تیل پنیا

ابوالمیزان منظرنما

نفرت ہو یا محبت اس کے مظاہر چھپائے نہیں چھپتے۔ جن گھروں سے بوٹیاں نکلتی ہیں ان کے دروازوں پر کتے بیٹھنا شروع کردیتے ہیں۔ پھر اس راستے سے چور گزرے یا شاہ ایک بار بھونک کر چیک ضرور کیا جاتا ہے۔ بھوں بھوں سن کر شاہ بھی بھاگنے لگے تو اس کی وہی حالت ہوتی ہے جو آج کل ہمارے یہاں موب لنچنگ میں مرنے والوں کی ہوتی ہے۔
ٹرول آرمی جو کام سوشل میڈیا پر کرتی ہے بعینہ وہی کام موب، لنچنگ میں کرتی ہے۔ کب کہاں کون پیٹ پیٹ کر ماردیا جائے اس کا اندازہ کرنا مشکل ہے۔ البتہ اسباب سارے ایک ہی ہیں۔ انیاسی سالہ سوامی اگنیویش کو زندہ چھوڑ دیا گیا، کسی مداخلت کی وجہ سے بچ جانے کا امکان بھی ہے۔
سوشل میڈیا کی وجہ سے عام آدمی کی آزادی میں جس قدر اضافہ ہوا ہے وسائل اور مسائل دونوں اسی اعتبار سے بڑے بھی ہوئے ہیں۔ ریڈیو کے زمانے میں صاحب (انگریز) کے بعد چودھری، ٹھاکر یا خان صاحب کو کسی عام آدمی سے کوئی پریشانی ہوتی تھی تو اس کو بلاکر زمین پر بٹھالیتے تھے۔ پریشانی اور بڑی ہوئی تو سر عام پٹائی بھی کردیتے تھے۔ مگر اب ڈی پی اور اسٹیٹس کا زمانہ ہے، سرگرمیاں بہت بڑھ گئی ہیں، انگلیاں زبانوں سے بھی تیزتر ہوگئی ہیں، کہنے کو تو قربتیں ہی قربتیں ہیں مگر دوریاں کم نہیں ہوئی ہیں۔ جب تک آپ بلانے کا اہتمام و التزام کریں گے تب تک بندہ کئی اور زبانی فائرنگ کرچکا ہوگا۔ اس لیے اس کی بولتی بند کرنے کا اب نیا انتظام کرلیا گیا ہے۔ کچھ لوگ کمپیوٹر اور موبائل پر ہی بیٹھ کر اس کا علاج کرتے ہیں (انھیں ٹرول آرمی کہتے ہیں) اور کچھ موقعے پر ہی ٹھکائی کردیتے ہیں (اسے موب لنچنگ کہتے ہیں)۔ اور یہ سب چوری چھپے نہیں، چودھری صاحب کا طریقہ علاج ہے نا، سرعام ہوتا ہے۔ فوٹو لے کر ویڈیو بناکر سب کو دکھادیا جاتا ہے۔
یہ معاملات کسی ایک دین یا نظریے کے حاملین تک محدود نہیں ہے۔ یہ عام معاملات ہیں، سب اپنی حیثیت اور ضرورت کے مطابق اس کا استعمال کرتے ہیں۔ شکتی پر نینترن بنائے رکھنے کے لیے ممکنہ بغاوتوں کو محسوس کرنا اور برموقع کچل دینا سب سے بڑی صلاحیت ہے۔ جب اترپردیش چھوٹا تو میری عمر گیارہ سال تھی۔ وہاں میں نے مکتب کے مولانا صاحب کو زیادہ خوار نہیں دیکھا۔ ایک بار کئی مہینوں کی باقی تنخواہ مانگنے آئے تو ناظم صاحب نے مولانا کی سائیکل اٹھاکر زمین پر زور سے پٹخ دی۔ یہ منظر اب تک یاد ہے۔ ناظم صاحب نے سخت سست جو سنائی تھی وہ گالی تھی یا محض ڈانٹ ڈپٹ، یہ ٹھیک سے یاد نہیں۔ ممبئی میں زیادہ سے زیادہ یہی دیکھنے کو ملا کہ جس مولوی کو سلیقے سے اپنی زبان کھولنا نہیں آیا اس کو نوکری سے نکال دیا گیا۔بنگلور گیا تو پتہ چلا اگر کسی خطبے میں امام صاحب کی زبان زیادہ دراز ہوگئی تو ان کی خیر نہیں۔ اس زبان درازی کی زد میں اگر کوئی یجمان آگیا تب تو جمعہ کے بعد پیار سے اپنی کار میں بٹھائے گا اور کہیں لے جاکر دھودے گا۔
آرایس ایس کا اپنا ایک نظریہ ہے جینے اور حکومت چلانے کا۔ اس کے لیے وہ اپنے پھول چنتے ہیں اور کانٹوں کو چھوڑتے نہیں توڑ دیتے ہیں۔ ہمارا بھی ایک طریقہ ہے عبادات اور معاملات کا۔ ہم اپنے طریقے سے انھیں انجام دیتے ہیں۔ اسی طرح یوپی، ممبئی اور ساؤتھ کا بھی اپنا ایک مزاج، کھانا اور جیون یاپن کا ایک سلیقہ ہے۔ سب اپنا کام اپنے طریقے سے کرتے ہیں۔
امام صاحب کی حجامت بنانے والے نے اب مسجد پلمنیر کی اینٹ سے اینٹ بجادی ہے۔ ہندوستان میں اپنی نوعیت کا یہ نیا واقعہ ہے۔ اس پر ردعمل کے اظہار کا سلسلہ جاری ہے۔ اور یہ ویسے ہی ہے جیسے یہودی دہشت گردی کو مسلمان طبقے سے جوڑ دیتے ہیں۔ گرمی میں تیل اور پریشان کرتا تھا اس لیے گاؤں والے سرسوں کے تیل میں پانی ملا کر سر میں لگاتے تھے کہ اس سے آرام ملے گا۔ ٹھنڈا تیل بنانے کا یہ گاؤٹی فارمولا ہے۔ اسے تیل پنیا کہتے ہیں۔
ہر تیل کے ساتھ یہی معاملہ کرنا چاہیے ورنہ وہ استعمال کرنے والے کی گرمی بڑھادے گا۔ ٹرول آرمی اب ہر طبقے میں سرگرم ہے۔ ہڈیاں بھی ہر دربار سے نکلتی ہیں۔ ہڈیوں اور درباریوں کی الگ الگ جنسیں اور شکلیں ہیں۔ ہم ان کے موب لنچنگ پر ماتم کرتے نہیں تھکتے، خود اللہ کا ایک گھر گراکر خاموش ہیں!

آپ کے تبصرے

avatar