کس قدر ارزاں ہے اپنے خون کا سودا یہاں

ریاض الدین مبارک

آتے آتے آنکھ تک دل کا لہو پانی ہوا
کس قدر ارزاں ہے اپنے خون کا سودا یہاں

ابھی چند روز قبل اسی ماہ جولائی میں گئو ‘بھکشکوں’ کے تعلق سے سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت کو یہ سجھاؤ دیا تھا اور سفارش کی تھی کہ گائے جیسے جانور کے نام پر روا رکھا جانے والا تشدد اور اس کے نام پر قتل عام کو بطور جرم سمجھا جائے اور اس کی مناسب سزا بھی عمل میں لائی جائے۔
جسٹس مشرا کی قیادت میں ججوں کی ایک بنچ نے گائے کے نام پر بڑھتے ہوئے قتل اور پرتشدد واقعات کی روک تھام کے لئے مرکزی حکومت کو کچھ ہدایات بھی جاری کی تھیں۔ اس حکمنامے اور سفارشات کی سیاہی ابھی خشک بھی نہ ہونے پائی تھی کہ کچھ بھکشکوں کے ناپاک ہاتھوں نے اس سیاہی کو الور کے معصوم اکبر کے پوِتّر لہو کی سرخی سے طراوٹ بخش دی اور خود کو سپریم کورٹ کے دائرہ کار سے مستثنی قرار دے دیا۔ ایسی صورت میں سپریم کورٹ کی ان سفارشات اور پاس کئے گئے قراردادوں کو قانون کی بالادستی کہا جائے یا منشی پریم چند کے افسانے؟ گائے ‘بھکشکوں’ کا یہ اقدام توہین عدالت سمجھا جائے یا حقیقی احترام؟ آخر کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے اور اس پر لب کشائی کرنے سے ہماری میڈیا عاجز ہے۔
یوں تو انگریزوں سے چھٹکارا پانے سے بہت پہلے ہی ہمارے ملک بھارت میں اس متعدی مرض کا سبب بننے والے جراثیم موجود تھے لیکن پچھلے کچھ سالوں میں ان کی افزائش میں فزوں تر اضافہ ہوا ہے۔ یہ جراثیم عام جراثیم سے مختلف، نہایت انوکھے قسم کے ہوتے ہیں اور ان کی نشو ونما صرف بھارت میں ہوتی ہے۔ اب تک کا مشاہدہ یہی بتاتا ہے کہ باقی دنیا ان جرثوموں سے یکسر محفوظ ہے۔ یہ جراثیم صرف اور صرف بھارت کے کچھ خاص قسم کے انسانوں میں پائے جاتے ہیں، یہ جراثیم جب ان مخصوص انسانوں کے اجسام میں تنومند ہو جاتے ہیں تب یہ انسانوں کے زمرے سے مکمل طور پر خارج ہوجاتے ہیں، ان کی شکل انسانوں کے مشابہ ضرور رہ جاتی ہے لیکن وہ اپنے بودوباش اور کردار میں جانوروں سے بھی بدترین اوصاف کا لبادہ اوڑھ لیتے ہیں۔ یہ جراثیم انھیں کوئی تکلیف نہیں دیتے بلکہ یہ ان انسان نما جانوروں میں مدغم ہوکر دوسرے عام انسانوں کا جب شکار کرتے ہیں تو انہیں بسا اوقات ابدی نیند سلا کر ہی دم لیتے ہیں یا کم از کم اپنے شکار کو اس قابل نہیں چھوڑتے کہ وہ انسانوں کی سی عام زندگی گزار سکے بلکہ اسے اپاہج یا ادھ مرا بنا دیتے ہیں۔ ان درندوں کی شناخت اس قدر مشکل ہوتی ہے کہ انہیں پہچاننا عام انسانوں کے بس کی بات نہیں ہوتی اور اسی لئے عام آدمی ان کا آسان سا لقمہ بن جاتا ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ جہاں یہ ہوسکتی ہے کہ سوسائٹی کا نظم ونسق چلانے والی جماعت ان کی معاون ہو وہیں دوسری وجہ یہ بھی ہوسکے ہے کہ پارلیمنٹ میں بیٹھ کر قانون سازوں کی ان کے تئیں مکمل چشم پوشی ہو اور ان دونوں وجوہات کے اپنے اپنے قرائن موجود ہیں جس کا بین ثبوت ایف آئی آر لکھنے میں آناکانی اور ہر وقوعہ کو غلط رخ دینے کی چابکدستی ہے۔

ہمارے بھارت کی مہذب اور تعلیم یافتہ سوسائٹی جسے ہم میڈیا کہتے ہیں وہ انہیں جانور کہنے سے اس لئے گریزاں رہتی ہے کہ وہ ان سے بہت خوف کھاتی ہے اسی لئے انہوں نے ان کا بڑا اچھا سا نام ‘بھارتیہ گئو رکشا دل’ اور ‘گئو رکشا سمیتی’ رکھا ہے اور انکے گھناؤنے فعل کو یہ کہتے ہیں بھیڑ کے ذریعے زدوکوب سے قتل یعنی Mob Lynching ۔ زمانۂ قدیم میں یہ نام ان لوگوں کے نازیبا فعل کو دیا جاتا تھا جو سوسائٹی کی مخالفت کرنے والوں کو دوڑا دوڑا کر زدوکوب کرتے اور موت کے گھاٹ اتار دیتے تھے اب اس مخالفت کی وجہ چاہے مذہبی اعتقاد رہتی رہی ہو یا سماجی اقدار کی خلاف ورزی۔ فی زمانہ یہی نام ان جانور صفات کے حاملین کو بھی دیا گیا ہے جو عام سمجھ کے اعتبار سے بالکل غلط ہے اسلئے کہ دونوں میں مماثلت صرف جرم کی ہے اسباب بالکل الگ ہیں دوسری بات یہ ہے کہ وہ زمانہ جنگل راج کا تھا جبکہ دور حاضر کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ جمہوری حکومت ہے جہاں کے قوانین ہر شخص کی آزادی کی ضامن ہیں، ان کی پاسداری اور حفاظت کے لئے مختلف ادارے ہیں اور اگر کوئی انہونی حادثہ وقوع پذیر ہوا تو اس پر غور وخوض کرنے اور اسکی گرفت کرنے کے لیے ملکی سطح پر پارلیمنٹ جیسا قوی اور مستحکم ادارہ بھی ہے۔ اس تناظر میں ہم اس قبیح فعل کو اگر وہی جنگل راج والا نام دے رہے ہیں تو گویا ہم اپنی تہذیب کو مسخ کر رہے ہیں۔
ان دنوں ہمارے ملک میں اگر کوئی شخص گائے یا بیل کی فارمنگ اور تجارت کرتا ہے یا وہ گائے بیل جیسے مویشیوں کو دودھ دہی یا دوسری حاجت روائی کے لئے پالتا پوستا ہے اور وہ مسلمان بھی ہے تو وہ بھکشکوں کی نظر میں قانونی طور پر قید با مشقت کا سزاوار ہی نہیں گردن زدنی ہے۔ ویسے بھی یہاں ہمارے ملک میں انسان کا خون گائے کے خون سے زیادہ سستا ہے جبھی تو گئو ہتیا پر قانونا بڑی سخت سزائیں ہیں۔ واضح رہے یہی وہ محرک ہے جس کی شہ پا کر انسانوں کے خول میں جانوروں والا گروہ اس خاص مویشی کے تاجر کو گردن زدنی سمجھتا ہے۔
گزشتہ جمعے کو راجستھان کے ضلع الور میں جو انسانیت سوز واقعہ پیش آیا اور اکبر نامی ایک شخص کو مار ڈالا گیا کیا وہ صرف Mob Lynching ہے؟ نہیں ہرگز نہیں !! زیادہ دن نہیں ہوئے اسی الور میں اپریل 2017 میں پہلو خان کو بھی اسی مویشی پالن کے جرم میں تہ تیغ کر دیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ دہلی، دہلی میں موجود کیرلا ہاؤس کے ریستوراں میں پر تشدد واقعہ، ہریانہ، گجرات، مدھیہ پردیش، مہاراشٹرا، کرناٹکا، جھارکھنڈ، بہار کہاں نہیں اس قسم کے واقعات انجام دئے گئے! اترپردیش کے دادری گاؤں میں ستمبر 2015 کا بقرعید کے دوسرے روز کا وہ جانسوز واقعہ کون بھول سکتا ہے جہاں رام کے پوتر مندر سے منادی کرائی گئی تھی اور آنا فانا نہتے محمد اخلاق کو اسکی ماں، بیوی، بیٹا اور بیٹی کی اشکبار آنکھوں کے سامنے انہیں انسان نما بھیڑیوں نے مار ڈالا تھا اور اسکی بیٹے کو کتوں کی طرح بھنبھوڑ کر ادھ مرا کردیا تھا۔ پورا گھر بھائیں بھائیں چیختا رہا اور بے بسی ماتم کرتی رہی پر کچھ نہ ہوا البتہ زخم ہر نمک یوں چھڑکا گیا کہ پورے گھر والوں کو گئو کشی کا مجرم قرار دے دیا گیا۔ تفو بر تو اے چرخ گردوں تفو !!
ان درندوں کو ہم برے القاب سے بھی نہیں نواز سکتے کیونکہ برے القاب بھی آخر کار انسانوں کے لئے ہی وضع کئے گئے ہیں، انھیں تو بس مختلف جانوروں کے ناموں سے ہی یاد کرسکتے ہیں حالانکہ اس میں بھی ان جانوروں کی ہتک محسوس ہوتی ہے اس لئے کہ یہ درندے ان سے کہیں زیادہ بھٹکے ہوئے اور غلیظ ہیں!
اب تک ان بھکشکوں کے ذریعے جتنے جرائم کئے گئے ہیں اور جتنی جانیں گئی ہیں کسی میں بھی انہیں عبرتناک سزا دینا تو دور کی بات انہیں مجرم تک نہیں مانا گیا، ان کو روکنے میں پولیس عاجز، صوبائی حکومت ناکام، مرکزی حکومت لاچار اور سپریم کورٹ بے بس ثابت ہوئی ہے! یہ سوال اپنی جگہ اب بھی قائم ہے کہ ان کی روک تھام آخر کیسے ہو؟

آپ کے تبصرے

avatar