عربی سمجھنا کیوں ضروری ہے؟؟

شوکت پرویز تعلیم و تربیت

اللہ تعالی اپنی عبادت کرنے والوں کے اوصاف گِناتے ہوئے فرماتا ہے:

وَالَّذِينَ إِذَا ذُكِّرُوا بِآيَاتِ رَبِّهِمْ لَمْ يَخِرُّوا عَلَيْهَا صُمًّا وَعُمْيَانًا (سورہ فرقان:73)

اور جب انھیں ان کے رب کے کلام کی آیتیں سنائی جاتی ہیں تو وه اندھے بہرے ہو کر ان پر نہیں گرتے۔

اس آیت کو دیکھیے، اور تراویح کا وہ منظر یاد کیجیے جب امام کہتا ہے کہ پہلی /دوسری رکعت میں سجدہ ہے۔ اور پھر جب سجدہ تلاوت کا وقت آ جاتا ہے تو امام بھی قدرے کھینچ کر اللہ اکبر کہتا ہے تاکہ مقتدی حضرات آگاہ ہو جائیں کہ رکوع نہیں کرنا بلکہ سجدہ کرنا ہے۔ اور ہماری اکثریت بغیر سوچےسمجھے سجدے میں چلی جاتی ہے۔

پچھلے پیراگراف میں ہم نے جو “بغیر سوچے سمجھے” کے الفاظ پر اکتفا کیا ہے، تواس کی وجہ یہ ہے کہ یہاں ہمارا مقصد ناول نگاری نہیں، بلکہ ہماری اور آپ کی اصلاح ہے۔ ورنہ ہم بھی اس جگہ الفاظ و تعبیرات کا انبار لگا دیتے۔ سرِ دست ایک تعبیر بڑھا کر وہ جملہ دوبارہ لکھ دیتے ہیں:
اور ہماری اکثریت بغیر سوچےسمجھے “اندھی بہری ہو کر” سجدے میں چلی جاتی ہے۔

تعبیر کی سختی کے لیے معذرت! لیکن یہی حقیقت ہے۔ ہم جس طرح سجدے میں جاتے ہیں اس کے لیے ایک نرم، ہلکی، قابلِ قبول، غیر متشدد تعبیر ڈھونڈنے کے لیے جہاں جہاں جانا پڑے گا فی الحال ہمیں وہاں وہاں کا ویزا نہیں ملا ہے۔ اس لیے ابھی اسی تعبیر پر اپنی بات آگے بڑھاتے ہیں۔

مختصر سی بات ہے: ہمارا خالق نہیں چاہتا کہ ہم اس کی آیتوں پر اندھے بہروں کی طرح گریں۔ بلکہ وہ چاہتا ہے کہ ہم اس کی آیتوں پر سوچ سمجھ کر، غور و فکر کرتے ہوئے سجدے میں جائیں۔
اور یہ کب ممکن ہوگا؟؟
جب ہم عربی سمجھ سکیں گے۔

اے امتِ مسلمہ!
عربی سمجھ لینے کے بہت سے فائدے ہیں۔ ایک تو یہی کہ اللہ کی آیتوں پر اندھوں بہروں کی طرح گرنے کی بجائے ہم غور و فکر کرتے ہوئے سر، ذہن، خیال، دل، روح سمیت مکمل سجدہ ریز ہو جائیں گے۔ اور اس طرح نماز میں ہمارا خشوع و خضوع بھی بہتر ہونے لگے گا۔

یاد رکھیے! جب ہم بغیر سمجھے قرآنی آیات پڑھتے ہیں تو وہ ہم پر ویسا اثر نہیں کرتیں جیسا مقصود ہے۔ آپ تجربہ کر لیجیے۔
اللہ تعالی فرماتا ہے:

إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ إِذَا ذُكِرَ اللَّـهُ وَجِلَتْ قُلُوبُهُمْ وَإِذَا تُلِيَتْ عَلَيْهِمْ آيَاتُهُ زَادَتْهُمْ إِيمَانًا

بس ایمان والے تو ایسے ہوتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ کا ذکر آتا ہے تو ان کے قلوب ڈر جاتے ہیں اور جب اللہ کی آیتیں ان کو پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو وه آیتیں ان کے ایمان کو اور زیاده کردیتی ہیں (سورہ انفال 2)

پھر سے غور کیجیے۔ کیا اللہ کا ذکر ہمارے دلوں کو خوف دلاتا ہے؟ کیا اللہ کی آیتوں کی تلاوت ہمارے ایمان کو بڑھاتی ہے؟؟
اگر جواب ہاں ہے تو الحمد للہ۔ لیکن اگر جواب نہ ہے تو فورا اللہ کی طرف پلٹو اور اس جواب کو بدلنے کی حقیقی کوشش کرو۔ کیونکہ اللہ کی آیتیں جن کا ایمان نہیں بڑھاتیں وہ ممدوح نہیں، بلکہ مردود، محروم، ملعون اور مبغوض ہیں۔ کیونکہ اللہ تعالی فرماتا ہے:

وَإِذَا مَا أُنزِلَتْ سُورَةٌ فَمِنْهُم مَّن يَقُولُ أَيُّكُمْ زَادَتْهُ هَـٰذِهِ إِيمَانًا ۚ فَأَمَّا الَّذِينَ آمَنُوا فَزَادَتْهُمْ إِيمَانًا وَهُمْ يَسْتَبْشِرُونَ ﴿١٢٤﴾ وَأَمَّا الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٌ فَزَادَتْهُمْ رِجْسًا إِلَىٰ رِجْسِهِمْ وَمَاتُوا وَهُمْ كَافِرُونَ ﴿١٢٥﴾

اور جب کوئی سورت نازل کی جاتی ہے تو بعض منافقین کہتے ہیں کہ اس سورت نے تم میں سے کس کے ایمان کو زیاده کیا ہے، سو جو لوگ ایمان والے ہیں اس سورت نے ان کے ایمان کو زیاده کیا ہے اور وه خوش ہورہے ہیں۔ اور جن کے دلوں میں روگ ہے اس سورت نے ان میں ان کی گندگی کے ساتھ اور گندگی بڑھا دی اور وه حالت کفر ہی میں مر گئے۔ (سورہ توبہ 124-125)

اے اردو پر فخر کرنے والے مسلمانو!
خیرالقرون کے اسلاف کو یاد کرو۔ جب وہ تبلیغ کی غرض سے عرب سے نکل کر افریقہ پہنچے تو انھوں نے اسلام کو عربی سمیت پیش کیا۔ اور یہ ان کی محنتوں اور دور اندیشی ہی کا ثمرہ ہے کہ شمالی اور شمال مشرقی افریقی ممالک، جن کا عربی پڑھ پانا بھی مشکل ہونا چاہیے تھا ، آج ان کی مادری زبان عربی ہے۔

تو اے آخرت کی فکر کرنے والو!
کم از کم قرآن سمجھنے کی حد تک عربی ضرور سیکھو۔ مسجدوں اور مراکز کے ذمہ داروں سے درخواست کرو، ان پر زور ڈالو کہ بنیادی عربی زبان کی تعلیم کا بندو بست کریں۔ روز کے شیڈول سے سوشل میڈیا کا تیس منٹ نکال کر اسے عربی کی تعلیم میں ڈالو۔ جو وقت ایران و توران پرصَرف ہو رہا ہے اسے قرآنی عربی پر صَرف کرو۔ یقینا یہ ایک بہتر ین متبادل ثابت ہو گا۔

آپ کے تبصرے

avatar