ملک کی آزادی میں اسلاف کا کردار

ہلال ہدایت تاریخ و سیرت

جشن آزادی ہمارے دلوں میں احترام سے ملی جلی خوشی لے کر آتی ہے، احترام ملک کی وفاداری کے تئیں، مجاہدین آزادی کے تئیں، ان علماء کرام اور شہداء کے تئیں جنہوں نے انگریزی ظلم واستبداد کے خلاف قربانیاں دیں۔
خوشی اس طور کہ آج ہم انہیں باوقار شخصیات کے طفیل ایک آزاد فضا میں سانس لے رہے ہیں۔ اگر انہوں نے بھی غلامی کی گھٹن کو محسوس نہ کرکے ایک عام زندگی گزاری ہوتی تو شاید ہمیں بھی غلامی نصیب ہوتی۔ جشن آزادی اور یوم آزادی ہمیں آزاد فضا میں اڑنے کا حوصلہ دیتی ہے۔ آزادی کے اس موقع پر ہمیں اپنے علماء کرام اور نوجوانوں کی قربانیوں کو یاد کرنا چاہیے جو ملک کی آزادی کی خاطر اپنے نفس سے آزاد ہوگئے اور پھندے کو قبول کرلیا، جنہوں نے خون سے لت پت ہوکر بھی برٹش حکومت کے خلاف آوازیں بلند کیں۔ ملک کی آزادی میں ہمارے علماء کرام کی قربانیاں ناقابل فراموش ہیں، انہوں نے آزادی کی خاطر فضا تیار کی، رائے عامہ کو ہموار کرنے کے لیے اخبارات وجرائد نکالے، اپنے خطبات میں آزادی کے لیے عوام کو تیار کیا۔ علماء صادق پور (پٹنہ ) کی قربانیوں کاتذکرہ کرتے ہوئے ملک کے پہلے وزیراعظم پنڈت جواہر لعل نہرو نے کہا تھا کہ ’’علماء صادق پور کی قربانیوں کو ایک پلڑے میں رکھ دیا جائے اور پورے ملک کی قربانیوں کو ایک پلڑے میں تب بھی علماء صادق پور کی قربانیاں سب پر بھاری رہیں گی‘‘۔
بلاتفریق مسلک تمام علماء کرام نے آزادی کی خاطر تحریکیں چلائیں۔ جس وقت ملک کی آزادی کے لیے لڑائیاں لڑی جارہی تھیں کسی کے خواب وخیال میں نہیں تھا کہ ملک کو تقسیم ہونا ہے 1857میں علماء نے انگریزوں سے لوہا لیا لیکن شکست کا سامنا کرنا پڑا- اس کے بعد موقع بموقع آزادی کے شعلے بھڑکتے رہے، لو اٹھتی رہی اور بالآخر آزادی ملی لیکن تقسیم کی شکل میں۔
آج جس دور میں ہم جی رہے ہیں نہایت ہی پرسوز ہے، انہیں آزادی کے متوالوں کے فرزندان کو پریشان کیا جارہا ہے ۔ مدارس جس کا آزادی میں کافی اہم رول رہا ہے اس کو مشکوک نگاہوں سے دیکھا جارہا ہے۔ مدارس پر انگلیاں اٹھائی جارہی ہیں، مدارس کے طلباء کو مشکوک گردانہ جارہا ہے۔ اگر یہ مدارس نہ ہوتے تو علماء کی وہ کھیپ نہ تیار ہوتی جس کی بدولت ہم اور آپ آزاد فضا میں سانس لے رہے ہیں۔

آزادی میں مدارس نے جو کردار ادا کیا تھا ہونا تو یہ چاہیے کہ انھیں نصابی کتابوں میں جگہ دی جاتی ، لیکن افسوس کا مقام یہ ہے انہیں مدارس سے حب الوطنی کا ثبوت مانگا جاتا ہے۔ بوالعجبی تو یہ ہے کہ حکومتی سطح کے لوگ بھی ایسی باتیں کرتے ہیں ۔ آزاد ملک ہونے کا خواب ہمارے بزرگوں نے اس لیے نہیں دیکھا تھا کہ ایک فرقہ کو دبا دیا جائے اور اس کاحقہ پانی مسدود کرنے کی کوشش کی جائے ۔ آزادی کا یہ دن قومی جشن اور خوشی کا دن ہے چاہیے کہ ہم اپنا احتساب کریں، ہر شخص اپنے حب الوطنی کاجائزہ لے اور پھر یہ دیکھے کہ وہ ملک کی ترقی کے لیے کیا کر رہا ہے۔ ملک کی فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے لیے کیا کر رہا ہے۔

ملک میں موجود ایک خاص فرقہ کے طرز قانون نے عوام کو پریشان کر رکھا ہے، آزادی کے اس عظیم موقع پر ہم ہندوستانی یہ عہد کریں کہ اس عفریت کو کچل کر ایک آزاد بھارت کے خواب کو پورا کریں گے۔
دعا یہی ہے کہ ملک میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی قائم ہو، اور تمام لوگ شیر وشکر ہو کر زندگی بسر کریں اور گاندھی کے ہندوستان میں پھر وہی فضا قائم ہو کہ ہم ان کے، وہ ہمارے خوشی غمی میں شریک ہوں…

آپ کے تبصرے

avatar