سوشل میڈیا اور قوم کا مستقبل

سوشل میڈیا اور قوم کا مستقبل

ڈاکٹر عبدالکریم سلفی علیگ

سوشل میڈیا ایک ایسا پلیٹ فارم بن چکا ہے جہاں سے ہر انسان اپنی بات دنیا کے سامنے بڑی آسانی سے رکھ سکتا ہے۔ سوشل نیٹ ورکنگ کی وجہ سے دنیا نے ایک گاؤں کی شکل اختیار کر لی ہے جب چاہیں ایک دوسرے سے رابطے استوار کیے جا سکتے ہیں۔ اس میڈیائی دور میں ایک شخص اپنے احساسات، اپنے کمالات، اپنے اقوال و افعال سے لوگوں کو بڑی آسانی سے اپنا گردیدہ بنا سکتا ہے۔
مندرجہ ذیل سوشل سائٹس ایسی ہیں کہ جن سے زیادہ تر لوگ جڑے رہتے ہیں:
1.فیس بک (Facebook)
٢.واٹس ایپ (Watsapp)
٣. یوٹیوب (Youtube)
٤. انسٹیگرام ( Instagram )
٥. ٹویٹر ( Twitter)

یہ وہ سائٹس ہیں کہ جن سے ہر عام و خاص جڑا ہوا ہے،
اس کے فوائد تو بے شمار ہیں لیکن نقصانات کیا ہیں؟ اس پر ہم بات کرنا چاہتے ہیں۔
عموما نئی نسل ان نقصانات کی عادی ہو چکی ہے، جنون کی حد تک ان کا رابطہ سوشل سائٹس سے قائم ہے کہ جس کے متعلق سنجیدگی سے فکر کرنے کی اشد ضرورت ہے، ہماری زندگی کے بیشتر قیمتی اوقات اس پغ قربان ہو جاتے ہیں، بستر پر سونے گئے سوچا لاؤ تھوڑی دیر سوشل سائٹس کا دیدار کر لیا جائے، فیس بک کھولا کئی کئی پرتیں کھلتی چلی گئیں، یوٹیوب کی باری گھنٹوں بعد آئی اور ایسی آئی کہ پھر بوجھل آنکھوں سے رخصت ہوئی، اسی صورتحال سے تقریبا تمام نوجوان دوچار ہیں۔ اس چکر میں اس کی پوری رات ختم ہو جاتی ہے سوتا تو ہے پر فجر کی نماز ترک کرکے، با برکت اوقات نیند میں گزارتا ہے، اللہ نے دن کو کام اور رات کو آرام کے لیے بنایا تھا مگر الٹا ہوتا ہے جس کی وجہ سے نوجوان کی زندگی پر بے شمار جان لیوا اثرات مرتب ہوتے ہیں، نتیجتاً
نوجوان Depression یعنی ذہنی تناؤ کا شکار ہو جاتا ہے، Irritation یعنی چڑچڑاہٹ کا مریض ہو جاتا ہے، Insomnia یعنی نیند نہ آنے کی بیماری ہو جاتی ہے، اس قدر اس کی لت لگ جاتی ہے کہ نوجوان دیوانہ ہو جاتا ہے۔ اگر اس کو کچھ دیر کے لیے سوشل میڈیا سے دور کر دیا جائے تو وہ بے قرار ہو جاتا ہے لڑنے مرنے پر اتر آتا ہے کہ جس کی وجہ سے گھر میں آئے دن لڑائی جھگڑے اور رشتوں میں دوریاں بڑھتی جاتی ہیں، ان تمام باتوں کو آج کا بڑا طبقہ محسوس کر رہا ہے، لیکن اس سمت میں ٹھوس اقدامات ہماری طرف سے نہیں ہیں۔

ان کے اس قدر استعمال سے ہم کو حاصل ہوتی ہیں مندرجہ ذیل چیزیں:

١_ وقت کا ضیاع:
سوشل میڈیا کے بڑے نقصانات میں سے ایک وقت کا ضیاع ہے، آج ہمارا کافی وقت اس کے پیچھے ضائع ہو جاتا ہے، ہم اپنے قیمتی اوقات کو لایعنی اور فضول چیزوں میں گزار دیتے ہیں۔
اگر ہم قرآن کا مطالعہ کریں تو پائیں گے کہ ہمارے خالق و مالک نے وقت کے متعلق کیا فرمایا ہے۔
سورہ فاطر آیت نمبر ٣٧

(و ھم یصطرخون فیھا ربنا أخرجنا نعمل صالحا غیر الذی کنا نعمل، أو لم نعمرکم ما یتذکر فیه من تذکر و جاءکم النذیر، فذوقوا، فما للظالمین من نصیر)

ترجمہ: “اور وہ لوگ اس (جہنم) میں چلائیں گے اے ہمارے پروردگار ہم کو نکال لے ہم اچھے کام کریں گے برخلاف ان کاموں کے جو ہم کیا کرتے تھے، اللہ کہے گا کہ ہم نے تم کو اتنی عمر نہیں دی تھی کہ جس کو سمجھنا ہوتا وہ سمجھ سکتا تھا اور تمھارے پاس ڈرانے والا بھی پہنچا تھا، سو مزہ چکھو! ایسے ظالموں کا کوئی مددگار نہیں “۔
اللہ تعالی نے ان آیات میں اہل جہنم کا تذکرہ فرمایا کہ وہ اللہ سے التجا کریں گے کہ اے ہمارے رب ہم کو دوبارہ موقع دے دے، اب ہم جا کر دنیا میں اچھا کام کریں گے، ہم وہ کام نہیں کریں گے جو پہلے کیا کرتے تھے، یعنی ان کو اپنے وقت کے ضائع ہونے کا احساس پورا ہوگا، وہ اپنے فضولیات کو یاد کر کے کہیں گے کہ اب ہم ویسا نہیں کریں گے جیسا کیا کرتے تھے، بلکہ صرف صالح اعمال کریں گے۔
وقت کی اہمیت کو ہم اہل جہنم کی اس حسرت سے محسوس کر سکتے ہیں کہ
گیا وقت پھر ہاتھ آتا نہیں
پیارے نبی نے وقت کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کچھ اس انداز سے ارشاد فرمایا کہ:

“حسن اسلام المرء ترکه ما لا یعنیه” (رواہ الترمذی)

ترجمہ: انسان کا بہترین اسلام یہ ہے کہ وہ ان تمام چیزوں کو چھوڑ دے جو اس کے مقصد تک اسے نہ پہنچاتی ہوں۔
شیخ عثیمین رحمہ اللہ کہتے ہیں:
“جو اس حدیث کا لحاظ کر لے وہ کامیاب ہو جائے گا”۔
اس حدیث کی رو سے ایک سوال ہم سوشل میڈیائی لوگوں کے لیے یہ ہے کہ گھنٹوں گھنٹوں بھر ہم فیس بک، یوٹیوب، واٹس ایپ سے جڑے رہتے ہیں اس سے ہمارا کون سا نفع بخش مقصد پورا ہوتا ہے؟ جبکہ ہم میں سے ہر شخص اس بات کو محسوس کرتا ہے کہ صرف وقت کا ضیاع ہے بس۔
محترم قارئین! اگر ہم اس بات کو محسوس کرتے ہیں تو پیارے نبی کی بات مانتے ہوئے اسے ہم کو چھوڑ دینا چاہیے۔

٢_ عبادات میں خلل:
سوشل میڈیا کی وجہ سے آج کا نوجوان رب کے ذکر سے غافل ہو جاتا ہے، ویڈیو اور چیٹنگس وغیرہ میں کئی کئی گھنٹے مشغول رہتا ہے، سوشل میڈیا کا ہم کو اتنا شوق رہتا ہے کہ ہم نماز تک میں اس کے نوٹیفیکیشن کھلا رکھتے ہیں، ہر آنے والے نوٹیفیکیشن پر مکمل توجہ ہماری ہوتی ہے، اپنی نماز تو ضائع کرتے ہی ہیں دوسروں کی نماز میں بھی خلل پیدا کرتے ہیں۔
اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا:

“قد أفلح المؤمنون الذین ھم فی صلاتھم خاشعون”

ترجمہ: “کامیاب ہوگئے وہ مؤمنین کہ جو اپنی نمازوں میں خشوع اختیار کرتے ہیں”۔
ہم غور کریں کہ کیا ہم اپنی نمازوں میں خشوع کا خیال کر پاتے ہیں؟ یہی وجہ ہے کہ سوشل میڈیا سے عبادات میں خلل پیدا ہوتے ہیں جو کہ رب کی منشا و مرضی اور شریعت کی مخالفت پر واضح دلیل ہے۔ پیارے نبی کی اس پیاری نصیحت کو ہم ذہن نشین کرلیں کہ:
“و علیك بذکر الله و تلاوت القرآن، فانه روحك فی السماء و ذکرك فی الارض”
ترجمہ: ” اپنے اوپر اللہ کے ذکر کو لازم پکڑو، اور تلاوت قرآن کی پابندی کرو، کیونکہ اس سے تمھیں آرام اور سکون ملے گا آسمان میں اور زمین پر تمھارا ذکر ہوگا “۔
پیارے نبی نے ہم کو ذکر و اذکار اور تلاوت قرآن پر توجہ دلائی ہے جو کہ ہم سے سوشل نیٹ ورکنگ پر مشغول ہونے کی وجہ سے فوت ہو رہی ہیں۔

٣_ نفع بخش علم سے محرومی:
جب ہم سوشل میڈیا پر آتے ہیں تو نفع بخش علم سے دوری ہونے لگتی ہے، یہ عمل بتدریج ہوتا ہے، ہم قرآن کی تلاوت سے محروم ہونے لگتے ہیں، احادیث کا مطالعہ نہیں کر پاتے، اہل علم کی کتابوں کو نہیں پڑھ پاتے کہ جس سے ہم کو عملی میدان میں تجربہ ملتا۔
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جو شخص علم چاہتا ہے، وہ کچھ سیکھنا چاہتا ہے تو اسے چاہیے کہ وہ قرآن میں غور و فکر کرے کیونکہ اس میں اولین اور آخرین دونوں کا علم موجود ہے۔
حسن بن عیسی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے عبد اللہ بن مبارک رحمہ اللہ کے بارے میں سنا “ان سے لوگوں نے پوچھا: کہ اے ابو عبدالرحمن! آپ اپنے گھر میں زیادہ تر اکیلے ہی کیوں بیٹھے رہتے ہیں؟ تو آپ نے جواب دیا کہ نہیں میں اکیلا تو نہیں رہتا بلکہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کے ساتھ رہتا ہوں”۔
پتہ یہ چلا کہ عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ کا باہر کم نکلنا اس وجہ سے تھا کہ آپ ان اوقات میں احادیث کا مطالعہ کرتے تھے، نبی کریم کی سیرت اور صحابہ کے واقعات پڑھتے تھے، اس تصور کے ساتھ کہ گویا وہ بھی انہی کے ہمراہ موجود ہیں۔
اس واقعے سے اندازہ کریں کہ وہ ہمارے اسلاف تھے اور آج ہم ہیں کہ شاعر ہم سے کہتا ہے:
تجھے آباء سے اپنے کوئی نسبت ہو نہیں سکتی
کہ تو گفتار وہ کردار تو ثابت وہ سیارہ
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم دعا کرتے تھے کہ:
” اے اللہ میں تیرے پناہ میں آتا ہوں ایسے علم سے جس کا کوئی فائدہ نہیں”

٤_ عائلی زندگی میں تباہی:
سوشل میڈیا میں اس قدر ہم مشغول ہو جاتے ہیں کہ ہمارے گھریلو تعلقات تباہی کے دہانے پر پہنچ جاتے ہیں، ہم کو احساس تک نہیں رہتا کہ گھر میں بیوی ہے چھوٹے چھوٹے ننھے بچے ہیں، والدین ہیں چھوٹے بڑے بھائی بہن ہیں، ان کے بھی کچھ حقوق ہوتے ہیں، انھیں بھی وقت دینا ضروری ہوتا ہے، بوڑھے ماں باپ ہیں ان کی بھی خدمت کرنی ہوتی ہے، لیکن سوشل میڈیا کے کثرت استعمال کی وجہ سے ایسا ہو نہیں پاتا اور ہماری عائلی زندگی تباہ ہو جاتی ہے، لوگ اس نوجوان سے کٹنے لگتے ہیں، لوگوں کا بھروسہ اس سے ختم جاتا ہے۔ نوجوان تو سوچتا ہے کہ میں دنیا کے کتنے ہزار لوگوں سے جڑا ہوا ہوں حالانکہ کہ ادھر اس سے اس کے گھر والے، اس کے والدین بھائی بہن اور بیوی بچے دن بدن دور ہوتے جارہے ہیں۔
محترم قارئین! حدیث رسول کا مطالعہ کرتے چلیں:

أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : ” كُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ ، الْإِمَامُ رَاعٍ وَمَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ ، وَالرَّجُلُ رَاعٍ فِي أَهْلِهِ وَهُوَ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ ، وَالْمَرْأَةُ رَاعِيَةٌ فِي بَيْتِ زَوْجِهَا وَمَسْئُولَةٌ عَنْ رَعِيَّتِهَا ، وَالْخَادِمُ رَاعٍ فِي مَالِ سَيِّدِهِ وَمَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ ”

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ آپ نے فرمایا کہ تم میں سے ہر شخص ایک نگراں ہے اور اس کے ماتحتوں کے متعلق اس سے سوال ہوگا۔ امام نگراں ہے اور اس سے سوال اس کی رعایا کے بارے میں ہوگا۔ انسان اپنے گھر کا نگراں ہے اور اس سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال ہوگا۔ عورت اپنے شوہر کے گھر کی نگراں ہے اور اس سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال ہوگا۔ خادم اپنے آقا کے مال کا نگراں ہے اور اس سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال ہوگا۔

کہتے ہیں کہ ایک ایک کیبی(KB) اور ایم بی (MB) جو ہم انٹرنیٹ کا استعمال کرتے ہیں اس کے متعلق بھی پوچھا جائے گا، کتنا کیبی حلال کام میں اور کتنا ایم بی حرام کام میں ڈاٹا استعمال ہوا ہے۔

٥_ اجنبی مرد و زن کا اختلاط:
اس کی وجہ سے نوجوان نسل بڑی آسانی سے اجنبی مرد و عورت کے قریب ہو جاتی ہے۔ پہلے کے زمانے میں ذرا مشکل تھا لیکن اب تو بستر پر لیٹے لیٹے ہی تعلقات بن جاتے ہیں اور نہ جانے کس حد تک پہنچ جاتے ہیں، ابھی حال ہی میں ایک مسلم قیدی حامد انصاری نامی ہندی پاکستان سے چھوٹ کر آیا ہے جو اپنی سوشل میڈیائی محبوبہ سے ملنے پاکستان چلا گیا تھا اور جیل کی سلاخوں کے پیچھے اپنی زندگی کے حسین ایام کاٹ کر آیا ہے۔ جب سوشل میڈیا پر نوجوان نسل آتی ہے تو سہیلی اور سہیلا بنانے اور ان سے چیٹنگ کرنے میں خوب مگن رہتی ہے، خوب لبھاؤ اور پیار بھری باتیں ہوتی ہیں کہ جن کو سننے کے لیے ان کی بیوی بچے اور گھر والے ترس جاتے ہیں، زبان حال سے گویا کہہ رہے ہوتے ہیں اے کاش ہمارے ساتھ بھی ایسا ہی سلوک روا رکھا جاتا۔ ایک دوسرے کے حرکات و سکنات کے پل پل کے فوٹوز کے خوب تبادلے ہوتے ہیں کہ جس کی وجہ سے پردے جیسے انمول ربانی تحفے کا جنازہ اٹھ جاتا ہے۔ انہی فضولیات میں نوجوان نسل تباہ ہو رہی ہے۔
اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے:

” یا ایھا النبی قل لازواجك و بناتك و نساء المؤمنین یدنین علیھن من جلابیبھن ذلك ادنی أن یعرفن فلا یؤذین”۔

ترجمہ: اے نبی آپ پنی بیویوں سے اور اپنی بچیوں سے اور مومنوں کی عورتوں سے کہہ دیجیے کہ وہ اپنی چادر اپنے اوپر ڈال کر رکھیں، اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ وہ پہچان لی جائیں گی پس وہ تکلیف نہیں دی جائیں گی”۔
آج جس انداز سے نئی نسل سوشل میڈیائی بنی ہوئی پردے کو کوئی اہمیت نہیں دے رہی ہے یاد رہے یہ رب العالمین کے کلام کی خلاف ورزی اور کھلا مذاق ہے جس کا اثر ہماری ملی و ذاتی زندگی پر عیاں ہوتا جا رہا ہے۔

٦_ ریاکاری:
اس میڈیائی دور میں ریاکاری کے خطرات بہت زیادہ بڑھ گئے ہیں، جو بھی اچھے برے کام ہوتے ہیں سب ہم سوشل میڈیا کے حوالے کر دیتے ہیں، اپنی تصاویر، اپنے سوشل کام، اپنا اٹھنا اور بیٹھنا اپنا چلنا اور پھرنا سب۔ اس معاملے میں ہم سب کو بہت ہی سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا، ورنہ اچھے اچھے اعمال اللہ کے یہاں بے قیمت کر دیے جائیں گے۔ اللہ ہم سب کو محفوظ رکھے۔ آمین
اللہ نے ارشاد فرمایا:

“فمن کان یرجو لقاء ربه فلیعمل عملا صالحا و لا یشرك بعبادۃ ربه أحدا ” الکھف_ ١١٠

ترجمہ: پس جسے بھی اپنے رب سے ملنے کی آرزو ہو تو اسے چاہیے کہ وہ نیک اعمال کرے اور اپنے رب کی عبادت میں کسی کو شریک نہ ٹہرائے۔
عمل صالح اس بات کا تقاضہ کرتا ہے کہ لوگوں کے داد و تحسین سے نہیں بلکہ رب کی رضا سے کامیابی ملے گی جو کہ اخلاص کے بغیر ممکن ہی نہیں۔
اس طرح پیارے نبی کا بھی ارشاد گرامی ہے:

عَنِ جُنْدُبٍ قَالَ : قَالَ النَّبِىُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ « مَنْ سَمَّعَ سَمَّعَ اللَّهُ بِهِ ، وَمَنْ يُرَائِي يُرَائِي اللَّهُ بِهِ » ( رواه البخارى ومسلم )

ترجمہ: حضرت جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: جو شخص کوئی عمل سنانے اور شہرت دینے کے لیے کرے گا اللہ تعالیٰ اس کو شہرت دے گا اور جو کوئی دکھاوے کے لیے کوئی نیک عمل کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس کو خوب دکھائے گا۔ ( صحیح بخاری و صحیح مسلم )
اس حدیث سے ہم کو سبق ملا کہ ہم اپنے اپنے اعمال کی اخلاص و للہیت کے ذریعہ حفاظت کر لیں ورنہ میدان محشر میں کچھ ہاتھ آنے والا نہیں، انسان محروم کر دیا جائے گا۔

٧_ بلا تحقیق چیزوں کی تشہیر:
یہ چلن بہت ہی زیادہ عام ہے جیسے ہی کہیں سے دستیاب ہوا اسے فورا پڑھے بغیر فاروڈ کرنا شروع کردیا، انھوں نے ان کو کیا، انھوں نے ان کو کیا، اس گروپ میں، اس گروپ میں الغرض کبھی کبھی ایک ہی میسیج دسیوں طرق سے پہنچتے ہیں لیکن سب بلا تحقیق ہوتے ہیں،جس کی وجہ سے بڑے بڑے دنگے ہو جاتے ہیں۔ ہماری انہی حرکات کی وجہ سے پوری قوم و ملت کو آزمائش سے دو چار ہونا پڑتا ہے۔ اس لیے کوئی بھی چیز بلا تحقیق نہ تو پوسٹ کرنی چاہیے اور نہ ہی شیئر،
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
سورۃ حجرات : آیت ٦

” يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا أَن تُصِيبُوا قَوْمًا بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوا عَلَىٰ مَا فَعَلْتُمْ نَادِمِينَ “

ترجمہ: اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمھاے پاس کوئی سی خبر لائے تو اس کی تحقیق کیا کرو کہیں کسی قوم پر بے خبری سے نہ جا پڑو پھر اپنے کیے پر پشیمان ہونے لگو۔
یہ آیت کریمہ ہر آنے والے پیغام کو جو غلط طرق سے آئیں ان کی تحقیق کرنے پر ہم مسلمانوں کو ابھارتی ہے۔

٨_ ملی و قومی مسائل پر نااہلوں کا بولنا:
میڈیائی دور میں ہر ایرا غیرا ملی و قومی مسائل پر لب کشائی کرتا ہوا یا لکھتا ہوا نظر آتا ہے حالانکہ وہ اس بات کا اہل ہی نہیں، ایسے بے شمار دانشور ملیں گے جو مفت میں سوشل میڈیا پر موجود ہیں، اور یہی نا اہل ٹی وی کے پروگراموں میں ملی مسائل پر گفتگو کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ ایسے لوگ یا تو چند ٹکے پر بکے ہوئے ہوتے ہیں یا انھیں دانشوری کا بھوت سوار رہتا ہے۔
پیارے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا تھا:
” ایک زمانہ آئے گا جس میں جھوٹوں کو سچا مانا جائے گا اور سچوں کو جھوٹا، امانت خائنوں کے پاس رکھی جائے گی اور أمانتداروں کو خائن باور کرایا جائے گا۔ نا اہل اور معمولی لوگ ملی مسائل پر گفتگو کریں گے”۔
محترم قارئین اس میڈیائی فتنے کے دور میں بہت ہی سنبھل کر اور بچ بچا کر چلنے کی ضرورت ہے۔ اللہ تعالی ہم سب کو اخلاص کے ساتھ نیک اعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور میڈیائی فتنے سے محفوظ رکھے۔ آمین

2
آپ کے تبصرے

avatar
3000
1 Comment threads
1 Thread replies
0 Followers
 
Most reacted comment
Hottest comment thread
2 Comment authors
ڈاکٹر عبدالکریم سلفی علیگKashif Shakeel Recent comment authors
newest oldest most voted
Kashif Shakeel
Guest
Kashif Shakeel
ماشاءاللہ
بہترین انداز
علمی و ناصحانہ
ڈاکٹر عبدالکریم سلفی علیگ
Guest
ڈاکٹر عبدالکریم سلفی علیگ
شکریہ جناب کاشف شکیل صاحب