سعودی عرب کی راجدھانی ریاض میں “ڈافوس اِن ڈِزرٹ” عالمی اقتصادی فورم

سعودی عرب کی راجدھانی ریاض میں “ڈافوس اِن ڈِزرٹ” عالمی اقتصادی فورم

ریاض الدین مبارک متفرقات

منگل کے روز 23 اکتوبر 2018 کو سعودی عرب کی راجدھانی ریاض میں Future Investment Initiative فورم کے دوسرے ایڈیشن کا آغاز ہوا اور مکمل تین روز تک جاری رہا۔ اس فورم میں دنیا بھر سے 135 سے زائد مقرر اور ایکونومک ایکسپرٹ شریک رہے۔ یہ کانفرنس ریاض شہر کے رٹز کارلٹون ہوٹل میں منعقد ہوئی۔
خادم حرمین شریفین سلمان بن عبدالعزیز کی قیادت اور مختلف ممالک کے سربراہان، سرمایہ کار اور کئی مالیاتی اداروں کے اہم عہدیداروں کی موجودگی میں ولی عہد محمد بن سلمان نے اس عظیم اقتصادی فورم کا افتتاح کیا۔ یہاں اس پلیٹ فارم پر شہزادہ محمد بن سلمان کی موجودگی اس ناحیے سے بھی اہم تھی کہ وہ “سعودی پبلک انویسٹمنٹ فنڈ” (PIF) کے چیئرمین بھی ہیں۔

اس فورم کی چوٹی کانفرنس میں جس بات کا زیادہ اہتمام کیا گیا وہ تھا دور جدید کے نئے نئے چیلنجوں کا سامنا کرتے ہوئے اقتصادی امکانات دریافت کرنا۔ اس کانفرنس میں اس بات کا خاص خیال رکھا گیا کہ سرمایہ کاری کے اس فورم کی بدولت آگے کی معیشت کے نقوش مرتسم ہوسکیں اور دنیا بھر کے انویسٹرز سعودی عرب میں سرمایہ کر کے وہاں کی خوشحالی اور گوناگوں ترقی میں مثبت رول ادا کرسکیں۔
غور کیا جائے تو شروعات سے ہی عالمی منڈی پر براجمان کیپٹلسٹوں نے پورے شد ومد سے اس اقتصادی اقدام کی مخالفت شروع کردی تھی۔ اس کا اندازہ یوں لگائیں کہ اس “عالمی اقتصادی فورم” (WEF) جسکا ہیڈ آفس سوئیٹزرلینڈ کے شہر “ڈافوس” میں ہے، اسی مناسبت سے جب بھی کوئی ملک عالمی اقتصادی کانفرنس منعقد کرتا ہے تو اس کا نام ہوتا ہے “ڈافوس” تاکہ وہ اپنے مرکز کے ثقل سے پیوست رہے اور سرمایہ کار کو ایک گلوبل میسیج بھی دیا جائے کہ اسکی سرمایہ کاری عالمی ہے اور کسی حد تک یہ ادارہ اسکا پشت پناہ بھی ہے۔ سعودی عرب کی سرزمین میں یہ اقتصادی کانفرنس منعقد کرنے میں انہیں اس بات کا بڑا ملال تھا کہ اب سعودی جیسے ملک بھی سرمایہ کاری کا نظم و ضبط کرنے لگے ہیں جو ہمارا طرۂ امتیاز تھا چنانچہ اس تنظیم کے سرآوردہ اہلکاروں نے “ڈافوس” نام رکھنے سے یکسر انکار کردیا اور بڑی مشکلوں سے وہ “ڈافوس اِن ڈِزرٹ” نام پر رضامند ہوئے۔ ابھی یہ کسک باقی تھی کہ جمال خاشوگی کا المناک واقعہ پیش آگیا پھر کیا تھا منہ مانگی مراد بر آئی اور اس کانفرنس کو سبوتاژ کرنے کا انہیں اچھا بہانہ مل گیا۔ ان عالمی طاقتوں کی نظریں جمال خاشوگی کے قتل پر رحم کی اپیل اور اسکے ملزم کو کٹگھرے میں لا کھڑا کرنا کم سے کم اور سعودی میں طے شدہ کانفرنس کو ناکام بنانے میں خوب تر رہیں۔ ایک بات واضح ہے اور سب کو سمجھ میں آتا ہے کہ یہ دنیا جس میں فی الوقت ہم سب سانس لیتے ہیں، سرمایہ دارانہ نظام پر ہی مبنی ہے، یہاں سرمایہ دار اپنے مصلحت کی حفاظت کرنا اچھی طرح جانتا ہے۔ جوں جوں کانفرنس کی میعاد قریب آتی گئی بڑے بڑے سرمایہ داروں نے خود بھی اور اپنی کٹ پتلی حکومتوں کو خوب ورغلایا یہانتک کہ ان میں سے بیشتر نے بائیکاٹ کا اعلان کردیا اور کچھ نے اشک سوئی کے لئے اپنے نمائندے بھیج دئے تاکہ ان کا کشکول پورا کا پورا خالی نہ رہے بلکہ کچھ ریزکاریاں ضرور آ سکیں۔ “عالمی اقتصادی فورم” کی اس کانفرنس کا انعقاد ایسے وقت میں ہوا جب سعودی عرب کے اقتصاد کی شرح نمو اٹھان پر ہے۔ سعودی کے خزانے میں 8.1 ٹریلین ریال کا نقدی اسیٹ ہے اور ایکونومک گروتھ 4.1 فیصد ہوچکی ہے۔ سعودی عرب کے غیر ملکی زر مبادلہ کا ذخیرہ 480 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔ یہ اعدادو شمار اور اسکا معنی خیز امپیکٹ ہمیں شاید نہ معلوم ہو لیکن کیپٹلسٹ بہت اچھی طرح جانتے ہیں۔ وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ ان اعداد وشمار کی وجہ سے عالمی سطح پر سرمایہ کاری اور اقتصادی پہلو سے سعودی عرب کی اہمیت اور اسکی طاقت کے کیا اثرات مرتب ہوں گے۔
اس کانفرنس کے ایجنڈے میں جہاں اس بات پر فوکس کیا گیا کہ سعودی عرب میں معاشی اصلاحاتی پروجیکٹس کی طرف سے پیدا ہونے والے مواقع پر گلوبل ایگزیکیوٹیوز، سرمایہ کاروں اور کاروباری اداروں کے لئے قریب سے دیکھنے کے بے مثال مواقع پیدا کرنا ہے وہیں اس بات کا بھی خیال رکھا گیا کہ کانفرنس میں نوع بہ نوع تجارت، سرمایہ کاری اور ٹکنالوجی سے متعلق جدید ترین رجحانات پر چرچہ ہوسکے۔
یہ ایک ایسا مشترکہ پروگرام اور انٹرایکٹیو پلیٹ فارم تھا جو گہرے تعلقات، عمومی نقطہ نظر اور عالمی پیمانے پر بہترین پریکٹس کی شناخت کے لئے ڈیزائن کیا گیا تھا تاکہ مختلف ملکوں کے مختلف شعبوں میں سرکردہ اور با اثر شخصیات کے بیش قیمت تجربات سے کچھ خاص شعبہ جات یا مخصوص کمپنیوں کے لئے سرمایہ کاری کے مواقع تک پہونچنے کا نیا فہم وادراک حاصل کیا جائے۔
کانفرنس کا ایک مقصد یہ بھی تھا کہ سعودی میں اقتصادی نمو کے مواقع یقینی بنائے جائیں اور عالمی چیلنجوں کا مقابلہ کرنے میں سرمایہ کاری کے مؤثر رول پر روشنی ڈالی جائے۔ عالمی قیادت اور سرمایہ کار طویل مدتی ترقی کے لیے مل جل کر کام کرنے میں عالمی کمپنیوں، حکومتوں اور اداروں کے کردار کو بھی زیر بحث لائیں۔

پہلے روز کا ایک اہم سیشن مصنوعی ذکاء ومہارت، روبوٹکس، مجازی حقیقت کی ٹیکنالوجی، بھاری بھرکم ڈاٹا اور سوشل نیٹ ورکنگ، طبی سائنس اور سمارٹ انفرااسٹرکچر میں تازہ ترین پیش رفت کا جائزہ لینے کے لئے منعقد کیا گیا جہاں اکیسویں صدی میں شہروں کی از سر نو تعمیر کا عمل جاری ہے. اس سیشن کی صدارت فوکس بزنس کے عالمی مارکیٹ ایفیئرز کی ایڈیٹر ماریا پارتیریمو نے کی جس میں سوفٹ بینک اور بوسٹن ڈائنامکس کمپنیوں چیف ایکزیکیوٹیوز کے علاوہ روسی کمپنی روشین ڈائریکٹ انویسٹمنٹ فنڈ (RDIF) اور فرانسیسی کمپنی (TOTAL) کے ڈائریکٹرز اور کچھ دیگر اعلی پروفائل نام بھی شریک بزم رہے۔
اسی کانفرنس کے ایک سیشن میں مستقبل کے میگا منصوبوں کی ایک نمائش شامل رہی جو سعودی وزژن 2030 کا ایک بنیادی حصہ ہے. نمائش میں حصہ لینے والے شرکاء کو جدید ترین ٹیکنالوجی پر مبنی منفرد اور اَدࣿبھوت تجربے کی روشنی میں مستقبل کی خصوصیات کو تلاش کرنے کا ایک سنہری موقع فراہم کیا گیا.
دنیا کے ابھرتے ہوئے منظرنامے پر سرسری نگاہ دوڑانے سے پتہ چلتا ہے کہ سبھی بڑے ممالک اقتصادی شراکت کے میمورانڈام پر دستخط کرانے اور انٹرنیشنل انویسٹرز کو اپنے یہاں ہر قیمت پر لانے کے لئے ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی ہوڑ میں لگے ہوئے ہیں ۔ پوری دنیا سیاسی اور اقتصادی قلابازیاں دکھا رہی ہے، ہر سمت افراتفری مچی ہوئی ہے اور ہر کوئی فتنہ و فساد کے بازار میں سر گرم عمل ہے، ایسے پر فتن ماحول میں سعودی کی راجدھانی ریاض میں سرمایہ کاری فورم کے ابتدائی چند گھنٹوں کے اندر ہی پٹرول، گیس، مختلف صنعتوں اور انفرا اسٹرکچر کے شعبوں میں سعودی اور عالمی کمپنیوں کے درمیان 50 ارب ڈالر سے زیادہ لاگت کے 25 معاہدے طے پا گئے تھے۔ کانفرنس کی اس سے بڑی کامیابی اور کیا ہوگی! اب کانفرنس کے پہلے ہی دن 50 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے معاہدے دیکھ کر ان سب لوگوں کے ہوش اڑ گئے جنہوں نے بائیکاٹ کی مہم چھیڑ رکھی تھی اور تمام میڈیا کو ہائیجیک کرکے صرف سعودی مخالفت کی پر شور ٹرینڈ چلا رکھی تھی۔
سعودی کمپنی ارامکو نے تنہا 34 ارب ڈالر کی مالیت کے 15 ایگریمنٹس فرانس کی بڑی آیل کمپنی ٹوٹل، ہیلیبورٹن کمپنی، ہائونڈائی ہیوی انڈسٹریز اور ٹراویگورا گروپ کے ساتھ اسٹیج پر انجام دئے گئے۔ اس کے علاوہ دیگر ایگریمنٹس پر دستخط کرنیوالی کمپنیوں میں سر فہرست نورنکو، چلومبرگر اور پیکر ہیوز وغیرہ شامل ہیں۔ خبر ہے میونیخ بیسڈ جرمن کمپنی سیمنس Siemens نے اپنے عناد کی وجہ سے غیر حاضر رہ کر 20 ارب ڈالر کا متوقع ڈیل گنوا دیا ہے۔ بھلا بتائیں ان عالمی کمپنیوں کو یہاں اگر اسقدر عظیم الشان امکانات کا یقین نہ ہوتا تو وہ سعودی عرب کے ساتھ سرمایہ کارانہ شراکت کا فیصلہ کسی قیمت پر نہ کرتیں۔ ان کمپنیوں نے 50 ارب ڈالر کے معاہدے اس یقین کے تحت ہی کئے ہیں کہ سعودی عرب میں سرمایہ کاری کا ماحول پرکشش ہے۔ سعودی پبلک انویسٹمنٹ فنڈ (PIF) کی ٹرین دنیا بھر میں سرمایہ کاروں کا جلی عنوان بن گیا ہے جس ٹرین کے کسی بھی ڈبے پر دنیا بھر کے ممالک، کمپنیاں اور عالمی بینک سوار ہونے کے مشتاق ہیں۔ خطے میں ہر طرح کی اتھل پتھل کے باجود سعودی عرب نے بار بار پوری جرات سے ثابت کیا ہے کہ وہ ہر طرح کے سیاسی واقتصادی حالات سے نبرد آزما ہونے کی قدرت رکھتا ہے۔ اگر آج کوئی سعودی عرب میں سرمایہ نہیں لگائے گا تو مستقبل قریب میں اسے مکمل حرماں نصیبی ہوگی۔
فائنانشیل مارکیٹ کا مسئلہ کانفرنس کے دوسرے روز شرکاء کے مباحثوں پر چھایا رہا۔ عالمی سرمایہ کاروں نے مالیاتی اور سرمایہ کاری منڈیوں کے مستقبل سے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کیا اور ڈسکشنز میں سیر حاصل بحث کی۔

سرمایہ کاری فورم کی اس کانفرنس میں بھارت سے بھی کئی بڑی انویسٹمنٹ کمپنیوں کے چیف ایکزیکیوٹیوز کو شرکت کی دعوت دی گئی جو وہاں پہونچے بھی اور کچھ خاص سیشن میں انہوں نے اپنی بات بھی رکھی۔ جن میں اویو رومس (OYO Rooms) کے سی ای او رتیش اگروال، پے ٹی ایم (paytm) کے سی ای او وجے شیکھر شرما، نیشنل اسٹاک اکسچینج (NSE) کے سی ای او وکرم لیمائے، (MapMyGenome) کے سی ای او انو اچاریہ، (SUN Group) کے نائب چیئرمین شیو وکرم کھیمکا اور (Gumpro Drilling Fluids) کے سی ای او آنند گپتا اہم نام ہیں۔ اس لسٹ میں رتیش اگروال کا نام اس ناحیے سے بھی اہم ہے کہ پوری کانفرنس میں وہ سب سے نوجوان یعنی صرف 24 سال کی عمر کے تھے جنہوں نے 2013 میں بزنس شروع کیا اور دیکھتے دیکھتے وہ ملینائیر بن گئے۔ گو سعودی مارکیٹ میں اب تک انکا کوئی بزنس نہیں لیکن اب وہ وہاں انویسٹ کرنے کے متمنی ہیں اور اپنے بزنس کی توسیع کے لئے سعودی مارکیٹ کے امکانات کو ایکسپلور کر رہے ہیں۔

مختصرا اگر کہا جائے تو اس تین روزہ کانفرنس میں كل 28 ملکوں نے شرکت کی جس میں دس سربراہان ملک اور کئی عالمی شہرت یافتہ وزراء تھے، کل شرکاء کی تعداد تقریباً 3500 تھی جبکہ تین دنوں میں کل 30 سیشن منعقد ہوئے جن میں اسپیکروں کی تعداد 135 کے قریب رہی۔ 60 ارب ڈالر کی مالیت کے 30 ایگریمنٹس طے پائے اور ورلڈ وائڈ 2.6 ملین لوگوں نے لائیو اسٹریم دیکھا۔

کانفرنس کے انعقاد سے بیس روز پہلے تک سعودی عرب کی امیج مسخ کرنے کی جو ناروا کوششیں ہوئیں اور سرمایہ کاروں پر جس طرح کا دباؤ ڈال کر سعودی عرب میں سرمایہ کاری سے روکنے کی مہم چلائی گئی ان سب چیرہ دستیوں میں جو شیئ بطور خاص نظر آئی وہ صرف اور صرف تجارتی مفادات کا غلبہ تھا۔ جن ملکوں اور کمپنیوں کے سربراہوں نے جمال خاشوگی کے قتل کی آڑ میں اس اہم اقتصادی فورم کو بائیکاٹ کیا ان میں سے بیشتر نے ثانوی درجے کے اپنے مندوبین بھیجنے کا انتظام کیا تاکہ بالکل محرومی نہ ہو۔ کہا جا رہا ہے سعودی انویسٹمنٹ فنڈ کا حجم 2030 تک 2 ٹریلین ریال تک پہنچ جائیگا۔ بین الاقوامی سطح پر فنڈ کی سرمایہ کاری کا حجم 50 فیصد تک بڑھ جائیگا۔ یورپ، ایشیا، افریقہ اور برصغیر کو جوڑنے والے منفرد جغرافیائی محل وقوع کا مالک ہونے کے ناطے سعودی عرب ہر لحاظ سے غیر معمول اہمیت کا حامل ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ یہ ملک عالمی انویسٹمنٹ کیلئے نہایت جاذب نظر بنا ہوا ہے۔
دبی کے المشرق بینک کے ایگزیکیوٹیو چیئرمین عبدالعزیز الغریر نے العربیہ نیوز چینل سے گفتگو کرتے ہوئے پورے وثوق سے کہا کہ آنے والے تین برسوں کے دوران جو کوئی سعودی عرب میں سرمایہ کاری نہیں کرے گا وہ انویسٹمنٹس ٹرین پر سوار ہونے سے محروم رہ جائے گا۔

کانفرنس کے دوسرے دن ایک رپورٹر کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے ولی عہد محمد بن سلمان نے بڑے جوش وخروش سے باتیں کیں۔ جمال خاشوگی کے قتل کے بارے میں انہوں نے دو ٹوک کہا کہ ہمارے ملک میں عدل و انصاف کا ایک پیمانہ ہے کورٹ تحقیقاتی کمیشن کے ذریعے اس معاملے کی جانچ کررہا ہے الزام ثابت ہونے پر مجرم کو کیفر کردار تک پہنچا دیا جائیگا۔ واضح رہے ایک چیز بارہا مشاہدے میں آتی ہے کچھ لوگ ترکی اور سعودیہ کے مابین دراڑ پیدا کرنا چاہتے ہیں اس ضمن میں میں ایک بات واضح شکل میں بتاتا چلوں کہ جب تک سعودیہ میں سلمان بن عبدالعزیز نام کا ایک بادشاہ اور محمد بن سلمان نامی ولی عہد زندہ ہے اور ترکی میں اردوغان نام کا صدر موجود ہے کوئی شخص ہمارے درمیان دراڑ نہیں پیدا کرسکتا۔ اس جواب پر حاضرین کی تالیوں کی گڑگڑاہٹ سے پورا ہال گونج اٹھا!

سعودی اصلاحات کے منصوبوں اور سعودیوں کی عالی ہمت کی داد دیتے ہوئے محمد بن سلمان نے مزید کہا: ہم سعودیوں کے حوصلے پہاڑوں سے ملتے جلتے ہیں، ہم کسی قیمت پر پسپائی قبول نہیں کرتے، مشکل سے مشکل حالات میں ہم حل تلاش کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
خلیج کے تمام ممالک میں بھر پور پوٹینشیل ہے انہیں اکسپلور کیا جا رہا ہے اور سارے خلیجی ممالک اپنی اپنی سطح پر آگے بڑھ رہے ہیں، متحدہ عرب امارات خاص کر دبی اور دبی کے روح رواں شیخ محمد بن راشد حالیہ ترقی کا ایک نمونہ ہیں۔ صرف سعودیہ ہی نہیں بلکہ پورے خلیج اور مشرق وسطی کی ترقی ہمارا نصب العین ہے۔ خطے میں جو منصوبے اور پروجیکٹس چل رہے ہیں ان سے ایک خوشگوار ماحول بنے گا، تعمیر و ترقی کی ہماری کوششیں رائیگاں بالکل نہیں جائیں گی۔ مجھے امید ہے مستقبل کا یوروپ خلیج اور مشرق وسطی ہوگا۔ سعودی عرب کے تمام بڑے پروجیکٹس جاری وساری ہیں اور آگے بھی یونہی چلتے رہیں گے۔
محمد بن سلمان نے پورے جوش اور ولولے کے ساتھ کہا کہ میرا عزم جواں ہے، میں اپنی زندگی میں مشرق وسطی کو بطور لیڈر دیکھنا پسند کرونگا، ہمارے امکانات وسیع ترین اور ہمارے حوصلے بلند ہیں وہ دن ضرور آئے گا جب ہم مشرق وسطی کو دنیا کی امامت کرتا ہوا دیکھیں گے۔
ولی عہد محمد بن سلمان تین دنوں تک اس کانفرنس کو کشت زعفران بناتے ہوئے بس یہی کہتے رہے
صبحِ نو عبارت ہے میرے مسکرانے سے

آپ کے تبصرے

avatar