پرانی دہلی: جیسے ایک ماتم کدہ ہو کوئی

عزیر احمد

پرانی دہلی ایک ایسی جگہ ہے جس سے میری آشنائی کتابوں کے ذریعہ ہوئی، تاریخ کے جھرونکوں سے ہوتے ہوئے یہ آشنائی عشق و محبت کی منزلیں کب طے کر گئی معلوم ہی نہیں ہوا، لال قلعہ اور جامع مسجد کا چسکا کچھ اس قدر لگا کہ ہر ہفتے اس کی زیارت کے لئے جانے لگا، گھنٹوں جامع مسجد میں بیٹھ اپنی کھوئی ہوئی عظمت رفتہ کی بازگشت سنتا، اس کی مضبوط دیواروں میں اپنے مضبوط ماضی کے نقوش تلاش کرتا، اپنے آپ کو تصورات کی وادیوں میں یوں بہتا چھوڑ دیتا کہ گرد و پیش سے بے خبر میں صدیوں پرانے دور میں اپنے آپ کو جیتا جاگتا محسوس کرنے لگتا، میں ذہن میں شاہجہان آباد کے خاکے بناتا، اور ان خاکوں میں اس دور کی ثقافت، تہذیب اور لوگوں کے رنگ بھرتا، میں دیوان عام اور دیوان خاص کی محفلوں کو بھی خیالوں کی نگاہ سے دیکھ لیتا، میں رونقوں اور رعنائیوں سے بھی بہرہ ور ہوتا، مغلیہ سلطنت کی فوجوں کی روانگی کا منظر بھی دیکھتا، فتوحات کی خبریں آنے پر جشن کا ماحول بھی دیکھتا، میں عروج بھی دیکھتا، زوال بھی دیکھتا، غرضیکہ خیالات کے بادل کچھ یوں امنڈ امنڈ کے آتے کہ مجھ پہ کئی صدیوں کی بارش کرجاتے، جس کے پھواروں سے دل و دماغ پہ ایک عجیب سی کیفیت طاری ہوجاتی، عروج خوشی دیتی تو زوال اسباب زوال کی وجہ سے غم دیتے-
پھر اس کے بعد میں اپنی دنیا میں لوٹ آتا تو مجھے لگتا کہ جیسے اس دور کے لوگ زوال کے دور میں بھی آج کے لوگوں سے بہتر تھے، آج کے دور کے مسلمان جو اس جگہ میں رہتے ہیں ان کو دیکھو تو جیسے خبر ہی نہیں کہ آج وہ جس جگہ کے مالک ہیں وہ کئی صدیوں کی تہذیبوں کا مدفن ہے، اور اس کے آثار ہماری عظمت رفتہ کے سب سے شاندار دلائل ہیں، جس کی ہر ہر اینٹیں اس بات کا چیخ چیخ کر اعلان کرتی ہیں کہ جو لوگ گزر گئے – جی چاہتا ہے نقش قدم چومتے چلیں –
وہ ہر فن میں طاق تھے، ثقافت، تہذیب، تعمیر، تمدن، سیاست، مختلف قسم کے علوم و فنون کے ماہر، آرکٹیچکر میں اتنی ترقی ہونے کے باوجود آج بھی جب ماہرین لال قلعہ یا جامع مسجد کا جائزہ لیتے ہیں تو دانتوں تلے انگلیاں داب لیتے ہیں اور اس دور کی فنکاری اور مہارت کی داد دئیے بغیر نہیں رہ پاتے ہیں.

دہلی میں اقامت پذیری کے دوران میں ان گنت بار جامع مسجد گیا، اور میں بار بار انہیں مناظر کی تصورات میں کھوتا رہا، لیکن ابھی تک ایک منظر میری نگاہ سے ہمیشہ پوشیدہ رہا، اور وہ تھا تقسیم کا منظر، چونکہ میں راستہ بھٹکنے کے معاملے میں بہت ماہر ہوں اس لئے کبھی ہمت نہ ہوسکی کہ جامع مسجد سے آگے بڑھ کے پرانی گلیوں میں گھس سکیں، ایک دو مرتبہ کچھ ساتھی نہاری کھلانے کے لئے لال کنواں کی طرف ضرور لے گئے، مگر کوئی تاریخ کا اتنا جانکار نہیں تھا کہ میری ہر گلی یا علاقے سے واقفیت کراتے چلے، اب کی بار خوش نصیبی ہاتھ آئی، بڑے بھائی زید احمد کی آمد سے جامع مسجد جانا ہوا، سوچا یہیں آئے ہیں تو اپنے ہم درس و ہم سبق ساتھیوں برادرم خبیب، عاصم اور شکیل وغیرہ سے ملتے چلیں جو کہ مدرسہ نذیریہ میں مدرس کے فرائض انجام دے رہے ہیں.

برادرام خبیب کی تقسیم کی تاریخ سے جنون کی حد تک دلچسپی ہے، اس کے ساتھ مدرسہ نذیریہ تک کا سفر بہت شاندار رہا، بعض گلیوں سے تو گزرتے ہوئے مشتاق احمد یوسفی (اللہ ان کی قبر کو نور سے بھردے) کے اس قول کی بہت یاد آئی جو انہوں نے کہا تو لاہور کے بارے میں ہے، مگر اس کا انطباق پرانی دہلی کی گلیوں پہ بخوبی ہوتا ہے، پتلی پتلی گلیاں شیطان کی آنت کی طرح، ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی تھیں، بعض گلیاں ایسی کہ صرف ایک آدمی کے گزرنے کی گنجائش تھی، میں تو یہ دیکھ کے حیران تھا کہ ان گلیوں میں کسی گھر کی مرمت یا اس کی از سر نو تعمیر کیسے کی جاتی ہے، ہر گلی میں تھوک پر بیچنے والی بے شمار دکانیں ہیں جس میں ہزاروں لوگ کام کرتے ہیں، مجھے یہ جان کر بہت تعجب ہوا کہ اب بھی ان میں سے بعض دکانوں کا کرایہ محض ایک روپیہ یا دو روپیہ جو کہ تقسیم کے وقت تھا اب بھی ہے، تقسیم کے واقعات کو خبیب نے کچھ اس انداز سے سنائے کہ آنکھوں میں آنسو آ گئے.

اس تقسیم نے مسلمانوں سے کتنا کچھ چھین لیا اس کا اندازہ نہیں کیا جاسکتا ہے، بہت تکلیف دہ ہے، شاید کہ ہندوستانی مسلمانوں کی تاریخ کا سب سے تکلیف دہ واقعہ، اس تقسیم میں اہلیحدیثوں نے بھی بہت کچھ کھویا ہے، ان کی کمر ٹوٹ گئی، ان کا شیرازہ بکھر گیا، ان کے مدارس تباہ کردئیے گئے، ان کی لائبریریاں جلا دی گئیں، ان کی مسجدوں پہ قبضہ کرلیا گیا، خبیب نے کچھ لوگوں کے اقتباس بھی پڑھ کر سنائے جو کہ چودہ اگست 1947 کے دن کی روداد سے متعلق تھے، آہوں اور سسکاریوں کی کہانی ہے-
اس نے مجھے بہت سارے گھر دکھائے جس کے دروازوں کے اوپری حصہ پہ چاند کی تصویریں بنی ہوئی ہیں، یا لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ لکھا ہوا ہے، یا قرآن کی آیتیں لکھی ہوئی ہیں اور اسی پہ مورتیوں کی تصویریں بھی بنی ہوئی ہیں، دروازوں پہ بت بھی رکھے ہوئے جو اس بات کی طرف واضح رہنمائی کرتے ہیں کہ یہ مسلمانوں کے گھر تھے جس پہ آج غیر مسلموں نے قبضہ کر رکھا ہے، تقسیم سے پہلے یہ اشراف کا علاقہ تھا، مسلمانوں کا کریم طبقہ اسی علاقے میں رہتا تھا، عالم میں تھا اس کا انتخاب، ترقی یافتہ شہروں میں سر فہرست تھا، جہاں ان گلیوں نے عوام کی قسمتوں کے لکھنے والوں کو بھی دیکھا تھا، وہیں ان گلیوں اور سڑکوں نے تقسیم کے بھیانک منظر کا بھی مشاہدہ کیا تھا، پوری گلیاں لاشوں سے پٹی ہوئی تھیں، لوگ گھروں سے نکل رہے تھے اور مار دئیے جارہے تھے، ٹرین میں سوار ہوکر نئے ملک میں زندگی بسانے کی آرزو انہیں گھروں سے نکال رہی تھی مگر چند ہی فاصلے کی دوری پہ موجود ٹرین تک زندہ نہیں پہونچ پارہے تھے-
طبقہ اشرافیہ کی عورتوں کی ایک بڑی تعداد ایسی بھی تھی جو پردے کی اس قدر پابند تھیں کہ انہوں نے کبھی گھر سے باہر قدم تک نہیں رکھا تھا وہ راستہ تک بھٹک جارہی تھیں، بعض عورتوں کو سکھوں نے رکھ لیا، بے شمار کو قتل کردیا، اف خدایا، وقت نے یہ کیسا قہر ڈھایا تھا، جن حویلیوں کے مکین کبھی بادشاہ ہوا کرتے تھے، انہیں کے لئے آج زمین اپنی کشادگی کے باوجود تنگ پڑ گئی تھی، بہت سارے لوگوں نے گھروں میں چھپ کے اپنی جان بچائی تھی، ان کے اپنوں کی لاشیں ان کے دروازوں پہ بے گور و کفن پڑی ہوئی مگر ڈر اور دہشت کی حکمرانی تھی، باہر نکلنے پر مار دئیے جانے کا خوف تھا-
بہت ہی خونچکاں داستان ہے، شاید میں لکھتا ہی رہوں اور داستان ختم ہی نہ ہو،  بہت سارے ادیبوں نے تقسیم کی کہانیاں لکھی ہیں، بہت ساری فلمیں بھی بنی ہیں، دیکھا تھا، پڑھا تھا، مگر جو کچھ وہاں پہ جاکے محسوس ہوا اس کو لفظوں میں بیان ہی نہیں کیا جاسکتا.

ایسا معلوم ہو رہا تھا جیسے وہاں کی گلیاں آج بھی ماتم کناں ہوں، چیخوں کی آوازیں چاروں طرف سے آرہی ہوں، آج بھی فضاؤں میں خون کی بساند بھری ہوئی ہو، یا پھر آج بھی اپنے گمشدہ مکینوں کی تلاش میں منتظر فردا ہوں، بانہیں پھیلائے انہیں گلے لگانے کے لئے تیار کھڑی ہوں، ان کے دل “کہاں گئے انہیں ڈھونڈو” کی گردان کر رہے ہوں، وہ آج بھی اپنی گمشدہ ماضی کی کڑیوں کو جوڑنے کے لئے بیقرار ہوں، آج بھی اسی تہذیب و ثقافت کی تلاش میں ہوں جن کا طوطی چار دانگ عالم میں بولتا تھا، مگر ہائے آرزو، وائے آرزو، اب یہ کبھی ممکن نہیں، مگر بعید بھی نہیں، “و تلك الایام نداولہا بین الناس”، کب وقت کا پہیہ دوبارہ گھوم جائے کچھ کہا نہیں جاسکتا.

دل کر رہا تھا کچھ دیر اور انہیں گلیوں میں گھومتے رہیں، کچھ دیر اور حسرت و افسوس کے آنسو بہاتے رہیں، پر وقت کی قلت تھی، تنگئی داماں کا کوئی علاج نہیں تھا، اس لئے جو بھی ہاتھ لگا، سمیٹتے ہوئے دوبارہ پھر آنے کا وعدہ کرکے واپس میکدے میں لوٹ آئے.

1
آپ کے تبصرے

avatar
1 Comment threads
0 Thread replies
0 Followers
 
Most reacted comment
Hottest comment thread
1 Comment authors
Kashif shakeel Recent comment authors
newest oldest most voted
Kashif shakeel
Guest
Kashif shakeel

محترمہ فوزیہ رباب کا ایک شعر یاد آ رہا ہے، سن لیں تمھاری یاد ہے ماتم کناں ابھی مجھ میں تمھارا درد ابھی تک سیہ لباس میں ہے پتہ نہیں کیوں ہمیں خوابوں کی دنیا اچھی لگتی ہے، ہم عالمِ تصورات میں جینا پسند کرتے ہیں، ماضی کی داستانوں میں بہت لذیذ ذائقہ محسوس کرتے ہیں، پدرم سلطان والی اَنا پر کٹ جانا گوارا، پُرکھوں کی شوکت پہ قربان ہونا منظور، مگر خود کو تاریخ ساز وجود بخشنے میں ہم ناکام ہیں، مولانا آزاد کی روح آج بھی ہم سب کو خطاب کر رہی ہےکہ مسلمانو! تاریخ کے چند اوراق… Read more »