دنیا کا لطف، حشر کی جنت نماز میں

عبدالکریم شاد شعریات

دنیا کا لطف، حشر کی جنت نماز میں
ملتی ہے دو جہان کی دولت نماز میں

دل کا سکون، عقل کی راحت نماز میں
رکھی ہے جسم و جان کی صحت نماز میں

ویسے تو اپنے رب سے محبت ہے نیچرل
بڑھ جاتی ہے کچھ اور محبت نماز میں

صحبت نبی کی ملتی ہے جنت میں دوستو!
سجدوں کی پائی جائے جو کثرت نماز میں

مقبولیت کی شرط ہے اخلاص و اتباع
کافی نہیں زبان کی حرکت نماز میں

دل بھی ہوں ایک صف میں ہمارے بدن کے ساتھ
آؤ بنائیں ایسی جماعت نماز میں

کس کی تلاش میں تو یوں پھرتا ہے در بہ در
ملتی نہیں ہے کون سی نعمت نماز میں

دنیا ہو جتنی دور میاں! ذہن و قلب سے
اتنی ہی رب سے بڑھتی ہے قربت نماز میں

پتھرا گئی ہے آنکھ کہ دل سخت ہوگیا
بہتا نہیں جو اشکِ ندامت نماز میں

محسوس ہو کہ دیکھ رہے ہیں خدا کو ہم
مطلوب اس قدر ہے حلاوت نماز میں

اے دل! سنبھل کہ آنے لگے وسوسے تجھے
شیطان کر رہا ہے شرارت نماز میں

اے نفس! میرے ساتھ تو مسجد کا قصد کر
مجھ کو پڑے گی تیری ضرورت نماز میں

‘حی علی الفلاح’ مؤذن نے دی صدا
جنت کی مل رہی ہے ضمانت نماز میں

اللہ کے حضور جو مقبول ہوسکے
سوچو ہے ایسی کون سی ساعت نماز میں

کرتے ہیں آپ گردش حالات کا گلہ
ہوتی ہے کیسی آپ کی حالت نماز میں

اچھا خدا سے کون جہاں میں ہے میزباں
کرتے ہو شاد! کیوں بھلا عجلت نماز میں

آپ کے تبصرے

avatar