مولانا زین ﷲ رحمانی طیب پوری رحمه ﷲ (کچھ یادیں کچھ باتیں)

ابوالعاص وحیدی

اس وقت میری عمر چالیس سے تجاوز کر چکی ہے پانچویں دہے میں زندگی کا قافلہ محو سفر ہے میری عمر کا بیشتر حصہ جامعہ سراج العلوم بونڈھیار ، گونڈہ میں گزراـ 1964 سے 1968 تک جامعہ کے آغوش میں رہ کر دور طالب علمی میں گزارا ہےـ دارالعلوم دیوبند سے فراغت کے بعد 1975 سے اب تک جامعہ ہی سے وابستہ ہوں اور اپنی بساط بھر طالبان علوم نبوت قوم وملت اور جمعیۃ و جماعت کی خدمت کر رہا ہوں ـ جامعہ میں دور طالب علمی کی بہت ہی خوشگوار یادیں ہیں جنھیں میں فراموش نہیں کر سکتا بعض یادیں اتنی انمٹ اور لافانی ہیں جنھوں نے میرے ذہن و دماغ پر زبردست تعلیمی و تربیتی اثرات چھوڑے ہیں اور میں نے ان سے بڑے فائدے اٹھائے ہیں۔
جامعہ میں میرا دور طالب علمی ہے میرے والد محترم مولانا زین اﷲ ضیغم متوفی 1978 مجھ سے ملاقات کیلئے آتے گھر سے کھانے کا سامان وغیرہ لاتے اس دوران میں ایک عجیب و غریب منظر دیکھتا اور دنگ رہ جاتا کہ والد صاحب کبھی کبھی جب آتے تو ایک بوڑھے مولانا صاحب بھی جامعہ کے مہمان ہوتے تو والد صاحب ان کے سر میں تیل لگاتے اور ان کی بڑی خدمت کرتے میں نے ایک بار والد صاحب سے پوچھ ہی لیا کہ یہ بڑے میاں کون ہیں جن کے سر میں آپ تیل لگاتے ہیں تو والد صاحب نے کہا کہ یہ میرے استاذ مولانا زین اﷲ صاحب ہیں جو میرے ہم نام ہیں اور اترولہ کے قریب طیب پور ، ضلع گونڈہ کے رہنے والے ہیں ۔ والد صاحب نے کہا کہ میں نے اپنے اساتذہ کو کبھی ناراض نہیں کیا ہے بلکہ ان کی خدمت کرکے ان کو خوش رکھنے کی کوشش کی ہے پھر والد صاحب نے مجھے مولانا زین اﷲ طیب پوری کے پاس بلایا اور کہا یہ میرا لڑکا ابوالعاص ہے جامعہ میں پڑھ رہا ہے مولانا نے میرے سر پر دست شفقت پھیرا کچھ پوچھا اور دعائیں دیں ۔
یہ میرے دور طالب علمی کی ایک خوشگوار یاد ہے انھیں یادو ں میں سے مولانا زین اﷲ طیب پوری اور والد گرامی کی یاد ہے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ خادم مخدوم کا وہ سہانا منظر نگاہوں کے سامنے ہے اس خوشگوار واقعہ سے مولانا زین اﷲ طیب پوری میری زندگی میں متعارف ہوئے پھر تا وفات ان سے ربط و تعلق کا سلسلہ رہا۔
مولانا کی وفات حسرت آیات بتاریخ 2 ربیع الاول 1417 مطابق 19؍جولائی 1996 بروز جمعہ تقریباً تین بجے دن میں ہوئی دوسرے روز دوپہر کو تجہیز و تکفین ہوئی افراد خاندان گاؤں کے باشندوں علماء و طلباء اور دوسرے غمگساروں نے طیب پور ہی میں انھیں سپرد خاک کیا افسوس میں ان دنوں جامعہ سلفیہ بنارس میں مرکزی جمعیۃ اہل حدیث ھند کی دعوت و تعلیمی کمیٹی کی میٹنگ میں شریک تھا اس لئے طیب پور حاضر نہ ہوسکا خبر ملتے ہی میں تھوڑی دیر کیلئے سکتہ کی عالم میں رہا ان کا سراپا نظروں کے سامنے آگیا لمبا قد چھریرہ بدن چہرہ پر ہلکی داڑھی رفتار میں تیزی سراپا حرکت و نشاط عزم و ارادہ کے دھنی معاملہ فہم گفتگو میں علم و فن کی چاشنی سنجیدہ و باوقار اور زندگی کے تجربہ کار یہ ہے مولانا طیب پوری کی شخصیت اور ان کے اوصاف و خصوصیات کی ہلکی تصویر جنھوں نے تقریباً عمر کے سو برس گذارے اخیر عمر میں انتہائی کمزور ہو گئے تھے ہوش و حواس بھی جاتے رہے کبھی لکھنؤ اپنے لڑکے حافظ عتیق الرحمن طیبی منیجر ندوہ پریس کے پاس رہتے کبھی تلسی پور اپنے بڑے لڑکے مولانا محی الدین ندوی کے پاس رہتے اور کبھی مادر وطن طیب پور میں اپنے منجھلے لڑکے ڈاکٹر محفوظ الرحمن کے پاس رہتے بالآخر طیب پور میں جہاں سے خمیر اٹھی تھی وفات پائی اور وہیں سپرد خاک ہوئے۔
جب مولانا کی وفات کے بعد مولانا کی یاد آتی ہے تو ماضی کی بہت سی یادیں میرے سامنے آجاتی ہیں ، چند باتیں ذکر کررہا ہوں جو علماء ، طلبہ اور احباب جماعت کیلئے مفید ہیں اور بعض تحریکات سے وابستہ حضرات کیلئے بھی باعث درس و عبرت ہیں ، بغیر کسی احساس انا و تعلّی اور جذبہ تعصب و تنگ نظری کے اﷲ تعالیٰ ہمیں سچی باتیں لکھنے کی توفیق عطا فرمائے ۔(آمین)
دارالعلوم دیوبند سے فراغت کے بعد 1975 میں جب میں جامعہ سراج العلوم بونڈیہار ، گونڈہ کا مدرس ہوا تو اس کے بعد سے اب تک جناب مولانا زین اﷲ طیب پوری سے میرا ربط و تعلق رہا ، مولانا محمد اقبال رحمانی( 1919-1982) کے زمانے میں جب مولانا طیب پوری ؒ بونڈیہار آتے تو انھیں کے پاس ٹھہرتے ۔ میں بھی حتی الامکان ان کی خدمت کرتا مولانا رحمانیؒ کے بعد جب وہ بونڈیہار آتے تو کبھی مولانا محمد خلیل رحمانی استاذ جامعہ کے پاس ٹھہرتے اور کبھی میرے پاس قیام فرماتے ، اس وقت ان کی خدمت کے مواقع زیادہ ملتے اور میں اپنی خوش نصیبی پر بہت زیادہ خوش ہوتا کہ مجھے اپنے والد گرامی کے مخدوم کی خدمت کا موقع مل رہا ہے، مولانا مجھ سے بہت خوش ہوتے اور دعاؤں سے نوازتے۔
اس ربط و تعلق کے درمیان مختلف موضوعات پر مولانا سے میری گفتگو ہوتی ، کبھی فقہی موضوعات پر بات چیت ہوتی۔ کبھی دوسرے علمی مسائل زیربحث آتے، کبھی جمعیت و جماعت کے زوال و انحطاط پر تبادلۂ خیالات ہوتا اور کبھی جماعت اسلامی کے افکار و تصورات پر بحث ہوتی، غرضیکہ ہماری اور مولانا کی گفتگو متنوع موضوعات پر ہوتی ، خوشی کی بات ہے کہ مولانا کبھی کسی بات پر جھنجھلاتے نہیں اور نہ میری کسی گفتگو پر ناراض ہوتے جبکہ طبقہ علماء کا مزاج ہے کہ جب ان کے موقف کے خلاف کوئی بات کہی جائے تو حد درجہ ناراض ہو جاتے ہیں ہاں اگر ان کے سامنے ان کی تعریف کی جائے تو بہت خوش ہوتے ہیں مگر بحمد اﷲ مولانا زین اﷲ طیب پوریؒ کا یہ مزاج نہیں تھا ، وہ موافق و مخالف تمام باتیں بڑی سنجیدگی سے سنتے اور صحیح بات بے تکلف مان لیتے۔
ایک بار ڈومریا گنج میں مولانا عبدالواحد مدنی مدیر مدرسۃ الصفا الاسلامیہ کے گھر مولانا طیب پوریؒ سے میری گفتگو مجلس طلاق پر ہوئی، عام علماء کے تصور کے مطابق مولانا کا بھی خیال تھا کہ طلاق کی بحث میں جو لفظ مجلس بولا جاتا ہے اس سے مراد وہی مجلس ہے جو بیع و شرا کے موقع پر مستعمل ہے ، یعنی چند لوگ بیٹھے ہوئے ہوں جب تک اٹھ نہ جائیں وہ ایک مجلس ہو گئی، اس ایک مجلس کی متعدد طلاقیں ایک طلاق ہو گئی، یہ تھا مولانا کا نقطۂ نظر جس پر وہ اچھی طرح مطمئن تھے تو بڑے ادب سے میں نے مولانا سے کہا کہ مسئلہ طلاق میں مجلس کا مفہوم دوسرا ہے ، وہ یہ ہے کہ عورت کے پورے زمانۂ طہر کو ایک مجلس مانا جائے گا ، اس لئے کہ ایام حیض میں طلاق دینا ممنوع ہے اور ایام طہر میں صرف ایک طلاق دی جاسکتی ہے ، نتیجہ نکلا کہ شرعی طور پر پورا طہر ایک مجلس کے حکم میں ہے لہذا ایک طہر کی دو یا تین یا اس سے زیادہ طلاقیں ایک طلاق کے حکم میں ہوگی، اس پر میں نے فتاویٰ ابن تیمیہ ؒ کے حوالے بھی دئیے اور بھی بعض دلائل ذکر کئے آخرکار مولانامطمئن ہو گئے اور اپنے نقطۂ نظر سے انھوں نے رجوع کرلیا، اس صورت حال سے میں بہت متاثر ہوا ،اس لئے کہ عام طور سے لوگ اپنے خیال و فکر سے رجوع کر نے کے لئے تیار نہیں ہوتے ہیں بلکہ دورازکار تاویلات کرتے ہوئے اس پر بڑی ضد اور ہٹ دھرمی کے ساتھ جمے رہتے ہیں۔
مولانا زین اﷲ طیب پوری جماعت اسلامی کے رکن بھی تھے ، کبھی کبھی میری اور ان کی گفتگو جماعت اسلامی کے بارے میں بھی ہوتی تھی جماعت اسلامی کے بارے میں میرا جو موقف تھا اور ہے مولانا اس سے اچھی طرح واقف تھے مگر انھوں نے کبھی مجھے اپنی شفقتوں اور دعاؤں سے محروم نہیں رکھا یہ ان کی عالی ظرفی کی بات تھی۔ اس طرح وہ میری کسی بات سے بھی ناراض نہیں ہوئے اور نہ جھنجھلائے یہ ان کی سنجیدگی اور متانت تھی۔
جماعت اسلامی کے بارے میں میرا موقف دور طالب علمی میں اور ابتدائی تدریسی زندگی میں بڑا نرم بلکہ ہمدردانہ و موافقانہ تھا، اس کی وجہ حلقہ دیو بند میں مولانا ابوالاعلیٰ مودودی ؒ اور ان کی جماعت کی مظلومیت تھی، دوسری طرف جماعت اسلامی کے بعض گمراہ کن نظریات سے میری نا واقفیت بھی ایک بڑی وجہ تھی، اس لئے میں دیوبند کی زندگی میں جماعت اسلامی کا زبردست دفاع کرتا تھا اور ابتدائی تدریسی زندگی میں بھی جماعت اسلامی کی بڑی حمایت کرتا تھا ، اس دور میں میں نے جناب صوفی نذیر احمد کشمیریؒ سے جماعت کے دفاع میں لمبی لمبی مراسلت کی ، افسوس میں نے اپنے خطوط محفوظ نہیں رکھے البتہ صوفی صاحب کے خطوط محفوظ ہیں ، اس طرح میں نے مولانا سراج الحق سلفی کو بھی جماعت اسلامی کی حمایت میں ایک لمبا مکتوب لکھا تھا جو ان دنوں جامعہ سلفیہ بنارس کے طالب علم تھے اس خط میں میں نے یہ بھی لکھا تھا کہ میرا یہ خط تم جامعہ سلفیہ کے طلبہ کو سنا دو، اس کے علاوہ میں اپنی محفلوں میں بھی جماعت اسلامی کا خوب دفاع کرتا تھا، اور مولانا مودودیؒ کی کتابوں کا خود مطالعہ کرتا اور دوسروں کو مطالعہ کی ترغیب دیتا۔
اس کے بعد میری فکری زندگی میں ایک ایسا دور آیا جب جماعت اسلامی کے بارے میں میرا موقف ناقدانہ و مخالفانہ ہو گیا ، یہ دور اس وقت آیا جب میں شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ ، علامہ اسماعیل ؒ گوجرانوالہ، علامہ محمد ابراہیم میر سیالکوٹیؒ علامہ عطاء اﷲ حنیف بھوجیانیؒ اور جناب حافظ صلاح الدین یوسف وغیرہ کی تصنیفات اور عقائد ، تاریخ اسلام اور تاریخ مذاہب وغیرہ پر دوسرے مستند علماء کی کتابیں پڑھیں ، جماعت اسلامی کے تنقید ی جائزہ سے مجھے محسوس ہوا کہ مولانا مودودیؒ اور ان کے جماعتی لٹریچر میں حسب ذیل فکری خامیاں ہیں، صحیح تصور توحید سے انحراف ، مسئلہ توحید میں توحید الوہیت کی بجائے توحید ربوبیت پر زیادہ زور ، اور توحید اسماء و صفات میں اعتزال و تجسیم سے تاثر، احادیث میں اخبار آحاد کا استخفاف و استحقار، محدثین کی اصطلاح ’’ظن‘‘ سمجھنے کی وجہ سے اور عقل عام کے حوالہ سے بعض احادیث کا انکار اور اصول حدیث کی بعض بنیادی اصطلاحات سے ناواقفیت کی وجہ سے بعض مراسیل صحابہ کا انکار، اسلامی تاریخ نگاری میں شیعی نقطہ نظر سے گہرا تاثر جس کی وجہ سے بعض صحابہ کرام کے بارے میں غلط اور گھناونے خیالات کا اظہار، اور دین کی ایسی سیاسی تشریح کہ اصل کو تقاضا اور تقاضإا کو اصل بنا دیا گیا، حکومت الٰہیہ کے قیام کو امت مسلمہ کا نصب العین قرار دیدیا گیا اور اسلامی عبادات کو ٹریننگ کورس کی حیثیت دیدی گئی ۔وغیرہ وغیرہ
مولانا زین اﷲ طیب پوری ؒ سے ربط و تعلق کے دوران یہ تھا میرا سخت موقف جماعت اسلامی کے بارے میں اور اب بھی میں دلائل کی روشنی میں اس موقف پر قائم ہوں ، اس کے باوجود جب بھی مولاناسے میری ملاقات ہوتی تو بڑی خندہ پیشانی کے ساتھ ہنستے ، مسکراتے اور شفقت آمیز انداز میں ملتے، آج سے تقریباً چھ سات سال پہلے کی بات ہے ایک بار مولانا جامعہ میں تشریف لائے مجھ سے ملاقات ہوئی ، میرے یہاں قیام فرمایا ، اس روز ان سے میری گفتگو جماعت اسلامی ہی کے بارے میں تھی، میں نے مولانا سے کہا کہ کیا آپ مولانا مودودیؒ کے تمام افکار و خیالات سے اتفاق رکھتے ہیں مولانا خاموش رہے ، شایدمجھ سے واضح انداز میں مولانا مودودیؒ کا کوئی نقطۂ نظر سننا چاہتے تھے ، میں نے کہا احادیث کے بارے میں مولانا مودودیؒ کا نظریہ بڑا خطرناک ہے وہ اخبار آحاد سے بد گمان نظر آتے ہیں عقل عام کی روشنی میں بخاری و مسلم کی احادیث کا انکار کردیتے ہیں اس وقت میرے ہاتھ میں علامہ محمد اسماعیل گوجرانوالہ کی کتاب ’’جماعت اسلامی کا نظریہ حدیث‘‘ تھی ، میں نے جستہ جستہ اسے پڑھ کر مولانا کو سنایا تو انھوں نے کھل کر مجھ سے کہا کہ حدیث و سنت وغیرہ کے بارے میں مولانا مودودیؒ کے جو نظریات ہیں میں انھیں غلط سمجھتا ہوں اور ان سے بالکل اتفاق نہیں رکھتا، انھوں نے یہ بھی کہا کہ سنت و حدیث کے بارے میں مودودیؒ صاحب کے نظریات مجھے ہمیشہ کھٹکتے رہے ، مجھے یہ بات سن کر بڑی ہی خوشی ہوئی اور اس بات کا اندازہ ہوا کہ جماعت اسلامی سے ربط و تعلق کے باوجود مولانا کا سلفی مزاج بر قرار ہے ورنہ بیشتر اہل حدیث افراد جو جماعت اسلامی سے وابستہ ہیں ان کی سلفیت و اہل حدیثیت صحیح معنو ں میں بالکل دم توڑ چکی ہے بس وہ لوگ آمین رفع الیدین اور سینہ پر ہاتھ باندھنے وغیرہ کی حد تک اہل حدیث ہیں مگر ظاہر ہے اہل حدیثیت انھیں چیزوں کا نام تو نہیں ہے ، ان کے قائل و عامل تو بعض ائمہ کے مقلدین بھی ہیں۔
یہ تھیں مولانا زین اﷲ طیب پوری ؒ کے بارے میں چند یادیں اور بعض باتیں ، مگر یہ سلسلہ ادھورا ہی رہے گا اگر محدث کبیر علامہ عبید اﷲ رحمانی مبارکپوریؒ سے مولانا طیب پوریؒ کے ربط و تعلق اور ان کی تالیف انیق مرعاۃ المفاتیح شرح مشکوٰۃ المصابیح کی طباعت و اشاعت میں مولانا کی مخلصانہ جد و جہد کا ذکر نہ کیا جائے ، جو ان کی زندگی کا انتہائی اہم گوشہ ہے ، اس لئے اب بہت اختصار سے اس گوشہ پر روشنی ڈالی جارہی ہے۔
مولانا طیب پوری ؒ دارالحدیث رحمانیہ دہلی میں شیخ الحدیث مبارکپوریؒ کے شاگرد تھے ، انتہائی مہربان استاذ اور مخلص مربی کی حیثیت سے محدث مبارکپوریؒ سے انھیں بڑی عقیدت و محبت تھی جو وفات تک قائم رہی، حضرت شیخ الحدیث جب کنڈؤ بونڈیہار تشریف لاتے تو وہ ضرور ملاقات کیلئے حاضر ہوتے، اور جب ملاقات پر ایک مدت گذرتی تو وہ بے چین ہو جاتے اور ان سے ملاقات کیلئے خود مبارکپور چلے جاتے، اور جس طرح علاقہ بونڈیہار کے لوگ اپنے مسائل و مشکلات میں حضرت شیخ الحدیث کی طرف رجوع کرتے اس طرح مولانا طیب پوری بھی انھیں کی جانب رجوع کرتے ، میرے پاس ان کے بعض سوالات اور شیخ الحدیث ؒ کے جوابات محفوظ ہیں۔
حضرت شیخ الحدیث ؒ سے مولانا کا ربط و تعلق کتنا مخلصانہ اور گہرا تھا اس کا منظر میں نے اس وقت دیکھا جب شیخ الحدیثؒ کی وفات کے موقع پر ہم لوگ مبارکپور گئے ہوئے تھے، میں نے دیکھا کہ تمام لوگ سوگوار اشکبار اور بے قرار ہیں ، انھیں سو گواروں میں میں نے دیکھا کہ مولانا زین اﷲ طیب پوری انتہائی بے قرار ہیں اور اس طرح رو رہے ہیں کہ مجھے عمر و بن کلثوم ثعلبی کے وہ اشعار یاد آرہے تھے جن میں اس نے اپنے قلبی درد و غم کا اظہار بڑے والہانہ انداز میں کیا ہے وہ کہتا ہے:
فما وجدت کوجدی أم سقب اضلتہ فرجعت الحنینا
ولا شمطاء لم یترک شقاھا لھا من تسعۃ الاجنینا
ترجمہ : میرے حزن وغم کی طرح وہ اونٹنی غمگین نہیں ہوئی جس نے اپنے بچہ کو گم کردیا ہو اس لئے وہ بار بار آواز لگاتی ہو، اور میری طرح وہ بوڑھی عورت مغموم نہیں ہوئی جس کی بدبختی نے اس کے نو بچوں کو مدفون ہی کرکے چھوڑا ہو۔
مولانا طیب پوری ؒ کو حضرت شیخ الحدیث کے علمی و فکری مشنسے بھی دلچسپی تھی، چنانچہ مرعاۃ المفاتیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جو محدث مبارک پوری ؒ کا عظیم علمی کارنامہ ہے اس کی طباعت واشاعت میں ان کا بھی بڑا حصہ رہا ہے جس کی کہانی کچھ اس طرح ہے کہ ’’ مرعاۃ المفاتیح ‘‘ کی پہلی جلد پاکستان میں المکتبۃ السلفیۃ لاہور کے زیر اہتمام شائع ہوئی پھر وہ سلسلہ بند ہو گیا تو اس کی دوسری و تیسری جلد خود حضرت شیخ الحدیثؒ نے نامی پریس لکھنؤ سے چھپوائی ۔ یہ دونوں جلدیں پاکستانی نسخہ کی طرح بڑے سائز میں عربی رسم الخط میں شائع ہوئیں بعد میں جامعہ سلفیہ بنارس میں مرعاۃ چھوٹے سائز میں عربی ٹائپ پر تصحیح کے ساتھ سات آٹھ جلدوں میں شائع ہوئی۔
حضرت شیخ الحدیث ؒ نے اپنے اہتمام میں جو دوسری اور تیسری جلد شائع کی اس کی طباعت کے سلسلہ میں تین اشخاص کی خدمات خاص طور پر قابل ذکر ہیں ۔ اولؔ جناب مولانا محمد اقبال رحمانی ؒ جو ایک طویل عرصہ تک جامعہ سراج العلوم بونڈیہار کے مدیر رہے ۔ دومؔ مولانا زین اﷲ طیب پوری جو ان دنوں مدرسہ محمدیہ نصرۃ الاسلام شنکر نگر میں تھے سومؔ مولانا عبدالرحمن صاحب برادرخورد حضرت مولانا عبدالرؤف رحمانی ناظم جامعہ سراج العلوم السلفیہ جھنڈانگر نیپال۔ حضرت شیخ الحدیث ؒ کے جو خطوط مولانا محمد اقبال رحمانیؒ کے نام ہیں ان کے مطالعہ سے مرعاۃ کی طباعت میں ان تینوں حضرات کا جو اہم حصہ ہے اس کا بخوبی اندازہ ہو جاتا ہے، ان مکتوبات سے اندازہ ہوتا ہے کہ مولانا محمد اقبالؒ رحمانی اور مولانا عبدالرحمن صاحب نے مرعاۃ کی طباعت کیلئے مادی وسائل فراہم کئے اور مولانا زین اﷲ طیب پوری نے دلچسپی لے کر بھاگ دوڑکرکے جسمانی محنت خوب کی ہے، حضرت شیخ الحدیث کے وہ مکاتیب مجلہ الفلاح بھیکم پور کے علامہ عبید اﷲ رحمانی نمبر میں دیکھے جا سکتے ہیں جو شمارہ جون تا ستمبر 1994 میں شائع ہوئے ہیں۔
اب میں حضرت شیخ الحدیث کے بعض مکاتیب کے اقتباسات نقل کررہا ہوں جن سے مولانا زین اﷲ طیب پوریؒ کی دلچسپیاں بابت مرعاۃ المفاتیح روز روشن کی طرح واضح نظر آتی ہیں ، جناب شیخ الحدیث12مئی 1960 کے مکتوب میں جو مولانا محمد اقبال رحمانیؒ کے نام ہے لکھتے ہیں:
’’………… آج ۱۰؍مئی کو مولوی زین اﷲ صاحب کا لفافہ آیا ہے جس سے معلوم ہوا کہ ان کے بلانے پر آپ طیب پور پہونچے اور جلد ثالث کے مصارف وغیرہ کے سلسلہ میں باہمی تبادلۂ خیال ہوکر یہ طے پایا کہ یہ کام شروع کرا دیا جائے۔ آپ دونوں باہمی تعاون سے حسب استطاعت اس کام کو انجام دینے کی کوشش کریں گے یہ اطلاع میرے لئے بڑے اطمینان کا باعث ہوئی، اﷲ تعالیٰ آپ لوگوں کی مددفرمائے اور اس سلسلہ کی تمام مساعی مشکور کرے ۔(آمین)
کئی دن ہوئے میرے مفصل خط کے جواب میں کاتب کا کارڈ آیا ملاحظہ کیلئے اس کو بھی مولوی زین اﷲ صاحب کے پاس بھیج دیا ہے اور آپ سے مشورہ کرنے کی ہدایت کردی ہے کاتب نے کھل کر لکھ دیا ہے کہ ایک روپیہ فی صفحہ کا اضافہ کردیا جائے یعنی اجرت چار روپیہ فی صفحہ کے بجائے پانچ روپیہ فی صفحہ کردی جائے، اس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر کتاب 500 صفحے ہوں تو اجرت میں 500 روپئے کا اضافہ ہو جائے گا، میں اس کا یہ مطالبہ دیکھ کر حیران ہوں ، نسخے (عربی) کے اچھے بالخصوص اعلیٰ کاتب ملتے نہیں ہیں، مولانابستوی اورمولانا رازؔ نے قرآن لکھوا کر اس کی اجرت کافی بڑھادی ہے، وہی پرتہ اب مرعاۃ کی کتابت میں بڑھاناچاہتا ہے، دن بھر میں دو صفحے لکھ کر ۱۰ روپئے کھڑے کر لینا چاہتا ہے اس کی بے مروتی کا اندازہ ہو چکا ہے امید نہیں کہ کچھ نیچے اترے۔ ہماری ضرورت اور مجبوری سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے ، تلاش سے شاید عربی کا کوئی اچھا کاتب مل جائے مگر وہ غیر مولوی ہوگا اور میرے قلمی مسودہ سے اس کا لکھنا مشکل ہوگا اور خدا جانے معاملہ کیسا ہوگا؟ اس لئے حیرا ن ہوں کہ کیا کروں! کاتب نے لکھا ہے کہ میرا مطالبہ منظور ہو تو مسودہ اور مسطر کا کاغذ بھیج دو ، میں نے بذریعہ کارڈ اس کو یہ جواب دیا ہے کہ ذمہ دار لوگوں سے مشورہ کرکے آپ کو مطلع کیا جائے گا کہ مطلوبہ اجرت منظور ہے یا نہیں، اس لئے دوسرے خط کا انتظار کیجئے ! غالباً مولوی زین اﷲ صاحب بغرض مشورہ آپ کو پھر بلائیں گے ، امید ہے جلد ہی جواب سے مطلع کریں گے…………‘‘
اس مکتوب میں مرعاۃ کی کتابت کے مسئلہ کا جو ذکر ہے اس کے بعد مولانا زین اﷲ طیب پوری ؒ نے کیا کہا اور کیا پیش رفت ہوئی ، اس کا ذکر حضرت شیخ الحدیثؒ کے ایک دوسرے مکتوب میں ہے، وہ مولانا محمد اقبال رحمانیؒ کو لکھتے ہیں : یہ مکتوب 18؍ مئی 1960 کا ہے:
‘‘ مولوی زین اﷲ صاحب کا خط آگیا ہے، آپ کو مشورہ کیلئے بلانے میں زحمت سمجھ کر اور آپ پر اعتماد کرکے انھوں نے کاتب کی اجرت میں اضافہ کرکے معاملہ طے کر لینے اور کام شروع کر دینے کی رائے دی ہے کاتب کو 8 آنے فی صفحہ اضافہ کرنے کی اطلاع دیدی ہے اب اس کے جواب کا انتظار ہے ، خدا کرے منظور کرلے، مسطر کا کاغذ مجازؔصاحب کے ہاتھ دہلی بھیج دیا ہے ، منظوری کی اطلاع آجانے پر مسودہ بذریعہ رجسٹری بھیج دونگا، فی الحال مسودہ کی نظر ثانی کی مشغولیت ہے …………‘‘
مرعاۃ المفاتیح جلد اول جو پاکستان سے طبع ہوئی تھی جب اس کا آنا بند ہوگیا اور ہندوستان میں اس کی مانگ بڑھ گئی تو مولانا زین اﷲ صاحبؒ اس کی طباعت کیلئے بہت فکر مند ہوئے، اس سلسلہ میں انھوں نے شیخ الحدیثؒ سے مبارک پور جا کر ملاقات کی، اس کا بھی تذکرہ شیخ الحدیثؒ نے مولانا محمد اقبال رحمانیؒ کے نام ایک خط میں کیا ہے ملاحظہ ہو! ملحوظ رہے کہ یہ مکتوب 18؍ جولائی 1971 کا ہے:
’’………… مولوی زین اﷲ صاحب مبارکپور آئے اور جب انھیں معلوم ہوا کہ مرعاۃ اول پاکستان سے آ نہیں رہی ہے اور اس کے نسخے ختم ہو گئے ہیں تو انھوں نے اس کو یہیں چھپوالینے کے انتظام کرنے کا مشورہ دیا، بلکہ اس کیلئے ہر ممکن کوشش پر آمادگی ظاہر کی ، کتابت وغیرہ کی مشکلات سن کر مولوی عبدالخالق سے نمونہ حاصل کرنے اور ان کو اس کام پر آمادہ کرنے کا عزم کرلیا چنانچہ وہ ان کے یہاں افتاں و خیزاں دو مرتبہ پہونچے اور نمونہ حاصل کیا اور بذریعہ رجسٹری یہاں بھیج دیا اس درمیان مجھے کوپا گنج میں ایک کاتب کا علم ہوا، انھوں نے بھی دو مرتبہ کرکے دو نمونے بھیجے ، اب ناظم مرکزی دارلعلوم اس کو بنارس میں ٹائپ پر طبع کرانے کا مشورہ بلکہ پیشکش کر رہے ہیں،……………… بنارس جانے کا خیال ہو رہا ہے وہاں بالمشافہ گفتگو کرنے کے بعد جو طے ہو گا اس سے آپ کو اور مولوی زین اﷲ صاحب کو مطلع کروں گا، آپ کی رائے و مشورہ اور تعاون کے بغیر یہ کام انجام نہیں پا سکتا۔ وفقنا اﷲ و إیاکم مما ہوخیر لنا فی الدنیا والآخرۃ………………‘‘
مولانا محمد اقبال رحمانیؒ کے نام شیخ الحدیث ؒ کے اور بھی بہت سے خطوط ہیں جس میں مولانا زین اﷲ طیب پوریؒ کے تذکرے ہیں ، اس طرح معلوم ہوا ہے کہ مولانا طیب پوریؒ کے نام بھی شیخ الحدیث ؒ نے بہت سے خطوط لکھے تھے مگر افسوس مجھے وہ دستیاب نہیں ہوسکے ورنہ ان سے بھی بہت سی باتیں معلوم ہوتیں ، ان کے لڑکوں میں سے کسی کے پاس بھی اگر وہ خطوط ہوں تو ضروری ہے کہ انھیں منظر عام پر لایا جائے تاکہ اہل علم استفادہ کرسکیں۔

ماخوذ: کاروان سلف جلد دوم

آپ کے تبصرے

avatar