سابقہ مسلم سلاطین اور ہم

عزیر احمد

سوشل میڈیا پہ اکثر ہمیں یہ جملہ سننے کو ملتا ہے کہ مسلم سلاطین نے صرف عمارتیں بنوائیں، کاش کہ انہوں نے یونیورسٹیاں قائم کی ہوتیں، یا پھر جیسے اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ جس وقت ہندوستان میں تاج محل کی بنیاد پڑ رہی تھی، اسی وقت یوروپ میں کیمبرج اور آکسفورڈ کی بنیادیں تعمیر کی جارہی تھیں۔
اس قسم کے کمپریزن کا ہمیشہ مقصد مسلم سلاطین کو عوام کی نظر میں برگشتہ کرنا یا انہیں علم مخالف یاصرف عیاش پرست باور کرانا ہوتا ہے، حالانکہ اکثر و بیشتر لوگ جو اس قسم کے جملے دہراتے نظر آتے ہیں وہ بھی بس سنے ہوئے ہوتے ہیں، نہ انہیں تاریخ سے مطلب ہوتی ہے، اور نہ ہی اس دور کے اسباب و عوامل سے۔
عمارتیں کسی بھی قوم کی تہذیب و ثقافت کی آئینہ دار ہوا کرتی ہیں، ان کے اسٹرکچر میں ان کے فن کی انتہا کا راز پنہاں ہوتا ہے، اسی سے ان کی عقلی پختگی کو پہچانا جاتا ہے، اور خاص کر یہ عمارتیں جب سلاطین سے متعلق ہوں تو وہ ان کے عروج و زوال کی داستان بھی ہوا کرتی ہیں، اور آنے والی نسلوں کے لئے سبق بھی کہ دوام کسی کو حاصل نہیں، جب ان مضبوط محلات کے بانیان مٹ گئے تو پھر ہم جھونپڑیوں میں رہنے والوں میں ایسا کیا خاص ہے کہ ہمیشہ باقی رہیں گے۔
ہندوستان میں جتنے بھی آثار ہیں یہ ہماری عظمت کے نشانات ہیں، اس قسم کے جملوں کے ذریعہ ان کی اہمیت ختم کرنے کی کوشش کرنا مغرب سے ایک قسم کی ذہنی مرعوبیت ہے، اس کے سوا کچھ بھی نہیں، باوجود اس حقیقت کے کہ مغرب نے آج بھی اپنی عظمت رفتہ کے نشانات کو سنبھال کر رکھا ہے، اور ان آثار سے ان کی محبت بھی ظاہر ہے، مگر ایسا کیوں ہے کہ ہم مسلمانوں کو اپنی تاریخ میں صرف منفیات ہی نظر آتی ہیں؟
بھائی سلاطین نے وہی کیا جو اس دور میں ان کے اطراف و انواح میں ہوتا تھا، کیا ہندو بادشاہوں نے عمارتیں نہیں بنوائیں؟ کیا انہوں نے یونیورسٹیاں ہی یونیورسٹیاں قائم کیں؟ کیا دنیا کی دیگر مملکتوں بشمول اسلامی و غیر اسلامی مملکتوں کے، سب نے اس دور میں یونیورسٹیاں ہی قائم کیں؟
کسی بھی چیز کی کمپریزن کے لئے اس کے دور کو ذہن میں رکھنا بہت ضروری ہے، سولہویں صدی کا جائزہ اگر آپ اٹھارہویں یا انیسویں صدی کے پیرامیٹرز پہ کریں گے تو آپ احمق کہلائے جانے کے حقدار ہوں گے، یا اسی طریقے سے چودہ سو سال پہلے کا موازنہ آج سے کریں گے تو یقینی طور پر یہ مناسب بات نہیں ہوگی۔
یوروپ میں آکسفورڈ اور کیمبریج شاید کہ سب سے پرانی یونیورسٹیاں ہوں، مسلم دنیا میں الازھر یونیورسٹی سب سے پرانی مانی جاتی ہے، اسپین میں مسلمانوں نے بہت سارے علوم و فنون کے مراکز قائم کئے تھے، جس میں یوروپ سے ہزاروں طلباء آکے تعلیم حاصل کرتے تھے، بلکہ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یوروپ کی تعلیمی ترقی کا دروازہ مسلم اندلس سے ہوکر گزرتا ہے، لیکن برصغیر میں یونیورسٹیوں کے بجائے مدارس اور چھوٹے چھوٹے تعلیمی مراکز کا رواج تھا، ہندؤوں کے تعلیمی سینٹرز مختلف شہروں جیسے کہ بنارس اور بودھ گیا وغیرہ میں مسلمانوں کی ہندوستان میں آمد سے قبل ہی قائم تھے، جس میں تعلیم صرف اونچی ذات کے لوگوں کے لئے خاص تھا، مسلمان جب ہندوستان میں آئے، تو اپنے ساتھ ایک نیا کلچر، ثقافت اور علم و فن لے کر آئے، تعلیم کے لئے بہت سارے مراکز قائم کئے گئے، جس کے آثار قطب مینار کے احاطے اور لودھی گارڈن وغیرہ میں دیکھے جاسکتے ہیں، اس میں آج بھی مدرسوں کے نشانات باقی ہیں، مزید ایک بات اور کہ اس دور میں مدارس عموما مساجد میں بھی قائم ہوا کرتے تھے، مسجدیں نہ صرف عبادت کے لئے ہوا کرتی تھیں بلکہ مسلم بچوں کی تعلیم و تربیت کا بھی ایک ذریعہ ہوا کرتی تھی، جس میں دین کے ساتھ ساتھ زبان جیسے عربی، اور فارسی وغیرہ کی تعلیم دی جاتی تھی۔
مغل حکام نے بھی تعلیم پہ توجہ دی، بھلے ہی آرگنائزڈ سیکٹر میں نہ سہی، مگر پھر بھی ایسے مراکز قائم کئے جس میں بچوں کو مذہب، فلسفہ، زبان، قواعد، ریاضیات، اور طب وغیرہ کی تعلیم دی جاسکتی تھی، مغلیہ سلطنت ہی کے دور میں تاریخ، منطق، فلسفہ اور فقہ وغیرہ کے تعلق سے بہت ساری کتابیں لکھی گئیں جو آج بھی مرجع کی حیثیت رکھتی ہیں۔
اٹھارہویں صدی عیسوی میں شاہ ولی اللہ محدث دہلوی نے مدرسہ رحیمیہ قائم کیا، اس کے بعد پھر جب تعلیم عام ہوا تو مزید ادارے قائم ہوتے چلے گئے۔
اس دور کے اعتبار سے جب کہ تعلیم کی کچھ خاص اہمیت تھی نہیں، حکومتی شعبوں میں مضبوط اور طاقتور لوگوں کی ضرورت زیادہ ہوا کرتی تھی، تعلیم سے زیادہ تجربہ (سوجھ بوجھ، فوجی ٹریننگ، انتظام کرنے کی صلاحیت وغیرہ) اہمیت رکھتا تھا، اس دور میں اگر مسلم سلاطین نے ایک ہی مدرسہ قائم کردیا تو بہت کیا۔
یہاں ایک بات یاد رکھنے کی ہے کہ جب یہاں لفظ مدرسہ کا استعمال کیا جارہا ہے تو اس سے مراد آج کے دور کے مدارس نہیں ہیں جن میں دنیاوی اور دینی تعلیم میں فرق نمایاں ہیں، بلکہ اس دور میں مدارس کا اطلاق اسکول اور کالجز پر ہوا کرتا تھا جس میں اس دور کے لئے مناسب نصاب پڑھایا جاتا تھا، تاکہ اس سے تعلیم یافتہ بچے مختلف شعبوں جیسے سماجی ، سیاسی ، فوجی، دینی اور فقہی میدانوں میں اپنی خدمات انجام دے سکیں اور حکومت کے لئے معاون و مددگار ثابت ہوسکیں۔
جو لوگ اس قسم کے جملوں کا استعمال کرتے ہیں جن کا ذکر اوپر کیا گیا اگر ان کی بات تسلیم کریں تو پھر یہ کہہ سکتے ہیں کہ بغیر پڑھے ہوئے ان سلاطین نے جب اس قدر عظیم الشان عمارتیں قائم کردیں جنہیں دیکھ کے حیرت بھی انگشت بدنداں ہے، انجینئرنگ اور آرکیٹیچکر کا شعبہ بھی مبہوت ہے تو ذرا سوچئے اگر وہ پڑھے ہوتے تو کیا کمال کردکھاتے۔
سچی بات تو یہ ہے کہ ہر دور میں جس چیز کی اہمیت ہوتی ہے اسی چیز پر زور دی جاتی ہے، برصغیر میں اگر ہم جائزہ لیں تو تعلیم کازیادہ رواج اب بھی نہیں ہے، چہ جائیکہ بات اٹھارہویں صدی سے پہلے کی ہو، گاؤں دیہات کی بات تو چھوڑ ہی دیں، میٹروپولیٹین شہروں کابھی اگر ڈیٹا نکالا جائے تو پڑھنے والوں کا تناسب کم ہی نکلے گا، اور بات جب مسلمانوں کی آئے تو اس سے زیادہ تعجب خیز بات اور کچھ نہیں ہوسکتی کہ دہلی میں واقع جامعہ ملیہ اسلامیہ کے پیچھے واقع مسلم محلہ کس قدر بدقسمت ثابت ہوا ہے کہ چراغ تلے اندھیرا ہے، تعلیم پر بالکل زور نہیں، اگر باپ کسی چھوٹی موٹی بزنس کا مالک ہے تو پھربیٹا کیوں پڑھائی کرکے دھکے کھائے والی صورتحال ہے۔
اسی طرح نصاب بھی ہے، کس دور میں کس نصاب کی زیادہ اہمیت ہو وہ معاشرے اور مارکیٹ میں اس کا ریٹ(طلب) ڈیفائن کرتا ہے، آج کے دور میں ہیومانیٹیز کا شعبہ ایک دم بیکار سمجھا جاتا ہے ، اس میں اکثر وہی طلبہ ایڈمیشن لیتے ہیں جن کو جرنلزم بطور پروفیشن اپنانا ہوتا ہے، یا جو مقابلہ جاتی امتحانات وغیرہ کی تیاری کرنا چاہتے ہیں، اس کے علاوہ اس شعبہ میں زیادہ تر وہی طلبہ آتے ہیں جو انجینئرنگ یا طب میں ایڈمیشن نہیں لے پاتے ہیں، اس سے مقصودمیرا یہ بتلانا ہے کہ جس طرح آج کے دور میں ٹکنالوجی اور مینیجمنٹ وغیرہ کی اہمیت ہے تو طلباء اسی طرف جارہے ہیں ، اسی طرح اس دور میں مذہب، فلسہ، فقہ اور طب یا پھر فوجی ٹریننگ وغیرہ کی اہمیت تھی تو طلبہ اسی کا رخ کرتے تھے، اس بنیاد پر اگر ہم یہ کہیں کہ انہوں نے تعلیم کو بالکل ہی اہمیت نہیں دی تو پھر یہ بات زیادتی پر مبنی ہوگی۔
میرا اپنا ماننا ہے کہ جب ہم اس قسم کی الزام تراشی اپنے سابقین پر کرتے ہیں تو کہیں نہ کہیں اس کے پیچھے اپنی ذمہ داریوں سے فرار مقصود ہوتا ہے، سوال یہ ہونا ہی نہیں چاہئے خاص کر پبلک ڈومین میں کہ انہوں نے کیا کیا؟ اس قسم کے سوالات تاریخ دانوں کے لئے اہمیت کے حامل تو ہوسکتے ہیں، مگر اسے بنیاد بنا کر اپنی ذمہ داریوں سے فرار کے لئے معذرت نہیں تلاشا جاسکتا، سوال یہ ہونا چاہیئے کہ ہم کیا کر رہے ہیں؟ آزادی کے بعد سے لے کر اب تک ہم نے کتنی یونیورسٹیاں قائم کیں؟ کتنے کالجز اور انسٹیٹیوشنز بنائے؟ اس ملک میں مسلمانوں کی مضبوطی اور تمکین کے لئے کیا کیا؟ اور مستقبل میں کیا کرنے کا پلان ہے وغیرہ وغیرہ۔
ان سوالوں کے جوابات سن کر شاید ہمیں مایوسی ہی ہو، لیکن اس مایوسی کا حل یہ ہرگز نہیں ہے کہ موجودہ صورت حال کی ذمہ اٹھارہویں صدی کے پہلے کے مسلمانوں پہ ڈالا جائے، وہ ماضی کے لوگ ہیں جو گزر چکے ہیں، ہم حال کے لوگ ہیں اور حال کی ساری پریشانیاں ہماری اپنی ہیں جس کے ذمہ دار ہم خود ہیں اور جس کے حل کے لئے ہمارے پاس کوئی آئیڈیا نہیں، کوئی تجویز نہیں، یا ہے بھی تو کوئی پیش قدمی نہیں۔
ہندوستان میں مسلمانوں کی جو تعلیمی صورت حال ہے وہ نہایت ہی افسوسناک ہے ، اور اس سے زیادہ افسوسناک صورتحال مسلم زعماء و قائدین کا رویہ ہے، تعلیم کو دو شعبوں میں تقسیم کردئیے جانے کا نقصان ہندوستانی قوم کچھ اس طرح سے اٹھا رہی ہے کہ اگر کوئی صرف مدرسے سے فارغ ہوتا ہے تو وہ جدید تعلیم سے بالکل نابلد ہوتا ہے ، مقابلہ جاتی امتحانات میں وہ بیٹھ نہیں سکتا ہے، یونیورسٹی میں عربی، فارسی، اردو اور اسلامک اسٹڈیز کے شعبوں کے کسی دوسرے شعبے میں بمشکل تمام ہی وہ پڑھائی کرسکتاہے، اسی طرح اس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہو رہا ہے کہ جو طلباء مدارس میں نہ جا کرکے جدید اسکولوں میں تعلیم حاصل کرتے ہیں وہ بالکل ہی اسلام سے نابلد ہوتے ہیں یا انہیں غلط عقائد و نظریات ہائی جیک کرلے جاتے ہیں، بہت کم ہی طلباء ایسے ہوتے ہیں جو اسکولوں میں پڑھنے کے ساتھ ساتھ اپنے مذہب کی بھی تعلیم حاصل کرپاتے ہیں، نتیجہ کے طور پر قوم کو بہتر ڈاکٹرز اور انجینئرز تو مہیا ہورہے ہیں مگر ایک بہتر مسلمان نہیں۔
اللہ رب العالمین نے بہت پہلے فرما دیا ہے کہ وہ کسی بھی قوم کی حالت کو اس وقت تک نہیں بدلتا ہے جب تک وہ قوم اپنی حالت آپ نہیں درست کرتی ہے، اس کے لئے اقدامات نہیں کرتی ہے، ہمارا ماضی عروج تھا، اور ہمارا حال زوال ہے، اس عہد زوال سے نکلنے کے لئے کوششیں ہمیں خود کرنی ہیں، وگرنہ جس طرح ہم سابقہ نسلوں کو کوستے ہیں باوجود یکے کہ ہم اس معاملے میں حق بجانب نہیں، آنے والی نسلیں ہمیں کوسیں گی اور یقینی طور پر وہ اس میں حق بجانب بھی ہوں گی۔

2
آپ کے تبصرے

avatar
2 Comment threads
0 Thread replies
0 Followers
 
Most reacted comment
Hottest comment thread
2 Comment authors
محمد عمر سلفیNavaid yousuf Recent comment authors
newest oldest most voted
Navaid yousuf
Guest
Navaid yousuf

Mashallah

محمد عمر سلفی
Guest
محمد عمر سلفی

ما مضى مضي