صبحِ صادق مجھےمطلوب ہےکس سےمانگوں

ممتاز شاہد نیپالی

کسی بھی زندہ قوم کا قیمتی سرمایہ اس کی نوجوان نسل ہوتی ہے اور ان میں بھی ریڑھ کی ہڈی تعلیم یافتہ نوجوان ہی ہوا کرتے ہیں، ان تعلیم یافتہ افراد میں بھی وہ لوگ لائق ستائش ہوتے ہیں جنھیں ذوقی گہرائی میسر ہو، افکار وخیالات میں قائدانہ جذبہ کار فرما ہو، ذہنی و فکری حریت کے خواہاں ہوں، ملکی، معاشرتی اور سماجی نشیب و فراز پر گہری نظر رکھتے ہوں، معاملات و عقوبات میں غیرجانبداری کے متحمل ہوں، ایسے افراد ملک و ملت کی تعمیر وترقی میں بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس کے برعکس جن افراد کے اندر یہ ذہنی خوبیاں مفقود ہوکر جمود کا روپ اختیار کر لیتی ہیں، تخیلات میں فرسودگی سرایت کر جاتی ہے، دائرہ فکر میں نابالیدگی ڈیرا جما لیتی ہے وہ لوگ خود مضمحل اور دوسرے باذوق افراد کے لیے دردِ سر بن جاتے ہیں۔
ہمارے نوجوان طبقے میں ایسے بےشمار افراد ملیں گے جن کے اندر فکری بےذوقی، تعلیم و تعلم میں عدم دلچسپی، اصناف سخن سے نابلدی اور مطالعہ سے کوسوں دوری بدرجہ اتم موجود ہے۔ دور ہذا میں اگر ہمارے سامنے کوئی علمی، فکری اور اصولی بات کی جائے تو ہمارے چہرے پر توہمات کے کالے کالے کوّے کائیں کائیں کرنے لگتے ہیں اور حیرت و استعجاب کا مجسمہ بن جاتے ہیں، کیوں کہ ہمارے سامنے خاموشی وسراسیمگی کے سوا کوئی چارہ بھی نہیں بچتا، اس کی بنیادی وجوہات کئی ایک ہیں، مثلا بصیرت نواز کتابوں سے دوری، اساتذہ سے بےرغبتی، موبائل فون کی مکمل پرورش، انٹرنیٹ پر خود کا مکمل انحصار، باذوق مجالس سے کنارہ کشی، اہل دانش و بینش حضرات سے عدم مفاہمت و مشاورت اور ماہرین و متخصصین علوم وفنون سے حصول علم کی کمی وغیرہ۔ یہ سب ایسی وجوہات ہیں جو اس طبقہ کے اندر پیوست ہوکر ناسور کی شکل اختیار کر چکی ہیں، ان پر قابو پانا اور ان کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ان تمام معایب سے نبردآزمائی گو کہ آسان ہے تاہم ان دلدلوں میں پھنسے افراد ازخود نکلنا نہیں چاہتے اور وقتی ہوا پرستی کو فروغ دے کر آئندہ نسلوں کی شہ رگ کاٹنے پر تلے ہوئے ہیں، نیز امت کی نوازائیدہ کلیوں کو ان کے کھلنے اور خوشبو بکھیرنے سے قبل ہی مسلنے کی مکمل تیاری میں ہیں۔
کیا آپ کو نہیں لگتا کہ آپ کی یہ بےذوقی آپ کے مخاطبین کو اذیت پہنچاتی ہے؟ کیا آپ کی کتابوں سے عدم دلچسپی آپ کے نفس کو ملامت نہیں کرتی؟ کیا آپ واقعی اتنے تنگ نظر ہیں کہ کتابیں آپ کو اعلی ذوق فراہم نہیں کرسکتیں؟ کیا آپ اہل علم طبقوں سے مکمل براءت کا اعلان کر چکے ہیں؟ نتیجتاً کیا آپ نے آئندہ نسلوں کو بے یار و مددگار چھوڑ دیا؟ نہیں نہیں، ہرگز نہیں، اگر نوبت بایں جا رسید تو پھر اس کے بھیانک نتائج کئی خوفناک طوفان کی طرف اشارہ کر رہے ہیں، آپ کی بدذوقی ملک و ملت کے شیرازے کو منتشر کردے گی اور علوم مروجہ و فنون متداولہ مضحمل ہوکر ابدی نیند سوجائیں گے، اسباق و دیگر مطالعہ جاتی کتب پر گرد و غبار کی دبیز تہیں چڑھ جائیں گی، سخن شناسی سر پیٹتے ہوئے ان مشاہیر اداروں سے نکل کر دیارِ غیر کے آنگن کی باندی بن جائے گی، ہماری عقلی و ذوقی نارسائی ہمیں اوجِ ثریا سے دھکیل کر تحت الثری تک پہنچادے گی اور دورانِ تخاطب ہم ٰ”صم بکم عمی” کی سچی تصویر بن کر رہ جائیں گے۔

ان تمام درپیش مسائل کا ہمیں حل تلاش کرنا ہوگا، ہمیں ذہنی و فکری آوارگی سے مکمل اجتناب کرنا ہوگا، معاملہ فہمی کو فروغ دینا ہوگا، دور اندیشی تلاشنی ہوگی، ملکی و معاشرتی نظام اور زندگی کے رہنما اصولوں کی بازیابی میں تگ و دو کرنا ہوگا، اعلی ذوقی کے معیارِ کمالات تک رسائی حاصل کرنی ہوگی، کتابی دنیا سے رشتہ استوار کرنا ہوگا تبھی ایک خوشگوار معاشرے کی بنیاد مستحکم ہوگی، افکار ونظریات میں تنوع پیدا ہوگا، بےذوقی کوسوں دور ہوگی اور فکری تناقض سے چھٹکارا حاصل ہوگا،
لہذا، ہم اس منشور پر خصوصی توجہ دیں، اساتذہ و متبحرین علماء سے روابط پیدا کریں، فکری استحکام کے لیے مناسب طریقے استعمال کریں، ذوقی کمالات کے وسائل کی طرف دھیان دیں، ذہنوں کو جلا بخشنے والی کتابوں کا مطالعہ کریں اور تمام پیچیدہ و سنجیدہ مسائل پر بحث و مذاکرات کی محفلیں سجائیں۔ان شاء اللہ ایک بہترین معاشرے کی تشکیل ہوگی اور جمیع افراد فکری تعمق کے اعلی نمونے قرار پائیں گے۔

1
آپ کے تبصرے

3000
1 Comment threads
0 Thread replies
0 Followers
 
Most reacted comment
Hottest comment thread
1 Comment authors
newest oldest most voted
خبیب حسن

خوب برادرم❤️❤️