کا خوبصورت نام دے بیٹھے ہیں۔ بریلویت سے تائب ہونے والے ہمارے نوجوان بند کمروں میں کہا کرتے ہیں کہ زمانۂ جاہلیت میں جو ہمارے اصل حریف تھے وہ تو اہل بریلی اور اہل بدایوں سے بھی زیادہ خطرناک ہیں۔
شیخ الاسلام مولانا ثناء اللہ امرتسری کی روح کس قدر مضطرب ہوگی کہ ہم نے دیوبند اور کانپور میں اپنے جن اساتذہ کرام سے فقہ اور معقول کی کتابیں پڑھی تھیں، اور ان کے ساتھ رہتے ہوئے ان کی امامت میں نمازیں ادا کرتا رہا تھا، وہ اساتذہ اور ان سے عقیدت رکھنے والی عوام غیرت وحمیت سے سرشار بعض سلفیوں کی نظر میں اس قابل بھی نہیں ہیں کہ ان کو امام بنایا جائے اور ان کی مساجد میں شرح صدر کے ساتھ نماز ادا کی جائے۔
شاید یہ منہج سلف کی تجدید ہی کا ثمرہ اور نتیجہ ہے کہ ہم نے ملی اداروں جمعیۃ العلماء، ندوۃ العلماء اور مسلم پرسنل لابورڈ سے کنارہ کشی اختیار کرلی ہے کہ ہمارے جن اسلاف نے ان اداروں میں قائدانہ کردار ادا کیا تھا، ان تک عقائد کے بعض مباحث منقح ہوکر پہنچے ہی نہیں تھے۔اگر ایسا ہوا ہوتا تو اول دن سے ان بدعقیدہ لوگوں کی مجلس میں وہ شریک ہی نہیں ہوتے۔ عقیدۂ اسلامی کے اس ارتقا پر ریسرچ کی ضرورت ہے اور میں نے بعض دوستوں سے بہت پہلے یہ کہا تھا کہ کتب فہارس میں جن کتب عقائد کی نشان دہی کی گئی ہے، ان کا مطالعہ کرکے یہ دیکھا جانا چاہیے کہ صدی بہ صدی اس میں کن عقائد کا اضافہ ہوا ہے اور اپنے اپنے دور کے فتنوں کا قلع قمع کرنے کے لیے ہمارے کن بزرگوں نے ان کو اسلامی عقیدے کا حصہ بنادیا ہے۔
بعض نوجوان سلفی قلم کاروں کی مجبوری یہ ہے کہ وہ پڑھنے سے زیادہ لکھتے ہیں۔ علمی اختلاف اور مخالفت کے درمیان میں جو فرق ہے، بہتوں کو تو اس کا ادراک بھی نہیں ہے۔ علمی اختلاف اخلاقیات کو متاثر نہیں کرتا جب کہ مخالفت سب سے پہلے اخلاقیات پر ہی حملہ آور ہوتی ہے اور زبان وتحریر کو شائستگی سے محروم کردیتی ہے۔سورۂ حجرات دائرۂ سلفیت سے باہر نہیں ہے جس میں برے القاب دینے کی ممانعت کے ساتھ مسلمانوں کے باہمی حقوق کی نشان دہی کی گئی ہے۔ اسی طرح ہماری سلفیت قرآن مجید کی اس آیت پر سختی سے عمل کرتی ہے جس میں یہ کہا گیا ہے کہ کسی قوم کی دشمنی تمھیں ناانصافی کرنے پر آمادہ نہ کردے، ہر حال میں عدل وانصاف سے کام لیا کرو کیوں کہ تقوی سے لگتی ہوئی بات صرف یہی ہے۔ جس سلفیت کو فقہی فروعات میں الجھا دیا گیا ہے، اسے قرآن کریم کی یہ محکم آیات کیوں کر یاد آسکتی ہیں۔
محترم شیخ رفیع احمد بستوی حفظہ اللہ سے ہمیں کچھ سیکھنا چاہیے، وہ ایک بڑے عالم دین، محقق اور سلفیت کے پارکھ ہیں۔ میرے مضمون کے بعض مندرجات سے علمی اختلاف کرتے ہوئے انھوں نے اپنے وقار اور اپنی علمی پختگی کو ذرا بھی متاثر نہیں ہونے دیا۔ حیرت ہے کہ جن نوجوانوں سے میری ملاقات ہے اور کئی مجلسوں میں جن کے ساتھ علمی گفتگو کا سلسلہ رہا ہے، وہ اس قدر طیش میں آگئے کہ قلم پر قابو نہیں رہ گیا اور بعض ایسی باتیں بھی میری طرف منسوب کردیں جن کا میں تصور بھی نہیں کرسکتا۔صحافت کا پیشہ صبر و برداشت کی قوت بھی عطا کرتا ہے- اس سے کہیں زیادہ میں اپنے اندر اس کی طاقت پاتا ہوں- قلم میں اتنی طاقت ہے کہ تمام الزامات اور غیر شائستہ الفاظ کا جواب ترکی بہ ترکی دے سکتا ہوں لیکن یہ میرے اپنے علمی وقار کے خلاف ہے۔
شیعہ سنی اتحاد کیوں اور کیسے؟ مضمون پورٹل پر موجود ہے، یہ مضمون یمن میں جنگ شروع ہونے کے ایک ہفتے بعد لکھا گیا تھا۔ نوجوان اہل قلم اسے دوبارہ پڑھیں اور برادر عزیز شعبان سلمہ کے کشید کردہ مفہوم پر غور کریں ۔ ایک بار کسی ضرورت سے امام ابن تیمیہ کی مشہور زمانہ کتاب منہاج السنہ دیکھ رہا تھا، اس میں ایک جگہ امام محترم نے نواصب کی طرف سے شیعوں پر الزامی جواب عائد کیا ہے، دور حاضر کے ایک بدطینت شیعہ مصنف نے نواصب کے اس الزامی جواب کو امام کا اپنا جواب کہہ کر ان کا شمار نواصب میں کرلیا ہے۔ تحریکی اہل قلم ایرانی سیاست کو کس نقطۂ نظر سے دیکھتے ہیں، تمام تر ان کے نام کی صراحت کردینے کے باوجود میرے اس عزیز نے اسے میری بات اور میرے دل کی بات بنادی ہے۔ابھی آپ کی عمر بہت کم ہے، قلم میں اللہ نے طاقت دے دی ہے، اس کا استعمال پوری ذمہ داری سے کریں، یعلم مافی الصدور صرف اللہ کی خصوصیت ہے، اس کا دعوی توحید کے قلعے کو مسمار کردے گا۔ اللہ اس آفت سے ہم سب کو محفوظ رکھے۔
جب میں اپنے دینی مدارس میں جاتا ہوں اور وہاں ذمہ داروں کی طرف سے طلبہ کو خطاب کرنے کا حکم دیا جاتا ہے تو اپنی تقریر میں اپنے کئی محترم علماء کی کتابوں اور ان کی تحریروں کا مطالعہ کرنے کا مشورہ ضرور دیتا ہوں- اگر دبستان اردو گروپ کے ساتھی اجازت دیں تو ان کے سامنے بھی ان ناموں کو دہرادوں۔ وہ ہیں: مولانا محمد اسماعیل گوجرانوالہ، مولانا عطاء اللہ حنیف بھوجیانی، مولانا نذیر احمد املوی، شیخ الحدیث عبیدااللہ رحمانی۔ اگر چاہیں تو اس فہرست میں مولانا محمد حنیف ندوی اور مولانا محمد اسحاق بھٹی کا بھی اضافہ کرلیں۔
خلافت و ملوکیت کے سلسلے میں اسی صفا شریعت کالج کے اسٹیج سے جہاں عزیز محترم نے تعلیم حاصل کی ہے، میں نے اپنا ایک واقعہ بیان کیا تھا کہ میرے اپنے گاوں کے مکتب میں میرے ایک استاذ تھے، جو ریاضی، سائنس، تاریخ اور جغرافیہ پڑھاتے تھے۔ تاریخ میں ایم اے تھے اور تاریخی کتابوں سے بطور خاص دلچسپی رکھتے تھے۔ انھوں نے مولانا مودودی رحمہ اللہ کی کتاب خلافت وملوکیت پڑھ رکھی تھی۔ کبھی کبھی اس کی بعض باتیں میرے سامنے بیان کردیا کرتے تھے، میں اس وقت کی اپنی صلاحیت کے مطابق ان کا ذہن صاف کرنے کی کوشش کرتا تھا۔ پھر جب مکتبہ ترجمان سے مولانا حافظ صلاح الدین یوسف کی کتاب خلافت وملوکیت کی شرعی حیثیت شائع ہوئی تو وہ کتاب میں خرید کر اپنے وطن لے گیا اور اپنے مکتب کے استاذ کو اس درخواست کے ساتھ پڑھنے کو دیا کہ مجھے جلد ہی علی گڑھ واپس جانا ہے، آپ یہ کتاب ضرور پڑھ لیں۔ محترم استاذ جو جماعت اسلامی کے رکن تھے، انھوں نے تین دن میں کتاب مکمل کی اور جب ملاقات کے لیے ان کے گھر پہنچا تو یہ کہہ کر کتاب واپس کی کہ رفیق! مرنے سے پہلے یہ کتاب تم نے پڑھوا کر مجھ پر بڑا احسان کیا ہے۔خلافت و ملوکیت پڑھنے کے بعد بعض صحابہ کرام کی تصویر عجیب بن گئی تھی اور میں ان کے سلسلے میں بدگمان ہوگیا تھا لیکن حافظ صلاح الدین کی اس کتاب کے مطالعے کے بعد ذہن بالکل صاف ہوچکا ہے۔ میں اس پر اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں۔ مولانا مودودی کی یہ کتاب خواہ کتنی ہی علمی، تاریخی اور تجزیاتی کیوں نہ ہو، اس کی سب سے بڑی خرابی یہی ہے کہ ایک مسلمان کے ذہن میں صحابہ کی تصویر خراب کردیتی ہے، جن نفوس قدسیہ نے صحبت نبوی سے فیض حاصل کیا ہے، اگر ان کی دین داری اور امانت داری مشتبہ ہوگئی تو پھر ہمارے پاس کیا بچے گا-
صحابہ کرام کے بارے میں میرے اپنے خیالات کیا ہیں، اسی پورٹل پر میرا ایک مضمون صحابہ کی جماعت کے عنوان سے موجود ہے۔ عزیز محترم کو اگر گروپ میں دوچار جملوں کے تبصرے لکھنے سے فرصت مل جائے تو اسے ضرور پڑھ لیں۔ نوجوانوں کے بارے میں ابھی میں نے جو یہ لکھ دیا ہے کہ وہ پڑھنے سے زیادہ لکھتے ہیں، اس پر بہت سے احباب ناراض ہوگئے ہوں گے لیکن اس کا زندہ اور تازہ ثبوت یہ ہے کہ جس پورٹل پر چھپے ایک مضمون سے میرے دین وعقیدے کو موضوع بحث بنا لیا گیا ہے، اسی پورٹل پر میرے کئی ایک مضامین پڑے ہوئے ہیں، اسے بھی پڑھ لیں ۔محدثین کا طرۂ امتیاز یہی ہے کہ وہ کسی راوی پر اس وقت تک کوئی حکم نہیں لگاتے جب تک اس کی تمام تر یا بیشتر مرویات کا تقابلی مطالعہ نہیں کرلیتے لیکن آج کی مصروف زندگی میں ہمارے قلم کاروں کو فرصت کہاں کہ سلفیت کی اساسیات، اس کی تاریخ اوراس کے جملہ مظاہر کی انفرادیت پر غور کرکے اپنے ذہن ومزاج کو حقیقی سلفیت کے سانچے میں ڈھال سکیں۔ میرا یہ محترم عزیز شاعر بھی ہے، مجھے شاعری کا شوق کبھی نہیں ہوا لیکن بعض اچھے اشعار یاد ہوجاتے ہیں۔ مشاعرے کا شعر ہے اور ایک شاعرہ کا کلام ہے لیکن اسے اگر سلفیت کے منہج ومنہاج پر محمول کرلیا جائے تو اس میں یہاں موقع کی مناسبت سے معنویت پیدا ہوجائے گی :
جب ذہن ترنم تپتا ہے احساس کے شعلوں میں پہروں
تب جاکے کہیں اے اہل قلم اک شعر غزل کا ہوتا ہے

گہرا اور وسیع مطالعہ بہت اہمیت رکھتا ہے۔ ایک محقق کی طرح مطالعہ کریں، حقائق سے پردے اٹھتے چلے جائیں گے۔ علامہ محمد ناصرالدین البانی رحمہ اللہ دور حاضر میں علوم حدیث کے مجدد ہیں۔ یہ منصب جلیل انھیں ایسے ہی نہیں مل گیا ہے بلکہ اصول حدیث کے خلاف اگر کہیں کوئی بات ملی ہے تو اس کا اعلان کیا ہے- صحیحہ اور ضعیفہ کی جلدوں کی ورق گردانی کرجائیں، امام ابن تیمیہ، امام ابن حجر عسقلانی، امام ذہبی اور بعض دوسرے اساطین فن کے تسامحات کی نشان دہی انھوں نے ڈنکے کی چوٹ پر کی ہے۔ سعودی عرب کے مفتیان کرام کا تمام تر احترام کرتے ہوئے قومہ میں سینے پر ہاتھ باندھنے کو بدعت مضللہ لکھا ہے۔ ایام حج میں حدود حرم میں موجود مکانوں کا کرایہ لینے کو حرام قرار دیا ہے۔ موجودہ سلفیت پر چھائے گرد وغبار اس وقت تک نہیں ہٹ سکتے اور اس کا گدلا پانی اس وقت تک صاف نہیں ہوسکتا جب تک امام البانی جیسی جراءت اور ہمت ہم اپنے اندر پیدا نہیں کریں گے ۔امام البانی کو کسی جتھے سے کوئی دلچسپی نہیں تھی اور نہ انھیں کسی ملک کے سہارا و آسرا کی حاجت تھی، زندگی کے کئی ماہ وسال مہاجرت میں گزر گئے لیکن کار تجدید جو ان کے ہاتھوں سے انجام پاگیا، وہ ان شاء اللہ آنے والی کئی صدیوں تک حدیث و رجال حدیث کے محققین کی رہنمائی کرتا رہے گا۔
میں کل دہلی میں تھا محترم شیخ صلاح الدین مقبول مدنی، شیخ ابوالقاسم فاروقی اور مشہور سلفی صحافی سہیل انجم کے ساتھ تین گھنٹوں کی نشست رہی۔ دہلی میں قیام کے دوران برادر عزیز کا قسط وار محاکمہ تفصیل سے نہیں پڑھ سکا۔ آج جب گھر علی گڑھ واپس آیا اور عشاء کے بعد نیٹ آن کیا تو پتا چلا کہ عزیز محترم کا مضمون ویب پورٹل پر آگیا ہے۔ اسے تفصیل سے رک رک کر پڑھا، برادر عزیز ابوالمیزان کا ادارتی نوٹ بہت کچھ بیان کررہا تھا لیکن لہروں کی نشاندہی کے مقابلے میں ان کا نوٹ کافی نہیں معلوم ہوا۔ اس قسم کا سنگین الزام اگر کوئی مجہول شخص لگاتا تو یہ سوچ کر قلم اٹھا لیتا کہ نہ جاننے والا معذور ہے لیکن جس عزیز نے مجھے پڑھا ہے، سمجھا ہے اور دسیوں علمی مجلسوں کا ساتھی رہا ہے، اس کی طرف سے یہ الزام ہضم نہیں کرسکا اور پھر پوری رات گزر گئی۔ فجر کے بعد بھی سلسلہ جاری رہا اور صبح پانچ بج کر تین منٹ پر مضمون کی تکمیل ہوسکی۔ اللہ ہم سب پر رحم فرمائے اور اپنے حفظ وامان میں رکھے۔ آمین

1
آپ کے تبصرے

avatar
1 Comment threads
0 Thread replies
0 Followers
 
Most reacted comment
Hottest comment thread
1 Comment authors
مکرم نیاز Recent comment authors
newest oldest most voted
مکرم نیاز
Guest
مکرم نیاز

“بعض نوجوان سلفی قلم کاروں کی مجبوری یہ ہے کہ وہ پڑھنے سے زیادہ لکھتے ہیں۔”
یہ مسئلہ سلفیت کے ساتھ مخصوص نہیں ہے۔ عصر حاضر میں یہ معاملہ تو ہر مسلک/طبقہ اور ہر زبان کے قلمکار کے ساتھ درپیش ہے۔ لکھتے تو سینکڑوں ہیں، مگر اصل سوال یہ ہے کہ کس کے لکھے کو زیادہ پڑھا جاتا، متاثر ہوا جاتا اور جس سے سوچ و دانش کے در مکالموں کے ذریعے کھلتے ہیں؟