احمد امين

احمد امین 1886ء — 1954ء

صہیب حسن مبارکپوری عربی زبان و ادب

قاہرہ کے ایک محلہ منشیہ میں یکم اکتوبر 1886؁ء کو احمد امین کی ولادت ہوئی ۔ اس کے والد ابراہیم حافظ قرآن اور ازہر کے فارغ التحصیل تھے۔ فراغت کے بعد وہیں مدرس رکھ لیے گئے تھے ۔ اسی کے ساتھ وہ مسجد امام شافعی میں امام و مدرس اور مطبعہ امیریہ بولاق میں پروف ریڈنگ کے کام پر فائز تھے ۔ وہ ایک اچھے کاتب بھی تھے اور مخطوطات کی شکل میں موجود بہت سی کتابوں کی نقل اپنے ہاتھ سے تیار کرلیتے تھے ۔ اس طرح انہوں نے جامع ازہر کی نصابی کتابوں کے علاوہ شرعی علوم ، تاریخ وادب اور لغت پر مشتمل بہت ساری کتابوں کا قیمتی ذخیرہ اپنے گھر میں جمع کرلیا تھا جن کا وہ خود بھی مطالعہ کرتے اور اپنے بچوں کو بھی ان کے مطالعہ کی رغبت دلاتے ۔ انہوں نے اپنے بچوں میں احمد امین کی تعلیم وتربیت پر خصوصی توجہ کی۔
احمد امین کی بسم اللہ گھر پر ہی ان کے والد نے کرائی ۔ پھر وہ محلہ منشیہ کی مسجد الرماح میں داخل ہوا اور 1891 ؁ء سے لے کر آئندہ پانچ سالوں تک یکے بعد دیگر چار مکتبوں میں منتقل ہوکر قرآن کریم کا حفظ کیا اور لکھنا پڑھنا سیکھا ۔ پھر وہ عباس اول کی والدہ کے ابتدائی مدرسہ میں داخل ہوا جو اپنی شاندار اور خوبصورت عمارتوں کی وجہ سے ایک مثالی مدرسہ تھا ۔اس مدرسہ میں وہ چار سال تک پڑھتا رہا اور فارغ اوقات میں اپنے والد سے خصوصی استفادہ کی وجہ سے عربی زبان اور حساب میں اپنے ساتھیوں پر فائق رہا البتہ فرانسیسی زبان میں الگ سے کسی سے نہ پڑھنے کی وجہ سے وہ کمزور رہا ۔
1900؁ء میں پھر چودہ سال کی عمر میں وہ ازہر میں داخل ہوا لیکن وہاں کے طریقہء تدریس اور تعلیمی نظام کو وہ پسند نہ کرتا تھا ۔ چنانچہ اس کے والد نے اس کے لئے مختلف علوم وفنون جیسے تفسیر وحدیث ، قرأت، فقہ حنفی ، جغرافیہ وحساب اور نحو وغیرہ میں درس لینے کے لئے ایک خاص پروگرام متعین کیا۔ اس زمانہ میں ازہر میں ہر درس کا وقت نمازوں کے اوقات سے مربوط ہوتا تھا اور ہر درس عموما نمازوں کے بعد شروع ہوتا ۔ بعض دروس طلوع آفتاب اور چاشت کے وقت کے ساتھ خاص تھے ۔ مغرب کے بعد عشاء کی اذان تک شیخ محمد عبدہ کی تفسیر یا بلاغت کا اضافی درس ہوتا۔ شیخ محمد عبدہ کے درس کو اپنے معیار سے بلند خیال کرتے ہوئے اس میں شرکت کرنے کی ہمت نہ کرتا لیکن بعض دوستوں کے اصرار پر شرکت کرنا شروع کیا اور ابھی دو ہی درس میں شریک ہوا تھا کہ شیخ علیل ہوکر 1905؁ء میں وفات پاگئے اور وہ مزید ان سے مستفید نہ ہوسکا ۔ البتہ اپنے والد سے استفادہ کا سلسلہ جاری رکھا ۔
اس کے والد ازہر کے ممتاز اساتذہ میں سے تھے وہ طلبہ کو متن کے حواشی اور اس کی تقاریر میں الجھانے کے قائل نہ تھے چنانچہ انہوں نے احمد امین کے لیے فن نحو کی مطبوعہ کتابیں اختیار کیں جن پر حواشی نہ تھے اور بالترتیب اسے شیخ خالد کی شرح الآجر وفیۃ ابن ہشام کی قطر الندی وشذور الذھب اور ابن عقیل کی شرح ألفیۃ ابن مالک پڑھائی ۔ اس کے علاوہ انہوں نے ثعالبی کی فقہ اللغۃ ، بلاغت میں سعد تفتازانی کی شرح تلخیص المفتاح ، حریری کے بعض مقامات مع شرح اور توحید ومنطق میں بعض کتابیں اسے پڑھائیں ۔ اسی کے ساتھ انہوں نے ذاتی مکتبہ سے استفادہ کا اسے ایسا شوق دلایا کہ اسی زمانے میں اس نے تاریخ ابن الأثیر ، وفیات الأعیان ، فاکھۃ الخلفاء اور کلیلۃ ودمنۃ وغیرہ کا مطالعہ کرلیا ۔ بچپن کی یہ محنت آگے چل کر اس کے لیے علم وادب کے بلند مقام پر فائز ہونے میں ٹھوس بنیاد ثابت ہوئی اور وہ ازہر میں اپنے ساتھیوں پر ممتاز وفائق رہا ۔ اسی زمانے میں اس نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ بدیع الزماں کے مقامات ورسائل ،ابو علی القالی کی أمالی ، میدانی کی امثال اور یازجی کی نجمۃ الرائد کے مختارات بھی یاد کرلیے تھے۔
1907 ؁ء میں عدالت کے لئے جج تیار کرنے کے لیے سعد زغلول کی زیر نگرانی مدرسۃ القضاء الشرعی کا قیام عمل میں آیا ۔ خوش قسمتی سے اسی سال احمد امین کو اس مدرسہ میں داخلہ مل گیا ۔ یہ مدرسہ اپنے دقیق تعلیمی نظام ، حسن تربیت ، عمدہ انتظام وانصرام ، اعلیٰ درجے کی صفائی وستھرائی اور دلکش وحسین مناظر کی وجہ سے بڑی شہرت کا حامل ہوا ۔ تعلیم وتعلم اور اصلاحی امور میں دلچسپی رکھنے والی بڑی شخصیات مصر وبیرون مصر سے اس مدرسہ کی زیارت کو آتیں احمد نے چار سال یعنی 1911؁ء تک اس مدرسہ میں تعلیم حاصل کی اور بڑے بڑے اساتذہ علم وفن جیسے محمد خضری ، شیخ محمد مہدی اور شیخ حسن توفیق العدل وغیرہ سے مستفید ہوا ۔ اس مدرسہ کا خاص نظام یہ بھی تھا کہ اس میں سہ ماہی امتحان ہوتا اور جو طالب علم اس امتحان میں فیل ہوتا اس کا وظیفہ (اسکالرشپ) بند کردیا جاتا ۔ 1911؁ء میں مدرسۃ القضاء سے فراغت کے بعد احمد امین وہاں کے تدریس پر مامور ہوگیا ۔ دس سال سے زیادہ تدریسی خدمات انجام دینے کے بعد وہ مصر کی مختلف عدالتوں میں چار سال تک بحیثیت جج کا کام کرتا رہا ۔ 1926؁ ء میں ڈاکٹر طٰہٰ حسین کی پیش کش پر کلیۃ الآداب میں مدرس ہوگیا ۔ اس کلیۃ کی تدریس کے دوران اس نے عالم اسلام اور یورپ کے مختلف ملکوں کا دورہ کیا ۔
1932؁ ء میں ہالینڈ کے شہر لیڈن میں اور 1938؁ء میں بلجیکا کی راجدھانی بروکسل (Bruxelles) میں منعقد ہونے والی مستشرقین کی کانفرنسوں میں شریک ہوا ۔ اول الذکر میں اس کا موضوع ’’نشأۃ المعتزلۃ‘‘ اور دوسری میں ’’ابوحیان التوحیدی وکتابہ الامتاع والمؤانسۃ‘‘ تھا ۔ 1937 ؁ ء میں حجاز مقدس کا سفر کیا اور فریضئہ حج کی ادائیگی کی ۔ 1939 ؁ ء میں کلیۃ الآداب کا پرنسپل بنایا گیا لیکن دوسال بعد اس منصب سے مستعفی ہوگیا ۔ وہ زندگی بھر ’’لجنۃ التألیف والترجمۃ والنشر‘‘ کا رئیس رہا اور اس کے کاموں کی نگرانی کرتا رہا ۔ علمی وتحقیقی اور ترجمہ شدہ کتابوں کی اشاعت کے حوالے سے اس لجنہ کی خدمات بڑی اہمیت کی حامل ہیں ۔ وہ ملک کے مختلف جرائد ومجلات کو اپنا قلمی تعاون دیتا رہا جیسے اللواء ، السفور، الھلال، اور المصور وغیرہ ان تمام رسالوں میں بکثرت اس کی تحریریں شائع ہوئیں ۔ اسی طرح احمد حسن زیات کے مجلہ ’’الرسالۃ‘‘ کے لیے ہر ہفتہ ایک مقالہ تیار کرتا اور انہیں کی زیر نگرانی مجلہ ’’الثقافۃ‘‘ کا اجراء عمل میں آیا توا س کے لیے بھی مقالات و مضامین لکھنے لگا ۔ رفتہ رفتہ ان مقالات کی تعداد بہت زیادہ ہوگئی تو انہیں یکجا کرکے دس جلدوں میں شائع کیا اور اس مجموعہ کا نام فیض الخاطر رکھا۔ 1940 ؁ء میں المجمع اللغوی کا ممبر منتخب ہوا ۔ 1945 ؁ ء میں وزارۃ المعارف کے ادارہ ثقافیہ کامدیر بنائے جانے کے بعد اسی کی کوششوں سے ’’الجامعۃ الشعبیۃ‘‘ کا قیام عمل میں آیا ۔ یہ بغیر امتحان وشہادۃ والا جامعہ تھا جس میں شام پانچ بجے سے لیکچر دیے جاتے اور ہر عمر کے طلبہ اور طالبات اس میں شرکت کرسکتے تھے ۔ اس شبینہ جامعہ کو اس قدر قبول عام حاصل ہوا کہ بہت جلد اس کے طلبہ وطالبات کی تعداد سترہ ہزار سے زائد ہوگئی ۔ 1946؁ء لندن میں منعقد ہونے والی فلسطین کانفرنس میں بحیثیت ممبر شریک ہوا اور خطاب بھی کیا لیکن انگریزوں کی عیارانہ چالوں سے کانفرنس بے نتیجہ رہی اور عرب نمائندگان اپنے ملکوں کو واپس لوٹ آئے ۔
یکم اکتوبر 1946 ؁ء کو بعمر ساٹھ سال احمد امین ریٹائر ہوا ۔ یکم جنوری 1947؁ء کو الجامعۃ الشعبیۃ کے ادارہ ثقافیہ کا مدیر بنائے جانے کے ساتھ ہی ادب وتنقید اور ادب کے طریقۂ تدریس کے موضوع پر لیکچر دینے نیز کتاب ’’الوساطۃ بین المتنبی وخصومہ‘‘ کے دراسہ کا مکلف کیا گیا ۔ وہ پوری زندگی اس ادارہ سے منسلک رہا تا آنکہ بروز اتوار 27 /رمضان 1373؁ھ مطابق 30 /مئی 1954؁ء کو اس دارفانی سے کوچ کرگیا ۔
28 / فروری 1948؁ء کو جامعہ فؤاد اول نے امتیازی ڈاکٹریٹ کی ڈگری تفویض کی بعد ازاں وہ ’’ڈاکٹر‘‘ احمد امین کے لقب سے ملقب ہوا ۔ اسی کے ساتھ وہ اپنے علمی انتاج کے اعتراف میں فؤاد اول ایوارڈ سے بھی سرفراز کیا گیا جس کا مالی رمز ایک ہزار مصری جنیہ تھا ۔
اپریل 1916 ؁ ء میں احمدا مین کی شادی ہوگئی تھی، چند اولادیں بھی ہوئیں، اپنی کتاب ’’الیٰ ولدی‘‘ میں کچھ قیمتی نصیحتیں اپنے بیٹے کے نام تحریر کی ہیں۔
اکثر علماء ازہر علوم دینیہ ولغویہ کے ماہر ہوا کرتے ہیں، احمد امین بھی انہیں میں سے تھا لیکن اس کے ساتھ جو دقت نظر، آزادئ فکر اور ذہنی افق کی وسعت اس کے حصے میں آئی تھی وہ خال خال ازہریوں میں نظر آتی ہے ۔ وہ اجتہادی قوت رکھنے والا عالم اور صاحب الرائے لغوی تھا ۔
احمد امین نے اپنی مؤلفات، مقالات ونشریات اور باتوں سے زمانے کو بہت کچھ عطا کیا ۔ وہ مصر ہی نہیں بلکہ پوری مشرقی دنیا کی تاریخ میں اپنے وقت کا سب سے گہرا اثر ڈالنے والا مفکر تھا ۔ اس نے دنیا کی تہذیبی تاریخ کا مطالعہ کیا اور خاص طور پر اسلام کی تہذیبی وتمدنی تاریخ کا اتنی گہرائی و دیرائی سے مطالعہ کیا کہ بہت سے علوم اسلامیہ جیسے تفسیر، حدیث، فقہ، اصول، عقائد ، کلام، ادب عربی، فلسفہ، سماجیات واقتصادیات اور تصوف میں مجتہدانہ بصیرت کا حامل ہوگیا اور اسلام کی عقلی نشوونما کے جملہ دینی، سیاسی، اجتماعی اور ادبی واقتصادی ظروف وعوامل کا محققانہ تجزیہ کرتے ہوئے ان اسباب وعلل کی نشاندہی کی جن کی وجہ سے عقل اسلامی کو غذا فراہم ہوئی اور وہ پروان چڑھ کر سرسبز وشاداب ہوئی اور پوری آب وتاب کے ساتھ زندہ رہی ۔ اسی طرح عقل اسلامی کی نشوونما میں جو عوامل اسلام سے مأخوذ ومستفید تھے اور ایرانی وہندوستانی تہذیب اور فلسفہ یونانی کے جو اثرات اسلام اور مسلمانوں پر پڑے ان کے متعلق بھی اس نے گفتگو کی اور اس کی یہ ذہنی وعلمی کاوشیں فجر الاسلام، ضحی الاسلام اور ظھر الاسلام کی صورت میں منظر عام پر آئیں ۔
احمد امین نے اپنے ان معروف تینوں سلسلوں میں اسلامی تہذیب اور اس کے پیچھے کارفرما عقلیت کو تین ابواب میں تفصیل سے بیان کیا ہے پہلا باب سماجی پہلوؤں کونمایاں کرتا ہے، دوسرا علمی اور تیسرا دینی ۔
“فجر الاسلام” میں تینوں ابواب ممزوج ومختلط ہوگئے ہیں کیونکہ اسلامی تمدن کو اس وقت وہ عروج حاصل نہ ہوا تھا جو بعد کے ادوار میں حاصل ہوا ۔ یہ کتاب پہلی بار 1929؁ء میں (356) صفحات پر مشتمل لجنۃ التألیف والترجمۃ والنشر (قاہرہ ) سے ڈاکٹر طٰہٰ حسین کے عمدہ مقدمہ کے ساتھ شائع ہوئی ۔ اس وقت ہمارے سامنے دار التقوی للطبع والنشر والتوزیع (قاہرہ) کی جدید طباعت ہے ۔ سن طباعت 1439 ؁ھ مطابق 2018؁ء ہے اور تعداد صفحات (336) ہے ۔ یہ کتاب صدر اسلام سے لے کر خلافت بنی امیہ کے اواخر تک عقلی زندگی سے بحث کرتی ہے ۔ ایک جلد کی اس کتاب میں سات اجزاء ہیں اور ہر جزء چند فصلوں کو محیط ہے ۔ مؤلف نے ہر جزء کے اخیر میں مصادر باب اور کتاب کے اخیر میں زیر بحث دور کے اہم حوادث وواقعات ہجری ومیلادی تاریخ کے ساتھ درج کردیے ہیں جس سے کتاب کی معنویت دوبالا ہوجاتی ہے ۔
ساتوں اجزاء کی سرخیاں بالترتیب یہ ہیں :

العرب فی الجاھلیۃ، الاسلام، الفرس وأثرھم ، التأثیر الیونانی ۔ الرومانی ، الحرکۃ العلمیۃ وصفھا ومراکزھا، الحرکۃ الدینیۃ تفصیلا ، الفرق الدینیۃ ۔

دوسری کتاب ’’ضحی الاسلام‘‘ تین جلدوں کو محیط ہے ۔ جملہ صفحات کی تعداد (959) ہے ۔ مقدمہ وخاتمہ پر مشتمل اس کتاب کی پہلی جلد میں دو ابواب، دوسری اور تیسری میں ایک ایک باب ہیں اور ہر باب کی چند فصلیں ہیں، ا س کتاب کی تینوں جلدوں میں عصر عباسی اول کی عقلی زندگی اور اس کے متعلقات سے بحث کی گئی ہے ، ابواب کی سرخیاں بالترتیب یہ ہیں :

الحیاۃ الاجتماعیۃ فی العصر العباسی الأول ، الثقافات فی ذلک العصر ، الحرکۃ العلمیۃ فی العصر العباسی الأول ، العقائد والمذاھب الدینیۃ فی العصر العباسی الأول۔

تیسری کتاب “ظھر الاسلام” (883) صفحات پر مشتمل چار جلدوں میں مطبوع ہے ۔ اس کتاب سے مؤلف کا مقصد یہ تھا کہ یہ تیسری صدی ہجری کے نصف اخیر اور چوتھی صدی ہجری کی عقلی تحریک کے وسیع دراسہ کے لیے مقدمہ ہو جو فکری وعقلی اعتبار سے اسلامی تاریخ کا سب سے زریں دور ہے ۔ اس کتاب کے پہلے جزء کی دو سرخیوں کے تحت چند فصلیں ہیں پہلی سرخی عہد متوکل سے لے کر چوتھی صدی ہجری کی اجتماعی زندگی سے متعلق ہے اور دوسری اس زمانے کی عقلی زندگی کے مراکز سے بحث کرتی ہے ۔ دوسرے جزء میں چوتھی صدی ہجری کی اجتماعی زندگی کا جائزہ لیتے ہوئے علمی تحریکات کے متعلق تفصیلی معلومات پیش کی گئیں ہیں ۔ تیسرا جزء اندلس کی عقلی زندگی اور اس کے متعلقات کے لیے خاص کیا گیا ہے ۔ چوتھے جزء میں دینی فرقوں (معتزلہ،اہل سنت، شیعہ ، صوفیہ ) کی نشوونما، ان کے ارتقاء ان کے مخصوص نظریات، ان کے ادب اور ان کی اہم شخصیات کا تعارف پیش کیا گیا ہے ۔ ظھر الاسلام کے ہر جزء کے اختتام پر مراجع کا ذکر ہے ۔
اس کتاب کے آخری جزء کے اخیر میں (33) صفحات کی تذیلی ہے جس میں چھٹی صدی ہجری سے لیکر عصر جدید تک کی علمی وادبی اور دینی تحریکات کا سرسری جائزہ لیتے ہوئے علمی میدان میں حدت وابتکار کی قلت کے اسباب بیان کیے گئے ہیں۔
ان تینوں کتابوں کے تعارف میں بطور خلاصہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ تینوں کتابیں اسلام کی ابتدائی چار صدیوں کی دینی وسیاسی، اجتماعی اور عقلی زندگی کی ایک اہم دستاویز اور انسائیکلوپیڈیا ہیں۔
احمد امین کی دیگر مؤلفات
1۔ زعماء الاصلاح فی العصر الحدیث : مقدمہ اور خاتمہ پر مشتمل (349) صفحہ کی یہ کتاب ماضی قریب کے دس مصلحین امت کی سوانح اور ان کے اصلاحی کارناموں کو بیان کرتی ہے ۔ مؤلف نے اپنا مقصد تالیف ان الفاظ میں بیان کیا ہے ’’مجھے امید ہے کہ اس کتاب کے مطالعہ سے نوجوانوں کی ہمت بڑھے گی ، وہ ان مصلحین کے نقش قدم پر چل کر ہدایت یافتہ ہوں گے اور اپنی قوم کو بیدار کرنے کی کوشش کریں گے‘‘ ۔
یہ کتاب مطبعہ لجنۃ التألیف والترجمۃ والنشر (قاہرہ) سے 1368؁ء = 1949 ؁ء میں شائع ہوئی تھی ۔ بعد میں دار الکتاب العربی (بیروت) سے بھی شائع ہوئی لیکن یہاں کی طباعت میں سن اشاعت درج نہیں ہے ۔ جن دس مصلحین کی حیات وخدمات اور ان کے اصلاحی کارناموں کو مؤلف نے موضوع بحث بنایا ہے ان کے اسماء یہ ہیں
(1) محمد بن عبد الوھاب (1791-1703ء)
(2) مدحت پاشا ( 1873-1822ء)
(3) السید جمال الأفغانی (1897-1839ء)
(4) السید أحمد خان (1898-1817ء)
(5) السید أمیر علی (1828-1849ء)
(6) خیر الدین پاشاالتونسی (1879-1810 ء)
(7) علی پاشا مبارک الرومی (1893-1823ء)
(8) عبد اللہ الندیم (1896-1845 ء)
(9) السید عبدالرحمن الکواکبی ( 1902-1848ء)
(10) الشیخ محمد عبدہ (1905-1849ء)۔
2 ۔ کتاب الأخلاق (ص233) اس کتاب میں اخلاقیات کی بابت مختلف افکار و نظریات کو بیان کیا گیا ہے ۔ مکتبہ النھضۃ المصریۃ سے 1967؁ء میں نویں بار طبع ہوئی ۔ یہ کتاب مقدمہ اور تین کتابوں کا جامع ہے ۔ مقدمہ میں علم الأخلاق کی تعریف ، اس کے موضوع وفوائد اور دیگر علوم سے اس کے تعلق کی وضاحت کی گئی ہے۔ پہلی کتاب میں اخلاق سے متعلق ضروری مباحث نفسیہ بیان ہوئے ہیں۔ دوسری کتاب علم الأخلاق کے نظریات اور اس کی تاریخ سے بحث کرتی ہے اور تیسری کتاب القسم العلمی پر مشتمل ہے ۔
3۔ قاموس العادات والتقالید والتعابیر المصریۃ (مصر کے عادات واطوار، رسم ورواج اور وہاں کی تعبیرات پر مشتمل الفاظ کی ڈکشنری )یہ مؤلف کی وفات کے بعد طبع ہوئی ۔
4۔ ’’کتاب الشرق والمغرب ‘‘ یہ کتاب مؤلف کی وفات کے بعد طبع ہوئی ۔
5۔ ’’حیاتی‘‘ (ص301) یہ احمد امین کی خود نوشت سوانح ہے جس میں اس نے بچپن سے لیکر بڑھاپے تک کی یادوں ، باتوں اور سفر وحضر کے واقعات کو بڑے دلچسپ اور سلیس انداز میں بیان کیا ہے ۔مارچ 1950؁ء میں پہلی بار یہ کتاب شائع ہوئی ۔ پہلی اشاعت ختم ہونے کے دوسال مزید اضافوں کے ساتھ یہ کتاب شائع ہوئی ۔ طبع ثانی کے مقدمہ میں 18 / 12 / 1952؁ء کی تاریخ درج ہے ۔
6۔ ’’فیض الخاطر’’ (10 / اجزاء )یہ احمد امین کے ادبی ، سماجی اور سیاسی مقالات کا مجموعہ ہے ۔ ان میں سے کچھ الرسالۃ اور کچھ الھلال میں شائع ہوئے تھے اور ایک معتدبہ تعداد ان مقالات کی ہے جو کہیں شائع نہ ہوئے تھے ۔ یہ سارے مقالات احمد امین کے افکار ونظریات اور اس کے عواطف وجذبات کی سچی تعبیر پیش کرتے ہیں ۔ بطور نمونہ ذیل میں ہر جزء سے چند مقالات کے عناوین پیش کیے جارہے ہیں :

(ج/ 1) کیف یرقی الأدب ، أدبنا لایمثلنا ، کتابۃ المقالات،
(ج/ 2) العربی لایشعر الا فی بیئتہ ، عنوان القوۃ فی الأمۃ، أسباب الضعف فی اللغۃ العربیۃ ۔
(ج/ 3) الاسلام والاصلاح الاجتماعی ، أول مجلۃ مصریۃ ، العام الھجری الجدید۔
(ج/ 4)تحیۃ العید ، مستقبل الدین ، الفتوۃ فی الاسلام۔
(ج/ 5)خطرات فی اللغۃ ، لماذا نعیش ؟ نظرۃ فی اصلاح متن اللغۃ العربیۃ ۔
(ج/ 6) منطق العقل ومنطق الدنیا، ابتسم للحیاۃ ، العالم الجدید ، أسس الحیاۃ الطیبۃ۔
(ج/ 7) الشرق فی محنۃ ، الاتجاھات الحدیثۃ فی دراسۃ اللغۃ ، الزعامۃ والزعماء ۔
(ج/ 8) لماذاتغضب المرأۃ ؟ آفۃ الشرق التقالید ، کن سیدا ولاتکن عبدا ، التعصب مظاھر الحیاۃ العقلیۃ للمسلمین الیوم ، التاریخ بعید نفسہ ، غاندی ذلک الضیف الجبار۔
(ج/ 9) مادیۃ الغرب وروحانیۃ الشرق ، الاجتھاد فی نظر الاسلام، التسامح الدینی فی الاسلام، غیروامناھج الفن والتاریخ یتحقق لکم تتغیر الأمم ؟ ھل نحن مسئولون عن حیاتنا الاجتماعیۃ ؟
(ج/ 10) تراثنا القدیم ، طوک الاسلام والأدب العربی ، أدبنا الحدیث أدب دیمقراطی ، المسلمون أمس والیوم ، معرکۃ الحیاۃ کیف نفوز فیھا ؟ کیف ترقی الأمم ؟ مشاکل الشباب وکیف تعالج ؟

7۔ ’’ یوم الاسلام‘‘ اس کتاب کے شروع میں اسلام کی اصول مبادی پر روشنی ڈالی گئی ہے پھر ازابتدا تا عصر حاضر ان احوال وظروف سے تعرض کیا گیا ہے جو بسااوقات اسلام کے حق میں مفید اور بسا اوقات مضر ثابت ہوئے اور یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ اسلام نے اپنے غلبہء اقتدار کے زمانے میں دیگر ادیان ومذاہب والوں کے ساتھ کیا معاملہ کیا اور جب اس پر کسمپرسی اور آزمائش کا دور آیا تو انہوں نے اس کے ساتھ کیا کیا ۔ یہ کتاب 1952؁ء کی ابتدائیں مرتب کی گئی ، یہ وہ زمانہ تھا جب ڈاکٹروں نے مؤلف کو اس کی بینائی کمزور ہونے کے سبب بالخصوص رات میں زیادہ پڑھنے سے منع کردیا تھا ۔ بنابریں اس کتاب کی تالیف میں جدید حاصل مطالعہ کے بنسبت سابقہ معلومات ومطالعہ پر زیادہ اعتماد کیا گیا ہے ۔
مؤلف کی صراحت کے مطابق اس کتاب کی تالیف کا دواہم مقصد یہ ہے :
(1) اسلام کے اصول وجوہر اور اس کی عظمت رفتہ کا بیان ۔
(2) زوالِ امت کے اسباب متعین کرنے میں زعماء ملت نے بہت زیادہ اپنے آپ کو تھکایا ہے اس کتاب میں اصل اور حقیقی اسباب کی تعیین تاریخ کو حوالے سے کی گئی ہے تاکہ اصلاح احوال کی فکر رکھنے والے اپنی اور قوم کی اصلاح کے لیے صحیح طریقہ ومنہج اختیار کریں ۔
حال ہی میں یہ کتاب مؤسسۃ اقراء النشروالتوزیع (قاہرہ) سے شائع ہوئی ہے ۔ تعداد صفحات (175) ہے ۔ مؤلف نے اپنی عادت کے مطابق تاریخ اسلام کے اہم واقعات وحوادث کی فہرست میلادی تاریخ کے ساتھ کتاب کے اخیر میں درج کردی ہے ۔
8۔ احمد امین نے ڈاکٹر زکی نجیب محمود کے اشتراک سے تین کتابیں تالیف کیں ۔ پہلی کتاب ’’میادی الفلسفۃ‘‘ ہے جس کا اس نے 1918؁ء میں ترجمہ کیا تھا ۔ مختصر حجم کی یہ کتاب اپنے باب میں عمدہ ہے ۔ جس میں نئے انداز سے فلسفہ کے معنی ومفہوم کا خلاصہ اختصار کے ساتھ اس کی مختلف شاخوں کی وضاحت اور فلسفہء یونانی قصہ کا ذکر ہے ۔
اس کتاب میں سترہ فصلیں ہیں جن میں فلسفہء یونانی، اس کے ارباب اور سقراط، افلاطون وارسطو کے ذکر کے ساتھ معرفت، مثل، فطرت، اخلاق، حکومت اور فن کے متعلق ان کے افکار ونظریات بیان کیے گئے ہیں اور رواقیوں، ابیقوریوں او رجدیدافلاطونیت کا بھی ذکر ہوا ہے ۔
یہ کتاب (336) صفحات میں ساتویں بار مطبعہ لجنۃ التألیف والترجمۃ والنشر (قاہرہ) سے 1970؁ء میں طبع ہوئی۔
دوسری کتاب ’’قصۃ الفلسفۃ الحدیثۃ‘‘ ہے ۔ سن طباعت 1967؁ء اور تعداد صفحات (469) ہے ۔ اس کتاب میں زمانہء قدیم اور عہد وسطیء میں فلسفہ کی بابت کلام کیا گیا ہے اور برٹرانڈرسل Bertrand Russel (1970-1872ء)کی کتاب سے استفادہ کرتے ہوئے مغربی فلسفہ کے بارے میں گفتگوکی گئی ہے ۔ کتاب کا ترجمہ زکی نجیب محمود نے اور مراجعہ احمدامین نے کیا ہے ۔
تیسری کتاب ’’قصۃ الأدب فی العالم‘‘ چار اجزاء میں ہے ۔
یہ کتابیں عقل اسلامی کے فہم میں احمد امین کے لیے معاون ثابت ہوئیں اور یہ اور ان جیسی کتابوں کی بدولت کی بدولت ہی وہ غور وفکر کرنے ، نتائج اخذ کرنے اور اسلامیات پر نئے افکار ومذاہب کو تطبیق دینے میں فلاسفہ کے منہج کا تتبع کرسکا ہے ۔
9۔ ’’الی ولدی‘‘ احمد امین نے 1949؁ ء اور 1950؁ ء کے درمیانی عرصے میں مجلہ الھلال میں بارہ مقالے لکھے ۔ ان مقالات میں اس نے اپنے بیٹے کے نام قیمتی نصیحتیں اور اپنی زندگی کے تجربات کا خلاصہ نچوڑ جمع کیا ہے ۔ احمد امین کے ایک بیٹے کی تعلیم انگلینڈ میں مکمل ہوئی ، اس نے اپنے اس بیٹے ذہین میں رکھ کریہ مقالات حوالہء قلم کیے ہیں ۔
یہ کتاب مکتبہ النھضۃ المصریۃ (قاہرہ) سے (182) صفحات میں چوتھی بار 1976؁ء میں طبع ہوئی ۔
10۔ ’’النقد الأدبی‘‘ یہ کتاب چوتھی بار 1972؁ء میں دواجزاء میں شائع ہوئی ۔ تعداد صفحات (456) ہے ۔ اس کتاب کے پہلے جزء میں جن امور سے متعلق گفتگو کی گئی ہے وہ یہ ہیں : نقد ادبی اور اس کی تحلیل ، نقد ادبی کے دراسہ کا مقصد ، عناصر ادب اور خیالات وجذبات ، معانی ونظم کلام ، شعر ونثر ، اسلوب وروایت کے بنیادی عناصر کا دراسہ ،نقد ادبی پر ایک عام نظر ، ادب کے تاریخی دراسہ کے مانند نقد ادبی کے دراسہ کا تاریخی پہلو ، تطبیقات اور ملاحظات عامہ ۔ دوسرے جزء میں انگریزوں کے نزدیک نقد ادب کی تاریخ بیان کرنے کے بعد اموی وعباسی دور میں عربوں کے ہاں نقد کی تاریخ پر گفتگو کی ہے ۔
احمد امین کی دیگر مؤلفات یہ ہیں:

(1) حی بن یقظان
(2) ھارون الرشید
(3) الصعلکۃ والفتوۃ فی الاسلام
(4) المھدی والمھدویۃ

احمد امین کی علمی کاوشیں تصنیف وتالیف ہی تک محدود نہ تھیں بلکہ اس نے اہم کتابوں کے ترجمہ میں بھی حصہ لیا جیسے قصۃ الفلسفۃ اور قصۃ الأدب ۔ اسی طرح ڈاکٹر شوقی ضیف کے اشتراک سے قدیم کتابوں کی تحقیق اور ان کی نشر واشاعت میں بھی اس کی خدمات قابل قدر ہیں مثلا ابوحیان التوحیدی کی ’’الامتاع المؤانسۃ‘‘ ’ابن عبد ربہ کی ’’العقد الفرید‘‘  شرح دیوان الحماسۃ، الھوامل والشوامل، خریدۃ القصر وجریدۃ العصر ۔ اس کے ساتھ اس نے اپنی کوششوں سے چند درسی کتابیں بھی شائع کرائیں جیسے المنتخب من الأدب العربی، المطالعۃ التوجیھیۃ اور تاریخ الأدب العربی (۱)
…..

(1) أعلام النشر والشعر فی العصر العربی الحدیث ج/ 3ص 94-67 لحمد یوسف کوکن وتاریخ العربیۃ وآدابھا لمحمد الفاروقی ومحمد اسماعیل المجددی ص 165-164واستفادہ از تالیفات احمد آمین.

آپ کے تبصرے

avatar