تعارف کتاب بلاغتِ قرآنِ کریم

تعارف کتاب بلاغتِ قرآنِ کریم

ہلال احمد تعارف و تبصرہ

نام کتاب: بلاغتِ قرآنِ کریم
تالیف: ڈاکٹر فاضل صالح سامرّائی
مترجم: ڈاکٹر شمس کمال انجم
تبصرہ نگار: ہلال احمدہدایت اللہ سلفی

قرآن کریم اللہ کے آخری نبی و رسول محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کردہ آخری کتاب ہے، اللہ کایہ دستور رہا ہے کہ جس زمانہ میں کسی نبی یا رسول کو مبعوث فرمایا اور اس زمانے میں جو چیزیں رائج اور زبان زد عام تھیں بطور تحدی ومعجزہ اس چیز کو  انہیں دیا گیا جیسے موسی علیہ السلام کے زمانے میں سحر اور جادوگری عام تھی تو اس کو چیلنج کرنے کے لیے عصا طوری عطا کیاگیا حالانکہ یہ جادو نہیں بلکہ معجزہ ربانیہ تھا، عیسیٰ علیہ السلام کو شفائی کیمیا عطا کیاگیا علاوہ ازیں مختلف انبیاء ورسل کو علاقائی اعتبار کا خیال کرتے ہوئے قوم کو چیلنج اور مبہوت کرنے کے لیے معجزے عطا کیے گئے، کچھ امتوں کے مطالبات پر بھی اس دور کے انبیاء کو خدائی کرشماتی معجزہ عطا کیاگیا جس کے عدم تشکر کے پاداش میں انہیں ملیامیٹ کردیا گیا۔

ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں شعروشاعری اور عربی ادب پر خوب چرچے تھے، معلقات سبعہ اور مشہور شعراء کی عرب میں دھوم تھی، ایک دوسرے کو مسبوق دکھانے میں مقابلہ آرائی ہوتی رہتی تھی، یہاں تک کہ پورا عرب معاشرہ ذاتی اور شخصیاتی گرفت میں جکڑ چکا تھا، لات ومنات کی پرستش اور معبود حقیقی کے ساتھ شرک عام ہوچکا تھا غرض کہ پوری قوم جاہلیت کی پروردہ تھی، زمین خداکی پرستش سے خالی ہوچکی تھی۔ ایسے معاشرہ میں انہیں کی زبان میں ایک رسول بھیجا گیا جو عربی زبان میں قرآن کی آیتیں انہیں سناتا تاکہ شعروشاعری سے شغف رکھنے والی یہ قوم جلد خدائی پیغام کو قبول کرلے، اورایسا ہی ہوا۔ محض ۲۳؍برسوں میں پوری عرب دنیامیں اسلام اور قرآن کادستور نافذالعمل ہوگیا اور اس کی تاثیر کا یہ عالم تھا کہ سخت دل انسان بھی موم ہوجاتاتھا۔ تاہم کچھ خودساختہ شعراء اورادباء نے قرآن کی آیتوں کو شاعری کہا،کسی نے جادوگری سے تعبیرکیا،کسی نے پرانے قصے کہانیاں کہہ کر اپنوں میں اپنی گیدڑپھبکی دکھائی ، لیکن جب قرآن نے انہیں ان کی ذہانت وفطانت کو چیلنچ اور کہاکہ قرآن کی آیتوں جیسی ایک چھوٹی سی مجمع الادب والبلاغۃ اور مؤثر آیت ہی پیش کردو توپوری برادری مبہوت رہ گئی اور بالآخر انہیں مانناپڑا کہ یہ انسانی کلام نہیں ہوسکتاہے۔
قرآن کریم ہدایت اور پیشوا، معجزہ اور تحدی ہے رہتی دنیاتک۔ قرآن کی زبان ہرزمان ومکان کے لیے آسان اور عام فہم ہے،ہرلفظ کو اس کے مناسب مقام پر اور ہرمناسب اسلوب کے ساتھ مناسب الفاظ کا استعمال کیاگیاہے،صاحب بصیرت وبصارت کے لیے روشن دلیل ہے نیز کفار ومشرکین کے لیے دھمکی اور وعید ہے۔قرآن کریم میں سماج ومعاشرہ کی فلاح وبہود کے لیے اورسیاسی وسماجی ،اصلاحی ومعاشرتی تمام پہلؤوں پر بحث کی گئی ہے، اس کالفظ لفظ موتی اور آیت آیت سونے اور ہیرے میں پرویا ہوا ہار ہے۔ آپ غور کریں کہ جب قرآن کریم اہل مکہ سے خطاب کرتا ہے تو کس طرح کے الفاظ استعمال کرتا لیکن جب اہل مدینہ اور نخلستانیوں سے خطاب کرتاہے تو کس طرح کا لطیف اسلوب استعمال کرتا ہے۔ بلاغت اور فصاحت اسی میں ہے کہ زمان و مکان کے اعتبار کاخیال کرتے ہوئے گفتگو کی جائے۔
زیر تبصرہ کتاب’’ بلاغتِ قرآنِ کریم‘‘ کو ڈاکٹر شمس کمال انجم صاحب نے عربی زبان سے ترجمہ کیا ہے جس کااصل نام ’’اسئلۃ بیانیہ فی القرآن الکریم ‘‘ ہے، اس کتاب کے مؤلف ڈاکٹر فاضل صالح سامرائی ہیں،جوشارجہ میںان کے قیام کے دوران شارجہ ٹی وی شو پر کیے گئے سوالوں کے جوابات پر مشتمل ہے۔ ڈاکٹر شمس کمال انجم صاحب کی ترجمہ شدہ کتاب ’’بلاغتِ قرآنِ کریم‘‘ 339 ؍صفحات پر محتوی ہے۔ کتاب کا ٹائٹل صفحہ جاذب نظر اور نہایت عمدہ ہے اور اندرونی صفحات میں نفیس کاغذات کا استعمال کیا گیا ہے جس کی مارکیٹ قیمت 350؍روپئے رکھی گئی ہے۔ کتاب روشان پرنٹرس، دہلی 6- کی جانب سے حال ہی (سن اشاعت: فروری 2018 ) میں طبع ہوئی ہے ۔جس کو ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس دہلی6- نے پبلش کیا ہے۔
یہ کتاب چھوٹے بڑے ۱۰۰؍نکات پر مشتمل تفسیر اور ادب وبلاغت سے تعلق رکھنے والے معلمین اور متعلمین کے لیے بے حد مفید ہے۔ اس کتاب کا پیش لفظ ڈاکٹر ابرار احمد اجراوی صاحب نے لکھا ہے جس سے کتاب کی ندرت میں چار چاند لگ گئے ہیں، انہوں نے بہترین انداز میں قرآن کریم کے فصیح وبلیغ ہونے کی بات کہی ہے اجراوی صاحب نے لکھاہے ’’قرآن کریم عربی زبان کے چند پرشکوہ الفاظ کا نام نہیں، وہ معانی ومطالب کاگنجینہ بھی ہے، سارے علوم وفنون کے سوتے یہیں سے پھوٹے ہیں، قرآن کریم کا اسلوب وانداز بھی نرالہ ہے اور اس کے الفاظ وحروف بھی منفرد ہیں، حراسے جونسخہ ٔ کیمیا نبی کریم ﷺ لے کر امت محمدیہ کی طرف آئے اس میں عالم انسانیت کے لیے صرف رشد وہدایت کی ہی تعلیمات نہیں، بلکہ وہ ادب وبلاغت اور زبان وبیان کا بھی اعلی ترین نمونہ ہے۔ فصاحت وبلاغت کا ایسا نمونہ جس کی نہ ہمسری کی جاسکتی ہے اور نہ اس کی مشابہت و مجانست کا دعوی کیا جاسکتاہے‘‘۔ کسی کتاب کامقدمہ اس کتاب کا اصل مأخد ہوتا ہے اب یہ بات مقدمہ نویس پر منحصر ہے کہ اپنے قلم سے کس چیز کی شہادت دے رہا ہے اور اپنی عرق ریزی سے کیا چیز تحریر فرما رہا ہے۔ اس کے بعد مترجم ڈاکٹر شمس کمال انجم صاحب نے ’’عرض مترجم‘‘ کے حوالے سے کتاب کے ترجمہ کے اغراض ومقاصد اور اصول کو نہایت عمدہ اور معلومات افزا جسے قلمی رشحات کہنا بخل سے تعبیر کیاجاسکتا ہے بلکہ خون جگر سے تحریرکیا ہے۔ انہوں نے ایام نزول میںقرآن کی تکذیب اور امامان عصر کو قرآن کی تحدی کا ذکر کیا ہے۔ کذاب ومدعیان نبوت، کفار مکہ کا قرآن کے سلسلے میں آپسی چہ مہ گوئیوں کا تذکرہ کیا ہے۔ پھر قرآن کی فصاحت وبلاغت اور اعجاز کی تردید کرنے والے معتزلیوں کی گمراہ کن عقائد اور جاحظ کی نظم القرآن اور حجج النبوۃ کا ذکر کرکے میزان معتدل کردیا ہے۔ مترجم نے اپنی بات کو سلسلہ وار مختلف ادوار اورصدی کے اعتبار سے ذکر کرتے ہوئے چوتھی صدی میں اعجاز قرآن پر شعراء کے کلام اور پھر پانچویں، چھٹی، ساتویں، آٹھویں، نویں، دسویں، گیارہویں صدی ہجری کے اعتبار سے قرآن کریم کی فصاحت وبلاغت پر لکھی گئی کتابوں اور تفاسیر کا تذکرہ کیا ہے۔ اس کے بعد معاصر مفسرین، علوم قرآن اور اعجاز قرآن پر لکھنے والوں کا تذکرہ کیا ہے۔ اور اخیر میں صاحب کتاب ڈاکٹر فاضل صالح سامرّائی پر تبصرہ کرتے ہوئے ان کے علمی ذوق اور ان کی مصنفات پر اجمالاً زریں تبصرہ کیا ہے ۔
مذکور ہے کہ یہ کتاب متعدد سوالوں کا عربی میں جواب ہے، جس کا ترجمہ ڈاکٹر شمس کمال انجم صاحب مدنی ؍صدرشعبۂ عربی بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی راجوری جموں وکشمیر نے کیا ہے۔ موصوف نے جس سلاست، لطافت اور روانی سے ترجمہ کیا ہے ،اس بات کا احساس کتاب کے اندر کہیں بھی نہیں ہوتا کہ آیا یہ اصل کتاب ہے یا ترجمہ شدہ!! اگر ٹائٹل پر مترجم نہ لکھا گیا ہوتا تو اس بات کا قوی امکان ہے کہ لوگ اسے اصل کتاب ہی شمار کریں۔ ترجمہ نگاری کا یہ اسلوب اور نادر انداز خدائی تحفہ ہے جو ڈاکٹر شمس صاحب میں ودیعت کردیاگیا ہے،وہ شمس ہیں اور چہاردانگ عالم میں اپنی روشنی پیر پنچال کے کوہساروں سے بکھیر رہے ہیں،آپ اردوعربی کے صاحب طرز ادیب اور بلا کے شاعر ہیں،شاعری میں بھی آپ بحیثیت استاد پہچانے جانے لگے ہیں۔ کتاب کا اردو ترجمہ ان کی محنت اور عربی اردو دوستی کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ انہوںنے کس جانفشانی سے کام کیا ہے،پوری کتاب الف سے یاء تک پڑھ ڈالیے کہیں بھی خشکی کا احساس نہیں ہوگا۔اللہ کرے زور قلم اورزیادہ۔ ڈاکٹر شمس کمال انجم صاحب کی متعدد ترجمہ شدہ کتابیں اس سے پہلے قبولیت عام حاصل کرچکی ہیں، انہوں نے ترجمہ کے میدان میں کافی عمدہ کام کیا ہے اور عرب دنیامیں موجود نادر ونایاب کتابوں سے اردو داں طبقہ کو متعارف کرایا ہے ۔ ویسے اردو پڑھنے والے اس کے ہمیشہ محتاج رہے ہیں کہ انہیں عربی اور گلوبائز لنگویز انگلش کی ترجمہ شدہ کتابیں میسر ہوں۔ ایک مشہور قول ہے کہ ’’انگریزی کی سوسال قدیم اور عربی کی پچاس سال قدیم کتابیں اردوداں طبقہ کو ملتی ہیں‘‘ یعنی ہم بہت پیچھے ہیں۔ اللہ کا فضل ہے کہ ڈاکٹر صاحب نے قرآن کریم سے متعلق اس نادر کتاب کا ترجمہ کرکے اردووالوں کو ایک روشنی دکھائی ہے۔
ڈاکٹر شمس کمال انجم صاحب سے میری پہلی ملاقات گزشتہ سال جامعہ محمدیہ منصورہ مالیگاؤں کے کانفرنس میں ہوئی جس میں وہ بطور محاضر شریک تھے۔ اتفاق سے کانفرنس ہال میں نشست بہت قریب ہونے کی وجہ سے سلام کلام کا موقع ملا۔ خود تعارف کراتے ہوئے میں نے ماہنامہ الاتحاد ممبئی ان کے دست مبارک میں پیش کیا جسے محترم نے طائرانہ نظر سے دیکھتے ہوئے ماہنامہ الاتحاد میں الف لام اور عدم الف لام کے بارے میں گفتگو کی کہ جب یہ ماہنامہ اردو میں ہے تو الف لام کیوں لگایا گیا ہے صرف اتحاد ہوتا تو بھی بہتر ہوتا۔ مسکن وغیرہ کے بارے میں گفتگو ہوئی جس پر موصوف نے خود ہی بتایا کہ میں قاسم العلوم ریواں کا طالب علم رہ چکا ہوں خیر محترم کی رخصتی کے موقع پر ماہنامہ الاتحاد ممبئی کے دو نسخے ان کے حوالے کیے۔ ڈاکٹر صاحب کی علم دوستی، انکساری اور نوعمر لکھاریوں کے ساتھ شفقت ہی ہے کہ انہوں نے بذریعہ واٹس ایپ الاتحاد کی نسخوں میں موجود غلطیوں کی نشاندہی کی اور ’’ماہنامہ مجلہ الاتحاد ممبئی‘‘ کے بجائے ماہنامہ الاتحاد ممبئی نام رکھنے کو کہا۔ الحمدللہ اب ماہنامہ الاتحاد سے لفظ ’’مجلہ‘‘ منسوخ کردیا گیا ہے۔ اس ملاقات کے بعد الاتحاد میں موصوف کے مضامین مسلسل شامل اشاعت ہوتے رہتے ہیں۔
بلاغتِ قرآنِ کریم سے تفسیر پڑھانے والے اساتذہ اور پڑھنے والے طلباء کو ان شاء اللہ کافی رہنمائی ملے گی کیونکہ سورتوں کی ترتیب کے اعتبار سے صاحب کتاب نے بحث کو تیار کیا ہے اورایسی نادر باتیں ان بحثوں میں آگئی ہیں کہ مطالعہ کے بعد ہی اس کا کشف ممکن ہے۔ قرآن کے ادبی اسرار و رموز پر یہ کتاب ان شاء اللہ کافی عمدہ ثابت ہوگی۔ مترجم نے اپنے ترجمہ معتدل، عام فہم اور سہل زبان کا استعمال کیا ہے جس سے اس کتاب کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔ اس کتاب کی سب سے اہم اور بڑی خصوصیت یہ ہے کہ نحوی وصرفی قواعد واصول، الفاظ کالغوی و محاورتی معنی، کسی آیت یالفظ پر بحث کے دوران مختلف آیتوں الفاظ اور لغوی بحوث سے استدلال، مفسرین کے اقوال اور برمحل حوالہ جات سے مزین ہے۔ کسی لفظ کو قرآن کریم میں الگ الگ یا ملا کر لکھنے کی وجہ اور اس پر دوسری آیتوں سے بحث مثلاً لکی لا اور لکیلا، الأید اور بأیید۔ (ملاحظہ ہو صفحہ نمبر195 اور 268) اسی طرح لفظ ملائکۃ کو قرآن کریم میں کبھی تذکیر اور کبھی تانیث استعمال کرنے کی حکمت وبلاغت کیا ہے۔ساتھ ہی مؤلف نے کتاب میں ایک بہت لطیف نکتہ یہ بیا ن کیاہے کہ بحث کے دوران آیا ہوا لفظ کس صورت میں کتنی بار استعمال ہوا ہے مثلاً لفظ عقاب کہاں کہاں اور کتنی بار استعمال ہوا۔ درمیان میں مذکور آیتوں کا ڈاکٹر شمس صاحب نے عمدہ اور سلیس ترجمہ کیاہے۔ قارئین کتاب کی 75؍ویں بحث ضرور پڑھیں اور بار بار پڑھیں کافی دلچسپ ہے۔اسی طرح نوراور ضیاء میں فرق، اس کو مختلف آیتوں ،ماہرین لغت کے اقوال سے واضح کیا ہے یہ بحث بھی تمام بحثوں کی طرح کافی دلچسپ اور معلومات افزاء ہے۔ انبیاء کے ناموں میں ترتیب کی کیا حکمت وبلاغت ہے اور مختلف انبیاء کے درمیان رشتہ ،تعلقات اور مماثلت کو بہترین پیرائے میں بیان کیاہے ۔ طلاق اور وفات کے درمیان نمازوں کی حفاظت والی آیتوں کے ذکر میں کیا حکمت اور راز پوشیدہ ہے اس کو بہت بلیغ اور لطیف انداز میں مؤلف نے بیان کیا ہے۔ اور کتاب میں یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ کون سالفظ قرآن میں کہاں کیسے لکھاگیا ہے، لفظ کو گھٹا بڑھاکرکیوں پیش کیاگیاہے ان تمام چیزوں کو خوبصورت اورلطیف انداز میں ذکرکیا ہے۔ الفاظ کی تکرار سے اجتناب کرتے ہوئے پوائنٹ ٹو پوائنٹ نکات بیان کیے گئے ہیں، کسی بحث کو مزید پختہ بنانے کے لیے اس کو کئی اہم نکات میں تقسیم کرکے ذہن نشین کرانے کی کوشش کی گئی ہے۔اس کے علاوہ بہت ساری خوبیاں ہیں اس کتاب میں جو قرآن کی اعجاز، ایجاز اور تفصیل پر گفتگو کرتی ہے، مؤلف نے بہت ہی عمدہ پیرائے میں ساری باتوں کو قلمبند کیا ہے جوکہ تفسیرکے قاری کے لیے نہایت مفید اور کارگر ثابت ہوں گی ۔ جوشخص قرآن کی فصاحت وبلاغت، اعجاز اور ایجاز، اسرار و رموز سے واقف ہونا چاہتا ہے اسے چاہیے کہ اس کتاب کا مطالعہ کرے ۔ کتاب کے اخیر میں ۱۷؍صفحات پر مشتمل ڈاکٹر شمس کمال انجم صاحب کی مختلف کتابوں پر مشاہیر کی وقیع اور قیمتی آراء وتاثرات کو پیش کیا گیا ہے۔
ہمارے سامنے جو کتاب ’’بلاغتِ قرآنِ کریم ‘‘ کے نام سے موجود ہے بہت ساری خوبیوں کا محور ہونے کے ساتھ اس میں کچھ لفظی خامیاں بھی ہیں، انسان ہونے کے ناطے جانے انجانے غلطیوں کے صدورکاامکان بہرحال ہے جس کو میں غلطی شمار نہیں کرتا کیونکہ دو صفحہ کا مضمون تحریر کرنے میں بھی بہت سی خامیاں مل جاتی ہیں، ہاں اخوت کاتقاضہ یہ ہے کہ ہم براہ راست اس کی نشاندہی کردیں، امید ہے کہ ان شاء اللہ آئندہ ایڈیشن میں اس کی تصحیح کردی جائے گی۔ ایک بات جو مجھے کھٹکی وہ یہ کہ فاضل مؤلف نے بحث نمبر93؍کے بعد سورتوںکی ترتیب کا خیال نہیں رکھا ہے ۔ سردست یہ کتاب اپنی تمام مشمولات کے ساتھ کافی دلچسپ، معلومات افزاء اور قابل مطالعہ ہے۔ ڈاکٹر شمس کمال انجم صاحب نے اپنی ضیاء باری سے اس میں چارچاند لگادی ہے، اردوداں طبقہ خاص کر تفسیر سے شغف رکھنے والے طلباء کے لیے کافی فائدہ بخش کتاب ہے، یہ کتاب اردو زبان وادب اور بلاغت قرآن کے باب میں ایک گراںقدر اضافہ ہے، امید کہ قارئین کتاب کو پسند فرمائیں گے۔
٭٭٭

1
آپ کے تبصرے

avatar
1 Comment threads
0 Thread replies
0 Followers
 
Most reacted comment
Hottest comment thread
1 Comment authors
محمد مہروز ضیاؔء Recent comment authors
newest oldest most voted
محمد مہروز ضیاؔء
Guest
محمد مہروز ضیاؔء

السلام علیکم و رحمة اللہ و برکاتہ
ہلال بھائی یہ کتاب کہاں ملے گی رابطہ نمبر وغیرہ بھی دے دیتے تو مضمون میں تشنگی باقی نہ رہتی۔۔ اتنی اچھی کتاب پر اتنا اچھا تبصرہ پڑھنے کے بعد بھلا کون ہے جو اس کتاب کو پانے کے لیے بے چین نہ ہو۔۔ اور میرا مسئلہ یہ ہے کہ نہ تو میں ساٶتھ انڈیا میں ہوں اور نہ ہی نارتھ میں بیچ میں پھنسا ہوں (صوبہ اڈیشہ میں )جہاں اردو کتابیں خصوصاً سلفی مکتبہ فکر کی کتابیں اگر مل جائیں تو انسان خود کو خوشنصیب ہی گردانتا ہے۔۔
امید ہے کہ رہنمائی فرمائیں گے