سعودی عرب سے نفرت کیوں؟

ثناء اللہ صادق تیمی معاملات

کچھ چیزیں اتنی واضح ہوتی ہیں کہ انھیں مزید وضاحت کی ضرورت نہیں ہوتی ۔ سعودی عرب سے پوری دنیا بالعموم اور مسلمانوں کے مختلف فرقے نفرت کرتے ہیں اور اس نفرت میں وہ کسی بھی حد تک جانے کو تیار رہتے ہیں ۔ غیر مسلم دنیا کو سعودی عرب اس لیے کھلتا ہے کہ اس نے قرآن وسنت کو اپنا دستور بنایا ہوا ہے ، اسلام اس دیار میں چلتا پھرتا نظر آتا ہے ، نماز کے اوقات میں دکانیں بند کردی جاتی ہیں ، ہر طرف امن و امان کی کیفیت ہے، مجرمین کو قرار واقعی سزا دی جاتی ہے اور اللہ پاک نے تیل کی دولت سے مالا مال کیا ہے اور یہ حکومت بڑی سمجھداری سے ان پیسوں میں سے معتدبہ حصہ دنیا کے مختلف حصوں کے غریب مسلمانوں پر خرچ کرتی ہے ، اسلامی دعوت کو عام کرنے کی کوشش کرتی ہے اور قرآن وسنت کو ایک ایک گھر تک پہنچانے کے سلسلے میں اپنا کردار ادا کرتی ہے ۔ یہاں ابھی بھی اباحیت پسندی نہیں ہے ، لبرلز کو مقام اعلا نصیب نہیں ہے اور عام لوگ مضبوطی سے اسلام کو ماننے والے ہیں۔ ان کی دشمنی سمجھ میں بھی آتی ہے کہ وہ ان کو تو ہر اس چیز سے دشمنی ہے جو اسلام کے حق میں جاتی ہو اور جس سے مسلمانوں کا فائدہ سمجھ میں آتا ہو ۔
لیکن اصل پریشانی تب ہوتی ہے جب ہم دیکھتے ہیں کہ مسلمانوں کے زیادہ تر فرقے سعودی عرب سے نفرت کرتے ہیں ۔بظاہر یہ بات سننے میں عجیب لگے گی لیکن اس کے پیچھے بھی در اصل سعودی عرب کا دینی انسلاک ہی ہے ۔ سعودی عرب کی تاریخ پر نظر رکھنے والے جانتے ہوں گے کہ شروع ہی میں اس ملک کےفرمانروا محمد بن سعود بن محمد آل مقرن اور شیخ محمد بن عبدالوہاب کے بیچ معاہدہ ہو گیا تھا کہ ایک دوسرے کی مدد کریں گے اور اللہ کے دین کو نافذ کریں گے ، شرک و بدعات کو ختم کرکے سنت کو رائج کریں گےاور شیخ نے حکمران کو یہ بشارت دی تھی کہ ایسا کرنے سے اللہ پاک اسے مزید نوازے گا ۔اب یہ بات بھی سمجھنے کی ہے کہ شیخ محمد بن عبدالوھاب کی دعوت خالص توحید کی دعوت ہے جس میں مظاہر شرک و بدعت کے لیے کوئی جگہ نہیں ، چنانچہ جب معاہدہ ہو گیا تو اس معاہدے کی تنفیذ بھی عمل میںآئی اور جہاں جہاں مظاہر شرک و بدعت نظر آئے انھیں ختم کرنے کی کوشش کی گئی ۔ اس وقت پورے عالم اسلام میں اصل دین کی جگہ یہی مظاہر شرک و بدعت دین کی حیثیت اختیار کیے ہوئے تھے ۔ ابتلا و آزمائش اور دشواریوں کے باوجود اللہ پاک کی نصرت سے اس دعوت اور حکومت کو دن بہ دن ترقی ملتی گئی اور یہ لوگ ان تمام مظاہر سے ملک کو پاک کرنے میں کامیاب رہے ۔ اتفاق کی بات یہ ہے کہ لگ بھگ یہ وہی وقت ہے جب ہندستان میں انگریزوں کے خلاف مسلمانوں کا ذی ہوش طبقہ سر گرم عمل ہے ، ایک تحریک ” تحریک شہیدین ” اٹھی ہوئی ہے ۔ جاننے والے لوگ جانتے ہیں کہ اس تحریک کو وہابی تحریک کے نام سے جانا جاتا ہے اور اس کے پیچھے انگریزوں کی یہی چال تھی کہ انھیں بدنام کیا جاسکے ورنہ شیخ محمد بن عبدالوھاب کی دعوت اور شہیدین کی دعوت میں بہت حد تک یکسانیت کے باوجود دونوں کا ایک دوسرے سے کوئی اثر وتاثر پتہ نہیں چلتا ۔ دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ ایک طرف جہاں سعودی عرب کا ارتقا ہورہا ہے وہیں دوسری طرف خلافت عثمانیہ کا زوال بھی ہوتے ہوتے سقوط خلافت تک پہنچ جاتا ہے ۔
اس پس منظر کو سامنے رکھیے اور پھر سعودی عرب سے مسلم فرقوں کے تعلقات کا جائزہ لیجیے تو آپ کو سمجھ میں آئے گا کہ بنیاد ی وجہ وہی ٹھیٹ توحید کی دعوت ہے کیوں کہ اس دعوت کو اس حکومت کی پشت پناہی حاصل رہی ۔تاریخ کو نظر میں رکھے بغیر ہم ا س پورے معاملے کو سمجھ بھی نہیں سکتے ۔ شیخ محمد بن عبدالوھاب کو اتنا بدنام کیا گیا اور ایسی ایسی غلط باتیں ان کی طرف منسوب کی گئیں کہ الامان و الحفيظ ۔مولانا مسعود عالم ندوی کی کتاب ” محمد بن عبدالوہاب : ایک مظلوم اور بدنام مصلح ” اس سلسلے میں پڑھنے کی چیز ہے ۔ توحید کی دعوت کو حکمت و دانائی اور قوت سے آگے بڑھانے پر یہ الزام زور و شور سے لگایا گیا کہ محمد بن عبدالوہاب سارے مسلمانوں کو کافر سمجھتا ہے ، وہ خود ایک مبتدع شخص ہے اور بھی کیا کیا الزامات رکھےگئے اور نوبت یہاں تک پہنچی کہ حجاز پر آل سعود کی حکومت قائم ہونے کے بعد لوگوں نے حج سے روکنے کی بھی مہم چلائی ۔
سمجھ میں آنے والی بات ہے کہ جب ایک حکومت اپنی پور ی قوت سے توحید پر قائم رہے گی اور مظاہر شرک کو برداشت نہیں کرے گی تو وہ لوگ اس سے کیسے دشمنی نہیں کریں گے جن کا تصور دین ہی ان مظاہر سے شروع ہوتا ہے ؟سلف کے منہج و مسلک پر قائم شیخ محمد بن عبدالوہاب کے دینی اصولوں سے جو طبقہ باضابطہ زد میں آرہا تھا اس کا پریشان ہونا اور مخالفت میں اترآنا ہر طرح سے سمجھ میں آنے والا معاملہ ہے ۔ جاننے والے یہ بھی جانتے ہیں کہ شیخ محمد بن عبدالوہاب کی دعوت اصل میں شیخ الاسلام ابن تیمیہ کی عوت کا ہی پرتو ہے اور اسلامی تاریخ میں جس طرح شیخ الاسلام نے شیعوں کی حقیقت واشگاف کی ہے ، وہ خاصے کی چیز ہے اور اس کا اثر عالم اسلام پر بہت پڑا ہے ، اب جب ایک ملک ہی ان کے افکار و خیالات پر قائم ہو جائے تو سمجھا جا سکتا ہے کہ شیعوں پر کیا گزری ہوگی ؟ ان سے آپ یا ہم اگر ہمدردی یا دوستی کی توقع رکھتے ہیں تو اسے ہماری سادہ لوحی ہی کہا جا ئے گا۔
عالم اسلام میں شیخ حسن البناء اور مولانا مودودی کے افکار وخیالات کے زير اثر اور زیر تحریک اخوانی اور تحریکی ذہن ابھرا ، جس میں حکومت الہیہ کے قیام کی دعوت پر زور تھا اور جس کی بنیاد ہی حکومت کا حصول تھا کہ اس کے ذریعے ہی دین کو مکمل طریقے سے نافذ کیا جاسکتا ہے ۔ اس فکر میں یہ بات بھی رچائی بسائی گئی کہ اسلام میں حکومت کا بس ایک فارم ہے اور وہ ہے خلافت ۔ اسے ثابت کرنے کےلیے مولانا مودودی کا قلم حضرات صحابہ تک کو نشانہ بنا گيا ۔ سعودی میں برعکس طور پر ملوکیت تھی سو یہ قابل قبول کیسے ہوسکتی تھی۔ چنانچہ ساری خوبیاں ایک طرف لیکن چوں کہ خلافت نہیں ہے اس لیے قابل گردن زدنی ہے ۔
مسلمانوں کا ایک بڑا طبقہ باضابطہ مظاہر شرک کا دلدادہ نہیں لیکن اس کے یہاں بھی تصوف اور خانقاہیت پائی جاتی ہے ، اسے بھی اس حکومت اور اس کے دینی پیشواؤں سے خوشی نہیں مل سکتی تھی کہ یہاں سارا زور ہی کتاب و سنت پر صرف تھا اور شخصیت پرستی کی جڑ کاٹنے کی کوششیں تیز تھیں ۔ یہی وجہ ہے کہ یہ طبقہ بھی اتہام لگانے میں پیچھے نہیں رہا ، ہاں یہ ضرور ہے کہ اس نے گزرتے وقت کے ساتھ صلح و تفاہم کا راستہ ضرور نکالا لیکن ادھر طیب اردگان کے منظر عام پر آنے کے بعد جیسے اسے بھی ایک اور آستانہ مل گیا ہے اور یوں اس نے اپنے تیور بھی بدلنے شروع کردیے ہیں ۔
یہیں سے اس بات کو بھی سمجھا جاسکتا ہے کہ عام طور سے اہل حدیثوں کا تعلق اور سعودی عرب سے قلبی وابستگی کا راز بھی دین ہی ہے کہ دونوں کے معتقدات یکساں ہیں ، دونوں کے یہاں فہم سلف کے مطابق قرآن وسنت پر زور ہے ، دونوں کو شرک اور مظاہر شرک و بدعت سے نفرت ہے، دونوں اندھی تقلید کے خلاف ہیں اور دونوں کے یہاں اسلام میں حکومت کا صرف ایک فارم خلافت ہی مشروع نہیں ہے بلکہ اگر عدل وانصاف پرقائم ہو تو ملوکیت میں بھی کوئی قباحت نہیں ۔
لیکن اس سب کے ساتھ بلکہ اس سے جڑی ہوئی ایک اور وجہ عالمی منظر نامہ بھی ہے ۔آل سعود کی حکومت جس وقت پھیلنا شروع ہورہی تھی اس وقت لگ بھگ پورا عالم اسلام استعمار کے چنگل میں تھا ، پوری دنیا پر پوروپی اقتدار کسی نہ کسی شکل میں پا یا جارہا تھا ، مختلف تحریکیں اور قوتیں اٹھ رہی تھیں لیکن بہر حال مغربی قوتوں سے مکمل گریز کسی کے بس کا نہیں تھا ، عربوں اور ترکوں کے بیچ نفرت کی ایک دیوار اٹھ رہی تھی ، برطانیہ اور دوسری قوتیں اپنے حساب سے گیم کھیل رہی تھیں ، شریف مکہ غداری کررہا تھا اور صورت حال عجیب و غریب کشمکش کی تھی کہ اسی بیچ آل سعود نے اپنی حکمت ، قوت اور شجاعت سے حجاز وغیرہ کو بھی اپنے قلمرو میں شامل کرلیا ۔ برطانیہ نے اس لیے بھی زیادہ دھیان نہیں دیا کہ اس ریگستان میں رکھا بھی کیا ہے ۔بعد کے ادوار میں جب تیل کی دولت سامنے آئی تو سعودی عرب پہلی بار باضابطہ طریقے سے عالمی سیاست میں کسی مقام پر نظر آیا ۔ اسے تیل نکالنے کے لیے بھی مغرب کی ضرورت تھی کہ خود اسے تیل نکالنا آتا نہیں تھا ۔ شاہ فیصل کی جرات و بسالت کے افسوسناک انجام اور صدام حسین کے کویت پر حملے کے بعد سعودی عرب کے لیے یہی بچا رہ گیا کہ وہ امریکہ سے مضبوط تعلق استوار کرلے۔ ایسے بھی عالم اسلام سمیت سعودی عرب کے پاس ایسی قوت تو تھی نہیں کہ وہ امریکہ کا مقابلہ کرتا ، یوں عقلمندی یہی تھی کہ امریکہ سے بنا کر رکھا جائے اور شاہ فہد نے یہی پالیسی اختیار کی ۔ سمجھدار دانشوروں نے اس کی بجا طور پر داد بھی دی ۔ لیکن امریکہ کی شبیہ پوری مسلم دنیا میں اسلام اور مسلمان دشمن کی ہی رہی ہے ، یہ الگ بات ہے کہ امریکہ سے سارے مسلمان ملکوں کے باضابطہ تعلقات بھی رہے ہیں، چاہے وہ پاکستان ہو یا ترکی اور مسلمان اپنے بچوں کو امریکہ بھیجنے پر فخر بھی محسوس کرتے رہے ہیں۔ لیکن عوامی ذہن بہر حال امریکہ دشمن رہا ہے اور یہ سچ بھی ہے کہ امریکہ نے وقتا فوقتا امت مسلمہ کو بڑے گہرے گہرے زخم دیے ہیں لیکن ان تمام کے باوصف یہ بھی سچ ہے کہ سعودی عرب کو مطعون کرنے کے پیچھے اصل وجہ وہی تعصب ہے جس کا ذکر اوپر ہو چکا ہے ورنہ امریکہ سے تعلقات رکھنے کے سلسلے میں دوسرے ممالک بھی اسی طرح مطعون کیے جاتے ۔
اس نفرت کا نتیجہ یہ ہے کہ جب کبھی کوئی بھی غلط افواہ سعودی عرب کے بارے میں پھیلائی جاتی ہے تو کسی کو ماننے میں کوئی تامل نہیں ہوتا ۔ تحقیق کی ضرورت ہی محسوس نہیں ہوتی ۔اس میں سعودی عرب کا اتنا قصور تو بہر حال ضرور ہے کہ اس کے یہاں میڈیا کمزور ہے ، یہ اپنی باتیں دنیا کے پردے پر پہنچاپانے سے بالعموم قاصر رہتا ہے اور یوں لوگ بہ آسانی تمام کھچڑی پکاتے رہتے ہیں ۔
رہے نام اللہ کا !

آپ کے تبصرے

avatar
3000