کوہ نیپال پہ سرمایۂ سنت کا نگہبان

راشد حسن مبارکپوری تاریخ و سیرت

(حضرت مولانا عبداللہ مدنی کا سانحۂ ارتحال)
بات کوئی پندرہ سال پرانی ہے جامعہ سراج العلوم جھنڈا نگر کی مسجد میں عشاء کی نماز کے بعد اعلان ہوا، طلبہ مسجد میں ہی رکیں۔ پروگرام کا آغاز ہوا، دو وجیہ اور روشن شخصیتیں نمودار ہوئیں،شکل و شباہت ایک جیسی گورا چٹا رنگ، سروقد، شمشاد قامت، عزم و حوصلہ اور جرأت و بسالت کے نقوش چہرے پر ہویدا، کم سنی ضرور تھی مگر عظمت کا رعب بیٹھ گیا۔ بعد میں اعلان ہوا حضرت مولانا عبدالوہاب خلجی اور حضرت مولانا عبداللہ مدنی جھنڈا نگری ہمارے درمیان تشریف فرما ہیں، مولانا خلجی کے بعد مولانا عبداللہ مدنی کا اولوالعزمانہ خطاب ہوا، خطاب میں علم کی راہ میں علو ہمتی اور جانکاہی کا تذکرہ تھا، کلام میں شائستگی، لطافت، دریا کی روانی اور سمندر کی طغیانی تھی۔ اس وقت ان کو دیکھا اور علمی متانت اور عظمت او ر وقار و شائستگی کا سکہ بیٹھ گیا، پھر متعدد بار ابو محترم کی دعوت پر حضرت مولانا مدنی کو گھر میں آفتاب کی آب و تاب سے طلوع ہوتے اور روشنی بکھیرتے دیکھا اور سنا، اس کے بعد سے اس نام کی معتبریت کا اندازہ فزوں تر ہوتا گیا، مرور ایام کے ساتھ شناسائیاں، ملاقاتیں، گفتگوئیں ہوتی رہیں۔

پھر یہ ساری چیزیں بے پناہ عقیدت و محبت اور وارفتگی میں تبدیل ہوگئیں، اس عقیدت کا تعلق علمی شعور، بلندی اخلاق، داعیانہ عظمت، سادگیٔ طبع، حسن ذوق، عالمانہ تواضع، ادیبانہ وضع داری اور بلند پایہ خاکساری کے سبب تھا، کیا خبر تھی ۲۲؍دسمبر ۲۰۱۵ء کی صبح یہ ساری چیزیں بیک وقت دفن ہو جائیں گی۔ مولانا رحمہ اللہ ۲۲؍سے ایک ہفتہ قبل کاٹھمنڈو قطر ایمبسی کے ایک پروگرام میں شرکت کی غرض سے گئے، سب کچھ ٹھیک ٹھاک تھا، مرض پہلے سے تھا، پروگرام سے نکل کر سیدھے اسپتال گئے اور وہاں حالت زیادہ نازک ہوگئی، اخیر میں ۳؍بار ایک ایک گھنٹہ کے وقفہ سے دل کا دورہ پڑا اور عالم اسلام کے قافلۂ سنت کا یہ عظیم سپاہی ملت اسلامیہ کو روتا بلکتا چھوڑ کر چل بسا۔ دس بج کر دس منٹ پر میں نے برادرم عبدالصبور ندوی سے خیریت دریافت کی اور ٹھیک تین منٹ بعد برادرم کا پیغام آیا عم گرامی مولانا عبداللہ مدنی چل بسے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔
آہ۔۔۔ ہمارے لیے یہ خبر کس قدر روح فرسا تھی کہ قلم کو یارائے ضبط نہیں، اس غیر متوقع اور اچانک خبر سے طبیعت میں عجیب و غریب افسردگی پیدا ہوگئی، غم و اندوہ کے سیاہ بادل چھا گئے، شیخ صلاح الدین مقبول احمد حفظہ اللہ آفس تشریف لائے، زبان پہ خموشی اور آنکھیں غم کے آنسو برسا رہی تھیں، ایک دیرینہ رفیق کی رحلت پر دل غمناک تھا، طے ہوا کہ محب سنت کا آخری دیدار ہو، شیخ صلاح الدین مقبول احمد حفظہ اللہ اور برادرم عبدالقدیر کی رفاقت میں روانہ ہوئے، لکھنؤ سے شیخ عبدالمعیدمدنی حفظہ اللہ کا بھی ساتھ ہوگیا، کاشانۂ نور توحید پر پہنچے تو نالہ و شیون میں ڈوبا ہوا تھا۔ نعش مدرسہ خدیجہ کے داہنے جانب مجوزہ لائبریری میں رکھی ہوئی تھی، پہنچ کر اک آخری الواداعی نگاہ عقیدت ڈالی اور عہد گذشتہ کی سنجیدہ صحبتوں، دلکش یادوں اور لطیف ملاقاتوں کے اوراق غیر شعوری آنسوؤں سے تر ہوگئے، یادوں کے دلخراش جھونکوں نے صحرائے شیون میں پڑے دفتر ہستی کا ایک ایک ورق الٹ ڈالا، اس طرح کہ اس میں ثبت مسکراہٹوں کی نامعلوم خوشبو سے مہک مہک اٹھا، اس میں پنہاں لطیف ظرافتوں سے چہک چہک اٹھا، عظمت کی بلندیوں اور سعادت کی مہرتابیوں سے دل کی نگری میں سرور کے تارے جگمگائے، کوہ نیپال پہ سنت کی نگہبانی کے آثار چرخ مسرت پہ جھلملائے، بالآخر یادوں کی کہکشائیں اس شعر کے جلو میں سمٹ آئیں:
بھلا سکیں گے نہ اہل زمانہ صدیوں تک
مری وفا کے مری فکر و فن کے افسانے
آہ۔۔۔۔ آج ہندونیپال کی عظمت کا ماہتاب آخری مرتبہ سلامِ الوداع کہہ کر غروب ہو تا ہے۔۔۔۔۔
آہ۔۔۔۔ آج نیپال میں دینی، علمی و ادبی صحافت کا معمار و ترجمان سفر آخرت کو روانہ ہوتا ہے۔۔۔۔
آہ۔۔۔ آج نیپال میں تعلیم نسواں کا بانی کاروبار دنیا دوسروں کے حوالہ کرتا ہے۔۔۔۔ آج وہ جاتا ہے جس کی عظمت و خطابت اور شرافت و نجابت کا چراغ ربع صدی تک جلتا رہا ہے، ہر بڑی مجلس جس کے دم سے ضیابار رہی، علم و ادب، تہذیب و ثقافت اور تواضع فروتنی کا وہ کون سا مرحلہ ہے جو انھوں نے قطع نہ کیا ہو، مجلہ نورتوحید کے رئیس التحریر تھے، تادم وفات تقریبا ۲۸؍سال مسلسل اداریے لکھے، اہم علمی و ادبی مضامین پر خصوصی نوٹ لگائے، دینی اور بلند پایہ علمی صحافت کا ایک معیار قائم کیا، مدرسۂ نسواں قائم کرکے پورے خطے کی بچیوں کو اسلامی علوم سے روشناس کیا، دنیا کے مختلف موتمرات، کانفرنسوں اور اجلاسوں میں نمائندگی کی اور حق ادا کیا، شعرو سخن کے پامال کوچہ میں بھی استاذیت کا درجہ حاصل کیا، باطل افکار و نظریات پر نثر کے دو بدونظم میں بھی رد و قدح کیا، خطابت میں روانی، لطافت، انشائیت، حسن انتخاب، علمیت اور حد درجہ تاثیر ان کی پہچان بن گئی تھی۔
انشاپردازی (تحریر) اور زبان آوری (تقریر) دونوں کشوروں کے یکساں تاجدار تھے، سخن سنجی اور اعلی مذاقی ان کے طائر کمال کے شہپر تھے، ندوہ اور سلفیہ کے بیک وقت فیض یافتہ تھے۔
اس عظمت کے علی الرغم مزاج میں چاشنی، طبیعت میں نرم خوئی اورفطرت میں خنکی تھی، بڑوں کا احترام اور چھوٹوں پر شفقت و محبت ان کی زندگی کا ایک نہایت خوبصورت پہلو تھا، سخاوت و فیاضی غالبا ان کا خاندانی وصف تھا، آج یہ ساری خوبیاں بیک وقت کھو گئیں، یہ سارے اوصاف آج منوں مٹی کے نیچے دب جائیں گے، یہ ساری خوبیاں ایسی تھیں جن کا ہر شخص قائل تھا، زندگی میں بھی اور موت کے بعد بھی۔۔۔۔۔ آہ اے عظیم کردار آج تو ہمارے درمیان نہیں، ہماری بزم علم سونی ہوگئی ، تو نظر آئے نہ آئے ہمیشہ لوگوں کے دل تیری یادوں سے آباد رہیں گے، تیری خوبیاں اور کمالات و فضائل نہاں خانۂ دل میں محفوظ ہیں جو پیکر دعا بن کر بارگاہ فیاض ازل کے حضور سجدہ ریز ہوتے رہیں گے۔
زندگانی تھی تری مہتاب سے تابندہ تر
راہ بقا کے مسافر! آج تو قافلہ محبت کو داغ مفارقت دے کر رخصت ہوگیا اور محبت ادھوری رہ گئی، کیا تجھے خبر نہیں کہ یادوں کے نمک زندگی کے زخم پر ایک ناسور بن گئے ہیں، قافلہ کا ہر رکن تجھے یاد کرکے رو پڑتا ہے، آہ تیری ہر ہر ادا اب ایک موہوم خواب بن کر رہ گئی، ہائے یہ زندگانی کس قدر حقیر اور بے معنی ہے، ایک وقت وہ بھی آئے گا کہ شجر ثقافت و عرفاں کا ہر ہر پتہ ٹوٹ کر داستان پارینہ بن جائے گا، اس وقت تماشہ گاہ عالم کی رونق اجڑ جائے گی، آسمان شعور و آگہی کے چند تارے مہ کامل بن کر بزم گیتی میں اپنی کرنیں بکھیر رہے ہیں اللہ ایمان و یقین اور صحت و عافیت کی قندیل سے ان کی زندگی کو تادیر روشن رکھے۔
مولانا عبداللہ مدنی رحمہ اللہ کے ساتھ یادیں دیرینہ بھی ہیں اور بے شمار بھی، ابھی ۱۶؍اکتوبر کو ایک عالمی کانفرنس میں شرکت کے لیے کشمیر انہی کی رفاقت میں جانا ہوا، دہلی تشریف لائے اور یہاں ایک آدھ دن قیام کے بعد ہم وہاں گئے، ہمارا یہ قافلہ شیخ ڈاکٹر وصی اللہ عباس (پروفیسر جامعہ ام القری مکہ، و مدرس حرم مکی) شیخ عبدالمعید مدنی، شیخ عبدالوہاب خلجی، شیخ عبداللہ مدنی پر مشتمل تھا، شیخ رضاء اللہ عبدالکریم مدنی بیماری کی وجہ سے نہ جا سکے، اور شیخ صلاح الدین مقبول احمد مدنی کچھ پہلے جا چکے تھے، اس میں ان اکابرین کی صحبت بڑی خوبصورت اور مفید رہی، حیرت ہوئی کہ ڈاکٹر وصی اللہ حفظہ اللہ کو عربی شاعری کے ساتھ اردو شاعری پر بڑی اچھی نگاہ ہے، علامہ تقی الدین ہلالی مراکشی کے لمبے قصیدے زبانی سنائے اور بتایا کہ علامہ مراکشی کے بہت سے نادر قصیدے صرف میرے پاس تھے جو شیخ مشہور حسن سلمان (تلمیذ شیخ البانی رحمہ اللہ) کی طلب پر انھیں دے دیے، ان اکابرین کے مابین اردو شاعری پر پورے سفر گفتگو ہوتی رہی، اس وقت اندازہ ہوا کہ ہمارے ممدوح شیخ عبداللہ مدنی کا ذخیر ہ شعرو سخن بڑا عظیم ہے، شعری تبادلے کی یہ بزم بڑی خوبصورت لگی، خاکسار بھی کبھی کبھی جرأت کر لیتا، بات جام و مینا کی چل رہی تھی موضوع سے ہم رشتہ جگر مراد آبادی کا ایک شعر پڑھا گیا:
یہ جناب شیخ کا فلسفہ جو میری سمجھ میں نہ آسکا
جو یہاں پیو تو حرام ہے جو وہاں پیو تو حلال ہے
تو شیخ عبداللہ مدنی رحمہ اللہ نے برجستہ کسی شاعر کا جوابی شعر سنایا، افسوس کہ وہ شعر یاد نہ رہا۔
جب کشمیر (سر ینگر) پہنچے تو ایر پورٹ پہ آپ کافی آہستگی سے عصا کے سہارے آگے بڑھ رہے تھے، تو میں نے کہا شیخ ابھی کچھ ہی مدت قبل تو آپ کی صحت بالکل ٹھیک ٹھاک تھی اور اب۔۔۔۔۔ تو مسکرا کر جواب دیا کہ میاں اب بھی تو ٹھیک ہی ہے مگر تجربات کی روشنی میں یہ بات سمجھ چکا ہوں کہ یہ قوم بغیر ڈنڈے کے اب ماننے والی نہیں اور یہ شعر پڑھا۔
عصا نہ ہو تو کلیمی ہے کار بے بنیاد
سری نگر پہنچے تو ہم سب کا قیام ایک ہی ہوٹل ’’ریان‘‘ میں تھا، ہمارا اور شیخ عبدالمعید مدنی صاحب کا انتظام ایک ہی روم میں تھا، تین دن کے قیام کے دوران کھانے پر اجتماع ہوتا، شیخ عبدالمعید صاحب اور شیخ عبداللہ مدنی اور یہ ناچیز اکثر اکٹھا ہوتے، ایک دن تو عشائیہ کے بعد ہوٹل کی طعام گاہ میں کافی دیر تک مختلف موضوعات پر باتیں کرتے رہے، دونوں بزرگوں میں ناصرف حد درجہ بے تکلفی تھی بلکہ غیر معمولی محبت تھی اور اس محبت میں احترام و توقیر کی خوبصورت آمیزش تھی۔
صورتیں آنکھوں میں پنہاں اور نقشے یاد ہیں
کیسی کیسی صحبتیں خواب پریشاں ہوگئیں
اس عالمی کانفرنس کی خوبی یہ تھی کہ اس میں ہندوستان کے چیدہ اور چنندہ اکابرین جماعت موجود تھے، حضرت ڈاکٹر وصی اللہ عباس،شیخ صلاح الدین مقبول احمد مدنی، شیخ عبدالمعید مدنی، شیخ عبدالوہاب خلجی، شیخ عبداللہ مدنی، شیخ اشفاق سلفی (دربھنگہ) مولانا محمد مقبول آکھرنی، شیخ شمیم فوزی جیسے افاضل اور ذی وقار اصحاب علم و فضل اکٹھا تھے، اتنا خوبصورت اجتماع کم از اکم ہم نے نہ دیکھا تھا، معاصر اہل علم کے باہمی تعلقات میں محبت و عقیدت کا جو عنصر ان حضرات میں دیکھنے میں آیا نایاب نہیں توکم یاب ضرور ہے۔ شیخ عبداللہ مدنی رحمہ اللہ سب کا اعزاز فرماتے اور سارے آپ کا، شیخ مرحوم کی تقریر توحید کے موضوع پر ہوئی، موضوع کی خشکی کے باوجود کلام میں رعنائیت اور دلکشی بلا کی تھی۔ ان کا انشائی انداز تقریر میں جاذبیت پیدا کر دیتا تھا، یہی وہ چیز تھی جو انھیں میدان خطابت میں دوسروں سے ممتاز کرتی تھی، مولانا رحمہ اللہ نے چوں کہ پہلی مرتبہ کشمیر کا سفر کیا تھا اس کے لیے ایک نظم بھی کہی تھی جس کا ایک شعر اس طرح تھا۔
کشاں کشاں میں جس غرض سے کاشمر رواں ہوا
غرض جو آشکار ہو وہ آتش چناب ہے
کشمیر سے واپسی کے وقت وہی قافلہ ساتھ تھا، دہلی پہنچے سب کی راہیں الگ ہوگئیں، ڈاکٹر وصی اللہ عباس صاحب وہیں سے مکہ چلے گئے، خلجی صاحب اپنے گھر، خاکسار اور شیخ مرحوم کو ساتھ جمعیت آفس آنا تھا، رش بہت زیادہ تھا اس لیے ایئر پورٹ سے اوکھلا کا سفر پانچ گھنٹے میں طے ہوا، اس دوران ہماری شیخ سے بہت کھل کر باتیں ہوئیں، ان سے ان کی زندگی کی بابت بڑی تفصیل سے سوالات کیے اور انھوں نے بڑی محبت سے بہت سی باتیں بتائیں کہ قطر، کویت، بنگلہ دیش، لندن وغیرہ ملکوں میں نیپال کی جانب سے نمائندگی میں نے کی، بعض پروگراموں میں عربی میں جو تأثرات پیش کیے وہ اپنی مثال آپ تھے، میں نے بارہا ان سے کہا یہ ساری قیمتی معلومات اور تجربات آپ تحریر کیوں نہیں فرماتے، نئی نسل کو ان چیزوں کی بابت کچھ خبر نہیں، تو سراپا محبت و تواضع سے فرمایا، ارے میاں راشد! کرنے کے اور بھی بہت سے کام ہیں۔ میں نے شیخ الحدیث علامہ عبیداللہ رحمانی مبارکپوری سے ایک انٹر ویو لیا تو شیخ نے یہ کہا: یہ سب چیزیں تو بڑے لوگوں سے لی جاتی ہیں اور بڑے لوگ اپنی بابت کچھ لکھتے ہیں، مولانا مرحوم نے (دادا مرحوم) شیخ صاحب کے حوالہ سے یہ بات نقل کی تو مجھے خاموشی کے علاوہ کوئی راہ نظر نہ آئی، اس سفر میں بہت سے اشعار بھی سنائے، خود ان کی آواز میں میرے موبائل میں کچھ اشعار ان کی اجازت سے محفوظ کر لیے تھے، اقبال و فضا کو وہ بہت بڑا سمجھتے تھے اسی لیے اقبال کے ساتھ ساتھ فضا کے بہت سے اشعار یا دتھے، ان میں یہ اشعار تھے:
کبھی کبھی بڑی شدت سے سوچتا ہوں میں
کہیں کہیں مرے ماحول کے جبینوں پر
خروش و سوز و جراحت کا اک غبار ہے کیوں
نفس نفس میں وہی شعلہ کیوں پگھلتا ہے
قدم قدم پہ وہی حشر روزگار ہے کیوں
مولانا مدنی کو فضا ابن فیضی سے بڑا گہرا لگاؤ تھا انھیں ادبی مدرسہ کا شیخ کامل سمجھتے تھے، یہی وجہ ہے کہ اپنے شعری مجموعہ جو ہنوز غیر مطبوع ہے، کا انتساب حضرت فضاؔ کے نام کیا ہے، ساتھ ہی مدرسہ خدیجۃ الکبری کا ترانہ بھی حضرت فضا ابن فیضی کا ہی ہے۔
فانوس حرا سے گہوارہ روشن ہے خدیجہ کبری کا
دیوار ہے قصر ایماں کی روزن ہے خدیجہ کبری کا
موجودہ علمی تنزلی کے عہد میں حضرت فضا کے ادبی افق کی آفاقیت کا اندازہ لگانا بھی ہر کہ و مہ کے بس کا نہیں، فی الواقع وہ اس دور کے تھے ہی نہیں، اگر وہ غالب کے معاصر ہوتے تو لوگ میرؔ کے بجائے غالب سے ان کا موازنہ کرتے۔ حقیقت بھی ہے، یہی وجہ ہے کہ جب شیخ عبدالمعید مدنی حفظہ اللہ نے ’’فضا ابن فیضی کی نعتیہ شاعری‘‘ پر ایک جامع مضمون محدث کے صفحات پر لکھا تو حضرت فضا نے تاثر آمیز لہجے میں کہا کہ میری شاعری کو اس طرح بھی سمجھنے والے لوگ ہیں؟
ایک چیز یہ بھی ملاحظہ کی کہ شیخ مرحوم دعاؤں کا خصوصی اہتمام فرماتے تھے اور صبح و شام کے اذکار تو خصوصیت کے ساتھ۔ زہد و تقوی اہل علم کی خاص پہچان ہے، یہ چیز بہت کم لوگ جانتے ہوں گے کہ مولانا مرحوم قائم باللیل تھے، روحانیت کی پاکیزگی کا اہتمام فرماتے تھے، اللہ تعالی ان کی لغزشوں کو در گذر فرماکر اعلی علیین میں جگہ دے۔
ایک مرتبہ جمعیت کے آفس میں تشریف رکھتے تھے، بلایا اور کافی دیر تک مختلف موضوعات پر بات کرتے رہے، اس کے بعد کرب انگیز لہجے میں کہنے لگے: راشد! جب میں ان سفید داڑھیوں (اپنی طرف اشارہ کرتے ہوئے) کے پیچھے ان کالی داڑھیوں کو دیکھتا ہوں تو ایک طرح کا سکون و سرور حاصل ہوتا ہے، مولانا مرحوم کی یہ بات سن کر میں ان کی طرف غور سے دیکھنے لگا، دل میں ایک عجیب سا احساس جاگا اور بات ختم ہوگئی، اس وقت تو ان باتوں کا صحیح مطلب نہ سمجھ سکا مگر اب سوچتا ہوں تو آنکھیں بھر آتی ہیں کہ وہ کس طرف تیاری میں مصروف تھے، مولانا ہر لکھنے پڑھنے والے نوجوان کو بے حد عزیز رکھتے تھے-

ابھی گذشتہ دنوں (خریجی الجامعات السعودیہ) کا دہلی میں پروگرام ہوا، آپ بھی تشریف لائے، شیخ عبدالمعید مدنی خراماں خراماں آرہے تھے، مشفقانہ ملے اور ڈاکٹر شمس کمال صاحب سے تعارف کرایا، تعارف کے اخیر میں یہ بھی کہا یہ عربی اور اردو اچھی لکھتے ہیں، یہاں یہ نقل کرنے کا مقصد صرف اور صرف یہ ہے کہ مولانا مرحوم خردوں کی حوصلہ افزائی اور توقیر کس طرح فرماتے تھے، مولانا سے جس قدر بھی ملاقات رہی خوبیاں ہی خوبیاں دیکھیں، ایسی کہ اب یہ چیزیں خال خال نظر آتی ہیں، مولانا جفا کش اور محنتی اتنے تھے کہ کسی تحریر یا پروگرام کی تیاری میں پوری رات جاگتے اور مطالعہ کرتے رہتے، یہ میرا ذاتی مشاہدہ ہے، ان کے ساتھ ہمیشہ ایک چھوٹا سا لیپ ٹاپ ہوتا جس میں مطالعہ کرتے تھے، انھوں نے خود بتایا کہ ٹی وی کے پروگراموں میں پورے قرآن کی تفسیر بھی شامل تھی، دس پاروں کی تفسیر آپ نے کی اور اس میں جس قدر محنت کرنا پڑی جس جانکاہی سے کام لینا پڑاوہ انہی کا حصہ ہے، رات رات بھر مختلف تفاسیر کا مطالعہ کرتے، چھان بین کرتے تب اسے پیش کرتے کیوں کہ وہ پوری دنیا کے سامنے پیش کرنا ہوتا تھا۔

اسی طرح مولانا مرحوم بہت سلیقہ مند اور شائستہ تھے، ان کی ہر ہر چیز سے ادب، سلیقہ مندی، ہنر مندی اور اعلی مذاقی کا مظاہرہ ہوتا تھا، سفر کرتے تو ضرورت کا ہر سامان رکھتے حتی کہ جب دہلی آکر کبھی کسی فندق میں قیام کرتے اور ہم ملنے کے لیے جاتے تو ضیافت کے لیے طرح طرح کی چیزیں پیش کرتے، سفر میں ان کے چھوٹے بھائی محترم زاہد آزاد یا شیخ عبدالعظیم مدنی صاحبان ساتھ ہوتے وہ چائے بنا کر ضرور پلاتے، لباس و پیرہن میں خوشبو اور ستھرائی کا نوابی مزاج تھا اور وہ دوسروں کو بھی اسی طرح دیکھنا چاہتے تھے۔ الحاصل ہر چیز منظم و مرتبط۔ طبیعت بڑی ظریفانہ واقع ہوئی تھی مجلس کو اپنے ادبی لطیفوں اور چٹکلوں سے زعفران زار بنائے رکھتے تھے، ان کی زبان میں فیاض ازل نے اس قدر لطافت اور شیرینی دے رکھی تھی کہ جی چاہتا تھا وہ بات کرتے رہیں اور ہم سنتے رہیں، ہر بات ناپ تول کر بولتے،’’زِنِ الکلام اِذانطقت‘‘ کے پورے مصداق ، خود انھوں نے وفات سے کچھ دنوں قبل جو نظم کہی اس کا پہلا شعر اس طرح ہے:
مری کتاب زیست کا ہر اک ورق گلاب ہے
زبان عطر بیز سے عدو کو بھی جواب ہے
اسی طرح کی مناسبتوں سے فرزدق کا یہ شعر جو انھوں نے اپنے معاصر جریر پر فخر کرتے ہوئے کہا تھا۔ بڑی شدت کے ساتھ یاد آتا ہے:

اولئک آبائی فجنئی بمثلھم
اذا جمعتنا یا جریر المجامع

اے جریر! یہ ہمارے آباء و اجداد ہیں جب تمھارے یہاں بزم آرائیاں ہوں تو ان جیسے باعظمت لوگ لا کر دکھاؤ۔
اردو کا یہ شعر بھی۔ ایسا کہاں سے لاؤں کہ تجھ سا کہوں جسے
یہ دنیا بھی بڑی عجیب ہے انسان دنیوی لذات میں قلابازیاں کھاتا پھرتا ہے، آج حالت اس قدر بگڑ چکی ہے کہ انسان جاہ و منصب اور قوت کے نشہ میں بد مست ہے، اسے دوسروں کو ذلیل کرنے میں لطف آتا ہے، اپنے جاہ و منصب اور اپنی قوت کا استعمال بے محابا کرتا پھرتا ہے، اس کا تصور یہ ہے کہ قوت کے غرور میں اس کا کوئی بال بیکا بھی نہیں کر سکتا، مگر ہائے کوئی بتلائے کہ بارگاہ الٰہی میں جو اب دہی کا احساس بھی کوئی چیز ہے، کہ انسانیت اور شرافت بھی کوئی چیز ہے، شرافت و محبت کا بدلہ دعا اور محبت ہوتی ہے مگر بد خلقی اور رذالت کا جواب بد دعا اور نفرت ہوتی ہے، دونوں چیزیں ہمیشہ یاد رکھی جاتی ہیں اور موقع بہ موقع جھلکتی بھی ہیں، مگر ان یادوں کے خانے الگ الگ انداز کے ہوتے ہیں، مولانا مرحوم کے یہاں بفضلہ تعالی ہر چیز کی فراوانی تھی، جاہ و منصب، دولت و شہرت اور علم و ہنر کی تو بلندیوں پر تھے مگر ان تمام کے باوجود وہ مجمع کمالات و فضائل تھے، ان کی شخصیت ہمیشہ محبت و عقیدت اور شفقت کا مجموعہ بنی رہی، گھر ہو یا باہر جہاں بھی رہے محبت ہی بانٹتے رہے، یہ ان کی زندگی کا بہت نمایاں اور تابناک پہلو ہے۔ یہ ساری چیزیں بڑی شدت سے یاد آرہی ہیں اور دل کی اتھاہ گہرائیوں سے مولانا کے لیے دعائیں نکلتی ہیں، اظہار عقیدت کے الگ الگ طریقے ہوتے ہیں، لکھنے والے لکھتے ہیں اور شعراء غم کو قوافی کی لڑیوں میں پروتے ہیں۔ ’’دموع القوافی فی عیون المراثی‘‘ مصطفی قاسم عباس کا ایک رسالہ ہے، اس کے کچھ جملے اچھے لگے:

کل واحد منا في ھذہ الحیاۃ قد یتجرع کأس الفراق و ذاق علقم الفقد ولوعۃ الوداع وسکب دموع القلوب قبل العیون۔۔۔۔۔۔ والإنسان عندما یودع مسافرا فإنہ یعیش علی أمل اللقاء بہ ولو بعد حین، و أما عندما یودع إنسانا تحت أطباق الثری فإنہ لاأمل لہ في لقائہ بھدہ الدنیا، وتراہ یکرر مع الشاعر قولہ:
وما الدھر إلا جامع و مفرق
وما الناس إلا راحل و مودع
فإ ن نحن عشنا یجمع اللہ شملنا
و إن نحن متنا فالقیامۃ تجمع
نعم کأس الفراق مر، ولکن ھذہ الدنیا، مھما عمر الإنسان فیھا فمصیرہ إلی التراب ومفارقۃ الأھل والأصحاب والأحباب۔
ساعۃ الفراق، کل یعبر عما یجیش في نفسہ بطریقتہ، فھذا بالنحیب، وذاک بالبکاء والدموع، وغیرہ بالعویل، والآخر بالصبر والسلوان۔
أما الشعراء فتتحول دموعھم إلی مراثی حزینۃ، حروفھا الأحزان، وسفرھا قلب مضنی، وقا فیتھا اللوعۃ والأسی، وبحرھا فی فیضانات العبرات۔۔۔۔

اس حیات مستعار میں ہر شخص جام فرقت گھونٹ گھونٹ کر کے پیتا ہے، جدائی کی تلخی اور بچھڑنے کی سوزش کا مزہ چکھتا ہے، آنکھ سے پہلے دل کے آنسو بہاتا ہے۔ انسان جب کسی مسافر کو سلام الوداع کہتا ہے تو اس سے ملاقات کی امید رہتی ہے ایک عرصہ بعد ہی سہی، مگر جب انسان مٹی کے منوں نیچے کسی کو الوداع کہتا ہے تو پھر اس دنیا میں ملاقات کی امید ختم ہو جاتی ہے، شاعر کا یہ شعر اس کی زبان پر رواں ہوتا ہے۔
زمانہ لوگوں کو یکجا جمع کرتا اور بکھیرتا ہے، اور کچھ لوگ کوچ کرنے والے ہوتے ہیں کچھ انھیں الوداع کہتے ہیں
اگر زندگی رہی تو اللہ ہمارے شیرازے کو اکٹھا کرے گا، اگر موت سے دوچار ہوئے تو قیامت ہی ہمیں اکٹھا کرے گی۔
ہاں! فراق کا جام بہت تلخ ہوتاہے لیکن کیا کریں یہی دنیا کی ریت ہے، انسان کی زندگی جس قدربھی طویل ہو اس کا انجام قبر کی مٹی اور دوست و احباب اور اہل و عیال سے بچھڑ جانا ہے۔
فراق کی گھڑیوں کی کرب ا نگیزی ہر شخص اپنے انداز سے ظاہر کرتا ہے، کچھ سخت گریہ کرکے، کچھ آہوں اور آنسوؤں سے، بعض چیخ و پکار سے اور دیگر صبر و شکیب سے ظاہر کرتے ہیں، مگر شعراء کے آنسو غم انگیز مرثیہ خوانی میں بدل جاتے ہیں، مرثیہ کے حروف غم کے نالے، اجزاء لاغر قلب، قوافی سوزش اور کرب، اور اس کی زمین اشکوں کا سیل رواں ہو جاتی ہے۔
اسلامی تاریخ میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے نبی کریم ﷺ کی وفات پر پہلا مرثیہ کہا تھا، جس میں نبی ﷺ سے محبت اور فرقت پر غم کا اظہار ہے:

لما رأیت نبینا متجندلا
ضاقت علی بعرضھن الدور
فارتاع قلبي عند ذاک لموتہ
والعظم منی ما حیت کسیر
أعتیق(۱)، ویحک! إن خلک قد ثوی
والصبر عندک مابقیت یسیر
یا لیتنی من قبل مھلک صاحبی
غُبیت في لحد علیہ ضحور
(السیرۃ النبویۃ للصلابي:۲؍۷۰۹)

ترجمہ: جب میں نے دیکھا نبی ﷺ فوت کر گئے، توبام و در کشادگی کے باوجود تنگ ہو گئے۔ نبی کی موت سے دل تڑپ اٹھا، اور تادم حیات کے لیے ہڈیاں ٹوٹ گئیں۔ اے ابو بکر تم پر اللہ رحم فرمائے تیرا دوست قبر میں اقامت گزیں ہو گیا، اب تیری زندگی میں صبر زیادہ آسان چیز ہے۔ اے کاش دوست کی وفات سے قبل میں ایسی لحد میں روپوش ہوگیا ہوتا جس پر چٹانیں ہوں۔
اکابرین رفتہ رفتہ رخت سفر باندھ رہے ہیں، پرانے بادہ کش اٹھتے جارہے ہیں، ظاہر ہے کسی کو بقاء دوام نہیں یہ صرف اللہ تعالی کی صفت ہے، دل کی سختی کا عالم یہ ہے کہ کوئی عبرت نہیں اور درماندگی کا عالم یہ ہے کہ بڑوں کی رحلت سے دل کٹ کٹ جاتا ہے۔
عالمیت میں ہم نے دیوان الحماسہ کے صرف باب المراثی کے سو سے زائد اشعار یاد کیے تھے اس وقت ایک عبیدۃ بن طیب (جو کہ ایک مسلمان شاعر تھے اور نعمان بن مقرن کے ساتھ مدائن کی جنگ میں شریک تھے) کا ایک مرثیہ بڑی شدت سے یاد آرہا ہے، جس کے ذریعہ شاید دل محزوں کی کچھ ترجمانی ہو:

علیک سلام اللہ قیس بن عاصم ورحمتہ ماشاء أن یترحما(۲)
تحیۃ من غادرتہ غرض الردی إذا زار عن شحط بلادک سلما
فما کان قیس ھلکہ ھلک واحد ولکنہ بنیان قوم تھدما

ترجمہ: اے قیس بن عاصم! تجھ پر اللہ کی طرف سے سلامتی ہو اور اس کی رحمتیں ہمیشہ تجھ پر اترتی رہیں۔ اس شخص کی جانب سے سلام محبت قبول کرو جس کو تم ہلاکت کے نشانہ پر چھوڑ گئے اس کی عادت ہے کہ جب وہ دور دراز سے تمھارے شہر آتا ہے تو تجھے سلام کہتا ہے، قیس کی موت کسی ایک شخص کی موت نہیں بلکہ سچ یہ ہے کہ پوری قوم کی عمارت منہدم ہوگئی۔
(۱) کلام عرب میں یہ اسلوب عام ہے کہ کسی وفات شدہ شخص کو تحیہ و سلام پیش کرتے وقت ’’علیک‘‘ کے لفظ کو مقدم کرتے ہیں۔اسی طرح ’’ماشاء أن یترحما‘‘ کا مطلب ہوتا ہے جب تک اللہ تعالی کے رحم کی مشیت ہو، یعنی فقید پر ہمیشہ رحمت کی برکھا برستی رہے۔
(۲) عتیق حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کا لقب تھا، اللہ کے رسول ﷺ نے حضرت ابو بکر سے فرمایا: أنت عتیق اللہ من النار۔ اللہ تعالی نے تمھیں جہنم کی آگ سے آزاد کر دیا ہے۔ (الاحسان فی تقریب صحیح ابن حبان،۱۵؍۲۸۰، محققین نے اسناد کو صحیح کہا ہے)
جھنڈا نگر میں مدرسہ خدیجۃ الکبری کی عقبی جہت میں مولانا کی تدفین ہوئی، نماز جنازہ اسی سے متصل ایک میدان میں پڑھی گئی، انسانوں کا ایک ہجوم تھا، خصوصا ارباب علم و دانش ایک بڑی تعداد میں شریک تھے، جامعہ سلفیہ بنارس کے کبار اساتذہ، جامعہ اسلامیہ دریا آباد کے تمام اسٹاف، جامعہ اثریہ مئو، جامعہ عالیہ عربیہ مئو، جامعہ سراج العلوم جھنڈا نگر، جامعہ سراج العلوم بونڈیہار، مدرسہ خیر العلوم ڈومریاگنج، صفا شریعت کالج ڈومریاگنج، نوگڈھ معہدالرشد اور دیگر مقامی و غیر مقامی تمام مدارس کے افاضل موجود تھے۔ جد محترم حضرت مولانا عبدالرحمن رحمانی مبارکپوری حفظہ اللہ وتولاہ نے نماز جنازہ پڑھائی، پھر ایک یادگار نعش حوالۂ قبر کر دی گئی۔ ہم نے دیکھا پہلی مرتبہ جھنڈا نگر کی آنکھیں کھل کر برسی ہیں، اس کا علم دانش آج پھر سرنگوں ہوگیا، زندگی کا ایک ایسا جنازہ دیکھا جس میں کبار اہل علم بلک بلک کر رو رہے تھے، اس عظیم شخصیت کی وفات پر خواص و عوام سب یکساں طور پر کبیدہ خاطر تھے۔
اللہ تعالی حضرت مولانا رحمہ اللہ کی مغفرت فرمائے، ان کے پس ماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے، انھوں نے اپنے پیچھے جو علمی گلشن چھوڑا ہے اس کی حفاظت اور ترقی عطا فرمائے، ہم اس کے علاوہ اور کیا کہہ سکتے ہیں: إنا بفراقک لمحزونون، إن العین لتدمع وإن القلب لیحزن ولا نقول إلا مایرضی ربنا۔
جی چاہتا ہے اخیر میں خاتمہ کے طور پر نامور عالم دین شخ محترم مولانا صلاح الدین مقبول أحمد مدنی ؍حفظہ اللہ و تولاہ کی شاندار نظم کے کچھ اشعار نقل کر دوں جو انھوں نے اپنے مخلص دوست کی رفاقت پر ان کے جنازہ سے واپسی کے دوران سفر ہی میں کہی تھی۔ اس نظم کی بڑی خوبی یہ ہے کہ اس میں ان کے تمام کمالات و محاسن کو نہایت خوبصورت انداز میں پرویا گیا ہے جس کا مبالغہ سے دور دور تک بھی تعلق نہیں نیز ان کی اہم خدمات اور اوصاف بھی شامل نظم ہیں، شاعری کی زبان میں یہ عالمانہ اسلوب نایاب نہیں تو کم یاب ضرور ہے۔

وہ محرّرؔ وہ سخنورؔ اور نقّادؔ و ادیبؔ
’’نورِؔ توحید‘‘ ان کا اردوئے معلّی کا نقیب
خوش لباس و خوش کلام و خوش نوا و خوش نصیب
اپنے اخلاق و ادب سے تھے حبیبوں کے حبیب

مزید:
دعوتؔ و تبلیغ میں ان کو حکیمانہ شعور
شستگی، شائستگی کا تھا خطابت میں ظہور
ان کا اندازِ بیاں تھا باعثِ کیف و سرور
کوئی خود رائی نہ تھی ان میں، نہ تھا کچھ بھی غرور

شہرت و علم و ہنر میں فیضِ ربّانی رہے
وہ تعلّق میں وقارِ بزمِ انسانی رہے
دامنِ کوہِ ہمالہؔ میں وہ لاثانی رہے
اوّلیںؔ وہ بانیِ تعلیمِ نسوانی رہے

مال و دولت کا خزینہ اور نہ کوئی تخت و تاج
شغلِ تعلیم و تعلّم ہی رہا ہے کام کاج
بن گیا تھا بس کفافِ عیش ہی ان کا مزاج
اب کہاں ملتے ہیں ایسے باوفا ڈھونڈھے سے آج

ان کی فرقت سے شناسا ہر کو ئی رنجور ہے
خانۂ دل ان کی یادوں سے مگر معمور ہے

آپ کے تبصرے

avatar