مسلم لڑکیوں میں بڑھتا ہوا فتنۂ ارتداد

عزیر احمد تعلیم و تربیت

ہندوستان میں ’’بین المذاہب ویواہ‘‘ ہمیشہ سے ایک مسئلہ رہا ہے، گزشتہ کئی دہائیوں سے ہندو رائٹ ونگ تنظیمیں اس کے خلاف آواز اٹھاتی رہی ہیں، کیونکہ وہ ایسا سوچتی ہیں کہ مسلمان ایک متعینہ ہدف اور مقصد کے ساتھ ہندو لڑکیوں کو گمراہ کیے جارہے ہیں، اسی وجہ سے انھوں نے ’’لو جہاد‘‘ کا شوشہ بھی چھوڑا تھا تاکہ مسلمانوں کو ہم وطنوں کی نظر میں مطعون کیا جاسکے اور ان کے خلاف ماحول بنایا جاسکے- لیکن گزشتہ کچھ دنوں سے فتنۂ ارتداد کی خبریں سن کر ایسا لگ رہا ہے کہ رائٹ ونگ تنظیموں نے تو محض ہو ا کھڑا کیا تھا، اس پریشانی سے تو سب سے زیادہ خود مسلمان جوجھ رہے ہیں، اور حقیقت بھی یہی ہے- اگر زمینی سطح پر جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوگا کہ مسلمان لڑکیوں کا غیر مسلموں سے شادی کرنے کا تناسب ہندو لڑکیوں کا مسلمان لڑکوں سے شادی کرنے سے کہیں زیادہ ہے، یہ الگ بات ہے کہ اس طرح کے کیس عموما مسلم والدین کی جانب سے عزت نفس کے خوف کی وجہ سے پبلک میں آنے سے رہ جاتے ہیں، وہ سوچتے ہیں کہ جو عزت جانی تھی وہ تو جاچکی، اب اس مسئلے کو مزید اٹھانے سے صرف گندگی ہی ہاتھ لگے گی، جن کو نہیں جاننا تھا وہ بھی جان جائیں گے، اس لیے خاموشی ہی بہتر ہے- جب کہ رائٹ ونگ تنظیموں کا معاملہ یہ ہے کہ ہندو مسلم فساد کرانے کی خاطر اس طرح کی خبریں عموما ’’وضع‘‘ بھی کردیا کرتے ہیں تاکہ کسی طرح سے تو سیاسی فائدہ حاصل کیا جاسکے۔

کچھ عرصہ پہلے میں نے ’’عورتوں کے غیر مسلموں سے شادی کرنے‘‘ کے تعلق سے ایک مضمون لکھا تھا، اب دوبارہ پھر لکھ رہا ہوں کیونکہ یہ ایسا فتنہ ہے جو ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتا ہی چلا جارہا ہے- اور یہ ان موضوعات سے تعلق رکھتا ہے جس پر مسلم طبقے کی قیادت کوسنجیدگی سے غور کرنے اور اس کے علاج کے لیے لائحہ عمل تیار کرنے کی ضرورت ہے۔

مسلم لڑکیوں کے لیے غیر مخلوط جدید نظام تعلیم کا نہ پایا جانا:
مسلم لڑکیوں کا محض ہندو لڑکوں سے شادی کرنے کی غرض سے مرتد ہوجانا نہایت ہی افسوسناک ہے، بہت ساری چیزیں ہیں جو ارتداد کے اس فتنے میں معاون اور مددگار ہیں، ان میں سب سے اہم تو میں ”عورتوں کے لیے الگ اور مناسب تعلیمی اداروں” کی کمی مانتا ہوں- نسواں ادارے قائم ضرور کیے گئے ہیں، مگر عصر حاضر کی بنیادوں پر وہ بالکل کھرا نہیں اترتے ہیں، اس میں پڑھنے والی لڑکیاں جاہل کی جاہل ہی رہ جاتیں ہیں، نتیجہ کے طور پرجب باپ اپنی پہلی بیٹی کو نسواں میں بھیجنے اور اسے پڑھانے کے بعد یہ دیکھتا ہے کہ اس کی تعلیم تو اس قابل نہیں کہ اس کی وجہ سے اس کے لیے مناسب اور پڑھا لکھا ایک بہترین خاندان کا رشتہ مل سکے، یا بعد میں شادی اور بچے ہونے پروہ اپنے آل اولاد کی تربیت کرسکے، ماں جو کہ اولاد کے لیے پہلا مدرسہ ہوتی ہے ،وہ ان کے لیے اچھا مدرسہ ثابت ہوسکے، تو وہ اس کے سوا کچھ نہیں کرتا ہے کہ اپنی دیگر بچیوں کو نسواں میں پڑھانا بند کردیتا ہے، نیز اپنے رشتے داروں کو بھی مشورہ دیتا ہے کہ وہ نہ پڑھائیں کیونکہ اس میں پڑھنا نہ پڑھنا برابر ہی ہے- تو پھر اس راستے کو ترک کرنے کے بعد اب تو ہو نہیں سکتا کہ ماں باپ اپنی بچیوں کو تعلیم ہی دلانا بند کردیں، وہ ایسا بالکل نہیں کریں گے کیونکہ ان کے سامنے مستقبل کا بھیانک ہیولا آکھڑا ہوتا ہے جس میں وہ دیکھتے ہیں کہ اگر بچی پڑھے گی نہیں، اس کے پاس ڈگری نہیں ہوگی تو اس سے شادی کون کرے گا؟ پھر لے دے کران کے پاس ایک ہی راستہ رہ جاتا ہے کہ ماں باپ بچی کو ”ماڈرن ایجوکیشن” دلائیں، جو کہ اکثر اوقات پہلی تعلیم سے بھی زیادہ خطرناک ثابت ہوتا ہے، کیونکہ اس میں تعلیم تو مل جاتی ہے، مگر جو مناسب دینی تربیت ہے وہ بالکل نہیں مل پاتی ہے، جس کی وجہ سے بچیاں دین اسلام سے دور ہوتی چلی جاتی ہیں، اور پھر ایک دن ایسا آتا ہے کہ ان کے لیے مذہب اسلام اور دیگر مذاہب عالم میں فرق نظر آنا بند ہوجاتا ہے- پھر انھیں کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وہ مسلم سے شادی کر رہی ہیں یا غیر مسلم سے۔
تیس کروڑ امت مسلمہ ہندکے لیے اس سے زیادہ شرم کی بات اور کوئی نہیں ہوسکتی کہ ان کے پاس ہزاروں مدارس تو ہیں، بچوں کی تعلیم کے لیے سینکڑوں کالجز تو ہیں، مگر بچیوں کی دینی تعلیم و تربیت کے ساتھ ماڈرن ایجوکیشن کا کوئی سسٹم نہیں، ان کے لیے الگ سے کوئی انتظام نہیں، کوئی انسٹیٹیوٹ نہیں، کوئی کالج نہیں، جو مختلف ایجوکیشنل بورڈ سے ملحق ہو، یونیورسٹیوں سے ملحق ہو، جہاں وہ اپنی ”نسوانیت کے حسن” کو برقرار رکھتے ہوئے تعلیم و تعلم کے فریضے کو انجام دے سکیں، تو اب بچیاں کیا کریں گی؟ ان کے والدین انھیں ہرحال میں تعلیم دلائیں گے ، پھر چاہے مخلوط تعلیم ہی کیوں نہ ہو؟ بھلے ہی اس میں غیر مسلم بچوں کی اکثریت کیوں نہ ہو؟ سوچیے ذرا جب بچیاں ان اداروں میں تعلیم حاصل کریں گی جو مخلوط بھی ہوں، نیز غیرمسلم بھی تو پھر انجام کیا ہوگا اندازہ لگایا جاسکتا ہے- اس وجہ سے مجھے لگتا ہے کہ عورتوں کے ارتداد کے مسئلے میں یہ سب سے اہم فیکٹر ہے جسے سلجھائے بغیر عقدہ کشائی نہیں ہونے والی، علماء کرام و زعماء اور قائدین کو سر جوڑ کر بیٹھنا چاہیے اور بچیوں کے لیے اسلامی ماحول میں ماڈرن تعلیم حاصل کرنے کے ذرائع پر غور و فکر کرنی چاہیے- ہم لوگ یونیورسٹیوں میں پڑھتے ہیں، بہت ساری چیزیں دیکھتے ہیں، مشاہدہ کرتے ہیں، مگر خاموشی کو ترجیح دیتے ہیں، کیونکہ ہمیں معلوم ہے نقار خانے میں طوطی کی کون سننے والا ہے، گردش ایام جاری رہے گا، بولنے والے بول کر خاموش ہوجائیں گے، لکھنے والے لکھتے لکھتے تنگ آجائیں گے، مسئلہ اس وقت تک حل ہوگا جب تک مسئلے کے جڑ کو کاٹ کر نہیں پھینکا جائے گا۔

غربت اور جہالت:
واضح رہے کہ سابقہ مندرجہ بالا سبب کا تعلق ’’ایلیٹ‘‘ یا پھر’’متوسط طبقے‘‘ سے ہے، لیکن مسلمانوں کا ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو اپنے بچوں کی پڑھائی کے ساتھ بچیوں کی پڑھائی افورڈ نہیں کرسکتا ہے، یاپھر وہ خود ہی اتنا جاہل ہے کہ اسے تعلیم کی اہمیت کا ذرا بھی اندازہ نہیں ہے- یہ طبقہ زیادہ تر ’’دیہی علاقوں‘‘ میں پایا جاتا ہے، جہاں بچے صبح اٹھ کر کھیتوں میں کام کرنے کے لیے جاتے ہیں کیونکہ وہاں اتنی غربت ہے کہ اگر کام نہ کریں تو دو وقت کی روٹی نصیب نہ ہو- ہندوستان کی سب سے المنا ک بات یہ ہے کہ اس کی آبادی کا ایک بڑا حصہ بھوکے پیٹ سوتا ہے، اس طبقے کے لیے مذہب ضرور ہے مگر پیٹ سے بڑھ کر کوئی مذہب نہیں ہے، اور سونے پر سہاگا یہ کہ جب ہندو مسلم ایک ہی بستی میں رہتے ہیں، اگر مسلم کمیونٹی جاہل ہے یا غیر مسلموں کے مقابلے میں اقتصادی طور پر اس حد تک کمزور ہے کہ اسے اپنا پیٹ پالنے کے لیے غیر مسلموں کے کھیتوں، گھروں اور کھلیانوں پر انحصار کرنا پڑتا ہے تو پھر وہ اکثر غیرمسلموں کے تمام عادات و اطوار کو اپنا لیتے ہیں، ایسی صورت میں یہ بہت عام ہوجاتا ہے کہ مسلم لڑکیوں کے افیئر غیر مسلموں سے چل رہے ہوتے ہیں، یا وہ ’’پیسے‘‘ کی خاطر غیر مسلموں سے شادی کرنے پر راضی ہوجاتی ہیں تاکہ کم سے کم انھیں کام نہ کرنا پڑے اور پیٹ بھر کھانا نصیب ہوجائے، اور غیر مسلموں کے لیے اس سے زیادہ فخر کی بات تو اور کچھ نہیں ہوسکتی ہے کہ وہ ایک ’’ محمڈن‘‘ کو اپنے مذہب میں شامل کرادیں، بھلے ہی وہ صرف نام کے اعتبار سے مسلمان کیوں نہ ہو، کیا پتہ وہی ان کے ’’موکش‘‘ یا ’’نروان‘‘ کا سبب بن جائے۔

گھر پر دینی ماحول کا نہ ہونا:
لڑکیوں کے بگڑنے کا ایک اہم سبب گھر میں خود اسلام اور اسلامی تعلیمات کا نہ پایا جانا ہے- ہمارے مسلم معاشرے کا ایک کڑوا سچ یہ ہے کہ جتنی زیادہ مادیت پرستی لوگوں میں بڑھتی جاتی ہے، لوگ دین بیزار ہوتے جاتے ہیں، جب سطحی قسم کے لوگ عروج پاتے ہیں تو مذہب کو اپنی زندگیوں سے یوں عنقا کردیتے ہیں کہ اپنی آئیڈنٹی اور نام تک سے نفرت کرنے لگتے ہیں، انھیں لگتا ہے کہ بس ترقی کامعیار پیسے کا حصول ہی ہے، مذہب ، دین دھرم یہ سب چھوٹے لوگوں کے چونچلے اور غریب اور فارغ الاوقات ذہنوں کی پیداوار ہیں، اگر انسان معاشی طور پر مضبوط ہو تو اسے مذہب جیسے ’’اسٹیپنی‘‘ کی ضرورت ہی نہیں ہے، مذہب کے خلاف انسان کی یہ ’’کنزرویٹیو سوچ‘‘ انسان کو ہر قسم کی اخلاقیات سے عاری بناتی ہے، پھر فحاشیت اور برائی کا سیلاب گھر پر اس طرح اپنا غلبہ اور تسلط قائم کرلیتا ہے کہ باپ بیٹی اور ماں کے ساتھ مل کر بھی حیا باختہ فلمیں دیکھنے میں ذرا بھی شرم نہیں محسوس کرتا ہے- سوچیے ایسے ماحول میں جب کہ دین ثانوی حیثیت کا حامل بھی نہ رہ جائے تو بیٹی کے لیے کیا فرق پڑتا ہے کہ وہ کس کے بستر کی زینت بنتی ہے؟ کس کے نہیں؟ جس کی وجہ سے وہ اپنے ماں باپ کے چہرے پر کالک پوت کر جارہی ہے وہ کس مذہب کا ہے؟ یا کس دین دھرم کا ماننے والا ہے؟ جب وہ مذہب نامی چڑیا سے ناواقف ہے پھر وہ ہندو بنے یا عیسائی، اسے کیا فرق پڑنے والا ہے؟

لڑکیوں کی وقت پر شادی نہ کرنا:
ہمارے معاشرے میں فیمینزم کی تحریکوں کے زیر اثرایک نیا ٹرینڈ رواج پاتا جارہا ہے، اور وہ ہے وقت پر شادی نہ کرنا، والدین کی بھی سوچ بنتی جارہی ہے کہ جب تک لڑکوں کی طرح لڑکیاں بھی اپنے پیروں پر کھڑی نہ ہوجائیں ان کی شادی نہیں کرائی جائے گی، اور دوسری طرف خود لڑکوں کے والدین بھی اپنے بیٹے کے لیے ’’دودھاری گائے‘‘ چاہتے ہیں- پہلے ایسا ہوتا تھا کہ خوب زیادہ جہیز کی مانگ کرتے تھے، اب ذرا سا ہوشیار ہوگئے ہیں، اب جہیز کے ساتھ ساتھ لڑکی کا ’’ورکنگ‘‘ ہونا بھی شرط لگاتے ہیں، کیونکہ انھیں معلوم ہے کہ جہیز کے ذریعہ حاصل کردہ پیسہ تو ایک دن ختم ہوجانا ہے، لیکن اگر بہورانی ہر مہینے سیلری لاکر ہاتھ پررکھنے والی ہوئیں توزندگی بہت آرام و سکون کے ساتھ گزرنے لگے گی، اب اس کام کرنے، ترقی کرنے اور زندگی میں کچھ حاصل کرپانے کے چکر میں شادیوں میں جس قدر تاخیر ہوتی جارہی ہے، برائیوں کا گراف اسی قدر بڑھتا جارہا ہے، کیونکہ ’’سیکس‘‘ کرنا ایک انسانی فطرت اور خواہش ہے، اسے بہت زیادہ دنوں تک دبا کر نہیں رکھا جاسکتا ہے، اسلام دین فطرت ہے، اسی وجہ سے اس نے شادی کے لیے بلوغت کی شرط لگائی ہے، کہ انسان جب بالغ ہوجائے تو اس کی شادی کرادی جائے- ہندوستانی قانون کے مطابق لڑکی کی شادی کی مناسب عمر اٹھارہ جب کہ لڑکے کی اکیس سال ہے، میرا اپنا ماننا ہے کہ اگر لڑکی مخلوط اداروں میں تعلیم حاصل کررہی ہے تو تقریبا سترہ سال کی عمر تک پہنچتے پہنچتے اس کی منگنی کرادینی چاہیے بھلے ہی اس کا نکاح تھوڑا رک کر کرایا جائے، کیونکہ جب بچی کے دل میں کسی کے لیے خاص ہوجانے کا احساس جاگ جاتا ہے تو پھروہ اس کے لیے برائیوں سے بچنے میں بہت حد تک معاون اور مددگار ثابت ہوتا ہے، جہاں تک شادی کا مسئلہ ہے تو اکیس بائیس سال تک ہر حال میں کردینی چاہیے، اور پھر اگر وہ مزید پڑھنا چاہتی ہے تو یہ اس کے شوہر کی اخلاقی ذمہ داری ہے کہ اسے مزید پڑھنے سے نہ روکے، اس سے ایک فائدہ یہ ہوگا کہ جب وہ شادی شدہ ہونے کے بعد بھی کالج یا یونیورسٹی میں جائے گی، اور کلاس کے لڑکوں کو یہ بات معلوم بھی ہوگی تو بہت ممکن ہے کہ اس پر کوئی بھی لڑکا ڈورے ڈالنے سے احتراز کرے گا کیونکہ لوگ عموما خالی پلاٹ پاکر گھر تعمیر کرنے کی کوشش کرتے ہیں، پلاٹ پر جب پہلے سے گھر تعمیر ہوگا تو اس کو گرانے میں ذرا سی بھی کوشش کافی نقصاندہ ثابت ہوگی۔
لیکن اگر کسی وجہ سے اکیس یا بائیس سال تک شادی نہیں ہوپاتی ہے، تو زیادہ سے زیادہ چوبیس سال انتہا ہونی چاہیے، کیونکہ پھر اس کے بعد کوئی انتہا باقی نہیں بچتی ہے، اس کے بعد گزرنے والا ہر لمحہ ایک عورت کی موت ہوتا ہے، کیونکہ تقریبا نفسیاتی اعتبار سے اٹھارہ سال کے بعد ہی لڑکیاں چاہنے لگتی ہیں کہ کوئی ان کا ہاتھ تھامے، ان سے پیار بھری باتیں کرے، دکھ کی گھڑی میں انھیں تسلی دے، خوشی کے لمحوں میں انھیں پیار دے، اگر لڑکی کے گھر والے وقت پر اس کے لیے جیون ساتھی ڈھونڈنے میں ناکام رہ جاتے ہیں تو پھر لڑکی کالج ویونیورسٹی میں خود ہی ڈھونڈ لیتی ہے، بغیر کسی مذہبی تفریق کے۔
اب تو بعض شہروں میں یہ صورت حال ہوگئی ہے کہ لڑکیاں اٹھائیس اٹھائیس سال تک شادی نہیں کرتی ہیں، اس سے کوئی یہ خواب و خیال میں نہ لائے کہ اٹھائیس سال کا یہ لمبا عرصہ لڑکیاں یونہی گزار دیتی ہیں، بالکل نہیں، شاید کچھ شذوذ ضرور ہوں، مگر ان میں سے اکثر لڑکیوں کی حالت ایسی ہوجاتی ہے کہ ان کے لیے صرف نکاح کے دوبول رہ جاتے ہیں، بقیہ شادی شدہ زندگی وہ کئی بار گزار چکی ہوتی ہیں۔

لڑکیوں کا پرائیویٹ سیکٹرز میں جاب کرنا:
ابھی تک لڑکیوں کے ارتداد کی جتنی خبریں سامنے آئیں ہیں، ان میں سے ایک بڑی تعداد ان لڑکیوں کی ہے جو پرائیویٹ سیکٹرز میں کام کرتی ہیں، پرائیویٹ سیکٹرز کی زندگی چکا چوند کی زندگی ہوتی ہے، پیسے کی ریل پیل ہوتی ہے، بڑی بڑی گاڑیوں کی نمائش ہوتی ہے، جسے دیکھ کر ہر کام کرنے والی لڑکی انھیں حاصل کرنے کا سپنا دیکھنے لگتی ہے، ان کے خوابوں میں ایک ہینڈسم نوجوان ایک خوبصورت کار پر سوار ہوکر آنے لگتا ہے، اور انھیں ایک ایسے محل میں لے کر جاتا ہے جہاں آرام و آسائش کی ساری سہولتیں میسر ہوتی ہیں- یہ خواب ایک لڑکی کو ہر اس شخص کے قریب آنے پر مجبور کردیتا ہے جس کے ذریعے خواب کی تعبیر آسان معلوم ہوتی ہے- ایک تو وہاں پر مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد کا جمگھٹا ہوتا ہے جن کے لیے مذہب حقیقت میں ایک ثانوی چیز ہوتی ہے، جہاں بلندیوں پر پہنچنے کا خواب دکھایا جاتا ہے، دنیا کا سب سے امیر بننے کا سپنا دکھایا جاتا ہے، ایسی صورت حال میں اگرایک مسلم لڑکی اس انڈسٹری میں کام کرنے کے لیے قدم رکھتی ہے تو اگر وہ برقعہ پوش ہے تو سب سے پہلے اسے اپنے چہرے سے برقعہ ہٹانا پڑتا ہے- حالانکہ بہت کم ہی برقعہ پوش لڑکیاں گھر سے دور پرائیویٹ سیکٹرز میں کام کرنے آتی ہیں، اگر کمپنی کے ڈائریکٹیو میں سے برقعہ ہٹانا نہ بھی ہو تو ماحول ہی کچھ ایسا ہوتا ہے کہ کچھ ہی دنوں کے بعد برقعہ چہرے سے سرک ضرور جاتا ہے، پھر وہ اس زندگی میں جس قدر ڈوبتی جاتی ہیں ان کے دوست بنتے جاتے ہیں، برے اور بھلے کی تمیز مٹتی جاتی ہے، ترقی پانے کے لیے کچھ بھی کرنا پڑتا ہے، اور اگر لڑکی مسلم لبرل فیملی سے آرہی ہے تو اس کے لیے کوئی مانع نہیں ہوتا ہے کہ وہ اپنی طرف باس کے بڑھتے ہوئے ہاتھ کو روک دے، اور اگر کہیں باس شادی کا آفر کردے تو پھر سونے پر سہاگا، اس سے بہتر زندگی کون دے سکے گا؟

ماں باپ کا اپنی بیٹی کو وقت نہ دے پانا:
آج کل کے دور میں والدین اتنے بزی ہوگئے ہیں کہ ان کے پاس اپنے بچوں کے لیے وقت ہی نہیں، ظاہر سی بات ہے وقت کیسے رہے، مادیت نے انھیں اس قدر پیسے کا رسیا بنا دیا ہے کہ ماں اور باپ دونوں کام کرنے والے ہیں، ان کے پاس بچے کو دینے کے لیے وقت ہی نہیں، وہ کام سے تھکے ماندے ویسے ہی واپس آتے ہیں، بچوں کو وقت دیں یا آرام کریں، وہ سمجھتے ہیں کہ ہم نے بچوں کو اچھے سے اچھے اسکول میں ایڈمیشن کرادیا ہے، ان کی ٹیوشن لگا دی ہے، اب ان کی ذمہ داری ختم ہوگئی ہے، پیسے آگئے ہیں، سوچ بڑی ہوگئی ہے، بچوں کو ان کے خطوط کے مطابق زندگی گزارنے دیا جائے، تاکہ وہ اپنی زندگی میں آزادانہ فیصلے کرسکیں- انھیں لگتا ہے کہ اگر وہ اپنے بچوں کو ہر وقت ڈانٹیں گے، انھیں سمجھائیں گے کہ یہ کرو یہ نہ کرو، یہاں جاؤ وہاں نہ جاؤ، تو یہ ’’سرویلانس‘‘ اور قید کے مانند ہوگا، حالانکہ یہ مکمل غلط سوچ ہے، بچے صرف اچھے ٹیوشن اور ایجوکیشن کے محتاج نہیں ہوتے ہیں، بلکہ انھیں زندگی کے ہر موڑ پر رہنمائی کی ضرورت ہوتی ہے، ہر گھڑی اور ہر وقت وہ کیئر اور محبت کے محتاج ہوتے ہیں، اور جب انھیں گھر سے نہیں ملتی ہے تو اس کی تلاش وہ باہر شروع ہوتے کردیتے ہیں- وہ کتنے ہی بڑے کیوں نہ ہوجائیں والدین کے سامنے ہمیشہ چھوٹے ہی رہتے ہیں، اور اس معاملے میں لڑکیوں کے ساتھ اور مسئلہ ہے، اگر لڑکیوں کو ترقی اور روشن خیالی کے نام پر آزادی دے دی جاتی ہے، بیٹی کہاں جاتی ہے، کیا کرتی ہے، گھر والوں کا جب اس سے کوئی لینا دینا نہیں رہ جاتا ہے تو پھر بہت کم ہی ایسی ہوتی ہیں جو پاکدامن رہ پاتی ہیں- ماں باپ کو چاہیے کہ پہلے اپنی بچیوں کی تربیت اس نہج پر کریں کہ کبھی ان کا دل برائی کی طرف مائل ہو ہی نہ، اور اگر انھیں یونیورسٹی اور کالج میں پڑھنے جانا پڑے تو ماں باپ کی ذمہ داری ہے کہ اپنی بچی کو ہمیشہ سمجھائیں، اسے اسلام اور تقوی طہارت کی طرف بلائیں۔
ایک چیز ہم نے اکثر یہ دیکھا ہے کہ جب بیٹی غلط راستے کی طرف نکل پڑتی ہے تو ماں باپ کو اطلاع ہوتے ہوتے وہ کافی دور نکل چکی ہوتی ہے- حالانکہ کہا جاتا ہے کہ ماں بچی کی پرچھائیں ہوتی ہے، وہ صرف لڑکی کے انداز سے ہی پکڑلیتی ہے کہ وہ کن ہواؤں میں اڑ رہی ہے، لیکن آج کل چونکہ گھروں میں ’’اسپیس مینٹین‘‘ رکھنے کا اچھا خاصہ ٹرینڈ چل چکا ہے، گھر کے افراد ایک دوسرے سے کافی دوری بناکر رکھتے ہیں، بہت چھوٹی عمر سے سب کے کمرے الگ کردیے جاتے ہیں، اس لیے اگر بیٹی غلط راستے پر نکل بھی جاتی ہے تو گھر والوں کو جلدی جانکاری نہیں ہوپاتی ہے، پھر بعد میں جب پتہ چلتاہے کہ محترمہ رات رات بھر کسی سے باتیں کر رہی ہیں تو اپنی تمام تر روشن خیالی کے باوجود ایک مرتبہ والدین کے ماتھے پر شکن ضرور پڑتے ہیں، اور اس سے بڑھ کر جب انھیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ محترمہ کسی غیر مسلم سے عشق فرمارہی ہیں، اس سے شادی کرنے کے فراق میں ہیں تو شاید سوسائٹی اور سماج کا سوچ کر ان کے پیروں تلے زمین کھسکتے کھسکتے رہ جاتی ہے، وہ بچی پر سختی کرنا شروع کرتے ہیں تو اکثراس کا نتیجہ الٹا ہی بر آمد ہوتا ہے کیونکہ آپ کی بچی کو ابھی تک تو آپ کے ڈانٹ ڈپٹ کی عادت نہیں تھی، آپ نے اسے آزاد کھلا چھوڑ رکھا تھا، اب اگر آپ اسے نکیل پہنانے کی کوشش کریں گے تو وہ رسی تڑا کر ضرور بھاگے گی، وہ سرکشی اور بغاوت پر اتر آئے گی کیونکہ ایک طرف اس کا پیار ہوگا، اور اس پیار کو مضبوطی بخشنے والے بہت سارے فیکٹرز، اور دوسری طرف ظالم سماج کی شکل میں آپ ہوں گے، اس سیکولر ہندوستان میں تو پیار ہی کو جیتنا ہے- اگر آپ نے اسے بچپن سے اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں بتایا ہوتا، اسے اسلام کے عظیم الشان تاریخ سے واقف کرایا ہوتا، اسے صحابہ کرام رضی اللہ علیہم اجمعین کی جد وجہد سے روشناس کرایا ہوتا، اسے بدر و احد اور دیگر معرکوں کے بارے میں بتلایا ہوتا، اسے عرب کی تپتی صحراؤں پر جلتے ہوئے جسموں کے درد اور کسک کو محسوس کرایا ہوتا، بھوک اور پیاس سے تڑپ رہے شعب ابی طالب کے محصورین کے بارے میں سنایا ہوتا، صحابیات رضوان اللہ علیہن اجمعین کی پاکیزگی اور طہارت سے اس کی واقفیت کرائی ہوتی، اسے اماں عائشہ رضی اللہ عنہا کی عفت و پاکدامنی کے بارے میں خود اللہ کی گواہی کی بابت بتلایا ہوتا، اس کے سامنے اسلامی تاریخ کی عظیم الشان خواتین کا رول ماڈل پیش کیا ہوتا، اسے بتلایا ہوتا کہ اسلام عورتوں کے تئیں کتنا رحمت والا مذہب ثابت ہوا ہے، اسے کتنے مختلف حصوں سے وراثت میں حقدار بنایا ہے- اسے بتلایا ہوتا کہ بیٹا یہ اسلام بڑی محنتوں اور مشقتوں کے بعد ہم تک پہنچا ہے اور اللہ کا بے پایاں فضل و احسان ہے کہ اس نے ہمیں مسلم گھرانے میں پیدا کیا ہے، بیٹا یہی تمہاری شناخت ہے، یہی تمہارے لیے قابل فخر ہے، کبھی تم اسے بھولنا نہیں، کبھی تم اسے چھوڑنا نہیں، کبھی ان کے ہاتھوں میں اسلامی تاریخ کی کتابیں پکڑائی ہوتیں اور انھیں نصیحت کیا ہوتا کہ بیٹایہ ایک چودہ سو سالہ قوم کاآئینہ ہے، اسے تم سنبھال کر صرف رکھنا نہیں، بلکہ تم اس میں اپنا چہرہ اور مقام بھی دیکھنے کی کوشش کرنا کہ تم اس تاریخ کے آنے والے صفحات میں اپنے آپ کو کس طرح لکھا جانا چاہتی ہو تو شاید آج یہ حالت نہ ہوتی کہ تمھاری بیٹی کسی غیر مسلم کے ساتھ بھاگ رہی ہوتی، غیر مسلم کے ساتھ شادی کرنے کا مطلب سمجھتے ہو، یہی نا کہ اس نے ’’لا الہ الا اللہ ، محمد رسول اللہ‘‘ کا مطلب سمجھا ہی نہیں، یہی نا کہ اس نے اسلا م کو بس ایک رسم سمجھا یا شاید وہ بھی سمجھنا گوارہ نہیں کیا، سوچنا ضرور ،کیونکہ نہ سوچنے سے تو یہ حالت ہوچکی ہے کہ بحیثیت امت ہمیں کوئی احساس ذمہ داری نہیں، کب تک ساحل سمندر پر کھڑے ہوکر یوں موجوں کو تماشا کرتے رہیں گے، مستقبل میں کوئی بھی مسلم لڑکی کسی غیر مسلم کے ساتھ شادی نہ کرے اس کے لیے لائحہ عمل تیار کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

3
آپ کے تبصرے

avatar
3000
3 Comment threads
0 Thread replies
0 Followers
 
Most reacted comment
Hottest comment thread
3 Comment authors
شاکر عادل تیمیMahmood ayazAbdul Rehman Recent comment authors
newest oldest most voted
Abdul Rehman
Guest
Abdul Rehman
ماشااللہ بہترین
Mahmood ayaz
Guest
Mahmood ayaz
اس کے لئے سب سے پہلے اپنے لڑکوں کو وقت پر شادی اور بغیر کسی لالچ کے کرانے کا انتظامات کرنے چاہئے
شاکر عادل تیمی
Guest
شاکر عادل تیمی

مسلم گھرانوں میں برائیوں کے در آنے کی بنیادی وجہ دین بیزاری ہے،جس کے نتیجے میں مارڈن کلچر اور ننگی شقافت نے فروغ پایا،اور اب اس کی جڑیں اس قدر مضبوط ہوچکی ہیں کہ عریانیت وفحاشیت جو کل تک کے ہر سماج میں برائی سمجھی جاتی تھی،اب وہ احترام اور تقدیر کی تمثیل پیش کرتی ہے۔اور مسلم سماج تو اس طرز حیات پر ایسے گامزن ہے جیسے وہ ابتک فرسودہ تہذیب وثقافت کا حصہ تھا اور اس مغربی کلچر نے ان میں نئی روح ڈال دی ہو۔یہ نتیجہ ہے مرعوبیت اور احساس کمتری کا کہ ہم سامنے والے کی جانوروں… Read more »