لیواِن رلیشن، ہم جنس پرستی کے بعد اب ایڈلٹری

ہلال ہدایت معاملات

تہذیب وثقافت، اپنائیت ومحبت، تزویج وتناسل کے جائز تعلقات اور خاندانی اقدار صالح معاشرہ کی پہچان ہیں، تہذیب یافتہ طبقہ وہی شمار ہوتا ہے جو سب کے حقوق کو پہنچانتے ہوئے عدل وانصاف برتے۔ ہندوستانی معاشرہ کی اپنی تہذیب وثقافت رہی ہے لیکن آئے دن یہ ثقافت نام نہاد ترقی کی بھینٹ چڑھتی جارہی ہے۔
ہم جنس پرستی کے قانونی جواز کا زخم مندمل بھی نہ ہونے پایا تھا کہ ایڈلٹری یعنی غیر ازدواجی تعلقات کی چھوٹ دے دی گئی۔ آہستہ آہستہ ہندوستانی اقدار کی پامالی ہوتی جارہی ہے اور ترقی کے نام نہاد دعوے کے سبب پورا ملک خاموش ہے جو کہ نہایت افسوسناک امر ہے کیونکہ ازدواجی تعلقات جیسے عظیم رشتے اب مشکوک ہونے کے درپے ہیں۔ کس کی بیوی کس کے ساتھ ،کس کا شوہر کس کے ساتھ ،کس کی گود میں کس کی اولاد فرق کرنا مشکل ہوجائے گا۔ قانونی جواز فراہم کرنا اور اس کو عورتوں کی آزادی سے جوڑکر پیش کرنا عجیب منطق ہے-

عورت کی جس آزادی کی دہائی دی جارہی ہے اسی کے پس پردہ ایک دوسری عورت کی آزادی سلب ہورہی ہے کیونکہ جب ایک مرد دوسری شادی شدہ عورت سے رشتہ قائم کرے گا یا ایک عورت دوسرے مرد سے ناجائز تعلق قائم کرے گی ایسی صورت میں اس مرد کی بیوی جو اس کے گھر میں اس کے بال بچوں کی پرورش کررہی ہوگی اس کی آزادی اور اس کاحق چھینا جائے گا۔ کیا عورت کی آزادی یہی ہے کہ وہ دوسروں سے ناجائز تعلقات استوار کرکے اپنے خانہ خرابی کا سبب بنے۔ جب ایک عورت اپنی آزادی کااستعمال کرے گی تو کہیں نا کہیں دوسری عورت کی آزادی اور انا کو چوٹ لگے گی۔
یہ آزادی نہیں ڈھونگ ہے اپنی تہذیب وثقافت کوملیامیٹ کرنے کا۔ کیا ہمارا معاشرہ لیوان رلیشن اور ایڈلٹری کی صورت میں آنے والے دوررس نتائج سے بے خبر ہے؟ آزادی کایہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ جانور سے بھی بدتر زندگی بسر کی جائے۔ ایڈلٹری اور لیوان رلیشن کی صورت میں بھی عورت ہی بھینٹ چڑھتی ہے، تربوز کاٹنے کے لیے چاقو اور تربوز کی جگہ کچھ بھی ہو بہرصورت حملہ تربوز پر ہی ہوگا۔ اس قانون کے ذریعہ ہندوستانی معاشرہ کی اعلی قدروں کا مذاق بنایا گیا ہے-
اگرعورت کی آزادی کی دہائی دے کر اسے خاندان کا باغی بنایا جائے گا تو ایسی صورت میں ناجائز تعلقات اور ثمرات ہمارے سامنے ہوں گے۔ریپ، جنسی تشدد، جنسی استحصال، ناجائز اولاد اور پھر کرمنل کیسس آئے دن سامنے آئیں گے۔
عورت کی آزادی کا مطلب یہ تو نہیں ہے کہ وہ اتنا آزاد ہو کہ اپنی ضمیر اوراپنی عزت نفس کاسودا کرے، کیاہندوستانی خاتون اتنا فراخ دل ہوسکتی ہے کہ اپنے لیے سوکن برداشت کرے، یا کوئی مرد یہ برداشت کرسکتا ہے کہ اس کی بیوی کسی اور کی بستر گرم کرے الایہ کہ دیوث ہو۔ تاہم امکان ضرور ہے کہ اس نام نہاد آزادی کی آڑ میں پوشیدہ طور پر ناجائز تعلقات استوار کیے جائیں اور پھر جنسی خواہشات کی تکمیل کریں۔ جب ہندوستان میں’’لیوان رلیشن‘‘ کو قانونی جواز حاصل ہوگیا تھا اسی وقت اندازہ ہونے لگا تھا کہ اب ہم نام نہاد ترقی کے دور میں قدم رکھ رہے ہیں اور روحانی طور پر مغرب کے غلام بنتے جا رہے ہیں۔چیف جسٹس دیپک شرما نے اپنی دستبرداری سے قبل دھڑا دھڑ کئی ایسے فیصلے صادر کرگئے کہ پورا ملک متعجب ومبہوت رہ گیا کہ آخر ہوکیا رہا ہے جو اتنے جلدی جلدی ہماری اقدار پر پے درپے وار جاری ہے۔ اس تحریر کا مطلب ہرگز نہیں ہے کہ ہم دیومالائی کہانیوں کا زمانہ تلاش رہے ہیں یا خواتین کو پابند سلاسل رکھنے کا جواز فراہم کر رہے ہیں بلکہ آپ آزادانہ طور پر غور کریں کہ آخر ہوکیا گیا ہے کہ ہم ان مقبوح فیصلوں پر خاموش ہیں، کیونکہ ایسے فیصلوں پر اپنااحتجاج درج نہیں کرواتے ہیں۔ کیاترقی اسی کا نام ہے کہ جانورنما انسانیت آزاد ہو اور معاشرے کی تباہی کا سامان بنے۔ قانون کی بالادستی ہماری خواہش ہے تاہم ایسا قانون جو فطرت سلیمہ کے خلاف بغاوت اور جنگ ہو اس پرخاموشی بہرطور ہماری مردہ دلی اور بے ضمیری پر دال ہے۔
سپریم کورٹ کی پانچ ججوں کی بینچ نے 6؍ستمبر 2018ء کو ہم جنس پرستی کو جرم کے زمرے سے باہر کر دیا ہے۔ سیکشن 377 پر فیصلہ سناتے ہوئے چیف جسٹس دیپک مشرا نے کہا ’’ہمیں ایک دوسرے کے حقوق کا احترام کرنا چاہئے اور انسانیت دکھانی چاہئے اور یہ بھی کہا کہ پرانے خیال کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ سماج کی سوچ کو بدلنے کی ضرورت ہے، ہم جنس پرستوں کو برابر کے حقوق ملنے چاہئیں، انہیں عزت کے ساتھ جینے کا حق ہے، پرانا حکم صحیح نہیں تھا، وقت کے ساتھ قانون کو بدلنا چاہئے‘‘۔
اسی طرح سپریم کورٹ نے 27؍ستمبر 2018 ء کو ایڈلٹری یعنی غیر ازدواجی تعلقات کو جرم کے زمرہ سے باہر کر دیا ہے۔ چیف جسٹس دیپک مشرا نے کہا کہ ایڈلٹری کو شادی سے الگ ہونے کی بنیاد بنائی جا سکتی ہے لیکن اسے جرم نہیں مانا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’جمہوریت کی خوبصورتی ہے میں، تم اور ہم‘‘ مزید کہا ’’تعزیرات ہند کی دفعہ 497 خواتین کے احترام کے خلاف ہے جبکہ انہیں ہمیشہ مساوی حقوق ملنے چاہئیں‘‘۔
خیرایک مہذب اور باشعور معاشرہ میں اس طرح کی حیاسوزی بہرطور نہیں پائی جاتی تاہم ترقی اور آزادی کے غلط استعمال کے صدور کاامکان تو ہے۔ اب ایسی صورت میں مسلم معاشرہ خصوصاً خواتین کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ نام نہاد آزادی کی شعبدہ بازی میں نہ آئیں، یہ ایک جال ہے جو بچھایا جارہا ہے خواتین کو ہوس کا شکاربنانے کے لیے، مردوں کے پیر کی جوتی بنانے اور اپنی عزت نفس اور توقیر کو نیلام کرنے کے لیے۔ آزادی کا مطلب ہرگز نہیں ہے کہ عورت اپنی عزت فروخت کرتی پھرے اور مرد اُسے جہاں جب چاہیں من مرضی سے استعمال کریں۔ اسلام نے جوآزادی خواتین کو دی ہیں وہ فطری ہیں اور دنیاوی واخروی کامیابی کی ضامن ہیں، ہمیں اپنے اسلامی دستور پر عمل کرنے کی ضرورت ہے اور ان مکاریوں کے چپیٹ سے بچنے کی ضرورت ہے۔
٭٭٭

آپ کے تبصرے

avatar