ایک نیو ائیر ریزولیشن ایسا بھی

ابوعفاف

آپ نے بہت سارے لوگوں کو نئے سال کی مناسبت سے وعدے کرتے دیکھا ہوگا۔ بعض کوشش کرتے ہیں کہ آنے والے سال کی شروعات سے ہی وہ اپنی صحت کا خاص خیال رکھیں گے۔ یا ہر روز کچھ صفحات کا مطالعہ کریں گے وغیرہ وغیرہ۔
بحیثیت مسلمان میں اسے ایک الگ زاویے سے دیکھتا ہوں۔
کیا ممکن ہے کہ ہم اسے خود احتسابی کی شکل میں دیکھیں؟
یعنی اس گزرتے ہوئے سال میں ہم نے کتنا قرآن پڑھا؟
کتنا قرآن یاد کیا؟
کتنے لوگوں کی مدد کی؟
صدقات و عطیات کی شکل میں کیا کیا؟
اپنی سوسائٹی اور اپنے ارد گرد موجود لوگوں کی فلاح کے لیے کیا کیا؟
ان سوالوں کے جوابات ہمیں ایک ایسی لسٹ مہیا کرتے ہیں جن کی مدد سے ہم آنے والے سال کے لیے کئی ایک چھوٹے چھوٹے وعدے ڈھونڈ سکتے ہیں۔ جو نہ کہ صرف ہمارے لیے مادی طور پر فائدے مند ہوں بلکہ ہمارے لیے روحانی اور نفسانی تربیت کا سبب بھِی بنیں۔
۱۔ تلاوت قرآن
اس بات سے قطع نظر کہ آپ کس رفتار سے قرآن پڑھ سکتے ہیں، صرف یہ وعدہ کریں کہ روزانہ کم از کم اتنا اور اتنا قرآن ضرور پڑھوں گا۔ ممکن ہے کہ ابتدا میں زیادہ قرآن نہ پڑھ پائیں تو کم ہی سہی لیکن پڑھیے ضرور۔ بعض اس لیے نہیں پڑھتے کہ غلطیاں بہت زیادہ ہوتی ہیں۔ بعضے اس لیے کہ وقت نہیں ملتا۔ کچھ لوگ مخصوص سورتوں کو سال بھر نماز اور نماز کے علاوہ پڑھتے رہتے ہیں۔ بعضے حضرات وہ ہیں جو عربی رسم الخط سے بالکل ہی نابلد ہیں اس لیے وہ بھی نہیں پڑھتے۔
آپ غور کیجیے کہ ان تمام مسائل کا حل مجرد قرآن کا پڑھنا ہے۔ اگر آپ پڑھیں گے نہیں تو ساری زندگی نہیں پڑھ سکتے۔ یہ ساری رکاوٹیں ہیں ہی اس لیے کہ آپ قرآن نہ پڑھیں۔ چنانچہ اٹھیں اور خود سے وعدہ کریں کہ قرآن روزانہ پڑھیں گے۔ چاہے جو ہو جائے قرآن ضرور پڑھیں گے۔
{ جو پڑھ سکتے ہیں اور روزانہ کچھ نہ کچھ پڑھتے ہیں وہ تجوید کے ساتھ پڑھنے کی کوشش کریں۔ جو تجوید سے واقف ہوں وہ حفظ کرنے کی کوشش کریں اور جو ان تمام مراحل سے گزر چکے ہوں وہ ترجمہ و تفسیر کی عادت ڈالیں }
۲۔ صدقات و خیرات
اس معاملے میں ہم بر صغیر والوں کا مزاج کچھ عجیب سا ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے ہم اس کار خیر کی روح تک پہنچنے میں اب تک ناکام رہے ہیں۔ ہمیں اب تک وہ لذت ہی نہیں ملی جو اس عمل پر ہمیں بار بار ابھارے۔
جمعہ کے روز چند روپے مانگنے والوں کو دے دینے سے یا کسی مسجد و مدرسہ کی تعمیر و تربیت کے لیے چندہ دے دینے سے یہ حق ادا نہیں ہوتا۔ آپ کے آس پاس ایسے بے شمار لوگ موجود ہیں جو آپ کے چھوٹے موٹے عطیات کے محتاج ہیں۔ ایسے بے شمار افراد ہیں جو چند روپوں کی خاطر سود کا شکار بنے ہوئے ہیں۔ آپ کے اپنے محلے والے، دور یا پاس کے رشتہ دار اور پتہ نہیں کون کون۔
خود سے وعدہ یہ کرنا کہ ہم اپنی کمائی سے کسی نہ کسی کے کام آنے کی کوشش کریں۔ ضروری نہیں کہ آپ کسی کا مکمل قرض نہیں اتار سکتے تو اس کی کچھ بھی مدد نہ کی جائے۔ ایسے لوگ مل ہی جاتے ہیں جنھیں بعض دفعہ صرف چند ہزار روپوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس معاملے میں احتیاط یہ کیجیے کہ پیشہ وروں اور چالاک لوگوں کی بجائے ضرورت مند شخص کو تلاش کرنے کی کوشش کیجیے۔
۳۔ صبح شام کے اذکار
انتہائی آسان سی چیز ہے۔ بمشکل پندرہ منٹ لگیں گے ان اذکار کو مکمل کرنے میں۔ اجر ان کا عظیم ہے اور زبان پر ہلکے پھلکے ہیں۔ مشکل اس لیے ہیں کہ فجر بعد سونے کی عادت نے ہم سب کو جکڑ رکھا ہے۔ اگر عادت بنا لیں تو صبح سویرے اچھے خاصے کام نپٹائے جاسکتے ہیں۔ شرط ہے کہ انسان جاگے۔ اور جاگنے کے لیے یہ اذکار بڑے مددگار ثابت ہوئے ہیں۔
شام کے اذکار کا معاملہ اس سے سوا ہے۔ جسم میں چستی تو ہے مگر فرصت ندارد۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے صبح جب پیٹ خالی تھا تو قرض مانگ لیا لیکن اب شام ڈھلے لوٹانے کا وقت آیا ہے تو دل نہیں مان رہا۔ دکان سمیٹنے کا وقت آیا ہے گراہکوں کی قطار لگی ہے، بس آنے کا ٹائم ہوچلا ہے، باس کا فون آرہا ہے اور نہ جانے کتنے بہانے ہیں شام کو اذکار نہ پڑھ پانے کے۔ لیکن سمجھیے کہ مزہ اسی میں ہے۔ جو بڑھ کر خود اٹھالے ہاتھ میں مینا اسی کا ہے۔ وہ دکان، وہ گراہک، وہ بس، وہ باس اور وہ ساری چیزیں جو آپ کو اس کام سے روکتی ہیں وہ فانی اور وقتی ہیں۔ ان اذکار کا فائدہ دائمی اور لافانی ہے۔
ان اذکار میں ایسی بہت ساری دعائیں شامل ہیں جو ہماری چھوٹی موٹی مشکلات کو آسانی سے حل کرسکتی ہیں۔ حلال روزی، بچوں کی حفاظت، بیماریوں سے پناہ، جن و شیاطین سے چھٹکارہ، قرض سے نجات اور نہ جانے کیا کیا۔ اوزار اللہ نے سارے مہیا کر رکھے ہیں ہم ہی بے وقوف ہیں جو اپنے دفاع کے لیے ان کا استعمال نہیں کرتے۔
۴۔ سوسائٹی
بحیثیت مسلمان جیسے آپ کے ماں باپ، بھائی بہن، بیوی بچوں کے کچھ حقوق آپ پر لازم آتے ہیں بعینہ آپ کی سوسائٹی اور آپ کے ارد گرد رہنے والے افراد کے بھی کچھ حقوق ہیں۔ ضروری نہیں کہ ان کی مدد کے لیے ہمارے پاس پاور ہو اور پیسہ ہو۔ اور بھی بہت سارے معاشرتی مسائل ہوتے ہیں جو صرف ذرا سی توجہ چاہتے ہیں اور کچھ نہیں۔
مثلا:
آپ اپنے محلے کے بچوں کو پڑھا سکتے ہیں۔
انھیں قانونی مشورے دے سکتے ہیں۔
طبی رہنمائی کرسکتے ہیں۔
سرکاری و غیر سرکاری اسکالر شپ کے بارے میں بتاسکتے ہیں۔
صحیح کالج یا اسکول چننے میں مدد کرسکتے ہیں۔
سرکاری اسکیموں کے تعلق سے آگاہی دلا سکتے ہیں۔
اور بھی بے شمار طریقے ہیں جن کے ذریعے آپ اپنے ارد گرد بسنے والوں کی مدد کرسکتے ہیں۔ ضرورت ہے ہمت کی اور استقلال کی۔
۵۔ دعا
دعا کی ضرورت اس بے چارہ سے پوچھیے جو تقدیر کے آگے بے بس ہوچکا ہو اور اب سامنے کوئی راستہ نہ پاتا ہو۔ اپنے پیارے کی خاطر تمام دوڑ دھوپ کر تھک چکا ہو اور اب تن بہ تقدیر ہو۔ لیکن یہ کمال نہیں ہے۔ کمال یہ ہے کہ انسان اللہ کو تب پکارے جب کہ وہ مجبور و مقہور نہ ہو بلکہ آسودہ حال ہو۔ اپنے آپ کو اللہ کی نعمتوں کے بیچوں بیچ پاتا ہو۔
پھر یہ پہلو بھی دیکھیے کہ مجبور انسان اپنی ذات سے آگے نہیں دیکھ پاتا۔ حالت مجبوری میں اسے اس ایک ضرورت کے سوا اور کچھ نہیں نظر آتا۔ اس کے برعکس ایک آسودہ حال شخص جب اللہ کے حضور ہاتھ اٹھاتا ہے تو اپنی ضرورتوں کے بجائے اللہ کی عنایتوں پر اس کی نظر ہوتی ہے۔ اپنی ذات سے اونچا اٹھ کر اپنے محسنین کے بارے میں، اپنے والدین، اعزہ و اقارب کے بارے میں، دوست و احباب کو یاد کرپاتا ہے۔
مجھ سے پوچھیے تو دعا کو بطور خاص اہتمام سے تیاری کے ساتھ مانگنا چاہیے۔ پہلے اپنے آپ پر اللہ کی نعمتوں کی فہرست بنائیے، پھر والدین اور بیوی بچوں کی خاطر، پھر اساتذہ اور ان کے احسانات، پھر دوست و احباب اور ان کی ضرورتیں، اس طرح ایک طویل فہرست تیار ہوجائے گی۔ اب دعا کی کسی خاص گھڑی کا اہتمام کیجیے جیسے جمعہ کی شام ہے یا فجر سے پہلے کا وقت یا کسی نماز کے بعد یا آپ جب چاہیں۔
سو کوشش کیجیے کہ آپ دعا کا اہتمام کرسکیں۔ یہ ایک ایسا تحفہ ہے جس کے ذریعہ آپ اپنے محسنین کے احسانوں کا بدلہ اتار سکتے ہیں۔
اصول
۱۔ یہ قطعا ضروری نہیں کہ آپ ان وعدوں کی پابندی کے لیے سارے زمانے کی مخالفت مول لیں۔ اپنے ماحول، عمر اور خاندان کو نظروں کے سامنے رکھتے ہوئے اپنے لیے کسی ہدف کا انتخاب کریں۔
۲۔ یہ عین ممکن ہے کہ آپ کا تسلسل کسی بنا پر قائم نہ رہ سکے۔ کسی سفر یا بیماری یا کسی مہمان کے آجانے سے آپ کو اپنے شیڈول میں کچھ تبدیلی لانی پڑے تو کوئی مضائقہ نہیں۔ اصل ہے کہ جب آپ کا عذر باقی نہ رہے تو آپ اسی مستقل مزاجی سے واپس اپنے شیڈول پر لوٹ آئیں اور یہ ذرا مشکل کام ہے مگر نا ممکن نہیں۔
۳۔ جس قدر ممکن ہو اپنے ہدف کو اپنی ذات تک محدود رکھیے۔ لیکن اگر ضرورت محسوس ہو تو کسی اچھے دوست کی مدد لیجیے۔
۴۔ اپنے لیے چھوٹے چھوٹے انعامات بنائِے۔ جوں جوں آپ اپنے ہدف کے قریب ہوتے جائیں خود کو ان انعامات سے نوازتے جائیں۔ مثلا آپ قرآن پڑھنا چاہتے ہیں تو
ا- اپنے کسی دوست کو مکلف کردیجیے کہ وہ آپ سے روزانہ ملتے ساتھ ہی آپ سے سب سے پہلے تلاوت کے متعلق ہی پوچھے گا
یا
ب- آپ وعدہ کیجیے کہ اگر آپ مسلسل دس روز تک طے کردہ صفحات تلاوت کر لے جائیں تو آپ خود کو تحفے میں ایک قلم دیں گے۔ بظاہر یہ پانی میں پانی ملانے جیسا ہے لیکن یقین مانیے اس سے آپ کو بہت طاقت ملے گی۔

2
آپ کے تبصرے

avatar
3000
2 Comment threads
0 Thread replies
0 Followers
 
Most reacted comment
Hottest comment thread
2 Comment authors
ڈاکٹر عبدالکریم سلفی علیگRiyazuddin Mubarak Recent comment authors
newest oldest most voted
Riyazuddin Mubarak
Guest
Riyazuddin Mubarak

بہت عمدہ ! واقعی یہ تحریر ایک اہم پہلو کی طرف یاد دہانی ہے۔ ہماری سب سے بڑی بھول یہی ہے کہ ہم قرآن کی تعلیمات سے دور ہوگئے، ہم نے قرآن میں تدبر کے پیغام کو ٹھکرا دیا۔ بہت افسوس کی بات ہے! ہم دنیا جہان کی گپیں مارنے کے لئے وقت ضرور نکال لیتے ہیں لیکن قرآن عظیم کی محکم آیات اور رسول انام کی سیرت طیبہ پڑھنے کے لئے ہمارے پاس بالکل وقت نہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ہم ہر جگہ خوار ہیں! قرآن کہتا ہے: وذكر فان الذكرى تنفع المؤمنين ! یقیناً دعائیں اور ذکر… Read more »

ڈاکٹر عبدالکریم سلفی علیگ
Guest
ڈاکٹر عبدالکریم سلفی علیگ
ما شاء اللہ
اللہ تعالی ہم کو عمل کی توفیق اور حوصلہ و ہمت سے نوازے.. آمین