طلاق سے پہلے چند ضروری اقدامات

رفیق احمد رئیس سلفی معاملات

ازدواجی رشتہ سب سے زیادہ مضبوط رشتہ ہے۔ ایک جان دو قالب کی بات صحیح معنوں میں میاں بیوی پر ہی صادق آتی ہے۔ زوجین جیسی قربت، یگانگت اور محبت دنیا کے کسی دو انسان کے درمیان نہیں پائی جاتی۔ یہ ایک پاکیزہ رشتہ ہے جو اللہ کا نام لے کر وجود میں آتا ہے۔ اس کے تقدس کا احترام کرنا اور زندگی کے ہر ہرمرحلے میں اس کا پاس ولحاظ رکھنا ضروری ہے۔ بسااوقات یہ مقدس رشتہ کمزور پڑجاتا ہے اور دو چاہنے والوں کے درمیان دراڑ پیدا ہوجاتی ہے۔ کبھی باہمی چپقلش اور مزاج کی ناہمواری کی وجہ سے ایسا ہوتا ہے اور کبھی کوئی خارجی دباؤ دونوں کے تعلقات کو خراب کرتا ہے۔ اگر زیادہ دنوں تک دونوں مزاجوں میں ہم آہنگی پیدا نہ ہوسکی اور خارجی دباؤ کم یا ختم نہ ہوا تو طلاق کی نوبت آجاتی ہے اور میاں بیوی کے درمیان جدائی ہوجاتی ہے۔
نکاح کے بعد طلاق کوئی اچھی بات نہیں ہے۔ اس سے پیچیدگیاں پیدا ہوتی ہیں، کئی طرح کے مسائل سامنے آتے ہیں، دوگھروں میں دشمنی اور عداوت پیدا ہوجاتی ہے اور اگر میاں بیوی صاحب اولاد ہوئے تواس طلاق سے سب سے زیادہ ان کے بچے ہی متاثر ہوتے ہیں اور ماں باپ کے درمیان تقسیم ہوکر رہ جاتے ہیں۔ دنیا میں ماں باپ کی جگہ کوئی نہیں لے سکتا اور بچوں کو کسی ایک کی نہیں بلکہ ماں باپ دونوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسی لیے آخری دم تک اس رشتے کو بچانے کی کوشش کی جانی چاہیے اور الفت ومحبت کی اس فضا کوباقی رکھنا چاہیے جومیاں بیوی کی مرضی اور دونوں گھروں کی رضامندی سے وجود میں آئی تھی۔
اسلام نے طلاق کا دروازہ بلاشبہ کھولے رکھا ہے اور دوزندگیوں کو گھٹ گھٹ کر زندگی گزارنے کے بجائے ان کو آزادی دی ہے کہ اگر حقوق وفرائض ادا نہیں ہوپارہے ہیں تو راستے الگ الگ کرلینے میں ہی عافیت ہے۔طلاق کے اس نظام میں شریعت کی کئی ایک حکمتیں پوشیدہ ہیں۔ جو لوگ ان حکمتوں سے واقف نہیں ہیں وہ اسلام کی اس اجازت کو ناروا سمجھتے ہیں اور اسلام پر طعنہ زنی کرتے ہیں۔ آج جب کہ مسلمان عمل کے میدان میں کافی پیچھے ہے اور اس کی دینی حالت بھی کچھ زیادہ بہتر نہیں ہے لیکن اس گئی گزری حالت میں بھی عورتوں کو جلانے اور مارنے کی روایت مسلم معاشرے میں معدوم نہیں تو کم یاب ضرور ہے۔غیر اسلامی معاشرے میں بہووں کو جلانے اور مارنے کے واقعات اتنے عام ہیں کہ کوئی بھی روز نامہ اخبار اٹھالیں، اس نوعیت کی کئی ایک خبریں آپ کو مل جائیں گی۔ یہ واقعات ہمارے ملک میں اس قدر عام ہیں کہ حکومتوں نے عورتوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے اس کے لیے خاص قوانین بنارکھے ہیں۔ ملک کی جیلوں میں کتنے شوہر، ان کے والدین اور بھائی بہن سزائیں کاٹ رہے ہیں کیوں کہ انھوں نے ایک دلہن کو زندہ جلادیا تھا یا اس کا گلا گھونٹ کر مارڈالا تھا۔ الحمد للہ، آخرت کا خوف رکھنے والے مسلمانوں کے دلوں میں یہ احساس زندہ ہے کہ کسی بے گناہ کو مارڈالنا گناہ کبیرہ ہے اوریہی وہ جرم ہے جس پر قرآن مجیدمیں دائمی جہنم کی وعید سنائی گئی ہے۔ اسلام اپنے قانون کے مطابق کسی معصوم اور بے گناہ مسلمان مرد یا عورت کو مارڈالنے والے شخص کو قصاص میں قتل کرنے کا حکم دیتا ہے یا مقتول کے اولیاء کی مرضی ہوئی تو دیت ادا کرنے کی تاکید کرتا ہے۔
طلاق کے سلسلے میں قرآن کریم میں کئی اصولی ہدایات ملتی ہیں لیکن علم کی کمی،مسلکی تنازعات اور فقہی اختلافات کی وجہ سے ہم ان اصولی باتوں کی بھی تفہیم اپنے معاشرے کو نہیں کراسکے۔ آج دین دار مسلمانوں کو یہ بات تو معلوم ہے کہ ایک ساتھ دی گئی تین طلاقیں تین ہوتی ہیں یا ایک لیکن ایک بڑی اکثریت کو یہ نہیں معلوم کہ طلاق دینے کا صحیح طریقہ کیا ہے۔ اسی طرح طلاق دینے سے قبل ایک نوجوان کو کن مراحل سے گزرنا چاہیے اور ازدواجی رشتے کو بچانے کے لیے کیا کیا تدابیر اپنانی چاہیے، اس بارے میں بھی اس کی کوئی خاص رہنمائی نہیں کی جاتی جب کہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا حکم یہ ہے:

وَاللاَّتِیْ تَخَافُونَ نُشُوزَہُنَّ فَعِظُوہُنَّ وَاہْجُرُوہُنَّ فِیْ الْمَضَاجِعِ وَاضْرِبُوہُنَّ فَإِنْ أَطَعْنَکُمْ فَلاَ تَبْغُواْ عَلَیْْہِنَّ سَبِیْلاً إِنَّ اللّہَ کَانَ عَلِیّاً کَبِیْراًوَإِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَیْْنِہِمَا فَابْعَثُواْ حَکَماً مِّنْ أَہْلِہِ وَحَکَماً مِّنْ أَہْلِہَا إِن یُرِیْدَا إِصْلاَحاً یُوَفِّقِ اللّہُ بَیْْنَہُمَا إِنَّ اللّہَ کَانَ عَلِیْماً خَبِیْراً (النساء:۳۴۔۳۵)

’’ اور جن عورتوں کی نسبت تمھیں معلوم ہو کہ سرکشی (اور بدخوئی) کرنے لگی ہیں تو (پہلے) اُن کو (زبانی) سمجھاؤ (اگر نہ سمجھیں تو) پھر اُن کے ساتھ سونا ترک کر دو۔ اگر اس پر بھی باز نہ آئیں تو زد و کوب کرو اور اگر فرماں بردار ہو جائیں تو پھر اُن کو ایذا دینے کا کوئی بہانہ مت ڈھونڈو بے شک اللہ تعالیٰ سب سے اعلیٰ (اور) جلیل القدر ہے۔ اور اگر تمھیں معلوم ہو کہ میاں بیوی میں اَن بن ہے تو ایک منصف مرد کے خاندان میں سے اور ایک منصف عورت کے خاندان میں سے مقرر کرو۔ وہ اگر صلح کرا دینی چاہیں گے تو اللہ اُن میں موافقت پیدا کر دے گا۔ کچھ شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ سب کچھ جانتا اور سب باتوں سے خبردار ہے ۔‘‘
قرآن مجید کی مندرجہ بالا آیت میں ہدایت کی گئی ہے کہ اگر میاں بیوی میں اختلاف ہوجائے تو اس کو دور کرنے کی کوشش کی جائے۔ اس کے لیے قرآن یکے بعد دیگرے کئی قدم اٹھانے کا حکم دیتا ہے۔ ظاہر ہے انسان کی فطرت کے خالق کی یہ ہدایات ہیں جو انسانوں کے مزاج اور طبیعتوں سے پوری طرح واقف ہے۔ طلاق دے کر علاحدگی اختیار کرنے سے پہلے یہ قدم لازمی طور پر اٹھائے جائیں تاکہ زندگی بکھرنے سے بچ جائے اور ازدواجی رشتہ قائم رہے۔ جہاں تک سوال طلاق کے فقہی قوانین کا ہے، ان میں اس اقدام کو کوئی قانونی شکل نہیں دی گئی ہے۔ زیادہ سے زیادہ اسے ایک اخلاقی ہدایت کے طور پر دیکھا گیاہے۔ اسی لیے اگر کوئی شوہر اپنی بیوی کو رات کے اندھیرے میں اور اپنے سرپرستوں یا عزیزوں سے مشورہ لیے یا تذکرہ کیے بغیر طلاق دے دیتا ہے تو قانونی اعتبار سے اس طلاق کو تسلیم کیا جاتا ہے لیکن کیا زیر مطالعہ آیت میں اللہ تعالیٰ نے صرف ایک اخلاقی ہدایت دی ہے اور اسے قانونی درجہ حاصل نہیں ہے، اس پر ہمیں غور کرنا چاہیے۔ ان ہدایات کی روشنی میں اگر طلاق کا کوئی ضابطہ بنایا جائے اور اسے قانونی شکل دی جائے تو کیا ایسا کرنا جائز ہوگا۔ اللہ کا قانون معاشرے کی اصلاح اور فلاح کے لیے ہے، اگرقانون کا غلط استعمال کیا جاتاہے اور اس سے اصلاح کے بجائے فساد پھیلتا ہے تو کیا اسلامی حکومت کی عدلیہ خاموش رہے گی یا قانون کے غلط استعمال کو روکے گی۔مسلم سماج سے قریبی تعلق رکھنے اور نکاح، طلاق اور خلع کے بعض واقعات سے راست جڑے رہنے کی وجہ سے بعض ایسی باتیں بھی سامنے آتی ہیں جن سے پتا چلتا ہے کہ ایک شاطر انسان محض اپنے بچاؤ کے لیے اسلامی قانون کا سہارا لیتا ہے اور کئی لوگوں کو ذہنی اذیت پہنچاتاہے۔ امید ہے کہ ارباب حل وعقداور قضا وافتا کے منصب جلیل پر فائز علمائے کرام اور مفتیان اسلام اس مسئلے پر توجہ فرمائیں گے۔ ذیل میں قرآن مجید کے بیان کردہ اقدامات کی مختصر وضاحت کی جارہی ہے۔
پہلا قدم:
شوہروں کو حکم دیا جارہا ہے کہ تمھیں اپنی جن بیویوں سے نافرمانی اور سرکشی کا اندیشہ ہو پہلے انھیں زبانی نصیحت کرو اور سمجھاؤ۔ قرآن نے بیوی کے جس رویے پر یہ قدم اٹھانے کا حکم دیا ہے اسے نشوز کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ مفسرین کرام نے اپنی کتب تفاسیر میں اس لفظ کی تشریح کرتے ہوئے لکھا ہے کہ حقوق زوجیت نہ ادا کرنا، شوہر کی بات نہ ماننا اور اس کے ساتھ اچھا سلوک نہ کرنا ‘‘نشوز’’ کہلاتا ہے۔ اس کے مظاہر کی تفصیل یہ بتائی گئی ہے کہ بیوی اپنے شوہر کی خواہش کے باوجود اسے جماع اور مباشرت نہ کرنے دے، باہر آنے جانے اور ملنے ملانے میں شوہر کی بات نہ مانے اور اس کی نافرمانی کرتی رہے، شوہر کی خدمت، اس کے گھر اور اولاد کی دیکھ بھال کی ذمہ داری قبول نہ کرے، شوہر کے ساتھ اچھا سلوک نہ کرے، بد اخلاقی سے پیش آئے اور برے اور فحش کلمات کا استعمال کرے اور شوہر کے قریبی عزیزوں کے ساتھ بدزبانی کرے۔ ظاہر ہے جس بیوی کی اخلاقی حالت اس طرح کی ہوجائے، اس کے ساتھ حسن معاشرت کیوں کر ممکن ہے۔ شوہر کو اس طرح کی بیوی سے سکون کہاں مل سکتا ہے۔ اگر یہ صورت حال زیادہ دنوں تک برقرار رہے گی تو علاحدگی کی نوبت آسکتی ہے۔ اسی لیے قرآن مجید شوہر کو حکم دیتا ہے کہ جب بیوی کا یہ رویہ سامنے آئے تو پہلے اسے نصیحت کرو اور سمجھاؤ۔ قرآن نے اس کے لیے وعظ کا لفظ استعمال کیا ہے۔ وعظ میں نرمی ہوتی ہے، شفقت بھرا انداز ہوتا ہے، خیر خواہی اور ہم دردی کا جذبہ ہوتا ہے۔ اسی سے معلوم ہوتا ہے کہ زجر وتوبیخ کا لہجہ، گالی گلوج، سخت کلامی سے نصیحت نہیں کی جاسکتی۔نصیحت کرتے ہوئے اسے اللہ کا خوف دلایا جائے، میاں بیوی کے حقوق اور فرائض پر گفتگو کی جائے اور اپنے گھربار اور بچوں کی خوشی اور ان کے روشن مستقبل کی باتیں کی جائیں۔
دوسرا قدم:
پہلے قدم سے اگر عورت کا رویہ درست نہیں ہوتا اور وہ نافرمانی پر مصر رہتی ہے تو قرآن ایک دوسرا قدم اٹھانے کا حکم دیتا ہے اور وہ یہ ہے کہ اسے خواب گاہ میں بستر پر تنہا چھوڑ دیا جائے۔ عورت کی فطرت اللہ نے جس طرح بنائی ہے، وہ یہ ہرگزبرداشت نہیں کرسکتی کہ شوہر اس کے پاس رہتے ہوئے اسے نظر انداز کرے، اس میں اسے اپنی سخت توہین نظرآتی ہے۔ ایک ہی بستر پر شوہر اس کی طرف پشت کیے لیٹا رہے اور اس کی طرف متوجہ نہ ہو، یہ چیز اس کے لیے ناقابل برداشت ہے۔ شوہر کی اس بے اعتنائی سے اسے اپنی غلطی کا احساس ہوگا اور وہ کسی بھی لمحے اس سے معذرت کرلے گی اور پھر گلے شکوے دور ہوجائیں گے۔ اختلاف کی اس حالت میں شوہر کا اسے اپنے گھر سے نکال کر اس کے میکے بھیج دینا یا عورت کا خود اپنے والدین کے گھر آجانا ایک غیر مناسب قدم ہے، اس سے فاصلے بڑھ جائیں گے اور غلط فہمیوں کا دائرہ وسیع ہوجائے گا۔

تیسرا قدم:
پہلے اور دوسرے قدم کا کوئی مثبت نتیجہ نہ نکلے تو پھر قرآن ایک تیسرا قدم اٹھانے کا حکم دیتا ہے اور وہ تیسرا قدم زدوکوب کرنے کا ہے۔ بیوی کی سرکشی اور نافرمانی پر اسے تنبیہ کرنے کی بھی یہ ایک صورت ہے۔ مار ہلکی ہو،جسم کے صرف اس حصے پر ہو جس پر نشان نہ پڑیں اور چہرے پر مارنے سے پرہیز کیا جائے۔ مسواک سے مارنے کا بھی ذکر آتا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ایک علامتی نوعیت کی مار ہے۔ یہاں یہ نہ سمجھ لیا جائے کہ اسلام شوہروں کو کھلی چھوٹ دیتا ہے کہ وہ اپنی بیویوں کو لاٹھی ڈنڈے سے جیسے چاہیں ماریں۔ ہاتھ پیر توڑدیں اور مار مار کر اس کا چہرہ بگاڑ دیں بلکہ حدیث وآثار میں ضرب شدید کی ممانعت آئی ہے۔ ایک غیرت مند بیوی ناراضگی کے عالم میں شوہر کے ہاتھ اٹھادینے ہی کو اپنے لیے بڑی چیز سمجھتی ہے۔ اس سزا کے بعد وہ اپنے رویے پرضرور نظر ثانی کرے گی۔
چوتھے قدم کا ذکر کرنے سے پہلے قرآن ایک خاص بات یہ بھی کہتا ہے کہ اگر ان تینوں اقدامات کے بعد عورت اپنی حالت درست کرلے، حقوق زوجیت ادا کرنے لگے اور اس کے رویوں سے حسن معاشرت کا اظہار ہونے لگے تو پھر اسے ستانے اور پریشان کرنے کے لیے بہانے نہ تلاش کرو۔ یہ بڑی اہم ہدایت ہے جو شوہروں کو کی گئی ہے۔ عام حالات میں کھانے میں مرچ مسالہ زیادہ ہوجائے تو شوہر اسے نظر انداز کرتا ہے لیکن جب حالات ذرا کشیدہ ہوں تو اسی بات کو بڑا بنالیتا ہے اور بیوی کو سخت سست کہنے لگتا ہے۔ گھر میں ضرورت کی کوئی چیز کھوگئی، تلاش کے بعد ہاتھ لگی۔ ایسا گھروں میں عام طور پر ہوتا ہے لیکن ناراضگی کے ان ایام میں یہی بات سنگین بن جاتی ہے اور شوہر اپنی بیوی کو طعنے دینے سے باز نہیں رہتا۔ بہر حال یہ ایک بڑی لطیف اور انتہائی پر حکمت ہدایت ہے، ہرشوہر کو اس کا خیال رکھنا چاہیے۔ شوہروں کو ان کی بیویوں پرقوام ضرور بنایا گیا ہے، ان کا درجہ ضرور بلند ہے لیکن انھیں یاد رکھنا چاہیے کہ اللہ ان سے بھی بڑا ہے اور ان کے ظلم ونانصافی پر انھیں سزا دینے پر قادر ہے لہذا قوامیت کے زعم میں مبتلا ہوکر بیویوں کو ستانے کے حیلے نہ تلاش کرتے پھریں۔
چوتھا قدم:
مذکورہ بالا تینوں اقدامات غیر موثر ہوجائیں اور ان سے کوئی خوش گوار نتیجہ سامنے نہ آئے تو قرآن میاں بیوی کے سرپرستوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ اس رشتے کو بچانے کے لیے مداخلت کریں۔ میاں بیوی جب اپنے باہمی رشتوں کو استوار کرنے میں ناکام ہوجائیں اور ان سے بات نہ بنے تو پھر دونوں گھروں کو حرکت میں آنا چاہیے۔ اس سے ایک بات یہ بھی معلوم ہوتی ہے کہ آغاز ہی سے میکے اور سسرال والوں کی دخل اندازی غیر مناسب ہے۔ بلکہ بسااوقات ان کی مداخلت سے دونوں کے رشتوں میں مزید پیچیدگی پیدا ہوجاتی ہے۔ انھیں ایک خاص مرحلے تک اپنے مسائل کو خود حل کرنے کی آزادی ہونی چاہیے۔ عام طور پر بیوی کی ماں یا شوہر کی والدہ نامناسب کردار ادا کرکے معاملے کو سدھارنے کے بجائے بگاڑ دیتی ہیں۔
بہر حال چوتھے اقدام کا ذکر کرتے ہوئے قرآن کہتا ہے کہ ایک حکم شوہر کے گھر کا اور ایک حکم بیوی کے گھر کا مقرر کیا جائے۔ دونوں میاں بیوی سے مل کر ان کے اختلاف کی نوعیت کو سمجھنے کی کوشش کریں اور پھر غلط فہمیوں کا ازالہ کرتے ہوئے بگڑتے رشتوں کو ٹوٹنے سے بچانے کا سامان کریں۔حکمین کے لیے اللہ نے جو تعبیر اپنائی ہے وہ بڑی لطیف ہے۔ اگر وہ اصلاح کرانا چاہیں تو اللہ ان کے درمیان توافق وہم آہنگی پیدا کردے گا۔ اس سے پتا چلتا ہے کہ حکم وہ بنائے جائیں جو خیر خواہ ہوں، اصلاح کا جذبہ رکھتے ہوں اوراختلاف کا صحیح تجزیہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ اگر کسی حکم نے اپنی انا کا مسئلہ بنالیا، معاملے کی تہہ تک پہنچنے کی کوشش نہ کی تو اس ٹوٹ رہے رشتے کو وہ بچا نہیں سکیں گے۔ یہ ایک نازک اور بڑی ذمہ داری ہے۔ اسی لیے متدین،تقوی شعار اور سمجھ دار افراد کو حکم کے فرائض انجام دینے کے لیے آگے لانا چاہیے۔ بے صبرے،تیز غصہ والے، جذباتی اور ناسمجھ لوگ اس نازک ذمہ داری کو نہیں اٹھا سکتے ۔
بیوی کو طلاق دینے سے پہلے قرآن کے ذکر کردہ ان اقدامات کوضرور زیر عمل لانا چاہیے۔ یہ اللہ کی ہدایت ہے، اسے نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔فقہی قانونی جزئیہ کچھ بھی ہو، اس سے سروکار نہیں۔ ہمیں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی تعلیمات پر عمل کرنا ہے اور اسی میں ہماری نجات اور فلاح کا راز پنہاں ہے۔

آپ کے تبصرے

avatar