حیا نہیں ہے زمانے کی آنکھ میں باقی

حیا نہیں ہے زمانے کی آنکھ میں باقی

رشید سمیع سلفی تعلیم و تربیت

حیا نہیں ہے زمانے کی آنکھ میں باقی

حیا و شرم عورت کا زیور اورطرہ امتیاز ہے، یہ جذبہ عورت میں عظمت کردار کا ضامن اور عفت و پاک دامنی کا آئنیہ دار ہے، شرافت ونجابت کا مظہر اور طہارت و پاکیزگی کا محرک ہے۔ حيا وشرم سے عاری خاتون ذلت وپستی کی نشان اور شیطان کی آلہ کار ہے، عریانیت وفحاشی کی علمبردار اور شر و بدی کی ذمہ دار ہے-

اسلام نے حیا و شرم، عفت و پاکدامنی، حجاب وپردے کی جو غیر معمولی شان بیان کی ہے اور جس زور و تاکید کے ساتھ اس کی ضرورت کی طرف توجہ مبذول کرائی ہے، وہ اپنی مثال آپ ہے۔آخر اسے ایمان کا حصہ قرار دینے والا اور مجسم خیر بتانے والا دین اسلام‌ ہی تو ہے، اور یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی تو  ہیں جنھوں نے  یہ کہہ کر اس کی عظمت و شان کو دوبالا کیا کہ اگر تم میں شرم نہیں تو جو چاہو وہ کرو، اور پھر مردوعورت نگاہیں جھکائے رکھیں، عورتیں راستوں کے کنارے کنارے چلیں، زیورات بجاتی ہوئی نہ چلا کریں، اجنبی مردوں سے ملائمت سے بات نہ کریں، کسی بھی عورت کے لیے دیور موت ہے، خوشبو لگا کر بازاروں اور گلیوں کو مہکاتی ہوئی چلنے والی عورت  زانیہ ہے، یہ ہدایات واضح طور پر دوسرے مذاہب کے مقابلے اسلام کے امتیاز کو بتاتے ہیں۔

شریعت کی ان حیات آفریں تعلیمات کے باوجود مسلم خواتین کا رویہ انتہائی افسوسناک ہے، حالات کے تیور بتا رہے ہیں کہ بے پردگی اور عریانیت میں خواتین، وقت کی رفتار سے آگے نکل جانا‌چاہتی ہیں، شرم وحیا کے تقاضوں کو یکسر پس پشت ڈال رہی ہیں، اگر یقین نہ آئے تو بازاروں اور مارکیٹوں پر ایک طائرانہ نظر ڈالیے اور دیکھیے کہ کس طرح بازاروں اور راستوں میں مسلم خواتین زینت کے تمام لوازمات سے آراستہ ہو کر دعوت نظارہ دے رہی ہوتی ہیں، زرق برق لباس، عریاں ونیم عریاں بازو، لب ہائے گلگوں، چمکتے ہوئے عارض، چشم ہائے نیم باز، بکھری ہوئی زلفیں؛ اٹکھیلیاں وعشوہ  طرازیاں، زیورات سے لدی پھندی، آرائش وزیبائش کے نت نئے سامانوں کےساتھ منظر ایسا ہوتا ہے جیسے یہ بازار نہیں بلکہ حسن کی نمائش گاہ ہے جہاں خواتین انواع واقسام کے میک اپ اور تزئین وآرائش کے بل بوتے ایک دوسرے سے آگے نکل جانے کے درپے ہیں، بازار کی قیامت خیز بھیڑ  میں ڈوبتی ابھرتی خواتین شیطان لعین کو شکار گاہ فراہم کررہی ہوتی ہیں، چلتے پھرتے مردوں کے جسموں سے رگڑ کھاتے ہوئے ذرا بھی عار محسوس نہیں کرتیں، اس قسم کی نسوانی بھیڑ میں آوارہ مزاج لڑکوں کی تو بن آتی ہے اور وہ اس بھرے بازار میں اپنی پیاسی طبعیتوں کی تسکین کا سامان کرلیتے ہیں، مگر بنت حوا یہ نہیں سمجھ پاتی کہ بے خبری میں بھی اس کے وجود ناز سے لمحوں میں شاد کام ہونے والے بڑی صفائی سے لذت اندوزی کا سامان کرچکے ہیں۔

بازاروں کی طرف محو خرام عورتوں کے غول کے غول گردو پیش میں انسانی سماعتوں پر اپنی کھنکھناتی ہنسی اور پرکشش آواز کا چھڑکاؤ بھی کرتی رہتی ہیں، یہ راستوں پر ایسا پھیل کر چلتی ہیں کہ گاڑیوں کی چیخ وپکار، ان کی رفتار کو ذرا بھی متاثر نہیں کرتیں- ہرچہار جانب یہی منظر ہوتاہے، دکانوں پر غیر محرموں سے بھاؤ تاؤ اور مسکرا کر باتیں کرنا،پیسے کم کرانے کیلیے عاجزی اور لجاجت اور نہ جانے کیسی کیسی ادآئے دلبرانہ کہ اللہ کی پناہ۔نسوانی طبع ومزاج کی ایسی نیرنگیوں کادل پھینک نوجوان، منتظر ہوتاہے،اور اس کی متلاشی نگاہیں اس قماش کی عورتوں سے اپنی بھوک مٹالیتی ہیں۔ پھر ایک بار دیکھا تو دوسری بار دیکھنے ہوس ہوتی ہے۔سلسلہ دراز ہوتا ہے تو ایک مرحلہ وہ بھی آتا ہے کہ دیکھنے والے یہ کہنے پر مجبور ہوتے ہیں کہ

سامنے سے وہ شوخ دلربا آجائے ہے

تھامتا ہوں دل پہ ہاتھوں سے نکلا جائے ہے

ایسی نہ معلوم عشق ومحبت کی کتنی کہانیاں ہیں جو بازاروں میں پروان چڑھ کر گھر اور کالج کا رخ کرتی ہیں۔ بے لگام جذبۂ نمائش جلوہ نمائی کے لئے مواقع کی تلاش میں ہوتا ہے، گھر کی چہار دیواری ہو یاشادی ہال ہو، گھریلو تقریبات ہوں یا رشتے داروں کی رہائش گاہ، ہر جگہ موسم کا درجہ حرارت باہر جیسا ہی ہوتا ہے، ہاں یہاں پر طریقہ ذرا شریفانہ ہوتا ہے، یہاں منظر کی تبدیلی کے ساتھ کوئی کزن ہے تو کوئی دوست ہے تو کوئی دیور ہے تو کوئی قریبی رشتے دار ہے، کوئی کلاس فیلو ہے تو کوئی شوہر کے ریلیشن کا ہے یا بزنس پارٹنر ہے-

کہا جاتا ہے:  ارے یہ تو دودھ والا ہے اور یہ تو سبزی والا ہے، یہ الیکٹریشن ہے، یہ ہمارے فیملی ڈاکٹر ہیں۔ ایسے نہ معلوم کتنے مانوس حوالے ہیں جن کے لیے حجاب کو غیر ضروری باور کرایا جاتاہے، یہاں تک کہ نوجوان بچیوں کے تئیں غیر محتاط رویہ پایا جاتا ہے، نوجوان بچیاں اکیلے ٹیوشن کلاسس جاتی ہیں،نوجوان ٹیوٹروں سے خوب انڈر اسٹینڈنگ اور بے تکلفی ہوتی ہے،کلاس میں رسم محبت نبھانے کے لیے لوگوں کی نگاہوں کا ڈر ہوتا ہے تو کیا ہوا اسمارٹ فون اور اس میں موجود شوشل میڈیا، یہ کمی بڑی خوش اسلوبی سے پوری کردیتے ہیں،موبائیل دومحبت کرنے والوں کا اکلوتا غمگسار ہوتا ہے،موبائیل ہی تو ظالم دنیا سے بچا کر سلسلہ جنبانی کے ذریعے  عشق کو زندہ رکھتااور پروان چڑھاتا ہے،والدین سوچتے ہیں بیٹی آج کل پروجیکٹ اور امتحان کی تیاری میں بڑی محنت کررہی ہے لیکن انھیں کیا پتہ کتاب عشق کی ورق گردانی ہورہی ہے،وہ امتحان میں کامیاب ہو نہ ہو لیکن وادی عشق میں چند منازل ضرور طے کرلیتی ہے-

یہی نہیں بلکہ اسٹوڈنٹ اپنے لیڈیز ٹیچروں پر بھی عاشق ہوجاتے ہیں پھر پڑھائی کم عشق ومحبت کی سرگرمیاں عروج پر ہوتی ہیں۔چھٹی اور ساتویں کے بچے بھی عشق لڑانے کا ہنرسیکھ چکے ہوتے ہیں،انٹرنیٹ ،اسمارٹ فون ،کمپیوٹر ٹیلی ویژن کے اس دور میں وہ سب کچھ ہورہاہے جو انسانیت کو شرمسار کرنے کےلیے کافی ہے، اب کچھ بھی ڈھکا چھپا نہیں رہ گیابلکہ پردے کے پیچھے حیاسوز واقعات کی اتنی بھرمار ہوچکی ہے کہ سڑاند حجاب کے باہر آرہی ہے،اور فضا کو مسموم کررہی ہے۔سچ ہے؛

ہمیشہ ہی نہیں رہتے کبھی چہرے نقابوں میں

سبھی کردار کھلتے ہیں کہانی ختم ہونے پر

اور یہ مائیں  بھی کتنی سادہ لوح ہوتی ہیں، خود برقعے میں ہوتی ہیں لیکن جوان بیٹی بے حجاب اس کے ساتھ چل رہی ہوتی ہے، کیا کہا جائے اس سادہ لوحی کو کہ بیٹی کے سراپا کا پروانوں کی طرح طواف کرتی نظروں کی تپش بھی محسوس نہیں کرپاتی،حد سے زیادہ بیٹی کا سجنا سنورنا بھی اس کے ذہن کو اندیشہائے دور دراز کی طرف نہیں لے جاتا،موبائیل پر سرگوشیاں بھی اس کے کان کھڑے نہیں کرتے،اسکول وکالج کی چہار دیواری میں تعلیم کی آڑ میں حرمت انسانیت اور عفت مریم جس طرح پامال ہورہی ہے وہ اب سیکس سکینڈل اور واردات کی شکل میں اخبارات کی سرخیاں بن رہی ہیں۔

غیر مسلموں کے اسکولوں کی بات ہم نہیں کرتے وہ تو مجسم شر ہیں لیکن وہ اسکول جو اسلامک سوسائٹیوں کے ماتحت چل رہے ہیں وہ بھی عریانیت اور بے حجابی میں ان سے زیادہ نہیں تو کم بھی نہیں ہیں،انھوں نے مسلمان ہوتے ہوئے بھی اپنے اداروں کے ماحول کو اسلامی تہذیب سے آراستہ نہیں کیا۔کیا وہاں مردوزن کا اختلاط نہیں ہے؟ یالڑکے اور لڑکیوں کے درمیان آزادانہ ملاقات کے مواقع نہیں ہیں؟ یا عشق ومحبت کے بدنام زمانہ کلچر کی ہوائیں نہیں ہیں؟ یاگرل فرینڈ اور بوائے فرینڈ کی آڑ میں حیا باختگی کا ناسور نہیں ہے؟ غیروں کی خرافات ، ہمارے اداروں میں بھی بہ تمام وکمال در آئی ہیں اور ہم تعلیم کے لیے ہر طرح کی بربادی کو دعوت دے رہے ہیں۔ بعض مہذب قسم کی مسلمات واردات عشق وفسق انجام دیتے ہوئے برقعے اور اسکارف کے مزعومہ اسلامی لباس کو زیب تن کیے رکھتی ہیں تاکہ لگے ہاتھ بے چارےمذہب کی بھی نیک نامی بھی ہوجائے۔

‌اگر ایک نظر عصری اداروں کے ثقافتی پروگراموں پر ڈالی جائے تو حیاکو پسینہ آجائے،شرم پارہ پارہ ہوجائے۔26/جنوری اور 15/اگست کے پروگرام میں حیاو شرم کے تقاضوں کو بالائے طاق رکھ کر میوزک اور موسیقی،گانا اور باجا،رقص وسرود اور حب الوطنی کے نشے میں چور، فلمی مناظر اور اداکاریوں کو مات دینے کی کوشش کی جاتی ہے۔مسلم طالبات کو رقص وسرود میں پرائیز حاصل کرتے ہویے اور نا محرموں کے ساتھ تصویريں بھی اتارتے ہوئے دیکھا گیا ہے،بے پناہ خوشی کے اس حسین موقعے پر کسی کوروح حیا کی چیخیں سنائی نہیں دیتیں۔اسلام کے اعلی اقدار کی نبض ڈوبتی ہوئی نظر نہیں آتی۔

تقریری مقابلوں میں مردوں کے سامنے مٹک مٹک کرکی جانے والی تقریریں اور نوجوان طلبہ کی طرف سے مخصوص انداز میں تحسین و آفرین کی پر جوش آوازیں بھی امر واقعہ پر روشنی ڈالتی ہیں، والدین تو خوش ہیں کہ ہماری بیٹی مقابلے میں سلیکٹ ہوگئی ہے،باقی مقابلے کی نوعیت کیا ہے؟سامعین کون ہوں گے؟ اس سے ان کو کوئی غرض نہیں،بس ہماری بیٹی ترقی کررہی ہے۔آگے بڑھ رہی ہے۔

اس کا مطلب یہ بالکل نہیں کہ میں لڑکیوں کی تعلیم کے خلاف ہوں، ہرگز نہیں،بچیاں شرع کے دائرے میں رہتے ہوئے تعلیم وترقی کے ہفت خواں طے کریں،ترقی کرکے اوج ثریا پر پہونچ جائیں،اسلام نہیں روکتا،لیکن‌حیاو عصمت کی قیمت پر حاصل ہونے والی تعلیم سے اچھی تو موت ہے،ایسی تعلیم کس کام کی جو تربیت سے عاری ہو اور جس سے بنت حوا کی آخرت برباد ہو اور وہ اس تعلیم کے نتیجے میں پوری زندگی اسلامی تہذیب وثقافت سے نابلد رہے۔

اب ذرا ٹھہر کر شادی ہالوں پر ایک نظر ڈال لیں،شادیوں کا منظر تو بے پردگی اور اختلاط سے پر ہوتا ہے،مخلوط راہداریوں سے آتے جاتے مرد وخواتین آنکھیں چار بھی کرتے ہیں،مسکراہٹوں کے تبادلے بھی ہوتے ہیں،اور کبھی کنارے کھڑے ہوکر عشق ومحبت کے پیشہ ور مطلوبہ صنف مخالف سے ہم کلامی کا شرف بھی حاصل کرلیتے ہیں،یوں بھی شادی ہالوں میں شوق طعام کم شوق نمائش وشوق نظارہ کا شغل زیادہ نظرآتا ہے،شادی کسی ایک جوڑے کی ہوتی ہے لیکن مخصوص شادمانی بہتیروں کو میسر آجاتی ہے۔

افسوس ہوتا ہے اسلامی معاشرے کی اخلاقی گراوٹ پر، ابھی زیادہ دن‌نہیں ہوئے جب ہم زندگی کے ہر معاملے میں مثال تھے،یہ مسلم معاشرہ ہی تو تھا جس نے اس گئے گزرے دور میں بھی حیا و شرم کی اعلی وارفع روایتوں کو حرز جاں بنایا تھا لیکن مرور ایام نے انھیں بھی زمانے کی ہواؤں کی دوش پر سوار کردیا ہے،اب تک تو بہت کچھ دیکھا اور سنا لیکن مستقبل کے پردے میں اسلامی اقدار کو رسوا کرنے والے کیسے کیسے واقعات عالم وجود میں آنے کےلیے پر تول رہے ہیں،یہ خیال ہی غیور مومنوں کو لرزہ براندام کرنے کےلیے کافی ہے،وقت کی رفتار بتاتی ہےکہ وہ  وقت اب دور نہیں رہا کیونکہ اب مسلم تعلیم یافتہ خواتین بھی پردے کے خلاف وہ زبان‌بول رہی ہیں جو اسلام دشمن آغاز سے بولتے آئے ہیں،کبھی کہتی ہیں کہ اصل پردہ تو دل کا پردہ ہے، اور کبھی یہ کہ پردہ دقیانوسی پر مبنی چیز ہے،یا حجاب مردوں کی غلامی کی نشانی ہے،یا پردہ عورت کی ترقی میں حائل ہے یا پردہ قید و بند کی علامت ہے وغیرہ۔

جی ہاں یہ پردے و حجاب کے خلاف، کلمہ گو لبرل مسلم مرد وخواتین کے دلائل ہیں،ان خیالات فاسدہ کی زہرناکی کا اندازہ موجودہ دور کی بے پردگی اور عریانیت میں دیکھے جاسکتے ہیں اب جبکہ حجاب مسلم خواتین کو بوجھ لگنے لگا ہے تو ہم یہ امید کیسے کرسکتے ہیں کہ مستقبل میں پردے اور حجاب میں امت کی خواتین عصر حاضر کےلیے مثال بنیں گی؟خواتین ملت اسلامیہ کا حیا و شرم پر مبنی طرز عمل پیغام حق ثابت ہوگا؟قافلہ تو پہلے ہی لٹ چکا ہے اب رہی سہی کسرتہذیب مغرب پر ایمان لانے والے مسلم مرد وخواتین پوری کردیں گے۔

حیا نہیں ہے زمانے کی آنکھ میں باقی

خدا کرے کہ جوانی تری رہے بے داغ

1
آپ کے تبصرے

avatar
3000
1 Comment threads
0 Thread replies
0 Followers
 
Most reacted comment
Hottest comment thread
1 Comment authors
ریاض مبارک Recent comment authors
newest oldest most voted
ریاض مبارک
Guest
ریاض مبارک
سامنے سے جب وہ شوخ دلربا آجائے ہے​
تھامتا ہوں پر یہ دل ہاتھوں سے نکلا جائے ہے​
مومن