”مذہبی دائرہ تفقہ“ ، مذاہب اربعہ کے بیشتر مفتیان کا المیہ

”مذہبی دائرہ تفقہ“، مذاہب اربعہ کے بیشتر مفتیان کا المیہ

کفایت اللہ سنابلی فقہیات

اہل حدیث ایک مستقل مکتب فکر ہے جس کی دعوت کا خلاصہ اتباع الدلیل بفہم السلف ہے ، ان کا کوئی محدود دائرہ تفقہ نہیں ہے اورنہ ہی بحث و تحقیق اور اجتہاد واستنباط کے لئے ان کے پاس پہلے سے تیار شدہ کوئی مخصوص کورس اورمحدود مواد ہے، بلکہ قرآن مجید، احادیث صحیحہ، آثار سلف اوربلا تفریق تمام ائمہ و مجتہدین کی آراء ان کا مرجع ہیں، اس لئے دیگر مکاتب فکر کے لوگوں نے بھی اعتراف کیا ہے کہ مذہب اہل الحدیث اکمل ہے۔ ظاہرہے کہ جس کے مراجع تفقہ اور مصادر اجتہاد سب سے زیادہ وسیع ہوں اور ساتھ میں کسی شخصیت کے ساتھ تعصب کے بغیر صرف اتباع رسول کا جذبہ ہو، ان کے فقہ و فتاویٰ کی بات ہی الگ ہوگی ۔
اس کے مقابل میں چار مشہور مکاتب فکر، حنفی، مالکی، شافعی اور حنبلی ہیں، عقائد میں تو ان سب کی اکثریت اہل حدیث ہی کے منہج پر ہے لیکن دیگر مسائل و احکام میں ان سب کے ساتھ مشترکہ مسئلہ یہ ہے کہ ان میں سے ہر ایک کا اپنا اپنا ایک محدود ”مذہبی دائرہ تفقہ“ ہے اور بحث وتحقیق کے لئے پہلے سے تیارشدہ ایک مخصوص کورس اورمواد ہے ۔
اس کا ایک منفی پہلو یہ ہے کہ ان چاروں گروہ کے اہل علم و مجتہدین، فقہ و استنباط میں ایک محدودیت کے شکار ہوجاتے ہیں اورعلم ومنزلت کی بلند چوٹیوں پر پہنچ کر بھی فقہ واستنباط کے لئے سب سے پہلے اپنی محدود وادی فقہ ہی کی سیر کرتے ہیں، جہاں ایک طرف ہر گروہ کے الگ الگ اصول فقہ اور جداجدا طریقہ ٔ استدلال ہوتے ہیں اور دسری طرف بیشتر مقامات پر یک طرفہ باتیں ہوتی ہیں اوربہت سی جگہوں پر فریق مخالف کے صرف انہیں دلائل کا تذکرہ ہوتا ہے جن کا جواب دینا ممکن ہوتا ہے اور جن دلائل کا جواب نہیں بن پاتا ان کا نام تک نہیں لیا جاتا۔یہ محدود فقہی مواد مذکورہ نقص کے ساتھ اپنے اندر کتاب وسنت کے دلائل بھی لئے ہوتا ہے اور مخالف کی تردید بھی کرچکا ہوتا ہے، اس لئے اس مواد کا مطالعہ ایک مذہبی مجتہد کےلئے کافی حد تک اطمینان بخش ثابت ہوتا ہے ، پھر وہ مجتہد عموماً اسی پر اکتفاء کرتے ہوئے ایک موقف اپنا لیتا ہے ۔یہ تقلید نہیں کررہا ہے بلکہ اجتہاد ہی کررہا ہے لیکن اس کا اجتہاد فکر ونظر کے ایک محدود دائرہ میں ہوتا ہے ۔
ہمارے کہنے کا مقصد یہ ہرگزنہیں کہ، ان مذہبی مفتیان میں سب کے سب بدنیت یا متعصب اور مقلد ہوتے ہیں ، معاذ اللہ ! یقیناً ان میں بزرگ ، علامہ اور مجتہد بھی ہیں ، لیکن ان کے فقہ و اجتہاد اور استدلال واستنباط کا سسٹم ونظام کچھ ایسا ہے کہ غیر شعوری طور پر ایک مخصوص حلقہ کی نمائندگی سے یہ بمشکل ہی بچ پاتے ہیں ۔
بطور مثال رکوع کے بعد ہاتھ باندھنے کی مثال لے لیں ، شوافع وغیرہ میں ایک سے ایک بزرگ ، مخلص ، مجتہد علامہ اور امام پیدا ہوئے لیکن ان کے دائرہ تفقہ میں اس فتویٰ کی گنجائش نہ تھی اس لئے ان کی حلقے میں کسی نے بھی یہ فتویٰ نہیں دیا خواہ وہ کتناہی بڑا مخلص ، عالم اور مجتہد کیوں نہ ہو۔لیکن دوسری طرف حنابلہ کو دیکھیں ، امام احمد رحمہ اللہ کے منہ سے یہ نکل گیا کہ رکوع کے بعد بھی ہاتھ باندھ لینے میں کوئی حرج نہیں ہے ، یہ محض ان کی رائے تھی ، سنیت کا دعویٰ انہوں نے بھی نہیں کیا تھا ، لیکن بعد کے مدووین مذہب نے اپنے دائرہ تفقہ میں اسے جگہ دی اور اس کے لئے دوراز کار تاویلات کا سہارا لیکر اس پر سنت تک کا لیبل لگا دیا ، پھر اس مذہبی دائرہ تفقہ نے ایسا گل کھلایا کہ ایک سے ایک علامہ ، مجتہد اور امام پیدا ہوئے لیکن سب کے سب اس گروہی فتویٰ ہی کو دہراتے جارہے ہیں ۔ذرا ٹھہر کر غور کریں کہ آخر کیا وجہ ہے کہ ایک گروہ کے سارے مجتہدین متفق اللسان ہو کر رکوع کے بعد ”ارسال“ ہی کا فتویٰ دیتے نظر آتے ہیں ، جبکہ دوسرے گروہ کے سارے مجتہدین بیک زبان ہوکر بعد الرکوع ”وضع یدین“ ہی کو سنت بتلارہے ہیں !!
ایک دوسری مثال کے طور پر فطرہ میں نقد کے جواز اور عدم جواز کو لیں ، حنفی مذہب کا پورا گروہ صرف ایک ہی فتویٰ دئے جارہا ہے کہ نقد جائز ہے، اور اس مذہب کے یہ مفتیان علم وبصیرت اور زہد و تقویٰ میں کچھ کم بھی نہیں، لیکن اس کے باجود بھی سب کی زبان پر ایک ہی فتویٰ گردش کرتا نظر آتا ہے کہ نقد جائز ہے ۔دوسری طرف حنابلہ وغیرہ کے بزرگ مفتیان کو دیکھ لیں یہ علم و فقہ میں احناف سے کسی درجہ کم نہیں ، لیکن حال یہ ہے کہ احناف کے بالکل برعکس، یہ سب کے سب یک زبان ہو کر نقد کو ناجائز بتلاتے جارہے ہیں۔
اگرگروہ بندی سے ہٹ کر مختلف افراد کے اجتہادات میں اختلاف ہوتا تو ہم مانتے کہ یہ فہم وفراست اور علم وادراک کے تفاوت کا نتیجہ ہے، لیکن دو مختلف گروہ کا جب یہ حال ہوجائے کہ ہر گروہ کا علامہ، مجتہد اور امام خواہ کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو اپنے گروہ کا فتویٰ ہی زبان پر لاتا ہو، تو صدق دل سے بتلائیےکہ یہ ”مذہبی دائرہ تفقہ“ کی کرشمہ سازی نہیں تو اور کیا ہے ؟؟؟
مذہبی مجتہدین کا یہ وہ نقص ہے جسے آج کے بہت سارے اہل حدیث حضرات محسوس نہیں کرپاتے اوران مذہبی مجتہدین کو بھی اہل حدیث مجتہدین کی طرح باور کربیٹھتے ہیں ۔ حنبلی مجتہدین کے فقہی مراجع میں دلائل نسبتاً زیادہ ہیں، اس لئے حنبلی مجتہدین کے فتاویٰ میں دلائل کی کثرت ہوتی ہے، لیکن دلائل کی کثرت و وسعت کے باوجود بھی چونکہ ان کےمصادر اجتہاد، مراجع تفقہ اور اصول فقہ دیگر مذاہب کی طرح محدودد ہی ہوتے ہیں اس لئے مذکورہ نقص ان کے اندر بھی ہوتا ہے لیکن ان کے دلائل کی فراوانی سے مرعوب ہوکر بعض اہل حدیث حضرات اس نقص پر متنبہ نہیں ہوپاتے۔
مثال کے طور پر فطرہ کے مسئلہ کو لیجئے ایک حنبلی شیخ فتویٰ دینے کے بعد فرماتے ہیں: ”ھذا ھو المذھب“ یعنی ہماری فقہ حنبلی کا یہی فتویٰ ہے۔ اور بڑی خوبصورتی سے اپنے مذہبی فتویٰ پر اطمینان ظاہر کرکے آگے بڑھ جاتے ہیں، اور بعض بھولے بھالے اہل حدیث سمجھتے ہیں کہ یہ ایک اہل حدیث مجتہد کا فتویٰ ہے ۔بلکہ ایک صاحب نے حنبلی مفتیان کی ایک لمبی سی لسٹ تیار کرکے یہ تأثر دینا چاہا کہ یہ اہل حدیث مفتیان ہیں سبحان اللہ! اگرایک مذہبی گروہ کے مفتیان کا فتویٰ ہی یکجا کرنا ہے تو بتلائے کہ فقہ حنفی سے زیادہ مفتیان کسی اور گروہ میں مل سکتے ہیں؟ اہل حدیث کے وہ افراد جو غیر شعوری طور پر کسی ”مذہبی دائرہ تفقہ“ کے شکار ہیں انہیں اس مرض سے نجات حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہے۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ نقد کو ناجائز نہ کہا جائے، اگر کسی کا اجتہاد اسی نتیجے پر پہنچا ہو تو بے شک اسے اس کے اظہار کا حق ہے ۔ لیکن محض ایک مخصوص ”مذہبی دائرہ تفقہ“سے متأثر ہو کر غیر شعوری پر ایک گروہ کی وکالت کرنا کسی طرح مناسب نہیں ہے ۔
یادرہے کہ ہم ہر مانع نقد کو اس مرض سے متہم نہیں کرتے یقینا ًان میں بعض اہل علم اس سے مستثنیٰ ہیں، خواہ وہ اہل حدیث ہوں یا مذہبی گروہ سے ہوں، لیکن بدقسمتی سے آج منکرین نقد کی اکثریت اسی مرض میں لت پت ہے، ٹھیک اسی طرح احناف میں قائلین نقد کی بھی ایک اچھی خاصی تعداد اسی مرض کا شکار ہے، لیکن جس طرح مانعین نقد میں بعض اہل علم اس سے مستثنیٰ ہیں، ٹھیک اسی طرح قائلین نقد میں ایسے افراد ہیں جو کسی مذہی حلقے سے متأثر ہوئے بغیر بھی یہ رائے رکھتے ہیں، بلکہ جواز کا قول اس وقت بھی موجود تھا جب مذاہب اربعہ میں سے کسی مذہب کی بنیاد بھی نہیں پڑی تھی ۔

آپ کے تبصرے

avatar
3000