فریضہ حج کے تربیتی پہلو

عبدالعلیم عبدالعزیز عبادات

اسلام انسانی رشد وہدایت کی حسین عمارت ہے جو پانچ مضبوط پلروں پر قائم ہے، حج بھی انہیں میں سے ایک ہے، یہ تزکیہ نفس اور تربیت کا بہترین کورس ہے جس میں انسان کی معاشرتی، اخلاقی، دینی اور اجتماعی ہر لحاظ سے تربیت کی جاتی ہے.
حج کا لغوی معنی ہے قصد کرنا (1) .

اصطلاح میں حج مخصوص وقت میں مخصوص صفت اور مخصوص شرائط کے ساتھ بیت اللہ کے قصد کرنے کو کہتے ہیں.
حافظ ابن حجر فرماتے ہیں: مخصوص اعمال کے ذریعہ خانہ کعبہ کا قصد کرنا حج کہلاتا ہے (2) .

حج اسلام کا بنیادی رکن ہے جو صاحب استطاعت پر عمر میں ایک مرتبہ فرض ہے، صحیح قول کے مطابق 9ھ میں اس کی فرضیت ہوئی(3) .

حج کے فضائل:
رسول اللہ صلی علیہ وسلم نے حج کے بہتیرے فضائل بیان فرمائے ہے؛
یہ دخول جنت کا سبب ہے-
ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانچ چیزیں ہیں، جو انہیں ایمان کے ساتھ ادا کرے گا، وہ جنت میں داخل ہو گا: انہیں میں سے ایک ہے بیت اللہ تک پہنچنے کی طاقت رکھنے کی صورت میں حج کرنا (4) .
یہ گناہوں کی بخشش اور مفلسی و ناداری سے نجات کا ذریعہ ہے-
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “حج اور عمرہ ایک کے بعد دوسرے کو كیا کرو اس لیے کہ یہ دونوں فقر اور گناہوں کو اسی طرح مٹا دیتے ہیں جیسے بھٹی لوہے، سونے اور چاندی کے میل کو مٹا دیتی ہے، اور حج مبرور کا بدلہ صرف جنت ہے” (5) . اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

“مَنْ حَجَّ هَذَا الْبَيْتَ فَلَمْ يَرْفُثْ وَلَمْ يَفْسُقْ رَجَعَ كَمَا وَلَدَتْهُ أُمُّهُ “.

“جس شخص نے اس گھر (کعبہ) کا حج کیا اور اس میں نہ «رفث» یعنی شہوت کی بات منہ سے نکالی اور نہ کوئی گناہ کا کام کیا تو وہ اس دن کی طرح واپس ہو گا جس دن اس کی ماں نے اسے جنا تھا” (6) .
حاجی اللہ کا مہمان ہوتا ہے-
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

“الْغَازِي فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَالْحَاجُّ وَالْمُعْتَمِرُ وَفْدُ اللَّهِ، دَعَاهُمْ فَأَجَابُوهُ، وَسَأَلُوهُ فَأَعْطَاهُمْ “.

“اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والا، حج کرنے والا اور عمرہ کرنے والا اللہ تعالیٰ کا مہمان ہے، اللہ تعالیٰ نے ان کو بلایا تو انہوں نے حاضری دی، اور انہوں نے اللہ تعالیٰ سے مانگا تو اس نے انہیں عطا کیا” (7).

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کو سب سے افضل عمل کہا ہے-
ماعز رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا کہ سب سے افضل عمل کیا ہے؟ تو آپ نے فرمایا:

“إِيمَانٌ بِاللَّهِ وَحْدَهُ، ثُمَّ الْجِهَادُ، ثُمَّ حَجَّةٌ بَرَّةٌتَفْضُلُ سَائِرَ الْعَمَلِ، كَمَا بَيْنَ مَطْلَعِ الشَّمْسِ إِلَى مَغْرِبِهَا”.

“اللہ واحد پر ایمان لانا، پھر جہاد کرنا، پھر حج مبرور؛ جو کہ تمام اعمال پر ایسے ہی فضیلت رکھتا ہے جتنی مشرق ومغرب کے درمیان دوری ہے”.(8)
نیز حج میں مال صرف کرنا جہاد میں خرچ کرنے کی مانند ہے-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

“النَّفَقَةُ فِي الْحَجِّ كَالنَّفَقَةِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ بِسَبْعِمِائَةِ ضِعْفٍ”.

“حج میں خرچ کرنا جہاد فی سبیل اللہ میں خرچ کرنے کی طرح، (جس کا ثواب) سات سو گنا تک ہے”.(9)
لہذا جب استطاعت ہوجائے اس فریضے کی ادائیگی میں تاخیر نہیں کرنی چاہئے، ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

” تَعَجَّلُوا إِلَى الْحَجِّ – يَعْنِي الْفَرِيضَةَ – فَإِنَّ أَحَدَكُمْ لَا يَدْرِي مَا يَعْرِضُ لَهُ “‫.

“فریضہ حج کی ادائیگی میں جلدی کرو، کیونکہ تم میں سے کسی کو بھی نہیں معلوم کہ اسے کیا لاحق ہونے والا ہے” (10) .

حج کے تربیتی پہلو:
نبی صلی اللہ علیہ وسلم دین ابراہیمی دین حنیف کا جو صحیفہ لے کر آئے وہ دین و دنیا کی جامع ہے، اس کا ایک ایک لفظ حکمتوں اور مصلحتوں سے پر ہے، شریعت اسلامیہ نے رب کی بندگی کا ایسا بہترین نظام پیش کیا ہے جو صرف نفس کو ہی فرحت وتازگی اور تسکین نہیں بخشتا؛ بلکہ انسان کو انسان بنانے، کردار سازی اور اخلاقی تربیت میں بھی بہترین رول ادا کرتا ہے، حج بھی اسی کا ایک حصہ ہے. حج اپنے اندر انسانی تربیت کے بےشمار موتی سموئے ہوئے ہے:
1- حج انسان کو توحید باری تعالیٰ کے قالب میں ڈھالتا ہے، یہ توحید کے ارد گرد ہی گھومتا ہے، اس کا ترانہ:

“لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ، لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ”.

خالص توحید اور رب کی حقیقی معرفت کا بہترین تصور پیش کرتا ہے، ساتھ ہی اعمال کو اخلاص کے ساتھ انجام دینے کی تعلیم دیتا ہے؛ کیونکہ حج عبادت ہے کہ بلا اخلاص کے خش وخاشاک کی مانند ہے، فرمان الہی ہے: “انہیں اس کے سوا کوئی حکم نہیں دیا گیا کہ اللہ کے لئے دین کو خالص کرتے ہوئے صرف اسی کی عبادت کریں” (11) .
اور ارشاد نبوی ہے:” تمام اعمال کا دارومدار نیت پر ہے” (12) .
2- رزق حلال کے حصول کی ترغیب؛ کیونکہ حرام مال سے ادا کیا گیا حج بے فائدہ ہے.
3- حج کے لئے سفر کرنا، اس میں کئی تربیتی پہلو پنہاں ہے؛ جیسے: اہل وعیال، بھائی بندو اور وطن کو چھوڑ کر دیار مقدسہ کے لئے رخت سفر باندھنا، سفر آخرت کی یاد دہانی کراتی ہے، ساتھ ہی توشہ سفر کا انتظام سفر آخرت کے لئے زاد راہ اختیار کرنے کی تعلیم دیتا ہے، “اور اپنے ساتھ سفر خرچ لے لیا کرو، سب سے بہتر توشہ اللہ تعالٰی کا ڈر ہے اور اے عقلمندو! مجھ سے ڈرتے رہا کرو” (13) .
ساتھ ساتھ یہ تصور کہ سفر عذاب کا ٹکڑا ہے “السفر قطعۃ من العذاب” آخرت کے سفر کی سنگینی کا تصور پیش کرتا ہے تاکہ اس کے لئے تیاری کریں‫.
4- میقات پر پہنچ کر احرام باندھ کر ہی آگے بڑھنا منظم زندگی جینے، اور قانون کی پاسداری کی تعلیم و تربیت ہے.
5- حج کا تلبیہ اور ترانہ گنگناتے ہوئے احرام کی سفید چادر زیب تن کرنا موت وکفن کی یاد دلاتی ہے کہ مطلوب شریعت ہے:

” أَكْثِرُوا ذِكْرَ هَاذِم ِاللَّذَّاتِ ” يَعْنِي الْمَوْتَ (14) .

اور دنیا سے بے نیازی وبے رغبتی کی تعلیم دیتی ہے.
6- دوران احرام ممنوعہ اشیاء سے (جو دیگر ایام میں حلال ہیں) پرہیز کرنا ہمہ وقت شریعت میں حرام کردہ چیزوں سے اجتناب اور عدم ارتکاب کا عادی بنانے کی تعلیم ہے.
7- ارض مقدس _مکہ مکرمہ_ پہنچ کر حجر اسود کو بوسہ دے کر طواف کی ابتداء، رکن یمانی کا استلام اور رمل وغیرہ، یہ سارے اعمال سنت کی تعظیم اور اتباع رسول کے جذبے کو بیدار کرتے ہیں اور دین میں عقل ناقص کے عمل دخل والی فکر پر قدغن لگا دیتے ہیں، عمر رضی اللہ عنہ حجر اسود کے پاس آئے، اسے بوسہ دیا اور فرمایا:”میں جانتا ہوں کہ تو صرف ایک پتھر ہے، نہ نقصان پہنچا سکتا ہے نہ نفع۔ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تجھے بوسہ دیتے ہوئے میں نہ دیکھتا تو میں بھی کبھی تجھے بوسہ نہ دیتا” (15) .
8- صفا مروہ کی سعی ایک عظیم تاریخی پس منظر ہمارے ذہن کے پردے پر پیش کرتی ہے اور ماضی سے ہمارا رشتہ جوڑ کر حضرت ہاجرہ جیسا صبر و تحمل اور برداشت کی قوت اپنے اندر پیدا کرنے کی تربیت اور توکل علی اللہ کی حقیقی تعلیم دیتی ہے.
9- منی، عرفہ، مزدلفہ اور مکہ مکرمہ کا مُسلسل پرسکون اجتماعی سفر نظم وضبط اور پرامن فضا کے قیام کی عملی تربیت کا مثالی کورس ہے، ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عرفہ سے آتے وقت سخت شور اور اونٹوں کی مار دھاڑ کی آواز سنی تو آپ نے کہا:

“أَيُّهَا النَّاسُ، عَلَيْكُمْ بِالسَّكِينَةِ ؛ فَإِنَّ الْبِرَّ لَيْسَ بِالْإِيضَاعِ “.

“لوگو! سکون کے ساتھ، اونٹوں کو تیز دوڑانے میں کوئی نیکی نہیں ہے” (16).
10- رب کا فرمان:

“فَلَا رَفَثَ وَ لَا فُسُوۡقَ ۙ وَ لَا جِدَالَ فِی الۡحَجِّ”(17).

امن پسند، رحم دل اور سلجھی ہوئی طبیعت کا حامل بننے کی تعلیم دیتا ہے، جنگ وجدال اور باہم دست وگریباں ہونے سے بالکلیہ منع کرتا ہے؛ بلکہ حدود حرم میں اپنے ازلی دشمن اور باپ کے قاتل سے بھی لڑائی جھگڑا کرنے سے روکتا ہے، “ومن دخله کا آمنا”، ساتھ ہی اچھے اخلاق وعادات کی ٹریننگ دیتا ہےکہ مکارم اخلاق اسلام کا طرہ امتیاز اور بعثت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصد ہے، فرمان نبوی ہے:

“إِنَّمَا بُعِثْتُ لِأُتَمِّمَ صَالِحَ الْأَخْلَاقِ ” (18).

“مجھے اچھے اخلاق کی تکمیل کے لئے مبعوث کیا گیا ہے”.
11- حالت احرام میں اگر کسی نے بری جانور کا شکار کرلیا جو کہ ممنوع ہے تو اس پر کفارہ ادا کرنا فرض قرار دیا، جس میں یہ تربیت ہے کہ جب بھی دانستہ یا غیر شعوری طور سے کوئی غلطی سرزد ہوجائے تو فورا اس کا کفارہ ادا کرنا چاہئے.

12- اللہ نے موسم حج میں تجارت کو جائز قرار دیکر کہ جاہلیت میں باعث گناہ وعار سمجھا جاتا تھا یہ تعلیم دی ہے کہ عبادت کے ساتھ دنیا سے بھی اپنا حصہ نہ بھولو؛ فرمایا “تم پر اپنے رب کا فضل تلاش کرنے میں کوئی گناہ نہیں”(19). نیز اس میں رزق حلال کے حصول کی ترغیب بھی موجود ہے-
13- حج میں اخوت وبھائی چارگی، آپسی الفت ومحبت، کالے گورے اور ذات پات کی دیوار کو منہدم کرکے “رحماء بینھم” کا حقیقی مجسمہ بننے کی تربیت ہے:

“لَا فَضْلَ لِعَرَبِيٍّ عَلَى عَجَمِيٍّ، وَلَا لِعَجَمِيٍّ عَلَى عَرَبِيٍّ، وَلَا أَحْمَرَ عَلَى أَسْوَدَ، وَلَا أَسْوَدَ عَلَى أَحْمَرَ إِلَّا بِالتَّقْوَى”

کا حسین منظر اسی موسم بہار میں دیکھنے کو ملتا ہے، جب سارے لوگ ایک ہی لباس اور ایک ہی زبان میں توحید کا ترانہ گنگناتے نظر آتے ہیں، جو اتحاد واتفاق کی عملی تربیت ہے‫‫‫.
14- نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے زمزم پیتے وقت دعا کی تعلیم دی، اور اس کے مقبول ہونے کی ضمانت بھی دی (20).
جس سے یہ تربیت مقصود ہے کہ ہمیشہ رب کے سامنے ہی دست دعا دراز کرنا چاہئے، نیز اس کے لئے قبولیت کے مواقع کا انتخاب کرنا چاہئے.
15- شیطان کو کنکری مارنا حج کے واجبات میں سے ہے، وہاں حقیقتا شیطان نہیں ہوتا بس اس کے ذریعہ ہر قسم کے رذیل اور گندی چیزوں کو پھینک دینے کی تربیت مقصود ہوتی ہے، اور ساتھ ہی تکبیر کا ورد یہ تعلیم دیتا ہے کہ ذکر الہی سے ہی شیطان سے نجات ممکن ہے.
16- جانور کی قربانی حکم الہی اور امر خداوندی کے سامنے بلا چوں چرا سر تسلیم خم کردینے کی تعلیم ہے، ساتھ ہی یہ فکر دیتی ہے کہ حکم خداوندی کی بجا آوری دائمی شہرت کا سب سے بڑا ذریعہ ہے:

“وَ تَرَکۡنَا عَلَیۡہِ فِی الۡاٰخِرِیۡنَ” (21).

17- حلال ہوکر احرام کی حالت میں ممنوع اشیاء کا استعمال اس یقین کو مضبوط کرتا ہے کہ یقینا تنگی کے بعد آسانی ہے.
18- حج کو پورا کرنے کے بعد انسان نوزائیدہ بچے کی مانند گناہوں سے پاک ہوجاتا ہے جو از سر نو ایسی زندگی کے آغاز کی تعلیم ہے جو معاصی ومنکرات کی آلائشوں سے پاک ہو.
مختصر یہ کہ حج اخلاص وللٰہیت، صبر وشکر، توبہ واستغفار، حلم وبردباری، جود وسخا، عفو درگزر، اخوت ومحبت اور مکارم اخلاق کی تعلیم و تربیت کا مثالی کورس ہے.
اللہ ہم سب کو حج کی توفیق دے آمین
—————————————–
حوالہ جات:

(1) الصحاح للجوهري 1 /303، النهاية لابن الأثير 1 /340
(2) التعریفات للجرجانی ص82، فتح الباری لابن حجر 3 /378
(3) الشرح الممتع لابن العثيمين 7 /14
(4) حسن، سنن أبي داؤد، كِتَابُ الصَّلَاةِ | بَابٌ : فِي الْمُحَافَظَةِ عَلَى وَقْتِ الصَّلَوَاتِ، ح 429
(5) حسن صحيح، سنن الترمذي، كِتَابُ مَنَاسِكِ الْحَجِّ، ِبَابٌ : مَا جَاءَ فِي ثَوَابِ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ. ح 810
(6) صحيح البخاري، بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى : فَلَا رَفَثَ. ح 1819
(7) حسن، سنن ابن ماجه، كِتَابُ الْمَنَاسِكِ، بَابٌ : فَضْلِ دُعَاءِ الْحَاجِّ، ح 2893

(8) مسند أحمد، ح 19010، شيخ شعيب ارناؤط اور ان کے رفقاء نے صحیح کہا ہے
(9) مسند أحمد، ح 23000، شعيب ارناؤط نے حسن لغیرہ کہا ہے
(10) مسند أحمد، ح 2867، شیخ شيعب ارناؤط نے حسن کہا ہے

(11) سورۃ البینۃ، آیت:5
(12) صحیح البخاري، بَابٌ : كَيْفَ كَانَ بَدْءُ الْوَحْيِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ ح 1
(13) سورة البقرة، آيت:197
(14) حسن صحيح، سنن الترمذي، أَبْوَابُ الزُّهْدِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. بَابٌ : مَا جَاءَ فِي ذِكْرِ الْمَوْتِ، ح 2307
(15) صحيح البخاري، كِتَابُ الْحَجِّ، بَابُ مَا ذُكِرَ فِي الْحَجَرِ الْأَسْوَدِ. ح 1597
(16) صحيح البخاري، كِتَابُ الْحَجِّ، ح1671
(17) سورة البقرة، آيت:197
(18) مسند أحمد،ح 8952، شیخ شعيب ارناؤط نے صحیح کہا ہے
(19) سورة البقرة، آيت:198
(20) قال جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : مَاءُ زَمْزَمَ لِمَا شُرِبَ لَهُ. سنن ابن ماجه، كِتَابُ الْمَنَاسِكِ، بَابٌ: الشُّرْبِ مِنْ زَمْزَمَ، ح 3062، صحيح
(21) سورة الصافات، آيت:108

نوٹ: سنن کی احادیث پر حکم کے سلسلے میں شیخ البانی رحمہ اللہ کی تحقیق سے استفاده کیا گیا ہے.

آپ کے تبصرے

avatar