رقیہ سنٹر کے جواز کا مسئلہ

ابوالمرجان فیضی عبادات

کہتے ہیں کہ ضرورت ایجاد کی ماں ہوتی ہے۔جیسے جیسے ضرورتیں بڑھتی ہیں اسی طرح سے اس کا حل بھی تلاشا جاتا ہے۔ ضروریات زندگی میں سب سے بڑی ضرورت ذہنی اور جسمانی صحت کی ہے۔بنا تندرستی کے نہ آپ کسی چیز کی پلاننگ کرسکتے ہیں اور نہ ہی اس کی عملی تنفیذ ۔یہاں تک کہ بیماریاں، عبادات کی ادائیگی میں بھی خلل ڈالتی ہیں۔اسی وجہ سے بلاتفریق مذہب و ملت رنگ و نسل، تمام لوگوں کا اس پر اتفاق ہے کہ صحت برقرار رکھنے کی کوشش کی جائے۔بیماری کا علاج دریافت کیا جائے۔اور اس کے لیے فنڈز ،ادارے اور افراد مختص کیے جائیں۔
الحمد للہ ہم اہل ایمان ہیں ۔ہمار اعقیدہ ہے کہ بیماری اللہ کے حکم سے نازل ہوتی ہے اور شفا بھی وہی دیتا ہے۔اسی لیے ضروری ٹھہراکہ جو شفا دیتا ہے اس سے دعا کی شکل میں بھی شفا کی درخواست کی جائے۔
رقیہ شرعیہ دعا کی ایک قسم ہے۔لسان العرب میںہے: رقیہ سے مراد عوذہ ہے۔جس کا مطلب پناہ لینا اور پنا ہ کے حصول کے لیے دعا مانگنا ہے۔اسی سے ایک لفظ تعویذ ہے جو اس باب میں ایک خاص شکل میں معروف ہے ۔ لیکن اس کا لغوی معنی ہےپناہ میں دینا۔رقیہ جس کو اردو میں دم یا جھاڑپھونک کہتے ہیں۔یہ بھی ایک طرح کی دعا ہے۔جس میں بیماری سے اللہ کی پناہ طلب کی جاتی ہے۔اور جب اللہ جل شانہ اس دعا کو قبول کرلیتاہےتو بیماری سے شفا مل جاتی ہے۔ہمار اعقیدہ ہے کہ دعا کے اندر ایسی تاثیر اللہ کے دینے سے ہے۔کچھ لوگ الفاظ کی تاثیرکا انکار کرتے ہیں۔حالانکہ اگر ان کی تعریف کی جائے تو بے انتہا خوش ہوجاتے ہیں۔اور جاہل اور احمق کہہ دیا جائےتولال پیلے ہونے لگتے ہیں۔جبکہ یہی وہ لوگ ہیں جو الفاظ کی تاثیر سے انکار کرتے ہیں! بہرحال ہمیں ان لوگو ں سے کچھ نہیں لینا دینا ۔کیونکہ الفاظ اور کلمات میں شفاکی تاثیر ہم اللہ کے دینے سے مانتے ہیں۔
گویا دعا اور دم یا جھاڑپھونک بھی ان جائز ذرائع میں سے ایک ذریعہ ہے جو اللہ کے حکم سے بیماری سے شفا دیتا ہے۔اسی لیے ائمہ محدثین نے اس کا تذکرہ حدیث کی کتابوں میں کتاب الطب کے ضمن میں کیا ہے۔مثلاً امام بخاری رحمہ اللہ (کتا ب الطب ) میں اسی طرح کی حدیثیں لائے ہیں۔(باب الرقی بفاتحۃ الکتاب،رقم الحدیث: 5736) وغیرہ۔کیونکہ یہ بھی اک طرح کاعلاج ہی ہے۔
یہ کہنے کی ضرورت نہیں ،اس دعا اور دم کو شرک اور کسی بھی قسم کے انحراف سے پاک ہونا چاہیے۔
دم اور جھاڑ پھونک کرنا جائز اور درست ہے۔لیکن خود سے خود پر دم کرنا، اپنی شفایابی کے لیے خود ہی اللہ سے پناہ طلب کرنی اور درخواست کرنی افضل ہے۔دوسرے سے بھی دعااور دم کروانا جائز ہے۔لیکن بہتر اور مستحسن امر نہیں ۔اور مومنین کی شان ہے: [الَّذِينَ يَسْتَمِعُونَ الْقَوْلَ فَيَتَّبِعُونَ أَحْسَنَهُ ۚ أُولَٰئِكَ الَّذِينَ هَدَاهُمُ اللَّهُ ۖ وَأُولَٰئِكَ هُمْ أُولُو الْأَلْبَابِ ](زمر : 18)۔ وہ لوگ جو بات سنتے ہیں تو اس میں جو سب سے بہتر ہے اس کی پیروی کرتے ہیں۔وہی وہ لوگ ہیں جن کو اللہ نے ہدایت دی ہے۔اور وہی لوگ عقل والے ہیں۔
دوسروں سے جھاڑ پھونک نہ کروانے کے سلسلے میں ایک تو عام حکم سے استدلال ہے اوردوسرے خاص حکم سے ۔
عام حکم یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ نے کسی بھی چیز کے لیےکسی سےکوئی سوال کرنے سے منع فرمایا ۔اسی لیے بعض صحابہ اگر گھوڑے پر ہوتے اور کوڑا گرجاتاتو اتر کر خود ہی اٹھا لیتے ۔دوسرے سے بالکل سوال نہیں کرتے تھے۔اور کہتے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ہمیں ایسے ہی حکم دیا ہے۔ (صحیح مسلم ،کتاب الزکاۃ ،باب کراہیۃ المسالہ، رقم الحدیث: 1043)
اورخاص حکم یہ ہے ایک بار نبی کریم ﷺ نے ان لوگو ں کی صفات بیان کیں جو بنا کسی حساب اور کتاب کے جنت میں داخل ہوں گے تو اس میں ایک صفت یہ بھی بیان فرمائی کہ وہ لوگ جوکسی سے جھاڑپھونک نہیں کرواتے۔[ هم الذين لا يسترقون ولا يتطيرون ولا يكتوون وعلى ربهم يتوكلون ] (صحیح البخاري، کتاب الطب، باب من اکتوی او کوی غیرہ۔رقم الحدیث:5705) وہ لوگ جو جھاڑپھونک نہیں کراتے،بدشگونی نہیں لیتےاور داغ کر زخم کا علاج نہیں کرتے ہیں ۔
وسیلے کے باب میں یہ تو مانتےہیں کہ زندہ بزرگ سے دعا کرانی جائز ہے۔لیکن یہ شاید ہی کسی نے کہیں دیکھا ہو کہ یہ زندہ بزرگ فارغ ہو کر اسی کام کے لیے بیٹھ گئے ہوں ۔تاکہ دعاؤں کی درخواست آئے۔نیز زیادہ عرضیوں کو نہ نمٹا سکنے کی وجہ سے دو چار اسسٹنٹ بھی رکھ لیے ہوں۔ تاکہ وہ بھی درخواست گزاروں کے لیے دعا کیا کریں۔
مدینہ کے جن خاندانوں کے تعلق سے وارد ہے کہ وہ نبی کریم ﷺ کےدور ہی میں جھاڑ پھونک کیا کرتے تھے۔جیسا کہ صحیح مسلم میں بنی عمرو بن حزم کے بارے میں وارد ہے۔(کتاب السلام باب استحباب الرقیہ۔ رقم الحدیث : 2199 ) ان کے بارے میں بھی یہ ثابت نہیں کہ وہ اسی کام کے لیے ہر وقت بیٹھے رہتے تھے۔
سلف صالحین سے ایسا کچھ بھی ثابت نہیں ۔شاید ہی انھوں نے کبھی خود کودم اور جھاڑ پھونک کے لیے مکمل فارغ کیا ہو۔اسی لیے بہتر یہی ہے کہ علما،حفاظ اور دعاۃ دیگرمشغلوں کے ساتھ ساتھ اپنے حلقے میں یہ کام بھی جاری رکھیں۔نیز ہر مسلم کو کم از کم سورہ فاتحہ اور معوذتین یاد کرائیں۔ جن سے وہ خود سے خود پر دم کرسکتا ہو۔
اس میدان میں خطرے بھی بہت ہیں۔شعبدہ بازوں کی میں بات نہیں کرتا۔جو لوگ حقیقت میں جھاڑ پھونک کے ذریعہ جن اور شیاطین کو بھگانےکی کوشش کرتے ہیںوہ خود کو دعاؤں اور دیگر شرعی حفاظتی حصار میں محفوظ رکھتے ہیں ۔لیکن شیاطین جب ان پر راہ نہیں پاتے تو ان کےبیوی بچوں پر حملہ کردیتے ہیں۔اورانتقاماً ایک عجیب اذیت میں مبتلارکھتے ہیں۔ایسا مشاہدے سے ثابت ہوچکا ہے۔
رہی بات اس کام کے لیےمراکز اور سنٹر کھولنے کے جواز کی بات تو اس میں بہت سے اندیشے ہیں ۔کچھ ایسے بھی ہیں جو ممانعت تک لے جاتے ہیں ۔لہٰذا جو شخص اپنے اندر یہ قوت پائے کہ سنٹرکھولنے سے جن مفاسد کا خطرہ ہے ان سے بچ کر کام کر سکتا ہوتو بے شک وہ سنٹر کھول لے۔لیکن مستحسن یہ ہوگا کہ یہ سنٹر خالص جھاڑ پھونک کا نہ رہے بلکہ اس کےساتھ وہ دوائیں وغیرہ بھی بیچے ۔یا دعوہ سنٹر ہو اور دعاۃ ،دعوت کے ساتھ ساتھ دم کرنے کاکام بھی کریں۔کیونکہ ایک تو سلف سے اس کے لیے مکمل فارغ ہونا ثابت نہیں۔ دوسرے اس سے اسلام کی شبیہ خراب ہونے کا بھی خطرہ موجود ہے۔وہ اس طرح کہ اسلام ایک ایسا دین ہے جو ہمیشہ اور ہر دور میں نہ صرف چل سکتا ہے بلکہ سب سے آگے ہی رہے گا کبھی فرسودہ نہ ہوگا ۔ آج کا دور سائنس کا ہے۔بنا کسی سبب کے ہی اسلام پر تاریک خیالی اورنامعقولیت کے الزامات لگ رہے ہیں۔رقیہ سنٹر کھلنے کے بعد ان الزامات میں صرف اضافہ ہی ہوگا ۔یہ بات بجاہے کہ دین کی سچائی کے آگے ہم ان الزامات کی پروا نہیں کیا کرتے ۔لیکن اسلام نے اگر چہ اس کو ناجائز نہیں کہا ہےمگر اس کی حوصلہ افزائی بھی نہیں کی ہے۔رقیہ سنٹر کھولنے کی ضد کرکے معاملے کو اس کی حیثیت سےزیادہ حجم دیا جارہا ہے۔اگر شریعت نے اس کی حوصلہ افزائی کی ہوتی تو کوئی بات نہیں تھی۔یہاں تو رقیہ نہ کرانے والے ہی افضل شمارکیے جاتے ہیں۔ اسی لیے اس طرح کے مراکز کھول کر دنیا کو یہ تاثر ہر گز نہیں دینا چاہیے کہ یہ قدیم زمانے کاجھاڑ پھونک کرنے اور جنات و شیاطین بھگانے والا دین ہے۔حالانکہ یہ تو اللہ کی معرفت بخشنے ،عبادت کا طریقہ بتانے، ہدایت دینے اور زندگی گزارنے کا طرز بتانے والا دین ہے۔
رقیہ شرعیہ کے جواز پر اتفاق ہے۔ اس لیےرقیہ سنٹر کھولنا بھی جائز ہے۔ (تفصیل کے لیے دیکھئے : الاسلام سوال و جواب سوال نمبر :۶۲۱۶۰ موقع الشیخ محمد بن صالح المنجد )
رہا دم پر اجرت کا معاملہ تو افضل یہ ہے کہ اجرت نہ لی جائے۔ لیکن بعض علمانے اس کو جائز کہا ہے ۔کچھ نے اجرت کی شکل میں تو کچھ نے ہدیہ (جعالہ ) کے طور پر ۔لیکن یہ اجرت یا ہدیہ دم کےمقابل میں نہیں بلکہ شفا کے مقابل میں ہوگی ۔
ابن عثیمین رحمہ اللہ ایک سوال کے جواب میں فرماتے ہیں: آدمی کی قرات (دم اور جھاڑپھونک ) میں جو تاثیر ہوتی ہےوہ اس کے اخلاص کی وجہ سے ہوتی ہے۔اور دم کرنے والوں کے لیے بہتر یہ ہے کہ اللہ کے لیے اپنی نیت خالص رکھیں۔اور اس عمل سے تقرب الی اللہ اور بندوں کے ساتھ احسان کی نیت کرلیں۔ (نور علی الدرب : شریط نمبر239)
علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:اگر مریض کے شفا پر کچھ ہدیہ (جعل۔جیم کے ضمہ کےساتھ) دینے کی بات طے کرلی جائے توجائز ہے۔جیسا کہ نبی ﷺکے صحابہ رضی اللہ عنہم نے شفا ملنے پر کچھ دینے کی بات طے کی تھی اوروہ ہدیہ قبول کر لیا تھاجو قبیلے کے سردار کوشفا ملنےپران کوملا تھا۔( صحیح البخاری : کتاب الاجارہ،:باب ما یعطی فی الرقیہ، رقم الحدیث : 2276 )لیکن انھوں نے جو بکریوں کا ریوڑ لیا تھا وہ شفا ملنے پر لیا تھا ۔دم کرنے پر نہیں۔اور اگر کسی طبیب(دم کرنے والے) کو شفا کی شرط کے ساتھ متعینہ اجرت پر ہائر کیاجائے(ہدیہ کی جگہ متعینہ اجرت پر بلایا جائے) تو یہ اجرت جائز نہیں ۔کیونکہ شفا اس کےبس کی بات نہیں۔کبھی اللہ شفا دیتا ہے اور کبھی نہیں دیتا ہے وغیرہ۔ اسی لیے بعض ایسےمقامات ہیں جہاں ہدیہ تو جائز ہے لیکن متعینہ اجرت جائز نہیں۔(مجموع الفتاوی :20/ 507)
علامہ ابن جبرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں:شرعی دم پر اجرت لینا درست ہے۔اگر مریض شفا پاجائے اور مرض زائل ہوجائے۔ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی حدیث کی وجہ سے۔لیکن افضل یہ ہےکہ اجرت کی شرط نہ لگائی جائےاور دم مسلمانوں کونفع پہنچانے کے لیے کیاجائے۔پھراگر وہ کچھ دے دیں تو لےلے۔( فتح الحق المبین فی احکام رقی الصرع والسحر والعین :ص 349)
لیکن اس کے تعلق سے جو اندیشے بیا ن کیے جاتے ہیں وہ حسب ذیل ہیں :
۱۔جن لوگوں نے اسے جائز کہا ہےانھوں نے بھی شعبدے بازیوں، دھوکے اور مال کمانےکے لیے غیر شرعی طریقے پر کیے گئے دم وغیرہ کو ناجائز کہا ہے۔اور جن ممالک میں اس طرح کی عیادات کھولی گئی ہیںان عیادات کا مشاہدہ کیا گیا تووہ لوگ ان چیزوں سے بچ نہیں سکے۔
۲۔ یہ بالکل ہاسپٹل کے علاج کی طرح نہیں ہے۔جہاں سارانحصار ڈاکٹر کی لکھی ہوئی دواؤں پر ہوتا ہےبلکہ یہ دعا کےقبیل سے ہے جو مادی نہ ہوکر روحانی ہے۔اور اس میں دعا کی بجائے دعا کرنے والے کی شخصیت پراور اس کے تقوی پر انحصار ہوجاتا ہے ۔حالانکہ شفاتو دعاؤں کے ذریعہ اللہ دیتا ہے ۔نہ کہ دم کرنے والا ۔ لہٰذا یہ عقیدت اسےایک غلط چیزکی طرف لے جاتی ہے۔
۲۔ روزی روٹی کے ساتھ معاملہ جڑجانے کی وجہ سے بہت سے راقی مال کمانے میں اولوالعزمی دکھاتے ہیں۔اور دم کی ہوئی تیل یا پانی کی بوتلیں، اگر بتیا ں،عطورات اور نہ جانے کس کس چیزکی خرید و فروخت چالو ہوجاتی ہے اور دم کرنے کی ایسی ایسی شکلیں ایجاد ہوجاتی ہیں جو کسی طرح بھی درست نہیں ۔مثلاًدم کرنے والا ایک بار دعا پڑھ کر سینکڑو ں لوگوں یا برتنوں میں تھکتھکاتا یادم کرتا ہے۔حالانکہ قرات کے ساتھ مخلوط دم یا تھوک پہلے یا دوسرے شخص یا برتن ہی میں ختم ہوجاتا ہے۔باقی لوگوں یا برتنوں پر مجرد ہوا یا تھوک ہی پہنچتی ہے۔جو دعاسے خالی ہوتی ہے۔
۲۔ایسے مریض جن کو جنات نے پکڑا ہوتا ہے بہت کم ہوتے ہیں۔شیخ علی محمد بن ناصر الفقیہی اپنی کتا ب الرقیہ الشرعیہ میں فرماتے ہیں : میری کئی ایسے راقیوں سے بات ہوئی ۔جنھوں نے دم کےلیے سنٹر کھولا ہوا تھا۔وہ کہتے ہیں شاذ ونادر ہی ایسے مریض آتے ہیںجن کو جن نے پکڑا ہوتا ہے۔وہ اکثر ذہنی ونفسیاتی مریض اور اوہام اور و ساوس کے شکار ہوتےہیں۔اگر ان کو یہ یقین دلا کر فیس لی جائے کہ تمھیں آسیب ہے۔ تو یہ لوگوں کا مال باطل طریقے سے کھانا ہوا،جو حلا ل نہیں۔( الرقیہ الشرعیہ من الکتاب والسنہ :ص/ 38،39 من المکتبہ الشاملہ )
۳۔ایک بہت بڑا مسئلہ عورتوں پر دم کرنے کا ہے۔ہمارے ملک ہندستان میں عورتوں پر دم کرنے والوں کی اکثریت زانی ہوتی ہےیا نامحرم کے ساتھ ناجائزخلوت اختیار کرتی ہے۔سنٹر کے مالک کے پاس ایسی کیا تدبیر ہوگی جس سے وہ اپنے اسٹاف کو اس لعنت سے بچا سکتا ہو۔وغیرہ
اللہ سے دعا ہے کہ ہمارا سینہ روشن کرے اورہمیں راہ حق کی ہدایت دے۔ اور دنیا و آخرت میں کامیابی عطافرمائے۔

آپ کے تبصرے

avatar