ہو کا عالم ہے گرفتاروں کی آبادی میں

ریاض الدین مبارک سیاسیات

ہو کا عالم ہے گرفتاروں کی آبادی میں

سعودی ولیعہد شہزادہ محمد بن سلمان نے امریکہ پر انحصار کی بات کو دو ٹوک مسترد کیا

ملٹی ٹاسک امیریکن کمپنی “بلومبرگ” کو انٹرویو دیتے ہوئے سعودی ولیعہد شہزادہ محمد بن سلمان آل سعود نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی گیدڑ بھبکیوں کو مسترد کرتے ہوئے ایسا جواب دیا ہے کہ ٹرمپ اور اس کے پرستار ٹھرکیوں کی انگلیاں انہیں کے میلے کچیلے زرد دانتوں کے بیچ دب کے رہ گئیں۔ بے شرمی کے ساتھ احسان فراموشی کی حدیں پار کرتے ہوئے جب سعودیہ ہی کے ٹکڑوں پہ اپنا پیٹ پالنے والے کچھ گداگروں نے امریکی صدر کے جنونی ہذیان کو آیت مقدس سمجھا اور خادم الحرمین الشریفین کو ٹرمپ کا دھمکی بھرا لہجہ کہ “وہ امریکی فوجی حمایت کے بغیر “دو ہفتے” بھی اقتدار میں نہیں ٹک سکتے”، ان کشکول گردوں نے اسے یقین جانا اور کبھی نہ آنے والی صبح قیامت کا انتظار کرنے لگے تب مجھے بڑی حیرانی ہوئی کہ آخر یہ سب کیا ہورہا ہے اور اس باولے صدر کی نکیل کیوں نہیں کسی جارہی ہے؟

خیر دو دنوں کے بعد ہی سہی جمعہ کو شائع ہونے والے بلومبرگ کے انٹرویو میں پرنس محمد بن سلمان نے دوٹوک کہا: “مجھے اس شخص کے ساتھ کام کرنا اچھا لگتا ہے اور جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ آپ کو کسی دوست کی اچھی اور بری دونوں باتیں تسلیم کرنی پڑتی ہیں۔”

محمد بن سلمان نے مزید کہا: “امریکا اپنا ہتھیار ہمیں مفت میں نہیں دیتا ہے ہم اسے اس کی پوری قیمت ادا کرتے ہیں۔ سعودی عرب اور امریکہ کے درمیان جب سے تعلقات قائم ہوئے ہیں اور ہتھیاروں کی خریداری شروع ہوئی ہے ہم نے اسکی پوری پوری قیمت ادا کی ہے۔”

ٹرمپ کا حالیہ دھمکی بھرا لہجہ محض اس لئے تھا کہ ایران پر پابندیوں کی وجہ سے تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر لگام لگ سکے۔ اس سلسلے میں ٹرمپ نے تمام اوپیک ملکوں پر خاص کر سعودی عرب پر زوردار دباؤ بنایا کہ ایران پر پابندی کی صورت میں تیل کی سپلائی اثرانداز نہ ہو۔ سعودی ولیعہد محمد بن سلمان نے کہا سپلائی کی کمی دور کرنے کے لئے سعودی عرب اپنے وعدے پر پابند ہے ہم نے کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی ہے اور عالمی منڈی میں تیل کی سپلائی میں کوئی کمی نہیں ہونے دی۔

ٹرمپ چونکہ ایک تاجر ہے اس لئے اسے تیل کی موجودہ قیمت راس نہیں آرہی ہے اور وہ اوپیک ملکوں کے خلاف زبانی حملوں میں مسلسل تیزی لا رہا ہے۔ پچھلے چار سالوں کے مقابل تیل کی بڑھی ہوئی قیمت کو دیکھتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ اوپیک ممالک دنیا کو لوٹ رہے ہیں اور خبردار کیا کہ یہ بھیانک قیمتیں ہم زیادہ دیر تک برداشت نہیں کرسکتے۔

محمد بن سلمان سے پوچھا گیا کہ ٹرمپ نے منگل کو مسیسپی کی ایک ریلی کو خطاب کرتے ہوئے بتایا، “مجھے بادشاہ سلمان سے محبت ہے، لیکن میں نے کہا، ‘بادشاہ سلامت، ہم آپ کی حفاظت کر رہے ہیں لہذا آپ کو اس کے عوض بھاری قیمت ادا کرنی ہوگی!”
جواب میں محمد بن سلمان نے کہا کہ ریزگاریوں کی ڈیمانڈ ایک ایسا موضوع ہے جو وہ سالوں سے سن رہے ہیں، مارچ 2015 میں ایک ٹویٹ آیا تھا کہ اگر سعودی عرب امریکی مدد اور سیکورٹی چاہتا ہے، تو اسے مہنگی قیمت چکانی پڑے گی! کوئی چیز مفت میں نہیں ملتی! یہ معاملہ صرف سعودی عرب تک محدود نہیں، پچھلے ماہ اقوام متحدہ کے جنرل اسمبلی میں اپنی تقریر میں صدر ٹرمپ نے کہا امریکہ چاہتا ہے کہ دوسرے ممالک کو بھی اپنا مناسب حصہ ادا کرنا چاہئے.

کینیڈا سعودی نزاع پر سوال کا جواب دیتے ہوئے پرنس محمد بن سلمان نے بے لاگ کہا: “دراصل کینیڈا نے سعودی عرب کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی کی تھی، یہ سعودی عرب کے بارے میں کینیڈا کی صرف رائے نہیں بلکہ اس طرح وہ دیگر ممالک کو حکم دے رہا ہے.” پرنس محمد نے یہ بھی کہا کہ ٹرمپ کی تازہ ترین تنقید کینیڈا کے تنازعاتی تناظر سے بالکل مختلف ہے.

ٹرمپ اور محمد بن سلمان کے بیانات کی روشنی میں بطور خلاصہ جو بات واضح طور پر سامنے آتی ہے وہ یہی ہے کہ ٹرمپ ایک صعلوک ہے جس کا کشکول اب خالی ہو چکا ہے، باقی دنیا والوں نے اس سے اپنی آنکھیں موند لی ہیں اور وہ نہایت مایوس ہوگیا ہے، اس کی نگاہیں اب صرف سعودی اَن داتا پر آکر ٹک گئی ہیں۔ محمد بن سلمان ایک بادشاہ وقت کا جانشین ہے اس کے خزانے اب بھی معمور ہیں، گداگروں کو بھکشا دینے میں اسے کوئی تامل نہیں لیکن الحاح اور اصرار کرنے والوں سے اسے انقباض ضرور ہوتا ہے کہ یہ صفت بہت بری ہے اس سے برہمی پیدا ہوتی ہے لیکن وہ شہزادہ کریم ہے اور بردبار بھی۔

 

ملٹی ٹاسک امیریکن کمپنی “بلومبرگ” میں شائع ہونے والے سعودی ولیعہد شہزادہ محمد بن سلمان کے انٹرویو کا لنک

 

آپ کے تبصرے

avatar