ماب لنچنگ کا ایک اور شکار؛ ننھا عظیم

ہلال ہدایت متفرقات

مایوسی، غمی اور خوشی کے ملے جلے جذبات کے ساتھ ماں نے عظیم کو گھر سے وداع کیا ہوگا۔ مایوسی اس لیے کہ اس کا لاڈلا، اس کے جگر کا ٹکڑا، اس کی آنکھوں کا تارا، اس کی باہوں کا کھلونا آج اس سے الگ ہورہا ہے۔ خوشی اس لیے کہ وہ اپنی محبتوں، ہزاروں سپنوں، خواہشوں کے سامنے دین سے محبت اور والہانہ لگاؤ کو غیرمعمولی سمجھ رہی تھی۔ اس کے دل میں امنگ تھی کہ بیٹا ایک دن تعلیم حاصل کرکے دین کا نام روشن کرے گا، اس کا نام روشن کرے گا، اس کے لیے راہ نجات بنے گا۔
مائیں بڑی جذباتی ہوتی ہیں، لمحہ لمحہ بچوں کی یاد ستاتی ہے لیکن اس درد کو آنچل سے پوچھ لیتی ہیں۔ عظیم تو عظیم تھا اس نے اپنی والدہ کے دکھ کو نہ دیکھ کر ان سے الگ ہوگیا اور اپنے دو بڑے بھائیوں کے ساتھ ایک جھولا اور معمولی تھیلی لے کر اسکول کی طرف چل پڑا۔ عظیم عظیم تھا جو اس نے ماں کی ممتا کو قربان کیا اور اس کے سائے سے دور بہت دور دہلی کے مدرسہ فریدیہ مالویہ نگر میں تعلیم کی غرض سے نکل آیا۔ بہت خواب رہے ہوں گے عظیم کے دل میں، بہت سی حسرتیں رہی ہوں گی اس ننھے معصوم کے ذہن میں، بہت سی امیدیں وابستہ رہی ہوں گی ماں کی۔
ننھا معصوم عظیم دہلی میں ماں کی ممتا سے دور ہاسٹل میں مقیم تھا جہاں اساتذہ کی محبت، دوستوں کی یاری، بھائیوں کی شفقت اسے مزید حوصلہ دیتی رہی ہوگی۔ وہ روزانہ میدان میں چہکتا، کھیلتا اور پھدکتا رہا ہوگا، پھر اپنے آشیانے کو واپس آجاتا رہا ہوگا۔ اسے کیا خبر رہی ہوگی کہ دنیا میں کیا ہورہا ہے، عصبیت اور فرقہ پرستی کیا چیز ہوتی ہے۔ اسے تو بس یہی معلوم رہا ہوگا کہ میں معصوم ہوں تو پوری دنیا میری طرح معصوم ہوگی۔ آج اپنے ساتھی سے کاپی کے لیے لڑتا ہوں کسی دوسرے سے کتاب کو لے کر جھگڑتا ہوں اور پھر دوسرے لمحے باہوں میں باہیں ڈال کر، ککھن جوڑ کو کھیلنے نکل جاتا ہوں۔ کبھی پلیٹ اور تھالی کو لے کر بھی تُوتُو مَیں مَیں ہوجاتی ہے لیکن پلیٹ صاف کرنے کے ساتھ ساتھ دل بھی صاف ہوجاتے ہیں۔ اسے کیا خبر رہی ہوگی کہ میرے علاوہ بھی ایک دنیا بستی ہے جس کے سینے میں دل نہیں پتھر ہے جس کے ہاتھ میں ملائمت نہیں بے رحمی ہے۔ اس ننھے عظیم کو کیا خبر رہی ہوگی کہ آج کھیل کا میدان میرے لیے آخری میدان ثابت ہوگا، اسے کیا خبر رہی ہوگی کہ جس کی نفرت کی آگ کئی سالوں سے جلائی جارہی ہے اس کا ایک دن ایندھن میں بھی بنوں گا۔ جس بے دردی کا مظاہرہ پچھلے کئی سالوں سے کیا جا رہا ہے وہی میرے ساتھ میری عمر کے لوگ کریں گے۔ قلم چلھنی ہوا جارہا ہے لیکن حکومتی کارندے ہیں کہ سینے میں دل نہیں پوپلے لیے بیٹھے ہیں۔
عظیم تیری عظمت کو سلام تیری ماں کی مامتا کو سلام کہ اس نے پتا نہیں کتنے دن پہلے مدرسہ جانے کے لیے دیدہ تر اور حسرت سے روانہ کیا تھا۔ مدرسہ میں تعلیم تیری خوش بختی تھی، تو اسی راہ کا چشم و چراغ تھا جو اسلام کا راستہ ہے، تو اسی ڈگر پر چلنے کے لیے اپنے ننھے ننھے پاؤں پسارے تھا جو جنت کو جاتی ہے۔ تیری تعلیم تو مکمل نہیں ہوئی لیکن تو شہید ہوکر وہ مقام حاصل کرگیا جو تیرا مقصد تھا۔
آج ہر صاحب دل انسان پژمردہ ہے، ہر کسی کی زبان پر ایک ہی بات ہے کہ آخر کس چیز کی سزا اس عظیم معصوم کو دی گئی۔ کتنے شقی القلب رہے ہوں گے وہ لوگ جنھیں مسلسل کئی برسوں سے زہر میں گندھے ہوئے الفاظ اور باتیں بتائی جاتی رہیں کہ اس معصوم کو زمین پر پٹکا، موٹر سائیل پر دے مارا، آٹورکشا سے ٹکر دی اور جب جی نہیں بھرا تو گلے پر پیر رکھ کر کچل دیا اور نیم مردہ چھوڑ کر فرار ہوگئے۔ کتنی بے رحم ہے وہ عورت جس کے دل میں ماں کی ممتا نہیں بلکہ منہ میں زہر آلود زبان ہے، کس قدر بے رحم ہے وہ عورت جس نے کھلے لفظوں یہ دھمکی دی کہ ضرورت پڑی تو اوروں کو ماروں گی۔ مجھے لگتا ہے وہ عورت کے بھیس میں بھیڑنی ہے، عورت کے بھیس میں خونخوار آدم خور ہے، عورت نہیں بلکہ اسے کسی جنگلی درندے نے جنم دیا ہے۔ جس کے رحم سے اولاد نہیں بلکہ چَھونے پیدا ہوئے ہوں گے۔ ایسی زبان سن کر ایک ماں کا دل کانپ گیا ہوگا کہ آخر کیا ہوگیا کہ ایک عورت عورت کے درد کو محسوس نہ کرے اور زہر میں ڈوبی زبان درازی کرے۔ اے ڈائن تیری کرتوت سے آج انسانیت سمیت صنف نازک بھی شرمسار ہے۔ عظیم کی ماں نے اسے بڑی حسرتوں سے پالا رہا ہوگا، آج وہ بڑی بے خودی میں ہوگی۔ اس کے باپ کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا ہوگا، ان کا مستقبل تاریک نظر آرہا ہوگا۔ اللہ انھیں انصاف دلائے اور مجرموں کو کیفرکردار تک پہنچائے۔ آمین
مدرسے سے تعلیم یافتہ ہر شخص بخوبی واقف ہے کہ ہاسٹل میں اقامت پذیری کے تئیں ابتدا میں کس طرح کی تکلیف محسوس ہوتی ہے، چہرے اور دل پر کیسی مایوسی چھائی رہتی ہے تاہم دوستوں میں گھل مل جانے کے بعد کل کائنات یہی ہوتی ہے۔ کل شام کی بات ہے کہ میں جمعیت ابناء جامعہ سلفیہ کی میٹنگ میں شرکت کی غرض سے کرلا جارہا تھا، مقامی بس اسٹینڈ پر کھڑا بس کا انتظار کررہا تھا کہ دو چھوٹے چھوٹے سفید پوش معصوم بچے آئے اور بس کے انتظار میں ہمارے بغل میں کھڑے ہوگئے۔ جمعرات ہونے کے سبب وہ اپنے والدین اور اہل خانہ سے ملاقات کی غرض سے گھر جارہے تھے چہرے پر بشاشت تھی، دونوں کے ہاتھ میں پلاسٹک کی تھیلی تھی اور دونوں آپس میں مگن تھے جس سے صاف ظاہر ہورہا تھا کہ وہ کسی مدرسے کے طلباء ہیں اور گھر جارہے ہیں۔ والدین کو اس جانب توجہ دینی چاہیے کہ چھوٹے چھوٹے بچوں کو ممبئی جیسے شہر میں تنہا سفر نہ کرنے دیں، خدانخواستہ کوئی حادثہ پیش آجائے اور ہم بے خبر ہوں۔
آخری بات: آخر ہم کس دنیا میں ہیں کہ ایک انسان دوسرے انسان کے لہو کا پیاسا ہوگیا ہے؟ اور ہم لہو کے رنگ کو پہچان نہیں پارہے ہیں؟ آخر یہ کب رکے گا اور ماب لنچنگ پر کب روک لگے گی۔ کیوں نہیں مجرموں کو پھانسی دی جاتی؟ کون ہے جو ان کی پشت پناہی کررہا ہے؟ آج سیکولزم کی آوازیں کہاں گم ہوگئیں؟ آج وہ نام نہاد ترقی یافتہ عورتیں اور ان کی تنظمیں کہاں کھو گئیں جو عورتوں کی آزادی اور ان کے انصاف کی بات کرتی ہیں؟ عظیم کی ماں کو انصاف کون دلائے گا؟ اس منحوسہ اور مذمومہ عورت کو جس نے مزید قتل کی دھمکی دی ہے اسے پھانسی پر کون لٹکوائے گا؟ آخر کب ہم اس نادار گھرانے کو انصاف دلائیں گے؟ ماب لنچنگ کا مسئلہ انتہائی بھیانک صورت اختیار کرچکا ہے، سپریم کورٹ کی جانب سے دھمکی آمیز لہجے میں قدغن لگانے کی باتیں سامنے آچکی ہیں لیکن انتظامیہ کیوں مجرموں کی پشت پناہی کررہی ہے؟
انتہائی افسوس کا مقام ہے کہ ہم پوری طرح سے خاموش ہیں اور ہماری زبانیں گنگ ہیں۔ ریاستی حکومت بھی مون برت پر ہے۔ مرکزی حکومت تو پہلے ہی مسلمانوں کے سرعام قتل پر خاموش رہی ہے۔ آج مسلمانوں کے سوچنے کا مقام ہے کہ آخر ہم کس دنیا میں رہ رہے ہیں اور ہماری کیا اوقات ہے جو نوجوان تو نوجوان ہمارے معصوم اور ننھے ننھے پھول بھی مسل دیے جارہے ہیں۔اخلاق سے شروع ہونے والا ماب لنچنگ کا یہ معاملہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ اللہ محمد عظیم کے اہل وعیال کو صبر جمیل عطا فرمائے اور مجرموں کو کیفرکردار تک پہنچائے۔ آمین

1
آپ کے تبصرے

avatar
3000
1 Comment threads
0 Thread replies
0 Followers
 
Most reacted comment
Hottest comment thread
1 Comment authors
Naseem Ahmad Recent comment authors
newest oldest most voted
Naseem Ahmad
Guest
Naseem Ahmad
اللہ ! محمد عظیم کے اہل وعیال کو صبر جمیل عطا فرمائے اور مجرموں کو کیفرکردار تک پہنچائے۔ آمین