علمائے اہل حدیث ہند اور ان کی تصنیفی خدمات

علمائے اہل حدیث ہند اور ان کی تصنیفی خدمات

رفیق احمد رئیس سلفی

(ایک تعارفی مطالعہ)

تبصرہ نگار: رفیق احمد رئیس سلفی (علی گڑھ)

استاذ محترم مولانا محمد مستقیم سلفی حفظہ اللہ؍ سینئر استاذ جامعہ سلفیہ بنارس کی معروف ومشہور کتاب ’’جماعت اہل حدیث کی تصنیفی خدمات‘‘ کا جدید ایڈیشن ’’علمائے اہل حدیث ہند اور ان کی تصنیفی خدمات‘‘ کے نام سے شائع ہوا ہے۔ کتاب پر تاریخ اشاعت نومبر ۲۰۱۸ء درج ہے ۔کتاب کا نقش اول جامعہ سلفیہ بنارس سے ۱۹۸۰ء میں سامنے آیا تھا، اس میں بعض دوسرے اساتذۂ جامعہ کی بھی شمولیت تھی لیکن موضوع کی اہمیت اور نزاکت کی وجہ سے اس پر مفصل کام کرنے کے لیے استاذ محترم کو مکلف کیا گیا اور پھر انھوں نے کئی سال مسلسل محنت کرکے اس کا نقش ثانی ۱۹۹۲ء میں شائع کیا۔ مصنف حفظہ اللہ کی خواہش تھی کہ علماء کے مختصر سوانحی خاکے بھی شائع کیے جائیں لیکن دوسرے ایڈیشن میں کسی وجہ سے ایسا نہ ہوسکا۔
استاذ گرامی کی توجہ برابر جاری رہی اور خاصے اضافے کے بعد کتاب کی اشاعت سوم ہمارے سامنے ہے۔ اولین دونوں اشاعتوں میں جو کمیاں تھیں، ان کو بڑی حد تک دور کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ زیر مطالعہ ایڈیشن دو جلدوں پر مشتمل ہے:

پہلی جلد میں جو ۶۶۴؍ صفحات پر مشتمل ہے، ۲۷۸؍ علمائے اہل حدیث کے حالات زندگی تحریر کیے گئے ہیں جب کہ دوسری جلد میں اکیس فصلوں کے تحت علمائے اہل حدیث کی تصنیفات کا تذکرہ ہے۔

دوسری جلد کے صفحات کی تعداد ۷۶۹؍ ہے۔ اس طرح ۱۴۳۳؍ صفحات پر مشتمل یہ ضخیم کتاب برصغیر کے سلفی تراث کا تعارف کراتی ہے۔ اپنی نوعیت کا یہ ایک منفرد علمی وتحقیقی کام ہے جو استاذ ذی مرتبت کے ہاتھوں پائے تکمیل کو پہنچا ہے۔ کتاب کی اشاعت دوم پر استاذ مکرم ڈاکٹر مقتدی حسن ازہری رحمہ اللہ کا جو مقدمہ تھا، جو موجودہ ایڈیشن کے جلد دوم میں شامل ہے، اس میں انھوں نے لکھا ہے کہ کتاب میں ساڑھے تین ہزار کتابوں (3500) کا ذکر ہے۔ مصنف نے بیشتر کتابوں پر مختصر تبصرہ بھی لکھا ہے۔ موجودہ ایڈیشن میں مزید کتنی کتابوں کا اضافہ کیا گیا ہے، اس کا ذکر کتاب میں کہیں نہیں ملا، صحیح تعداد شمار کرکے ہی بتائی جاسکتی ہے۔
ابھی میں رات (۳؍دسمبر۲۰۱۸ء) ہی کو بنارس اور مئو کے سفر سے واپس آیا ہوں۔ اپنی ذاتی لائبریری کے لیے ۷۰۰؍ روپے میں یہ کتاب بھی خرید لی تھی۔ سفر میں الٹ پلٹ کر خاصا حصہ دیکھا بھی ہے۔ اندازہ یہ ہوا کہ کتابیات میں بہت زیادہ اضافہ نہیں کیا گیا ہے۔ کئی علماء کے حالات زندگی بھی ضبط تحریر میں نہیں آسکے ہیں۔ استاذ محترم اب اپنی عمر کے جس مرحلے میں ہیں، ان سے مزید کسی محنت کا تقاضا کرنا مناسب نہیں ہے۔ جماعت کی تاریخ، جماعت کی کتابوں اور اہل حدیث علماء کے سوانحی خاکوں کا ذوق رکھنے والے اصحاب علم سے درخواست کروں گا کہ استاذمحترم کی ان مضبوط بنیادوں پر مزید تعمیرات کا سلسلہ شروع کریں اور کتاب کی تیسری اور چوتھی جلدیں بلکہ آگے کی تمام جلدیں اس طرح تیار کی جائیں کہ ان میں پہلی دونوں جلدوں کی کمیاں بھی پوری ہوجائیں اور نئی تصانیف اور نئے مصنفین کی زندگی کے حالات بھی ذکر کردیے جائیں۔
استاذ جلیل نے اس خاکسار کا بھی ذکر کیا ہے لیکن کتابیات میں اس کی صرف ایک کتاب کا اندراج ہے جب کہ اس وقت میری اپنی علمی خدمات کی تعداد ۳۵؍ہے۔ کتاب کے تیسرے حصے میں ان شاء اللہ میری باقی کتابوں کا ذکر آئے گا، سوانحی خاکہ کے لیے پہلی جلد میں موجود سوانحی خاکے کے صفحات کا حوالہ کافی ہوگا۔ اگر کچھ اصحاب علم اس خدمت کے لیے تیار ہوجائیں تو ان شاء اللہ میں بھی ان کے ساتھ شامل ہونے کو اپنی سعادت سمجھوں گا۔ میرے بزرگ اور انتہائی محترم دوست مولانا عبدالمنان سلفی (جھنڈانگر) نے سدھارتھ نگر کے فارغین جامعہ سلفیہ بنارس اور ان کی تصنیفی خدمات پر مقالہ لکھا ہے، وہ بھی اس میں ضم کیا جاسکتا ہے۔ ویسے جامعہ سلفیہ بنارس کے فارغین کی علمی خدمات پر مستقل کتاب شائع کرنے کی تجویز سامنے آئی ہے، اس کا بھی اسے حصہ بنایا جاسکتا ہے۔ اس طرح کے اکیڈمک علمی کام اجتماعی طور پر ہی مکمل کیے جاسکتے ہیں۔ ہماری کوشش ہونی چاہئے کہ ہم جامعہ سلفیہ بنارس کی اس سیریز کو اسی نقشے کے مطابق مکمل کردیں۔
کتاب کی اشاعت دوم میں کئی ایک تسامحات تھیں۔ دو ایک کی میں نے خود نشان دہی کی تھی، برادر مکرم شیخ عزیر شمس حفظہ اللہ کی نظر میں بھی کچھ چیزیں تھیں ۔ ہمارے اہل علم دقت نظر سے موجودہ ایڈیشن دیکھ لیں اور ایسی تمام فروگزاشتوں کو کتاب سے دور کرنے میں تعاون کریں۔ یہ ایک جماعتی خدمت ہے۔ امید ہے کہ اس پر توجہ دی جائے گی۔ میں ابھی خود بھی اس پہلو سے کتاب نہیں دیکھ سکا ہوں، ان شاء اللہ فرصت میں اسے تفصیل سے دیکھوں گا۔
جامعہ کے موجودہ ناظم اعلی مولانا عبداللہ سعود حفظہ اللہ کا ہم دل سے شکریہ ادا کرتے ہیں کہ انھوں نے ایک خطیر رقم صرف کرکے یہ خوبصورت دستاویزی کتاب شائع کی۔ استاذ محترم مولانا محمد مستقیم سلفی حفظہ اللہ نے اپنے تمام تر جسمانی عوارض کے باوجود اس عظیم کام کو ایک مرتب شکل دی اور جماعت کے لیے ایک مہتم بالشان سرمایہ جمع کردیا، وہ پوری جماعت کی طرف سے شکریے کے مستحق ہیں۔کاش ہمارے یہاں بھی اہم اور بے نظیر کاموں کے لیے ایوارڈ دینے کا کوئی سلسلہ شروع کیا جاتا تو اولین فرصت میں اس کتاب کو ایک تاریخی ایوارڈ سے نواز کر ہم ایک جماعتی فریضہ سے سبکدوش ہوجاتے۔ میں ذاتی طور پر محترم شیخ عبدالجلیل مکی اور برادر عزیز شیخ عبدالسلام سلفی (ممبئی) سے درخواست کروں گا کہ اس جانب توجہ فرمائیں۔

آپ کے تبصرے

avatar