مجھے بھی (metoo)

شوکت پرویز معاملات

“مجھے بھی جنسی طور پر ہراساں کیا گیا۔”

جنسی ہراسانی کے خلاف ہالی ووڈ، امریکہ سے شروع ہونے والی یہ موومینٹ دھیرے دھیرے دوسرے ممالک میں بھی نظر آنے لگی ہے۔ اس میں کئی بڑے نام بھی سامنے آ رہے ہیں۔ یہاں تک کہ ان لوگوں پر بھی جنسی ہراسانی کا الزام لگ رہا ہے جو خود جنسی ہراسانی کی صفائی کے لیے کالے کپڑے پہن کر احتجاج کرتے رہے ہیں۔

1972 میں آئی اطالوی فلم “لاسٹ ٹینگو ان پیرس” کی اداکارہ ماریا شینیڈر نے 35 سال بعد 2007 میں انکشاف کیا کہ اس فلم میں ان کی مرضی کے خلاف ان پر ایک جنسی منظر فلمایا گیا جو پہلے سے طے نہیں تھا اور جس کے لیے وہ تیار نہیں تھیں۔ لیکن چونکہ اس وقت وہ کم عمر تھیں اس لیے مجبورا انھیں وہ سین کرنا پڑا تھا۔

حالیہ دنوں میں بالی ووڈ اداکارہ تنوشری دتہ نے الزام لگایا ہےکہ دس سال قبل، 2008 میں آئی فلم ہارن اوکے پلیز کے ایک نغمہ کی شوٹنگ کے دوران انھیں جنسی طور پر ہراساں کیا گیا تھا۔

اسی طرح کنگنا راناوت نے بھی ایک ڈائریکٹر پر الزام لگایا ہے کہ “جب بھی ہم سماجی طور پر کہیں ملتے تو وہ ڈائریکٹر اپنا چہرا میری گردن پر گڑا دیتا، مجھے جکڑ لیتا اور میری زلفوں میں اپنی سانسیں گھولتا۔مجھے اس کی جکڑ سے نکلنے کے لیے بڑا زور لگانا پڑتا۔ وہ کہتا کہ مجھے تمھاری خوشبو بڑی پیاری لگتی ہے۔۔۔”

یہ تو چند مثالیں ہیں۔ آگے ہم تفصیل میں جائے بغیر صرف کچھ نام ذکر کر رہے ہیں، جنھیں جنسی ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

ریزوتھرسپون، امیریکا فیریرا، جینیفر لاورنس، مولی رنگویلڈ، لیڈی گاگا، گیبریلی یونین، ایوان راکیل ووڈ، میلانی لنسکے، جورک گونڈس ڈوٹر، پیٹریشیا آرکیٹ، ایزا ڈک ہیکیٹ، ہلیری برٹن، جینی سلیٹ، روزریو ڈاسن، ڈیبرا میسنگ، انیکا نونیروز، فیلیشیا ڈے، کِمیا ڈاسن، اِلانا گلیزر، ٹریسی لزیٹ، وایلا ڈیوس، شیرلن یی، میکیلا مرونی، مورین ریان، جینس ہِرش، لاورا ڈرن، اینا فارس، جیسیکا بارتھ، گیبی ڈاگلس۔۔۔

یہ ان شخصیات کے نام ہیں جنھیں نسبتا بااختیار (ایمپاورڈ) سمجھا جاتا ہے، اور ان کی اکثریت اس انڈسٹری سے تعلق رکھتی ہے جسے نسبتا ذمہ دار مانا جاتا ہے، وہ اس طرح کہ یہ انڈسٹری لوگوں کی سوچ کو رخ دینے میں اپنا الگ ہی مقام رکھتی ہے۔

مجھے بھی (metoo) نامی یہ سونامی نہ جانے اور کتنی مضبوط عمارتوں میں ہلچل پیدا کرے گی۔ اس معاملہ میں غور کرنے والی ایک بات یہ بھی ہے کہ جنسی ہراسانی کے شکار یہ مظلوم کئی کئی سال بعد اپنی بپتا باہر لا رہے ہیں۔ جس سے اندازہ یہی لگتا ہے کہ مستقبل میں اور کئی سفید پوشوں کے لباس گرد آلود ہونے والے ہیں۔

قمر جلالوی کا ایک شعر یاد آ رہا ہے:

اب آگے اس میں تمہارا بھی نام آئے گا
جو حکم ہو تو یہیں چھوڑ دوں فسانے کو

یہ دیکھ کر صاف پتہ چلتا ہے کہ ان ظالموں کو کسی دنیاوی قانون کا ڈر نہیں۔ بلکہ یہ تو انسان کی فطرت ہے کہ اگر اسے پکڑے جانے کا ڈر نہ ہو تو وہ ضرور گناہ کرے گا۔ اس کا ایک ہی علاج ہے کہ اسے کسی ایسے نظام کا ڈر ہو جس میں اس کا پکڑا جانا یقینی ہو۔ پھر وہ احتساب بھلے ہی اس دنیا میں نہ ہو کر دوسری دنیا میں ہو۔

یہاں ہم قرآن کی دو آیتیں اور ان کا ترجمہ پیش کر کے اپنی بات ختم کرتے ہیں۔

كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ ۗ وَإِنَّمَا تُوَفَّوْنَ أُجُورَكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ۖ

آخر کار ہر شخص کو مرنا ہے اور تم سب اپنے اپنے پورے اجر قیامت کے روز پانے والے ہو (آل عمران، 185)

فَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ وَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ

پھر جس نے ذرہ برابر نیکی کی ہوگی وہ اس کو دیکھ لے گا، اور جس نے ذرہ برابر بدی کی ہوگی وہ اس کو دیکھ لے گا (زلزال 7،8)

آپ کے تبصرے

avatar