بغاوت کردوں گا

ثناء اللہ صادق تیمی

میں نے عام حالات میں بے نام خاں کو جتنی چھوٹ دی ہے سچ پوچھیے تو اتنی چھوٹ میں خود اپنے آپ کو بھی نہیں دیتا لیکن چھوٹ کا مس یوز ( غلط استعمال کے لیے معذرت !) جتنا ہوتا ہے اتنا شاید کسی اور چيز کا ہوتا ہو ۔ بھائی ! آپ نے مشورہ دیا لیکن یہ کیا کہ میں آپ کے سارے مشوروں پر عمل کروں اور نہ کروں تو آپ اپنی توہین سمجھ لیں ۔ خان صاحب نے مجھے یہ تیسری بار دھمکی دی کہ مولانا ! یا تو میری بات مانی جائے یا پھر بغاوت کردوں گا ؟ مجھے غصہ آرہا تھا لیکن یکایک پھر زیرلب تبسم پھیل گیا ۔میں نے چٹکی لی : اچھا خان صاحب ! تو آپ مجھے بڑا تو سمجھتے ہیں ؟ انہوں نے برا سا منہ بنایا اور کہا : کیا مطلب ؟ میں نے اپنے تبسم کو مزيد پھیلنے کا موقع دیا اور کہا : یوں کہ بغاوت ہمیشہ کمزور طاقتوروں کے خلاف کرتے ہیں ، چھوٹے بڑوں کے خلاف کرتے ہیں اور ۔۔۔ خان صاحب نے مجھے بیچ ہی میں روک دیا اور کہا : چاہے جو جس کے خلاف کرتے ہوں لیکن بغاوت کروں گاضرور ! میں نے خان صاحب کو تھوڑا اور چھیڑا اور اس بغاوت سے کوئی فائدہ نہ ملے پھر بھی ؟ خان صاحب نے پورے زور سے کہا : ارے فائدہ کیا مولانا صاحب ، نقصان ہو پھر بھی میں بغاوت کروں گا ۔ آپ نے سنا نہيں کیا
چپ رہنا تو ہے جرم کی تائیدمیں شامل
حق بات کہو جرات اظہار نہ بیچو
اور سنیے اتنا ہی نہیں ۔ آج ہمارا مسئلہ یہی ہے کہ ہم میں جرات و بیباکی ختم ہوگئی ہے ، ہم نے ضمیر کا سودا کرلیا ہے ، ہر چہار جانب چاپلوسوں کا بازار گرم ہے ، ظلم کو سہنے کی تلقین کی جارہی ہے ، بے وقوفوں کو عقلمند سمجھایا جارہا ہے ، بادشاہوں کے درباروں میں سجدہ ریزی کو دین کا نام دیا جارہا ہے ۔ ایسے میں حق وصداقت کی آواز بلند کرنا اور بھی زیاد ہ ضروری ہے ، یہ حوصلہ اور ہمت کی بات ہے اور ہر زمانے میں ایسے لوگ کم رہے ہیں جنہوں نے بر سر عام غلط کو غلط کہا ہو ۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث ہے ۔
” افضل الجھاد کلمۃ حق عند سلطان جائر ” سب سے بہتر جہاد ظالم حکمران کے سامنے کلمہ حق کہنا ہے ۔ مولانا ! میرے لیے اب کلمہ حق کہنے کا مرحلہ آگیا ہے ، میں بغاوت کردوں گا اور اس سےمجھے کوئی فرق نہیں پڑے گا کہ میری اس بغاوت کا نتیجہ کیا نکلتا ہے ، میں اپنی جان ہتھیلی پر لے کر نکلا ہوں ۔ ویسے بھی مجھے وہ شعر یاد ہے ۔
جان ہتھیلی پر رکھ لو
کہنی ہے اگر سچی بات
مولانا صاحب ! اہل حق کے سامنے ہمیشہ صلیب و دار کے مرحلے رہے ہیں لیکن وہ کبھی پسپا نہیں ہوئے ، موت و حیات کا مالک اللہ ہے ، ہم حق و صداقت کی خاطر جان دینےلینے کا جذبہ رکھتے ہیں اور یہی جذبہ روح ایمان اور تخم اسلام ہے ورنہ جو کچھ ہے سب ہوا و ہوس ہے ۔
یہ رتبہ بلند ملا جس کو مل گیا
ہر مدعی کے واسطے دارو رسن کہاں
مولانا صاحب ! اللہ کے لیے نفع و نقصان کا فلسفہ اپنے پاس رکھیے کہ یہ ہمیشہ سے بزدلوں اور دنیا پرستوں کا شیوہ رہا ہے ورنہ اہل حق تو حق کی خاطر کسی بھی دنیا وی مصلحت سے بلند ہوتے ہیں ۔ اقبال نے کیا زبردست کہا ہے ۔
بے خطر کود پڑا آتش نمرود میں عشق
عقل ہے محو تماشائے لب بام ابھی
میں نے یہ طے کرلیا ہے کہ اب چاہے سر سے جو گزر جائے لیکن اعلان حق اور ظلم کے خلاف بغاوت کرکے رہوں گا ۔
میں نے خان صاحب کا جوش دھیما کرنے کو کہا : یوں ہے بے نام خان صاحب ! آپ کو جو بغاوت کرنی ہے ، ضرور کیجیے لیکن اس بغاوت کے چکر میں چائے تو ٹھنڈی مت کیجیے ۔ یوں اگر چائے ٹھنڈی ہوگئی توبغاوت کی ساری گرمی بھی اتر جائے گی ۔ خان صاحب نے اپنے ہاتھ میں پڑے پیالے کو غور سے دیکھا ، چائے کی چسکی لی ، مسکرانے کی ناکام کوشش کی اور پھر چائے پینے میں لگ گئے ۔ میں نے اب ماحول کو تھوڑاسازگار پایا ۔ اس لیے گفتگو شروع کی : تو خان صاحب ! بات یوں ہے کہ آپ بغاوت کردیں گے ؟ میرا مطلب یہ ہے کہ آپ نفع نقصان نہیں دیکھیں گے ؟ آپ بہر حال حق کہ کر رہیں گے ؟ آپ کو ظلم سہنا نہيں ہے ۔ جتنے لوگ باغیانہ تیور کے خلاف ہیں سب کے سب چاپلو س ہیں ؟ آپ صدائے حق سے باز نہیں آئیں گے چاہے آپ کی جان ہی کیوں نہ خطر ے میں پڑ جائے ؟
خان صاحب نے پورے جوش میں کہا : تو آپ کو کیا لگتا ہے ، میں صرف زبانی جمع خرچ کررہا ہوں ۔ آپ مجھے جانتے نہیں ، ہم حق کی خاطر کچھ بھی کرسکتے ہیں ۔ ابھی خون مسلم سرد نہيں ہوا ہے ، ابھی بھی ہمارے اندر اسلاف کی غیرت و حمیت زندہ ہے ۔ ارے بھائی ! ہمارے اسلاف تو وہ تھے کہ عہدوں کو اپنی جوتی کے نوک پر رکھتے تھے ، دربار سے ایسے بھاگتے تھے جیسے سگ گزیدہ پانی سے ۔ ہم انہی کی سنت تازہ کریں گے اور وقت کے تمام جبابرہ اور اقاصرہ کو ان کی اوقات یاد لا کررہیں گے ۔
میں نے بے نام خاں کو زیادہ وقت دینا مناسب نہیں سمجھا اور کہا : لیکن خان صاحب ! یہ جو بغاوت ہے اسے آپ رسول پاک کی سنت و سیرت اور صحابہ کرام کے طرز عمل سے جوڑ کر دیکھیں گے یا نہیں ؟ خان صاحب ہڑبڑائے اور کہا : کیا بات کرتےہو مولانا ! ہم ان کے بغیر کیسے کچھ کرسکتے ہیں ، ہم تو ان کے غلام ہیں ، ان کا ہی کہا مانیں گے ۔۔
خان صاحب ! بات اگر ایسی ہے تو رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ یہ ہے کہ حکمران سے جب تک کفر صریح سرزد نہ ہو ، بغاوت جائز نہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تاکید تو یہ ہے کہ اگر حکمراں حبشی غلام ہو پھر بھی اس کی اطاعت کرو ، وہ تمہارے حقوق غصب کررہا ہو پھر بھی اس کی اطاعت کرو اور اپنے حقوق اللہ سے مانگو ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو یہاں تک فرمایا کہ اگر تمہارا معاملہ کسی پر متحد ہو اور کوئی آکر تفریق پیدا کرنے کی کوشش کرے تو چاہے وہ جو ہو اسے قتل کردو ۔ جانتے ہو خان صاحب ! ایسا کیوں ہے ؟ وجہ یہ ہے کہ بغاوتوں سے انارکی پھیلتی ہے ، زندگیاں ضائع جاتی ہیں ، عصمت و آبرو محفوظ نہيں رہتی ، پورا نظام در ہم برہم ہو جاتا ہے ، پھر حقوق اور زيادہ غصب ہوتے ہيں اور برائیاں اور زیادہ پنپنے لگتی ہیں ۔ اسی لیے پوری اسلامی تاریخ میں علما نے بغاوت کو برا جانا ۔ کبھی کسی معتبر عالم نے حکمرانوں کے خلاف بغاوت کو اچھا اقدام نہیں جانا ۔ رسول پا ک صلی اللہ علیہ وسلم نے پوری مکی زندگی میں اپنے ساتھیوں کی تربیت کی ، انہیں عقائد سکھلائے ، صبر و شکیبائی کا درس کیا ، ان پر کیا کیا مصیبتیں گزر گئیں لیکن آپ نے صبر کی ہی وصیت کی ۔ اسلاف نے وضاحت کی کہ حکمراں کے خلاف بغاوت تب کی جائے گی جب صورت حال کو بہتر شکل میں بدلنے کا باضابطہ یقین اور امکان ہو ورنہ کلمہ حق کہنے کا مطلب بغاوت یا انارکی پھیلانا نہیں ہے بلکہ مسلم حکمرانوں سے خیرخواہی برتنی ہے ، انہیں تنہائی میں نصیحت کرنی ہے ، انہيں اللہ کے عذاب سے ڈرانا ہے ، ان کی ذمہ داری انہیں سمجھانی ہے اور ایسا ہمارے اسلاف کیا کرتے تھے ۔ اسلام کی تاریخ میں شروعاتی چار خلفا کے بعد ملوکیت کے طرز پر ہی حکمراں ہوئے لیکن ہمارے اسلاف انہیں بھی امیرا لمومنین اور خلیفۃ المسلمین ہی کہتے تھے ۔ ان کی حکمرانی کو تسلیم کرتے تھے اور حسب ضرورت انہیں نصیحت کرتے تھے ۔ اس سلسلے میں امام اہل السنۃ و الجماعہ احمد بن حنبل رحمہ اللہ کا کردار یاد رکھے جانے کے قابل ہے کہ ایک طرف خلق قرآن کے مسئلے میں انہیں مامون کوڑے لگوا رہا ہے اور دوسری طرف وہ انہیں یا امیرالمومنین کہ کر خطاب بھی کررہے ہیں ۔ امام مالک علیہ الرحمہ کو ستایا گیا ، امام ابوحنیفہ زدو کوب کیے گئے لیکن کبھی کسی نے بغاوت کا راستہ دکھایا ہو ؟ ہاں حکمرانوں کو نصیحت کرنا اور انہیں ان کی ذمہ داری یاد دلانا مطلوب بھی ہے اور کارگر بھی اور ہمارے اسلاف یہ کرتے بھی رہے ہیں ۔
بغاوت بولیے تو جتنی آسان لگتی ہے اصلا اتنی آسان ہے نہیں ۔ تاریخ پر نگاہ ڈالیے تو بغاوت سے کبھی اچھے نتائج رونما نہ ہوئے ۔ حال کے واقعا ت میں مخلتف ملکوں میں بغاوت کی اٹھنے والی آندھیوں نے کیا کیا ؟ عراق کا استحکام کہاں گیا ؟ لیبیا کی خوشحالی کدھر گئی ؟ مصر میں کیا نتائج رونما ہوئے اور ابھی شام میں کیا ہورہا ہے ؟ سعودی عرب کی بات بتلا رہا ہوں خان صاحب تمہیں ۔ یہاں اس لیے امن او رخوش حالی ہے کہ الحمد للہ بغاوت کے یہ جراثیم ابھی یہاں نہیں آئے ہیں ، جس دن یہ جراثیم آئے اسی دن سب کچھ برباد ہوجائے گا ۔ سنو ، تمہاری ہی طرح کے بعض ہندوستانی دانشوران ایک اندرونی محفل میں بیٹھ کر سعودی عرب کی نکتہ چینی کررہے تھے ، یہاں یہ غلط ہے تو وہ غلط ہے ، یہ نہیں ہوتا تو وہ نہیں ہوتا ، عوام کو اٹھ کر حکمرانوں کا احتساب کرنا چاہیے ۔ اسی محفل میں ہمارے ایک محترم بزرگ بھی تھے ۔ انہوں نے ان سے کہا : اگر آپ لوگوں کی ان تمام باتوں کا مقصد اصلاح و تبدیلی ہے تو اس بند کمرے میں اس کانا پھوسی سے کیا ہوگا ؟ جتنے لوگ بیٹھے ہوئے ہیں ان کا ذہن خراب ہوگا ، منفی رجحان بنے گا اور یہاں آپ کر تو سکیں گے کچھ نہیں بس اندر ہی اندر حکمرانوں کو برا بھلا کہیں گے ۔ میرے پاس لگ بھگ تمام بڑے ذمہ داران کےایمیل ایڈریس ہیں ، آپ انہیں یہ سب باتیں لکھ کر بھیجیے ، ہو سکتا ہے کہ ان کی اصلاح ہو جائے اور نہیں تو کم از کم آپ اپنی ذمہ داری تو ادا کرلے جائیں گے ، یہ کیا کہ بند کمرے میں بے مطلب کی گفتگو سے تشویش پیدا کرنے کی نادانی کررہے ہیں ۔ بزرگ بتارہے تھے کہ سب اوں آں کرکے رہ گئے ۔
خان صاحب ! بغاوت کے یہ جراثيم بڑے گھاتک ہیں ۔ کچھ لوگوں میں کیڑے ہوتے ہیں ، وہ کسی بھی پر امن معاشرے کو خراب کرنے میں لطف محسوس کرتے ہیں ۔ ہم جے این یو میں تھے تو ایک تنظیم کے ایک صاحب آئے ۔ ہم داڑھی ٹوپی والوں کو بٹھایا گیا ، آدھے گھنٹے کی تقریر کا خلاصہ یہ تھا کہ ہندوستان میں اسلامی زندگی بہت دشوار ہو تی جارہی ہے ، دو ہزارپچاس تک یہاں سے اسلام اور مسلمانوں کا نام ونشان مٹ جائے گا ، ایسے میں ہمیں اسلام کی خاطر کچھ کرنا ہوگا ، خلافت ہی ہمارا اصل مقصد ہے اور ہم اپنے اسلام کے لیے اگر جان دینے کی بازی نہیں لگا سکتے تو ہمیں اپنے اسلام کے بارے میں سوچنے کی ضرورت ہے ۔ تقریر ختم ہوئی تو اچھے اچھے اسکالر مقرر کےاشتعال کے شکار تھے ، ہم نے لیکن اپنے حواس بحال رکھے اور کہا : آپ کی ان تمام سرگرمیوں کا فائدہ صرف یہ ہوگا کہ ہم جے این یو والوں پر بھی الزامات لگنے شروع ہوجائیں گے ، اچھا کریئر چھن جائے گا اور آپ کچھ نہيں کرسکیں گے ۔ ہم نے آزادی سے پہلے اور بعد کی تاریخ پڑھی ہے اور ہمیں معلوم ہے کہ الحمد للہ ہماری ملت نے آگے کا سفر طے کیا ہے ، ہم نے بڑے بڑے مسائل دیکھے ہیں ، کیا کیا آندھیاں اٹھی ہیں اور الحمد للہ ملت نے جم کر ان کا مقابلہ کیا ہے اور سرخرو رہی ہے ۔ جب اسلام اور مسلمانوں پر وہ حالت آئے گی جس کا آپ ذکر کررہے ہیں تو اس وقت مسلمان ان شاءاللہ کوئی بہتر فیصلہ لے سکیں گے ، ابھی تو الحمد للہ یہاں امن وامان ہے ، عبادت و دعوت کی سہولت موجود ہے ، ہم حکمرانی میں شریک ہوتے ہیں اور بہت سی آزادیاں ہمیں حاصل ہیں ، آپ اس طرح کی بے سود باتوں سے نوجوان اذہان کو خراب نہ کریں ۔ ہماری باتوں کا فائدہ یہ ہوا تھا کہ الحمد للہ ہمارے سارے دوست حقیقت سمجھ گئے تھے ۔
اس لیے خان صاحب ! بغاوت کوئی اچھی چيز نہیں کہ آپ بغاوت کرنے پر اتارو رہیے ۔ کہیں کمی ہے تو اس کی اصلاح کی کوشش ہو ، اصلاح کے راستے ہیں ، رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم سر محفل کسی کو نصیحت نہیں کرتے تھے ، آپ اکیلے میں کہتے تھے ، نصیحت کو عام کرنا ہو تو کہتے تھے کہ کچھ لوگوں کو کیا ہوگیاہے کہ وہ ایسا ایسا کرتے ہیں ۔ہمارے اسلاف حکمرانوں کو نصیحتیں کیا کرتے تھے اور الحمد للہ اس کے نتائج رونما ہوتے تھے ۔ آج کے زمانے کے بڑے بڑے جغادری فیس بک پر حکمرانوں کو خط لکھتے ہیں ، اخبارات میں خط چھپواتے ہیں ، اگر آپ میں مناصحت کا جذبہ ہے تو صاحب معاملہ کو نصیحت کیجیے ، یہ تو نصیحت کا نہیں فضیحت اور ناموری کا راستہ ہے اور یہ نادان یہ سمجھتے ہیں کہ وہ بڑی جرات ، بے باکی اور عزیمت کا کام کررہے ہیں ۔ خان صاحب ! انصاف کی بات یہ ہے کہ یہ تشویش و تخریب کا کام کرتے ہیں ۔ بغاوت کو بس یوں ہی انجام مت دیجیے ، تھوڑا ٹھہر کر سوچیے کہ اس بغاوت کے نتائج کیا رونما ہوں گے ؟ حق کہنے میں مسئلہ نہيں لیکن حق کہنے کا انداز کیا ہے ؟ ا س میں مسئلہ ضرور ہے ۔ عام طور سے لوگ حق کو ناحق طریقے سے کہتے ہیں اور جب انہیں پکڑ ا جاتا ہے تو کہتے ہیں کہ حق کہنے کے جرم میں پکڑے گئے ، کوئی یہ نہیں دیکھتا کہ حق کہنے والے نے کس طرح سے حق کہا ہے ۔ ایسے لوگ سچ پوچھیے تو حق کا بھی نقصان کرتے ہیں ۔
ہم اپنی بات جاری رکھنا چاہ رہے تھے لیکن دیکھا کہ بے نام خاں کہ پیالے میں چائے نہيں ہے اور وہ مجھے دیکھ کر یوں مسکرا رہے ہیں جیسے چائے کے ساتھ ساتھ ان کا جذبہ بغاوت بھی ختم ہو چکا ہے ۔!!!

آپ کے تبصرے

avatar