خطبات جمعہ کی دینی، علمی اور سماجی اہمیت

رفیق احمد رئیس سلفی عبادات

نصوص کتاب وسنت میں نہ صرف خطبات جمعہ کی اہمیت کا تذکرہ ملتا ہے بلکہ یوم جمعہ اور نماز جمعہ کی فضیلت بھی ان میں تفصیل سے مذکور ہے۔ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر، جسے امت مسلمہ کے منصبی فریضے کی حیثیت حاصل ہے اور جس سے وہ کسی حال میں دست بردار نہیں ہوسکتی، اس کی ادائیگی کا ایک مفید اور اہم ذریعہ خطبات جمعہ ہیں۔

ملت کی یہ بڑی بدنصیبی ہے کہ فقہی اختلافات نے دنیا کے کئی خطوں میں خطبات جمعہ کو بے معنی اور بے مقصد بنادیا ہے۔ سامعین کی اپنی زبان میں خطبات جمعہ نہ دے کر صرف عربی زبان پر اصرار کرنا ایک ایسا غیر منطقی عمل ہے جس کی کوئی معقول توجیہ نہیں ہوسکتی۔ جس امام اعظم کی طرف منسوب کرکے غیر عربی زبان میں خطبات جمعہ کے عدم جواز کا فتوی دیا جاتا ہے، ان پر یہ بہت بڑی تہمت ہے۔ ان کی وسعت نظری کا حال تو یہ ہے کہ جس نومسلم کو عربی زبان نہ آتی ہو، اسے وہ فارسی زبان (یعنی اس کی مادری زبان) میں نماز پڑھنے کی اجازت دیتے ہیں۔خود فقہ حنفی کے اکابر علمائے متقدمین کے یہاں غیر عربی زبان میں خطبات جمعہ دینے کی اجازت پائی جاتی ہے۔ ایک ضرورت کے تحت مولانا سید ابوالاعلی مودودی نے اس موضوع پرایک مفصل علمی مقالہ تحریر کیا تھا جس میں کبار علمائے احناف کی عبارتیں مستند کتابوں سے نقل کی تھیں اور ثابت کیا تھا کہ فقہ حنفی میں ایسی کوئی پابندی نہیں ہے کہ غیر عربی زبان میں خطبات جمعہ نہ دیے جائیں۔ اہل علم ان کی کتاب ‘‘تفہیمات’’میں یہ مفصل مقالہ اپنے اطمینان کے لیے ملاحظہ کرسکتے ہیں۔
برصغیر کی سلفی تحریک کا احسان عظیم
برصغیر میں آباد مسلمانوں کی زبان عربی نہیں ہے۔ وہ بول چال میں اردو، ہندی، بنگلہ، نیپالی اور بعض دیگر مقامی زبانوں کا استعمال کرتے ہیں۔ یہاں کی اکثریت فقہ حنفی پر عمل کرتی ہے اور متاخرین علمائے احناف کے فتوی کی وجہ سے خطبات جمعہ سے کماحقہ مستفید نہیں ہوپاتی۔ تقلید جامد کی اس صورت حال کو ختم کرنے کے لیے سلفی تحریک نے اپنی تحریروں اور تقریروں کے ذریعے ایک بڑے مہم کا آغاز کیا اور آج بحمد اللہ ہزاروں مساجد ایسی ہیں جہاں جمعہ کے خطبات علاقائی اور سامعین کی مادری زبان میں دیے جاتے ہیں۔ اس تحریک سے وابستہ علماء نے جگہ جگہ نئی مساجد تعمیر کیں اور ان میں خطبات جمعہ کا انتظام کیا۔ ان مساجد کے دروازے ہر مسلمان کے لیے کھلے ہوئے ہیں اور وہ کسی مسلکی امتیاز اور بھید بھاؤ کے بغیر علمائے اہل حدیث کے خطبات جمعہ سنتے ہیں اور اپنی دنیا وآخرت کو کامیاب بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔

برا ہو مسلکی تعصب کا، اہل حدیث مساجد کے ان اثرات کو زائل کرنے کے لیے اب احناف کی بہت سی مساجد میں خطبات جمعہ سے پہلے مقامی زبان میں تقریر فرمائی جاتی ہے۔ اس چیز کو ایجاد کرتے ہوئے یہ تک خیال نہیں رہ گیا کہ شریعت میں اس کی گنجائش کہاں ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے جمعہ کے دن صرف دو خطبے ارشاد فرمائے ہیں، ہم نے اپنی فقاہت کا بے جا استعمال کرتے ہوئے اسے تین بناڈالا۔ خطبہ کی اذان سے پہلے ہونے والی تقریر کو آپ اپنی منطق سے جو بھی نام دیں، بہر حال وہ اصطلاحی معنی میں خطبہ ہی ہے۔ جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والے بعض حضرات حنفی ہونے کے باوجود اہل حدیثوں کی طرح اپنی مساجد میں خطبات جمعہ دیتے ہیں۔ یہ ایک اچھی بات ہے۔ خدا کرے کہ اسی مسئلے کی طرح بعض دوسرے مسائل میں بھی وہ کتاب وسنت پر آزادانہ تحقیق کرکے صحیح نقطۂ نظر اپنائیں اور اپنی جماعت کو منہج سلف کا پابند بنائیں۔
خطبات جمعہ کی اہمیت کیوں ہے؟
ایک ہفتے کا دورانیہ کچھ کم نہیں ہے۔ ان سات دنوں میں ایک مسلمان کئی طرح کے حالات اور مسائل سے دوچار ہوتا ہے۔ اس کے سامنے خوشی اور غم کے مواقع بھی آتے ہیں۔ بیوی بچوں،عزیزواقارب،دوست احباب اور پاس پڑوس سے بھی اس کے معاملات اور تعلقات میں کئی طرح کا اتار چڑھاؤ دیکھنے کو ملتا ہے۔عملی زندگی میں اس کا واسطہ جائز وناجائز اشیاء سے بھی پڑتا ہے، جن میں وہ صحیح رہنمائی پانے کا خواہش مند ہوتا ہے۔ اپنی معاشرتی زندگی میں بعض حقوق وفرائض کے تعلق سے اسے کبھی کبھی شبہات لاحق ہوتے ہیں، وہ چاہتا ہے کہ ان کا ازالہ ہوجائے۔حصول رزق کے لیے پیشہ ورانہ زندگی گزارتے ہوئے بارہا اس کے سامنے یہ مرحلہ آتا ہے کہ ہماری یہ کمائی حلال ہے یا حرام ہے؟ بسااوقات اس کے سماج میں بعض ایسے واقعات اور حادثات پیش آتے ہیں جن کے بارے میں وہ اسلام کی تعلیمات سے واقف ہونا چاہتا ہے۔ اسی طرح ملکی اور عالمی سطح پر بعض ایسے واقعات ظہور پذیر ہوتے ہیں جن کا تعلق اسلام اور اہل اسلام سے ہوتا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ ہماری دینی قیادت اس سلسلے میں ہمیں روشنی دکھائے۔ اس کی اپنی ذہنی کیفیت بھی متنوع جذبات واحساسات سے دوچار ہوتی ہے۔ اس کے دل کی ایمانی حالت بھی ان سات دنوں میں یکساں نہیں رہتی۔کبھی تعلق باللہ اپنے نقطۂ عروج پر ہوتا ہے اور کبھی اس تعلق کو شیطانی وسوسے کمزور بنادیتے ہیں۔کبھی فکر آخرت اس کے دل ودماغ پر چھائی رہتی ہے اور کبھی دنیا میں اس کی مصروفیات اس حد تک آگے بڑھ جاتی ہیں کہ اسے آخرت کی جواب دہی اور اس میں حساب کتاب کا خیال ہی نہیں آتا۔ ہفتے کے آغاز میں خطبۂ جمعہ کی جس ایمانی روشنی نے اس کے دل کو صیقل کیا تھا، ہفتے کے آخری دنوں میں اس پر زنگ لگنا شروع ہوجاتاہے۔ اب ضرورت محسوس ہوتی ہے کہ اس زنگ کو دور کیا جائے اور اس کے دل کو ایمان کی روشنی سے صاف ستھرا بناکردینی اعتبار سے اسے تازہ دم کردیا جائے۔ ایک مسلمان کی ان تمام احتیاجات کی تکمیل جن وسائل وذرائع سے ہوتی ہے، ان میں سب سے موثر اور آسان خطبات جمعہ ہی ہیں۔
نماز جمعہ میں شرکت اورخطبات جمعہ سننے کا اہتمام
نماز جمعہ اور خطبات جمعہ کی اپنی مستقل حیثیت ہے۔ نما زجمعہ میں شریک ہونا اور خطبۂ جمعہ سننا ایک دینی فریضہ ہے۔شریعت اسلامیہ نے اپنے بنیادی اصولوں کے پیش نظر عورتوں،بچوں اور مسافروں پر اسے فرض نہیں کیا ہے لیکن اگر وہ جمعہ میں شریک ہوجائیں تو ان کی نماز ہوجائے گی،ظہر کی نماز انھیں الگ سے ادا نہیں کرنی ہے اور ان شاء اللہ انھیں جمعہ کا ثواب اور فضیلت بھی حاصل ہوگی۔ جو لوگ بغیر کسی شرعی عذر کے اور غیر اہم سمجھ کرمسلسل تین جمعہ میں حاضر نہ ہوں، ان کے دل پربد بختی کی مہر لگادی جاتی ہے۔ قرآن مجیدنماز جمعہ اور خطبۂ جمعہ کو ذکر الٰہی کا نام دیتا ہے۔ حدیث میں وقت سے پہلے اس کا خصوصی اہتمام کرنے اور مسجد میں جلد حاضر ہونے کی تاکید کی گئی ہے۔ ایک حدیث میں یہ ذکر بھی ملتا ہے کہ فرشتہ مسجد کے دروازے پر بیٹھا ان لوگوں کے نام لکھتا رہتا ہے جو نماز جمعہ کے لیے مسجد آتے ہیں لیکن جب خطبہ شروع ہوتا ہے تواپنا رجسٹر بند کرکے خطبہ سننے میں مصروف ہوجاتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جولوگ خطبے کی اذان کے بعد مسجد میں تشریف لاتے ہیں، ان کا نام اس رجسٹر میں شامل نہیں ہوتا ہے۔ خطبے سے پہلے نفلی نماز ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور خطبہ کے دوران ایک دوسرے سے بات چیت کرنے کی ممانعت کی گئی ہے۔ بعد میں آنے والوں کو اس بات سے منع کیا گیا ہے کہ وہ کسی بیٹھے ہوئے آدمی کو اس کی جگہ سے ہٹائیں یا دو آدمیوں کے درمیان زبردستی جگہ بنانے کی کوشش کریں۔ اسی طرح لوگوں کی گردنیں پھلانگتے ہوئے اگلی صفوں تک پہنچنے سے بھی روکا گیا ہے۔ ان تمام احکام کا مقصد صرف یہ ہے کہ ایک مسلمان کے ذکر الٰہی میں کسی طرح کا خلل نہ ہو اور خطبۂ جمعہ سے اس کی توجہ نہ ہٹے۔
ہماری کمزوریاں اور کوتاہیاں
نمازجمعہ اور خطبات جمعہ کے تعلق سے ہماری کمزوریاں اور کوتاہیاں افسوس ناک ہیں۔ہمیں کاروبارحیات نے اس قدر مصروف کردیا ہے کہ کتنے بدقسمت مسلمان ایسے بھی ہیں جو حضر میں رہتے ہوئے نماز جمعہ ترک کردیتے ہیں۔ یہ بھی دیکھنے میں آتا ہے کہ بہت سے لوگ عین وقت پر بھاگے ہوئے مسجد میں آتے ہیں اور کسی طرح دورکعت پڑھ کر واپس چلے جاتے ہیں۔ انھیں یہ معلوم ہی نہیں ہوتا کہ آج خطیب نے کیا کہا اور اسلام کی کن تعلیمات پر گفتگو کی۔بعض ایسے بدقسمت بھی ہیں کہ ان کی توجہ خطیب پر نہ ہوکر گھر اور دکان پر ہوتی ہے اور وہ خطبۂ جمعہ سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا پاتے۔مسجد کے آداب کا پاس ولحاظ بھی کم ہی ہوتا ہے۔غسل کرنا، صاف ستھرے کپڑے زیب تن کرنا اور خوشبو لگانا دشوار معلوم ہوتا ہے۔دوران خطبہ اونگھنا اور جمائی لینا ایک معمول بن چکا ہے۔اس طرح کی تمام کمزوریاں یہ ثابت کرتی ہیں کہ ہمیں اپنی آخرت کی فکر نہیں ہے اور ہم یہ سمجھے بیٹھے ہیں کہ یہی دنیا سب کچھ ہے۔کیا ایک مومن کی یہی شان ہوا کرتی ہے؟
خطیب کی اہمیت اور اس کی ذمہ داریاں
جمعہ کا خطیب ہمارا مقتدا اور رہنما ہے۔ وہ ایک ایسا عالم دین ہے جس کے علم وتقوی پر ہم بھروسہ کرتے ہیں۔خطیب وہی فریضہ انجام دیتا ہے جو اسلامی تاریخ کے دور اول میں نبی اکرم ﷺ اور خلفائے راشدین نے انجام دیا ہے۔ اسلامی حکومت کا سربراہ ہمارے یہاں نہیں رہا لیکن اس کی ایک علامت موجود ہے۔ اپنی اس علامت کو باقی رکھنا اور اسے عزت واحترام دینا ہماری دینی ذمہ داری ہے۔ آج ہماری بعض مساجد میں دور دراز کے علماء امامت وخطابت کے فرائض انجام دیتے ہیں۔ ہم انھیں گھر کے آدمی جیسا مقام دیں اور ان کی اسی طرح عزت کریں جس طرح ایک مقامی عالم کی کرتے ہیں۔بعض مقامات پر باہمی سیاسی رنجش کی وجہ سے خطبائے مساجد آزمائشوں سے دوچار ہوتے ہیں اور ان کی ذات مشق ستم بن جاتی ہے، یہ رویہ نہ صرف غیر شرعی بلکہ غیر اخلاقی بھی ہے، اس طرح ہم اپنے ہی ایک عالم دین کو اپنوں کی نگاہوں میں ذلیل وحقیر بنادیتے ہیں اور پھر ان کی خطابت اور دعوت وارشاد کے وہ اثرات مرتب نہیں ہوتے جن کی توقع ہم کرتے ہیں۔
ایک خطیب کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی عالمانہ حیثیت اور وقار کو پہچانے۔ مقامی سیاست اور وابستگان مساجد کے ذاتی تنازعات سے خود کو دور رکھے۔کسی فریق کی ہم نوائی نہ کرے بلکہ جب بھی اس نوعیت کی کوئی گفتگو کرے تو اصولی گفتگو کرے تاکہ کوئی شخص اسے اپنی خواہشات کا غلام نہ بناسکے۔ مصلیان مساجد سے قربت بھی رکھے اور ان سے خاص فاصلہ بھی بنائے رکھے۔بعض لوگ چائے پلاکر اور دعوت کھلاکر اسے اپنے پلڑے میں رکھنے کی کوشش کرتے ہیں، بسااوقات تحفے تحائف اور نذرانے کے ذریعے اس سے اپنی خواہشات کی تکمیل کرانا چاہتے ہیں، یہ سب دنیا پرستوں اور جاہ پسندوں کے شیطانی ہتھکنڈے ہیں، ان سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔ روکھی سوکھی کھاکر اور موٹا جھوٹا پہن کر اپنے فرائض انجام دیتا رہے۔
خطبہ دینے سے پہلے اس کی بھرپور تیاری کرلے، قرآن کی آیات، احادیث شریف اور آثار صحابہ سے اس کا خطبہ مزین ہو۔ خانہ پری کے لیے قصے کہانیوں سے خطبے کو پاک رکھے۔ حالات کے نشیب وفراز اور معاشرے میں رونما ہونے والی صورت حال پر گہری نظر رکھے اور اپنے خطبات میں ان کی طرف بھی اشارہ کرے اور عوام کی صحیح رہنمائی کرے۔ سامعین کی ذہنی سطح کابھرپور لحاظ رکھے۔کم پڑھے لکھے عوام کے سامنے اپنی قابلیت کا اظہار کرنے کے لیے بھاری بھرکم اصطلاحات اور دقیق الفاظ وتراکیب استعمال کرنے سے پرہیز کرے۔ خطبے میں تذکیر اور ترغیب وترہیب کا انداز اختیار کرے، غیر ضروری طور پر چیخنا چلانا، دوسروں کے خلاف خشت باری کرنا اور اپنے ذاتی مسائل اور پریشانیوں کو خطبے میں پیش کرنا، خطیب کی شان اور اس کے مقام ومرتبے کے منافی ہے۔ مقامی سیاست اور اس سے متعلق مسائل پر گفتگو غیر مناسب ہے، اس سے خطیب کی شخصیت متنازع فیہ بن جاتی ہے اور وہ غیر شعوری طور پر کسی ایک فریق کا ترجمان بن جاتا ہے۔ ذاتی مسائل اور مقامی سیاست پر گفتگو اگر ضروری سمجھی جائے تو اس کے لیے الگ سے نشست رکھی جائے اور منبر کو اس سے محفوظ رکھا جائے۔ داعی اور خطیب کی مجلسی گفتگو بھی غیر جانب دارانہ ہونی چاہیے تاکہ اس کا وقار واحترام باقی رہے۔
ایک بدعت اور اس کا سد باب
خطبات جمعہ کے تعلق سے ایک عجیب روایت زور پکڑ چکی ہے اور وہ یہ کہ مہمان علمائے کرام سے جمعہ کے خطبات دلوائے جاتے ہیں اور وہ بھی اس طرح کہ مسجد کا مستقل خطیب ذہن بنائے اور خطبے کی تیاری کیے بیٹھا ہے کہ چند منٹ پہلے مسجد سے متعلق کوئی صاحب کسی اونچی ٹوپی والے بڑے مولانا کو لے کر حاضر ہوتے ہیں اور ذمہ دار خطیب سے اجازت لیے بغیر مہمان عالم دین کو منبر پر بیٹھنے کا اشارہ فرمادیتے ہیں۔ہمیں یہ بات معلوم ہونی چاہیے کہ نبی اکرم ﷺ نے کسی زائر کو اس بات سے منع فرمایا ہے کہ وہ جب کہیں جائے تو نماز کی امامت کرائے۔ اجازت کا مطلب یہ ہے کہ پہلے سے یہ بات معلوم ہو کہ آنے والے جمعہ کو فلاں مہمان عالم خطبہ ٔ جمعہ ارشاد فرمائیں گے۔ اچانک تشریف لاکر منبر سنبھال لینا شریعت کے اصول اور مزاج کے خلاف ہے۔اس کے کئی ایک نقصانات ہیں۔ مسجد کے خطیب کی بے عزتی اور اس کی رسوائی، غیر ضروری موضوعات پر سامعین کو خطبہ جمعہ سننا پڑتا ہے، مقامی حالات سے عدم واقفیت کی وجہ سے خطیب کا ایسی باتیں کہہ جانا جن سے جھگڑے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں، بعض سامعین مہمان خطیب کو کسی وجہ سے پسند نہیں کرتے اور پھر ایک طرح کی کراہیت ان کے دلوں میں پیدا ہوتی ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ کبھی کسی مہمان خطیب کو خطبۂ جمعہ دینے کا موقع نہ دیا جائے بلکہ ایسا بسااوقات کیا جاسکتا ہے، شرط صرف یہ ہے کہ پہلے سے اس کا اعلان کردیا جائے اور خطیب کی شخصیت معتبر اور متفق علیہ ہو۔

آپ کے تبصرے

avatar
3000