مولانا محمود دریابادی صاحب سے ایک برادرانہ خطاب

محمد مقیم فیضی

ان دنوں مولانا محمود احمد خان دریابادی صاحب کی ایک تحریر “مولانا بدر الدین کا پارلیمانی بیان اور سلفیت” کے عنوان سے سوشل میڈیا پر گردش کررہی ہے اور ان کے فیس بک اکاؤنٹ پر بھی موجود ہے جس میں مولانا دریابادی صاحب خلاف توقع اپنی پوری مسلکی آن بان اور طمطراق کے ساتھ اور گروہی حمیت کے تحت مولانا بدرالدین اجمل صاحب کی حمایت میں منظر عام پر آئے ہیں۔ جبکہ مولانا دریا آبادی صاحب ملی پروگرواموں اور امت اسلامیہ کی مشترکہ نشستوں میں علاقائی طور پر دیوبندی مکتب فکر کی نمائندگی کے لیے پیش کیے جاتے ہیں اور مولانا بھی ایسے پروگراموں میں خود کو روادار، وسیع النظر، حلیم الطبع اور سب کے ساتھ مل جل کر چلنے والی شخصیت کے طور پر پیش فرماتے ہیں اور دوسرے مکاتب فکر کی طرف سے بھی ان کی پذیرائی میں کوئی کسر نہیں رکھی جاتی۔ جماعت اہل حدیث کی علاقائی تنظیمی اکائیاں بھی مولانا کو ملی مسائل پر اظہار خیال کے لیے مدعو کرتی رہتی ہیں اور ان کے شایان شان ان کا استقبال کرتی ہیں۔ مگر مولانا کی مذکورہ تحریر خلاف توقع ان کی عمومی شبیہ کے برعکس قلت برداشت، تنگ نظری، گروہی عصبیت، اکثریت کے غرور اور جلد باز طبیعت کی آئینہ دار نظر آتی ہے۔
مولانا صاحب لکھتے ہیں:
“سلفیوں کے سلسلے میں پارلیامنٹ کے اندر مولانا بدرالدین اجمل کے بیان پر تمام مکاتب فکر کے علماء نے اظہار ناراضگی کیا ہے، سب سے پہلے فضلاء دیوبند جن میں راقم الحروف بھی شامل ہے نے مذکورہ بیان پر شدید رد عمل ظاہر کیاتھا”
بے شک مختلف تنظیموں اور مختلف معزز شخصیتوں نے مولانا اجمل صاحب کے نامعقول بیان پر ناراضگی کا اظہار کیا ہے اور مذمتی بیان بھی شائع کرایا ہے مگر آپ کا کوئی بیان یا اکابر علماء دیوبند اور نمائندہ دیوبندی علماء کی کوئی نکیر سننے کو ملی نہ دیکھنے کو، پھر اللہ جانے آپ کے اس ارشاد کا کیا مطلب ہے کہ “سب سے پہلے فضلاء دیوبند ۔۔۔۔۔۔۔”
آپ فرماتے ہیں کہ:
“اس سے قبل بھی سلفیوں کو اہل دیوبند نے اپنے تمام تر اختلافات اور اکابرا حناف کے خلاف ان کی زبان درازی، عالم اسلام کی مقتدر شخصیات پر “ارہاب” کے الزامات اور بعض سلفی نوجوانوں کی دہشت گردی کے الزامات میں گرفتاری کے باوجود کبھی دہشت گرد جماعت نہیں قرار دیا ـ”
مذکورہ فقرے کی چند باتوں پر ہماری گزارشات حسب ذیل ہیں:

• اکابر احناف کے خلاف زبان درازی
مولانا معاف کیجیے گا! اکابر علماء امت اور ائمہ دین کے خلاف آپ کے مکتب فکر سے تعلق رکھنے والے اہل علم کی زبان درازیوں اور گستاخیوں کی فہرست اتنی طویل ہے کہ اس کے لیے چند اوراق نہیں ایک دفتر بلکہ دفاتر درکار ہیں اور علماء اہل حدیث پر ان کی عنایات صرف تحریری شکل میں نہیں ہیں بلکہ موقع بہ موقع اس کا عملی مظاہرہ بھی ہوتا رہا ہے اور اب بھی ہورہا ہے۔ در اصل آپ حضرات کو اپنی اکثریت کا زعم ہی نہیں ایک نشہ سا ہے جس کی وجہ سے آپ اپنے لیے سارے غیر اصولی بلکہ غیر انسانی سلوک اور رویوں کو جائز اور روا سمجھتے ہیں مگر آپ حضرات کی نازک مزاجی اس انتہا کو پہنچی ہوئی ہے کہ آپ کو دوسروں کی جائز اور معقول شکایتیں بھی زہر لگتی ہیں اور ان پر فورا مشتعل ہو اٹھتے ہیں پھر طاقت اور پاور کے مظاہرے پر آجاتے ہیں۔

• عالم اسلام کی مقتدر شخصیات پر ارہاب کا الزام
سلفیوں نے کسی پر بھی بے جا، بے بنیاد اور بے دلیل الزام لگایا ہو تو اس کی تفصیل اور دلائل پیش کرنا آپ کے ذمہ ہے، البتہ اہل حدیث اور سلفیوں کے خلاف آپ کے حلقے سے یہ کرم فرمائی مسلسل ہوتی رہی ہے۔ مولانا سلمان ندوی صاحب کے اشتعال انگیز بیانات، مولانا بدر الدین اجمل صاحب کا حالیہ بیان اور آپ کی موجودہ تحریر کی تلمیحات و تعریضات اس کی تازہ مثالیں ہیں۔
ہاں اس موقع پر یہ وضاحت بھی لازم ہے کہ عالم اسلام میں اور دنیا میں دہشت گردی ہورہی ہے اور اس کی تعلیم وتربیت کو عام کرنے والی شخصیات اور تنظیموں کا وجود بھی مسلم ہے اس لیے اگر کسی سلفی نے ایسی شخصیات اور تنظیموں کو بدلائل نمایاں کیا ہو اور ان کی تحریروں، تقریروں اور سرگرمیوں سے ان کے کارناموں کا اثبات کیا ہو تو پھر یہ تو ایک دینی اور انسانی فریضہ ہے جو انجام دیا گیا اور اس کو اتہام یا الزام کا نام نہیں دیا جاسکتا۔
آپ نے فرمایا:
“بعض سلفی نوجوانوں کی دہشت گردی کے الزامات میں گرفتاری کے باوجود کبھی دہشت گرد جماعت قرار نہیں دیا۔ ”
بڑا کرم کیا، مہربانی فرمائی، آپ لوگوں کی نوازش کہ آپ نے اپنے جذبات کا گلا گھونٹ کر دل میں بھڑکنے والی آگ کو دباکر اس جماعت کو دہشت گرد قرار نہیں دیا اور اگر قرار دے دیتے تو اللہ جانے کیا قیامت گزر جاتی؟!
مگر ہم جناب والا کو یاد دلانا چاہتے ہیں کہ آپ کے حلقے میں قرار دینے والی اور ساختہ پرداختہ باتیں چلانے والی سنت مستحدث نہیں قدیم ہے۔ اب رہی بات دہشت گردی کی تو عقیدہ وحدت الوجود، حلول واتحاد اور تقلید جامد کے مقابل خالص توحید اور اتباع کتاب وسنت پر اصرار و استقامت دراصل ایسی انتہا پسندی اور دہشت گردی ہے جو بشمول آپ کے حلقے کے دیگر حلقوں کے لیے بھی قابل قبول نہیں ہے۔ اس لیے وقتا فوقتا سب کی گاج سلفیوں پر گرتی رہتی ہے اور سلفی حضرات بھی اس کے عادی ہوچکے ہیں، ورنہ امن کی جتنی مستحکم بنیادیں اور روشن تعلیمات سلفی مکتب فکر کے علماء، ان کی کتابوں اور ان کی عملی سرگرمیوں میں موجود ہیں وہ ببانگ دہل اس بات کا اعلان کرتی ہیں کہ یہاں دہشت گردی اور ظلم کا تصور بھی نہیں ہے۔ ہاں انفرادی سطح پر کسی بھی جماعت یا قوم یا مذہب کا فرد اپنے منہج و مسلک اور مذہبی تعلیمات سے خروج کرسکتا ہے اور ایسا ہوتا آیا ہے، اس لیے چند افراد جو خود کو کسی جماعت یا مسلک یا مذہب کی طرف منسوب کرتے ہیں ان کے ذاتی تصرفات کی ذمہ دار وہ جماعت یا وہ مسلک یا وہ مذہب نہیں ہوسکتا ہے۔
جس طرح اسلام نے اپنی تعلیمات کے ذریعہ ہر قسم کے فساد، عداوت و نفرت اور بدامنی و انارکی کی روک تھام اور خاتمے کی پیش بندی کی ہے اور انتہا پسندی اور دہشت گردی کی جڑیں کاٹ دی ہیں وہ اسی کا طرہ امتیاز ہے مگر اس کے باوجود کچھ مفاد پرست اور مخصوص اغراض کی حامل طاقتیں اس پر دہشت گردی کا الزام لگانے سے باز نہیں آتی ہیں بلکہ اسلام کے خلاف ایسا منفی پروپیگنڈہ کرنا ان کے منصوبوں کا باقاعدہ حصہ ہے۔ بالکل یہی صورت حال سلفیوں اور ان کی تنظیموں کی بھی ہے کہ ہر طرح کے فساد کی جڑ کاٹنے اور اسلام کے امن و آشتی اور رواداری کے پیغام اور اس کی روشن تعلیمات کی نشرواشاعت اور فروغ کے لیے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کرنے کے باوجود کچھ طاقتیں عمدا وقصدا ان کے خلاف مہم جوئی اور اشتہاری سرگرمیوں کا سلسلہ جاری رکھتی ہیں۔
آپ لکھتے ہیں:
“جن دنوں چھگن بھجبل مہاراشٹر کے وزیر داخلہ تھے، تب کئی مسلم نوجوان دہشت گردی کے الزام میں گرفتار ہوئے تھے اتفاق سے سبھی کا تعلق سلفیت سے تھا، اس وقت مسٹر بھجبل نے پریس کے سامنے پورے سلفی مسلک کو دہشت گردی میں ملوث قرار دینے کی کوشش کی تھی۔
اس لیے ہم تمام مکاتب فکر کے لوگ باقاعدہ وقت لے کر وزیر داخلہ سے ملے تھے، احقر نے وہیں سب کے سامنے بھجبل صاحب سے کہا تھا کہ اہل حدیث اور ہمارے درمیان بہت سے اختلاف ہیں جن پر ہم آپس میں مباحثہ بھی کرتے رہتے ہیں، مگر آپ کے سامنےاس حقیقت کا برملا اظہار کرتے ہیں کہ انفرادی طور پرممکن ہے کوئی شخص غلط کارہو، مگر پوری اہل حدیث جماعت کو آتنک وادی کہنا بالکل غلط ہے-
میری بات مکمل ہوتے ہی مولانا مختار ندوی مرحوم نے وہیں پر وزیر داخلہ کے سامنے کھڑے ہوکر میرا شکریہ ادا کیا تھا۔ اس وفد میں کئی سلفی علماء اور جماعت اسلامی کے افراد بھی شامل تھے، جن میں بیشتر اب بھی حیات ہیں ـ”
جو گرفتار ہوئے تھے ان میں سبھی کا تعلق سلفیت سے تھا اس کی دلیل آپ کے ذمہ ہے ورنہ ہمارے نزدیک یہ مجرد دعویٰ ہے، ہاں اس موقع پر سلفیوں کا نام مشتہر ہونے کی وجہ یہ تھی کہ ایک شخص اپنے نام کے آگے سلفی لکھا کرتا تھا ورنہ ان میں اکثریت انقلابی اور تحریکی تنظیموں اور جماعتوں سے متعلق لڑکوں کی تھی اور جو شخص خود کو سلفی کہتا تھا اس کا بھی جماعت کی تنظیم اور جماعتی سرگرمیوں سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ اس لیے یہ آپ کا نرا دعویٰ ہے کہ “اتفاق سے سب لڑکے سلفی تھے” حقیقت ہے کہ اس دعوے کے پیچھے بھی کوئی خاص ذہنیت ہی کار فرما نظر آتی ہے۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ عام طور پر کسی مخصوص گھرانے میں پیدا ہونے اور نماز کے طریقے سے کسی کے مسلک و منہج کا فیصلہ کردیا جاتا ہے۔ حالانکہ اس کی فکر اور نظریات اس مسلک کے اصولوں سے کھلے طور پر متصادم ہوتے ہیں جس کی طرف اسے منسوب کیا جاتا ہے اور وہ کسی اور ہی منہج و مسلک اور فکر کا متبع ہوتا ہے۔
عام طور پر سلفیوں کے ساتھ یہی ہوتا ہے کہ جب کچھ خارجی، انقلابی اور تحریکی نظریات کے حامل نوجوان کہیں گرفت میں آتے ہیں تو انھیں سلفیت کے سر منڈھ دیا جاتا ہے حالانکہ وہ ہمیشہ سلفی اکابرین، تنظیموں اور ان کی سرگرمیوں سے دور دور ہی رہتے ہیں، اپنی مجلسوں میں ان پر سخت تنقیدیں کرتے ہیں اور ان سے اپنی براءت اور بیزاری کا اظہار کرتے ہیں، سلفی اصولوں کی کھل کر مخالفت کرتے ہیں اور ان کے خلاف گرما گرم مباحثے کرتے ہیں۔
دوسری بات یہ ہے کہ اگر آپ نے اپنے ضمیر کی آواز پر کوئی اچھا کام کیا ہے تو وہ تو آپ کا دینی اور اخلاقی فریضہ تھا، مگر کیا یہ اس بات کے لیے وجہ جواز فراہم کردیتا ہے کہ اب آپ جیسی چاہیں آداب اور اصولوں کی خلاف ورزی کریں؟ اسی حوالے سے لوگوں کو گراں بار کریں اور احسان جتا کر دھمکیاں دیں؟
اس حقیقت کو بھی یاد فرمائیں کہ جب آپ کے افراد گرفتار ہوئے، آپ کی کسی معزز جماعتی شخصیت پر دہشت گردی، یا دہشت گردوں کی حمایت کا الزام آیا تو جماعت اہل حدیث کے علماء اور سر برآوردہ لوگوں نے بھی اپنی ملی ذمہ داریوں میں کسی کوتاہی یا تنگ نظری سے کام نہیں لیا بلکہ کھل کر آپ کی حمایت اور تائید میں سامنے آئے۔ اور موجودہ طلاق ثلاثہ کے مسئلے میں تو انھوں نے اتحاد امت اور ملی مصلحت میں ایسے ایثار اور بلند جذبات سے کام لیا کہ اس کا اعتراف مسلم پرسنل لاء بورڈ کے ذمہ داروں اور مختلف غیر سلفی افراد اور تنظیموں نے بھی کیا، اور کبھی بھی ملی ضرورتوں اور تقاضوں کے وقت سلفی حضرات اور ان کی تنظیمی اکائیوں نے پہلو تہی سے کام نہیں لیا بلکہ اپنی خدمات کے ساتھ پیش پیش رہی ہیں۔ ہندی بھون آزاد میدان کی پریس کانفرنس اور حضرت مولانا ابوالحسن علی میاں ندوی صاحب کے گھر پڑنے والے چھاپے کے خلاف حج ہاؤس ممبئی میں ہونے والے احتجاجی اجلاس میں جماعت اہل حدیث کے ذمہ داروں کی شرکت کو بطور مثال پیش کیا جاسکتا ہے اور اس موخر الذکر اجلاس میں مولانا عبدالسلام صاحب سلفی امیر صوبائی جمعیت اہل حدیث ممبئی نے کھل کر آپ کی حمایت کا اعلان کیا تھا، ان کے علاوہ بھی مثالیں متعدد ہیں جن کی تفصیل میں جانا باعث طوالت ہوگا۔
اس وفد میں آپ کے سوا دیگر مسالک کے اور بھی متعدد افراد تھے اور اس لیے تھے کہ اس وقت مذکورہ مسئلہ میں نام اگرچہ سلفیوں کا نمایاں ہورہا تھا مگر معاملہ پوری ملت کا تھا اور اس طرح کے مسائل میں تفرقہ بازی کا نقصان پوری ملت کو ہوسکتا تھا جیسا کہ بعد کے تجربات سے ثابت ہوا۔ اور اجتماعیت کے مظاہرے پر مولانا ندوی صاحب نے صرف آپ کا نہیں بلکہ وفد میں شریک سارے لوگوں کا شکریہ ادا کیا تھا اور یہ بھی اس بات کی دلیل ہے کہ اہل حدیث قیادت کے لوگ کتنے وسیع القلب، مواقف کے قدر دان اور احسان شناس ہیں۔ اور اس طرح کے مواقع پر اشتراک اور اجتماعیت کا مظاہرہ کوئی نئی چیز نہیں تھی۔ ایسا زمانہ قدیم سے ہوتا چلا آرہا ہے کہ آڑے وقتوں میں لوگ ایک دوسرے کے کام آتے رہے ہیں۔

• چھگن بھجبل صاحب نے اس وقت اتنے اہم منصب پر رہتے ہوئے جو غیر معیاری بیان دیا تھا ممکن ہے اس کے پیچھے کسی برادر یوسف کا ہاتھ رہا ہو جس کا ہمیں کافی مشاہدہ اور تجربہ ہے مگر اس وقت حقائق سامنے لانے اور معاملے کی تفہیم کے بعد انھوں نے منترالیہ میں میڈیا کے سامنے اپنے بیان سے رجوع بھی کرلیا تھا اور یقین دلایا تھا کہ کسی کے ساتھ ناانصافی نہیں ہونے دیں گے اور چند افراد کے تصرفات کی وجہ سے کسی جماعت یا کمیونٹی کو پریشان نہیں کیا جائے گا۔
• ہمیں اس بات سے انکار نہیں ہے کہ سلفی جماعت کے کچھ افراد مسلکی ترجمانی اور دفاع میں دائرہ ادب سے باہر نکل جاتے ہیں یا کچھ نوجوان دوسروں کے خلاف نا مناسب زبان اور لب ولہجہ اپناتے ہیں اور غیر معیاری گفتگو کرتے ہیں جو یقینا اکابر سلفی علماء کی تعلیمات وہدایات اور تاکیدوں کے خلاف ہیں مگر یہ معاملہ یکطرفہ نہیں ہے اُدھر بھی نہلے پر دہلا ہے اور زبان وبیان کے غیر اصولی نمونے چند در چند ہیں، بلکہ اُس حلقے میں انفرادی اور زبانی جارحیت عملی مظاہرے اور مشق تک پہنچ جاتی ہے۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ متعدد مقامات پر اہل حدیث مساجد کی تعمیر میں رکاوٹیں کھڑی کی گئی ہیں بلکہ بنی ہوئی مسجدیں ڈھادی گئیں، آباد مکتبے جلا دیے گئے اور کتابوں کی بے حرمتی کی گئی جو قرآنی آیات واحادیث نبویہ پر مشتمل ہوتی ہیں۔
دہلی کے تال کٹورا اسٹیڈیم اور ممبئی کے حج ہاؤس اور دیگر مقامات پر تحفظ سنت کے نام سے منعقد ہونے والی کانفرنسیں مسلک کی جماعتی جارحیت کا مثالی نمونہ ہیں۔
• محترم مولانا صاحب آپ نے مدعیان سلفیت کا طعنہ دیا ہے تو اس بابت عرض ہے کہ کون کتنا اپنے مسلک کا مدعی اور کتنا اس پر عامل ہے یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں بلکہ معلوم زمانہ ہے، جو لوگ خود کو حنفی کہتے ہیں وہ اصول اور مسائل اعتقاد میں امام ابو حنیفہ اور صاحبین اور اوائل احناف کے مسلک سے اتنے دور ہیں کہ دونوں میں بعدالمشرقین جیسا فاصلہ ہے بلکہ ایک طرح کا تضاد سا ہے۔
اور یہ بھی ذہن نشین رہے کہ اگر کسی جماعت کے چند افراد کا کسی الزام میں ماخوذ ہونا اور جیل جانا پوری جماعت کو مطعون کرنے کے لیے وجہ جواز بن سکتا ہے توگستاخی معاف قاسمی حضرات بھی اس دوڑ میں پیچھے نہیں ہیں! اور اگر محض الزام اور تہمت پر ہی کسی جماعت کو مجرم ٹھہرایا جاسکتا ہے تو کشمیر پولیس کی یہ تازہ رپورٹ ضرور ملاحظہ فرمائیے کہ کشمیر میں تخریبی کاروائیاں کرنے والے میں 71 فیصد لوگوں کا تعلق حنفی مسلک سے، 23 فیصد جماعت اسلامی سے اور 3 فیصد کا تعلق سلفی مسلک سے ہے۔ رپورٹ اس لنک پر ملاحظہ فرمائیے:
Titled “Radicalisation and Terrorism in J&K — A Study”, the CID says that the aim of the study was “to gauge the existence and extent of radicalisation in the youth of Kashmir”. The report is based on an elaborate study of “156 local youths of the Valley who have joined militancy between 2010 and 2015”.
The report says that ۔۔۔۔۔۔ 71 percent were Hanafiya in their religious inclination. Only about 3 percent were Salafi and about 23 percent had Jamaat-i-Islami leanings.

https://indianexpress.com/article/india/new-militant-recruits-not-driven-by-ideology-most-attended-govt-schools-jk-police-5207368/

Report claims 71% of new age militants’ background was Hanafiya, 23% Jama’at e Islami, 3% Salafi

کورٹ کچہریوں میں چلنے والے مقدمات میں دہشت گردی کے تمام ملزموں کا سروے کرائیے، آپ کی آنکھیں روشن ہوجائیں گی۔
حقیقت تو یہ ہے کہ اس طرح کی باتوں کا تذکرہ بھی ہم اپنی طرف سے مناسب نہیں سمجھتے، نہ کبھی اس طرح کی باتیں کرتے ہیں مگر افسوس ہے کہ کبھی کبھی معاشرے کی نمائندہ شخصیات سے ایسی عجیب وغریب چیزیں سن کر اس طرح کی وضاحتوں اور تفصیل کی ضرورت پیش آجاتی ہے۔ مگر ایک بات ہم پوری تاکید کے ساتھ کہتے ہیں کہ کسی بھی جماعت یا تنظیم پر بے بنیاد اور بلا دلیل الزام لگانا قرین عقل و دانش نہیں ہے اور اس میں کسی کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔
• مولانا بدرالدین اجمل صاحب ایک بڑے تاجر ہیں اپنے مسلک کے عالم ہیں، اپنی جماعت کی ایک معزز شخصیت اور صوبے کی ایک اہم سیاسی شخصیت ہیں، ان سے اتنے عجیب وغریب رویے، غیر ذمہ دارانہ طرز گفتگو اور ایسے سفید جھوٹ اور بے بنیاد الزام کی کسی کو بھی توقع نہیں تھی، انھوں نے پوری ملت اسلامیہ اور علماء برادری کا سر نیچا کردیا جبکہ عصری تعلیم یافتہ بعض مسلم ممبران پارلیمنٹ نے اس مسئلے میں ملت کی ترجمانی کا حق ادا کیا اور اپنی سیاسی پختگی کا ثبوت دیا، یہ کوئی حلقہ یاراں کی نجی مجلس نہیں تھی کہ وہاں بڑھ چڑھ کر مخالف مسلک کے خلاف دلی جذبات کا اظہار کیا جاتا، یہ کتنی افسوسناک بات تھی کہ غیر مسلم ممبران پارلیمنٹ نے تو اپنی باتوں کو قرآن وسنت کے حوالے سے پختہ اور مؤکد کیا مگر مولانا نے ایک خاتون ممبر پارلیمنٹ کے سوالات کا معقول علمی جواب دینے کے بجائے بات کا رخ بالکل غلط طور پر موڑ کر پوری سلفی جماعت کو سرکاری طور پر دہشت گرد ٹھہرا دیا اور حکومت ہند کے سر بھی ایک تہمت دھر دی اور ایک ایسی جماعت کے متعلق غلط جذبات کا اظہار کیا جو موضوع زیر بحث میں ان کے ساتھ کھڑی تھی اور اس بل کی مخالفت میں ان کی حمایت کرنے والی تھی اور اصل زیر بحث مسئلے سے یہ کہہ کر جان چھڑا لی کہ میں ابھی اس موضوع پر ڈیبیٹ کے لیے تیار ہوکر نہیں آیا۔ جب کہ وہ موضوع پہلے ہی سے طے شدہ تھا، جس نے بھی پارلیمنٹ کی کاروائی دیکھی یا سنی وہ حیران اور ششدر رہ گیا کہ الہی یہ کیا ہورہا ہے، مولانا صاحب اپنے آپے میں ہیں یا نہیں؟
• آپ کو یہ بات تسلیم کرنی چاہیے کہ یہ صورت حال جماعت اہل حدیث کے لیے کیسی تکلیف دہ اور ناقابل برداشت رہی ہوگی مگر اس کے باوجود جماعت کے تنظیمی ذمہ داروں ور اصحاب حل وعقد کی طرف سے کوئی ایسا بیان نہیں آیا جو کسی طرح دل آزاری کا باعث ہوتا یا اسے نامعقولیت سے متصف کیا جاسکتا، ہاں عوامی سطح پر ناپختہ اور نو عمر افراد کی طرف سے اگر نامناسب طور پر جذبات کا اظہار کیا گیا ہے تو اسے کسی بھی سنجیدہ اور ذمہ دار جماعتی شخصیت نے پسند نہیں کیا۔ انھیں اس سلسلے میں نصیحتیں بھی کی گئیں کیونکہ بدزبانی وبدگوئی، تہمت تراشی اور تنابز بالالقاب کی حوصلہ افزائی سلفی اکابرین نے کبھی نہیں کی بلکہ ہر سطح پر مسلموں اور غیر مسلموں سبھی کے ساتھ اخلاقی پستی کا مظاہرہ کرنے سے روکتے رہے اور اسلامی تعلیمات کے مطابق عدل وانصاف کا دامن نہ چھوڑنے کی تلقین کرتے رہے ہیں اور اب بھی وہ اپنے نوجوانوں کو یہی سمجھا رہے ہیں کہ مولانا نے جو کچھ بھی کہا اس کے بعد اگر انھوں نے معذرت کرلی ہے تو اسے کھلے دل سے قبول کرلینا چاہیے اور اس موضوع کو ترک کردینا چاہیے۔
مگر جب زخم گہرا ہو تو اسے مندمل ہونے میں بھی کچھ وقت لگتا ہے، آپ کو حقائق سے چشم پوشی نہیں کرنی چاہیے، اب آپ کو عمر کے اِس مرحلے میں اور علماء کونسل کے سکریٹری کی حیثیت سے تحمل سے کام لیتے ہوئے ایک بزرگ اور ناصح کا کردار ادا کرنا چاہیے، جلتی پر تیل چھڑکنے کا عمل آپ کو زیب نہیں دیتا ہے۔
آپ کی یہ تحریر بھی ہمارے لیے خلاف توقع ہے کیونکہ آپ کے متعلق ہمارا گمان اب بھی بہت اچھا ہے، یہ وقت قوم کو مشتعل کرنے یا مسلکی عصبیتوں کو ہوا دینے کا نہیں جبکہ ملی اور قومی سطح پر قلت برداشت اور عدم رواداری کا بول بالا ہے اور دوسروں کی بات ہی کیا آدمی اپنے ہی مسلک کے مخالف دھڑے کے لوگوں کو گوارا اور برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں اور بات بات پر خونریزی اور سرپھٹول اور قتل تک نوبت آرہی ہے۔
اور جہاں تک آپ نے عافیت کی دھمکی دی ہے تو اس کی ضرورت سب کو ہے اور کبھی کبھی چیونٹی بھی ہاتھی کی ہلاکت کا باعث ہوجاتی ہے۔ غرور کا مظاہرہ، دھمکی کی زبان آپ جیسے لوگوں کے شایان شان نہیں ہے۔
بہر کیف ہم آپ سے بھی اور دیگر قائدین ملت سے یہی اپیل کریں گے کہ وہ وقت کی نزاکت کو سمجھیں اور ملت کا شیرازہ بکھیرنے کی کاوشوں میں شعوری یا غیر شعوری طور پر اسلام دشمن طاقتوں کے شریک نہ ہوں۔ اور ان عناصر کو بھی خبردار کرتے ہیں جو اہل حدیث دشمنی کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے اور اپنی انقلابی اور تحریکی سطحیت کا مظاہرہ دم بدم کرتے رہتے ہیں کہ وہ اس طرح کی حرکتوں سے سلفیت کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے ہیں۔ انھیں چاہیے کہ وہ اپنے افکار و نظریات پر نظر ثانی کریں اور سلفی منہج و مسلک کے زریں اصولوں کی حقیقت کو سمجھنے کے لیے اپنا کچھ وقت صرف کرنے کی زحمت گوارا فرمائیں اور عناد، ضد اور ہٹ کی روش ترک کردیں۔ ان شاء اللہ اس میں ان کا بھلا ہوگا اور ملت کا بھی فائدہ ہوگا۔
اس موقع پر ہم سلفی علماء اور اصحاب قلم سے بھی اپیل اور گزارش کریں گے کہ وہ اسلام کی اعلیٰ قدروں اور اخلاقی اصولوں کو نظر انداز نہ کریں، تحریر و تقریر اور اظہار جذبات میں اسلامی تعلیمات کی پیروی کریں اور نوجوانوں کی تربیت میں کوئی غلط نمونہ نہ بنیں، اللہ تعالیٰ سب کو قبول حق اور محض اپنی خوشنودی کے لیے خدمت دین کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

3
آپ کے تبصرے

avatar
3 Comment threads
0 Thread replies
0 Followers
 
Most reacted comment
Hottest comment thread
3 Comment authors
Riyazuddin Mubarakعبدالقدیرشفاءالرحمن Recent comment authors
newest oldest most voted
شفاءالرحمن
Guest
شفاءالرحمن
ماشاء اللہ بہت عمدہ تحریر
عبدالقدیر
Guest
عبدالقدیر
ماشاء اللہ… بہت ہی جامع اور سنجیدہ تحریر…
جزاکم اللہ خیرا
Riyazuddin Mubarak
Guest
Riyazuddin Mubarak

محمود دریآبادی کی ذات اتنی بڑی نہیں جتنی آپ نے اس تحریر میں درشانے کی سعی فرمائی ہے۔ ماشاء اللہ مولانا نے بہت عمدگی سے سلفیت کے خلاف اٹھنے والے شور کو دبانے کی کوشش کی ہے۔ لیکن پورا مضمون اس قدر دفاعی انداز میں تحریر کیا گیا ہے کہ مولانا نے غیر شعوری طور پر اپنے ہی نوجوانوں کی کاوشوں کو لتاڑ ڈالا ہے۔ یہ تحریر اور وہ تحریر جس کی پاداش میں یہ تحریر وجود میں آئی اور وہ تمام قسم کی بوکھلاہٹ جو اجملی حلقے میں دکھائی دے رہی ہے وہ سب سلفیت اور اہلحدیثیت کے جذبے… Read more »