راہل گاندھی کے نام ایک کھلا خط

ریاض الدین مبارک


انگلش تحریر: ڈاکٹر اسماء انجم خان
اردو ترجمہ: ریاض الدین مبارک


پیارے راہل!

ہندوستانی سیکولرزم کے نئے مسیحا کے روپ میں جب آپ کا خیر مقدم کیا گیا تو مجھے لگا کہ آپ کو ایک خط ضرور لکھنا چاہئیے۔
آج آپ نوجوانوں کو مسحور اور ہمارے دلوں کو گرمی عطا کرتے ہیں. آپ ایک نئے اوتار کی شکل میں طرح طرح سے تازگی پیدا کرتے ہیں؛ کبھی اپنا سامان خود اٹھائے ہوئے تو کبھی ایئرپورٹ کی قطار میں کھڑے ہوکر تو کبھی سٹار وار دیکھتے ہوئے اور کبھی کسی دادی ماں کو اسکے جنم دن کا مبارکباد پیش کرتے ہوئے۔

عزیزم!
ہمارے سیاسی شعبہ جات میں چہار سو بکھری ہوئی مایوسیوں کے بیچ امید کی ایک جھلک دکھائی دیتی ہے! ہو سکتا ہے، شاید وہ رہنما آپ ہی ہوں جو ہمیں ایک غیر معمولی احساس لطیف دے رہا ہے کہ وہ ہم میں سے ہی ایک ہے۔
ہمارے اور آپ کے تعلقات یعنی مسلمانوں اور کانگریس کے تعلقات اب پیچیدہ نہیں رہے۔ ہمارے بیچ جو اختلافات جڑ پکڑ چکے تھے اب واضح ہوگئے ہیں، مزے کی بات تو یہ ہے کہ ہمارے یہ رشتے ہندی کی ان مشہور فلموں کے عین مشابہ ہیں جہاں ایک پریشان پنڈت جی دلہن کو منڈپ میں لانے کے لئے کرخت آواز میں چلاتے ہیں اور دلہن ہے کہ اسکو آنے میں ہچکچاہٹ ہو رہی ہے۔

لیکن یہاں دلہن کون ہے؟
مجھے لگتا ہے کہ اب تک ہم دونوں درجہ کمال تک پہونچنے کے لئے اسی متردد دلہن کا کردار پیش کر رہے ہیں۔

یہ ہندی فلمیں اور ان کے ڈرامے

میں تنہا نہیں ہوں جو ان سب سے تنگ آ چکا ہے!

آپ کی پارٹی کبھی بھی حقیقی اور خالص سیکولرزم کے لئے نہیں جانی گئی لیکن پھر بھی امیدیں ایسے ہی وابستہ ہیں جیسے خاندانی موروثی چیزوں سے ہم چپکے رہتے ہیں یہ جانتے ہوئے بھی کہ اب وہ بیکار ہیں۔ ہاؤس (سرکاری) مسلمان جو آپ کے چھوٹے چھوٹے اشاروں پر ہماری سودے بازی کرتے آئے ہیں وہ آج بھی اپنی نشستوں پہ موجود ہیں۔ اس بات کا تو کوئی اندازہ نہیں ہے کہ انھوں نے کیا حاصل کیا البتہ نقصان مکمل طور پر آپ ہی کا رہا ہے. کانگریس کی پرانی لبھانے والی ٹوپی یقینی طور پر سکڑ گئی ہے اور اب اسکی جگہ نیا خاکی ہیٹ آگیا ہے جو آپ کی نگاہ کو ہمارے مسائل سے دور رکھتا ہے۔ طرح طرح کی اذیتوں سے دوچار ہمارے لوگ چاہے وہ بھیڑ کی زدوکوب سے ہلاک ہوئے ہوں یا انہیں کاٹ کر جلا دیا گیا ہو یا انہیں پیٹ پیٹ کر لہولہان کیا گیا ہو یا لاٹھیوں اور لوہے کے سلاخوں کی ضربوں سے ان کا بدن نیلا پڑگیا ہو یہ سب کے سب ہمارے دلوں کو پگھلا دیتے ہیں او ہماری آنکھیں کو اشکبار کردیتے ہیں لیکن کیا کریں اس قسم کا ترش رویہ ہمارا مقدر بن چکا ہے۔

لیکن محترم راہل، مجھے سیدھے موضوع پہ آنا چاہئیے۔

اچانک آپ کے بارے میں میڈیا کی بڑھتی ہوئی دلچسپی چند مہینے قبل تک دلچسپ تو ضرور تھی مگر حیرت انگیز نہیں تھی. آپ اپنے لطیفوں اور بذلہ سنجیوں (گبر سنگھ ٹیکس) میں اسمارٹ تھے پر کیا میڈیا میں آپ کی مثبت نمائش کے لئے کچھ کارپوریٹ گھرانوں کے بال وپر جوڑ دئے گئے تھے؟ کیا پپو آخر میں پاس ہو گیا تھا؟ لیکن حیرانی کی کوئی بات نہیں! ایسا لگتا ہے کہ ہمارے ملک میں ہر چیز ایک مخصوص اسکرپٹ کے مطابق چلتی ہے جہاں ہم جیسے لوگ کچھ نہیں جانتے ہیں کہ کیا ہو رہا ہے اور کیوں ہورہا ہے؟ خیر ہم خوش ہیں کہ آپ پھر سے دوبارہ آ گئے ہیں!

لہذا مجھے آپ کو یہ بتانا تھا کہ کتنی خوشی سے ہم نے جیوتی سنگھ (دلی کا بہادر دل) کی والدہ کا اعتراف سنا تھا جب وہ کہہ رہی تھیں کہ راہل گاندھی ان کے بیٹے کے لئے ایک فرشتہ تھے جس نے اس کے پائلٹ بننے کے خواب کو شرمندۂ تعبیر ہونے میں تعاون کیا۔

شاباش!

لیکن آپ ہمارے لئے کم از کم ایک سانتا کلاوز ہی بننے کی کوشش کیوں نہیں کرتے؟

کیا ہم کچھ سستے تحفوں کے قابل بھی نہیں ہیں؟

جی ہاں میں اداس ضرور ہوں لیکن افسوس نہیں!

کیا آپ کو کبھی اتفاق ہوا کہ آپ نے ایک 15 سالہ حافظ مسلم لڑکے کے بارے میں پڑھا ہو (جو مکمل قرآن کریم کا حافظ تھا)؟

چونکہ اس نے پہلی بار جینس پہنی تھی، اس لئے اس نے ایک مدرسے کے تعلیم یافتہ بچے کے ‘فیشن’ پر گھورتی نگاہوں سے بچتے ہوئے ایک چکر لگایا اور عید کے لئے جو نئے کپڑے خریدنے گیا تھا وہ تو دھرے کے دھرے رہ گئے! میں یہ بھی واضح کردوں کہ وہ ایک عام ٹین ایج نوجوان تھا، اگر وہ مسلمان مرد ہوتا تب کیا ہوتا؟ اس نوجوان کے ٹکڑے ٹکڑے کردئیے گئے اور اس کے گھر کے قریب ایک ریلوے پلیٹ فارم پر اسے اپاہج بناکر اس کو کچل دیا گیا. وہاں کوئی چشم دید گواہ نہ تھا سوائے ان 400 آنکھ کے دیدوں کے جو وہاں تھے جنہوں نے نئے بھارت New India کا نیا کھیل خاموشی سے دیکھا تھا!

وہ حافظ Junaid تھا، صرف 15 سال کا لڑکا!

میں سوچ رہی تھی کہ کیا جیوتی سنگھ کے پائیلٹ بھائی کی طرح کبھی آپ جنید کے بھائیوں کے لئے بھی محافظ فرشتہ بننا پسند کریں گے؟

نہیں؟

جی ہاں؟

آپ کا رویہ جب یہی ٹھہرا تو ہم نے بھی گلاب کی پتیوں کی گنتی بند کردی، کانگریس مجھ سے نفرت کرتی ہے، مجھے بالکل نہیں پسند کرتی تھوڑا سا بھی نہیں، پھر کیا فائدہ؟

لیکن نیویارک ٹائمز کے آرٹیکل میں ہرتوش سنگھ بال کا آپ کے ٹویٹس کو تولنا ضرور سود مند ہے:

“مسٹر گاندھی پابندی سے مسٹر مودی کی اقتصادی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے برابر ٹویٹ کرتے ہیں لیکن انہوں نے ہندوستان کے مسلمان (یا جن دھمکیوں کا انہیں سامنا کرنا پڑتا ہے) کا حوالہ اپنے دو سال کے وقفے پر محیط 3000 سے زیادہ ٹویٹس میں صرف ایک بار دیا ہے!”
(https://www.nytimes.com/2017/ 12/15/opinion/rahul-gandhi.html)

راہل، آپ بھی؟

یعنی آپ بھی!

یہ کہنا چاہیے کہ آجکل آپ کافی چرچا میں آ گئے ہیں؟ کیا واقعی ایسا ہے؟ جناب والا آپ ابھی بھی رسیوں کو پکڑنا سیکھ رہے ہیں، لیکن اگر اب بھی آپ کانگریس کے پرانے محافظوں کی چالبازیوں کو سننے کی غلطی کرتے رہے تو میں آپ کو بتانا چاہتی ہوں بلکہ میں آپ کو خبردار کرتی ہوں کہ آپ اسٹار وار کا ٹکٹ بک کر کے رکھیں۔ آنے والی فلم Oblivion ہوگی، آپ کو دیکھنے کی ضرورت پڑے گی.

آپ کے ہیڈکوارٹرز سے نکلنے والی تازہ توانائی آپ کے حق میں ایک اچھا نقطہ ثابت ہوسکتی ہے. آپ اسے اپنی جوہری طاقت میں بدل سکتے ہیں. 47 سال کی عمر میں آپ کرشمائی نظر آسکتے ہیں (اگر آپ ہوا میں گھورتے ہوئے گونگا نہیں دکھنا چاہتے ہیں). راہل جی اس کا سامنا کیجئے! یہ لمحہ آپ کا ہے! اس کے اندر ‘ہمارے لمحے’ میں تبدیل ہونے کی صلاحیت ہے ایک ایسا لمحہ جو ہم سب ہندوستانیوں کے لئے ہے۔

جی ہاں، ہم ہندوستانی! اس میں حیرانی کیا ہے؟

مجھے اس بات کا اقرار ہے کہ یہ تقریبا ایک فراموش سبق ہے اور آجکل اسے دہرانا بکواس لگتا ہے، چاہے وہ جیوتی سنگھ کا بھائی ہو یا جنید کا، آپ دونوں کے لئے ایک محافظ فرشتہ بن سکتے ہیں. راہل آپ سبھی کو شامل کریں.

وزیراعظم کے ‘من کی بات’ کے جواب میں آپ نے تین چیزیں درج کی ہیں جو انہیں کافی تیز رفتار سے انجام دینا چاہئیے:
“پیارے @ نریندر مودی، چونکہ آپ نے اپنے ‘من کی بات’ کے لئے کچھ خیالات کی درخواست کی ہے، تو آپ ہمیں بتائیں کہ آپ نے ان چیزوں کے بارے میں کیا پلان کیا ہے: 1.ہمارے نوجوانوں کے لئے روزگار کا حصول 2.چین کو DHOKALAM سے باہر نکالنا 3. ہریانہ میں آبروریزی کا خاتمہ۔”

آپ جنید، افرازول، پہلو اور اخلاق کا ذکر کرنے میں ناکام رہے ہیں! گزشتہ دو سالوں سے گائے کے نام پر قتل جاری ہے۔ معروف ومقبول Trudeau کے نئے نئے غنڈوں کے بیچ زیادہ مقبولیت حاصل کرنے کی کوشش میں آپ ہماری قتل وغارتگری اور زدوکوب پر سکوت نہیں اختیار کر سکتے، جبکہ حال یہ ہے کہ اب بھی آپ اپنے مندر کے دوروں، جینیو دھاری برہمنیت اور اقلیتوں کی بربادی پر مکمل خاموشی اختیار کرکے ہندو انتہا پسندوں کو خوش کر رہے ہیں اور بڑھاوا بھی دے رہے ہیں۔ آخر اقلیت کے لوگ صرف عبادت کرنا چاہتے ہیں، بیف کھانا چاہتے ہیں اور محبت لٹانا چاہتے ہیں۔ آپ کو کسی بھی معصوم کے قتل کی مذمت کرنی چاہئیے کیونکہ قتل آخر قتل ہے! ایک قتل!

کیا یہ راہل نہیں ہے؟

دائیں بازو کی طرف آپ کا جھکاؤ آپ کے لئے بھی خطرناک ہے، آپ کی پارٹی کے لئے بھی اور ملک کے لئے بھی. آپ کے باپ نے بھی اس کارڈ کو کھیلنے کی کوشش کی تھی لیکن وقت گواہ ہے کہ وہ بری طرح ناکام رہے۔

پیارے راہل، یہ ہماری مودبانہ درخواست ہے کہ آپ سب کے ساتھ رہیں اور سب کو لے کر چلیں.

ہم امید کرتے ہیں اور امیدیں ختم نہیں ہوتیں، یہ بڑی سخت جان ہوتی ہیں یہ آسانی سے دور نہیں جاتیں۔ ہم اپنی امیدوں کو مرنے کی اجازت
بھی نہیں دیتے کیونکہ جب امیدیں فنا ہو جائیں گی تو ہم بھی مر جائیں گے.

نئے سر پھروں میں کنھیا کمار ، جگنیش میوانی اور انکی ٹیم کے ظہور میں اہم بات یہی ہے کہ وہ سب کو ساتھ لے کر چلنے کی سیاست کر رہے ہیں ایسے میں ضروری ہو جاتا ہے کہ آپ اختلافات میں ہم آہنگی کی ہماری اصل اور فطری روایت کے بارے میں بے باکی سے بات کریں. ہماری خاطر آپ کو اسی چہرے کی ضرورت ہے۔ آپ کی قدیم اور عظیم پارٹی کو ہم بھارتیوں کا ایڈوانٹیج حاصل ہے، آپ کے پیچھے ایک مکمل پائدار سپورٹ سسٹم ہے جو ان دونوں کے پاس بالکل نہیں ہے.

اگر آپ نے اس موقعے کو ضائع کردیا تو پھر دوسرا موقعہ نہیں ملے گا.

اپنی فطری صلاحیتوں کو بروئے کار لاکر آپ سبھی ہندوستانیوں سے ووٹوں کا بھر پور فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ مجھے اس بات پر یقین کرتے ہوئے اچھا لگے گا!

میں آپ کو بتا رہی ہوں کہ ہمارے لوگ آئے دن کے فسادات کے زدوکوب، قتل وغارتگری اور آبروریزی سے تھک چکے ہیں۔

جناب راہل، آپ ہیملیٹ کا کھیل دیر تک نہیں سکتے، ہو یا نہ ہو، آپ کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ آیا آپ واقعی ہمارے خستہ حال ملک کے لئے اس کی ایقونک شخصیت بننا چاہتے ہیں، جہاں ‘فلاں چیز کھانے کی وجہ سے قتل کر دیا گیا’ جیسے الفاظ اپنی ہولناک معنویت کھو چکے ہوں جو عام طور پر اس سے جڑے ہوتے ہیں. آپ ہم سب بھارتیوں کو واپس لا سکتے ہیں.

راہل! اگر آپ ہمارے پاس چل کر آئیں تو ہم لوگ دوڑ کر آئیں گے۔

جب ہم کانگریس کی تنقید کرتے ہیں تو لبرل لوگ پریشان ہوکر مزاحمت کرنے لگتے ہیں۔ نسبتاٗ ‘سیکولر’، ‘کم تر نقصان دہ’ اور ‘اگر آپ موجودہ حالات میں چیزوں کو دیکھنے کی کوشش کریں’ جیسے الفاظ سے ہمارے کان پک چکے ہیں۔ وہ جو کہہ رہے ہیں، براہ کرم اسے آپ کانگریس کا نرم ہندوتوا سمجھیں کیونکہ یہ بات بی جے پی کے صریح مسلم مخالف پروپیگنڈے کی طرح ہمارے لبرل ضمیر کو چھید کر سوراخ نہیں کرتی۔ مزید ہم سے اور کیا کہا جاتا ہے؛ لوگو تمہیں کیا چاہئیے؟ مندر یا مسجد؟

راہل جی ہم ایک اسکول اور ایک ہسپتال چاہتے ہیں، ہم اپنے لوگوں کا تحفظ چاہتے ہیں جہاں آئین کے قانونی دائرے میں ہمیں اپنی پسند اختیار کرنے کے لئے نہ قتل کیا جائے اور نہ ہراساں کیا جائے۔ ہم اپنی پسند کا کھانا کھانے کی وجہ سے قتل نہ کئے جائیں۔

کانگریس کے ڈھونگوں کی گندی اور طویل ریکارڈ کے باوجود ہم میں سے اکثر آپ کو ایک نیا موقعہ دینے کے لئے تیار ہوسکتے ہیں.

ایک بار پھر راہل!

اب یہ آپ پر منحصر ہے کہ آپ اس لمحے کو جی کر اسے اپنا اور ہمارا بنائیں اور اس کے ساتھ ساتھ اس عمل کو تاریخ ساز بنادیں۔

راہل! ضمیر بیچنے کے لئے نہیں ہوتا، ہمیں چار ایماندار لوگوں کی جماعت کے ذریعہ یاد دلایا گیا ہے۔

ہمیں امید ہے کہ آپ اپنا ضمیر نہیں بیچیں گے۔

آپ یہ تبدیلی یقیناً لا سکتے ہیں لہذا راہل جی! آئیے ہم جنید اور جیوتی دونوں کے لئے ایک دوسرے کا ہاتھ تھام لیں۔

آپ کے تبصرے

avatar