سلفی عقیدہ ومنہج سے عناد کیوں ہے؟

سلفی عقیدہ ومنہج سے عناد کیوں ہے؟

رفیق احمد رئیس سلفی

(مولانا بدرالدین اجمل قاسمی کے بیان سے ابھرنے والے سوالات کا تجزیہ)

پارلیمنٹ میں طلاق بل پر تقریر کرتے ہوئے سلفیوں کے بارے میں جو تبصرہ مولانا بدرالدین اجمل قاسمی صاحب نے کیا تھا، چاروں طرف سے بجا طور پر اس کی شدید مذمت ہوئی اور آخر مولانا نے معافی مانگ لی اور تقریر کے متعلقہ حصے کو پارلیمنٹ کے ریکارڈ سے ختم کرانے کا فیصلہ بھی کرلیا۔ خدا کرے یہ تمام کارروائی نیک نیتی سے کی گئی ہو اور ہم مولانا جیسے ایک ذمہ دار عالم دین سے یہی توقع کرتے ہیں۔نوجوان سلفی علماء سے درخواست ہے کہ وہ مولانا کی اس معذرت کو قبول کریں اور ظاہر پر حکم لگاتے ہوئے اسلام کے اصولوں کی پاسداری کریں۔ دلوں کو ٹٹولنا اور نیت پر شبہات ظاہر کرنا بندوں کا کام نہیں، یہ اس رب العزت کے دائرۂ اختیار میں آتا ہے جس کی صفت ’’یعلم ما فی الصدور‘‘ ہے۔ تکلیف کی شدت اور زخم کے گہرے ہونے کا احساس ہم سب کو ہے لیکن اگر معافی مانگ لی گئی ہے تو اب تنقید واحتساب کا سلسلہ موقوف کردیا جانا چاہیے۔
مولانا بدرالدین اجمل قاسمی صاحب کے حالیہ بیان کے بعد جس قسم کا رد عمل دیکھنے کو ملا، سلفیوں نے جس طرح سے سخت لب و لہجہ میں اپنی ناراضگی ظاہر کی، ان کے اپنے حلقے کے بعض لوگوں نے جس طرح سلفیوں کے اس رد عمل پر ان کے دینی رجحانات اور ان کے موقف کو ہدف ملامت بنایا اور اسی درمیان تحریک اسلامی سے وابستہ بعض اخوان نے جس طرح کی سرد گرم باتیں کیں اور سوشل میڈیا میں اٹھے اس طوفان کو عمل کا رد عمل بتایا، اس پر ذرا تفصیل سے گفتگو کرنے کی ضرورت آن پڑی ہے۔ وطن عزیز میں مسلمانوں کے عقیدہ و عمل پر گفتگو یوں تو ہمیشہ ہوتی رہی ہے اور ہر مسلک کے علماء کرتے رہے ہیں لیکن اس میں عصبیت اور مناظرانہ رنگ غالب رہنے کی وجہ سے بہت سی باتیں واضح نہیں ہوسکی ہیں۔ شاید اب وقت آگیا ہے کہ دین اسلام کی حقیقی اور واقعی تصویر اہل وطن کے سامنے رکھی جائے تاکہ مسلمانوں کے درمیان پائے جانے والے مسالک کی حقیقت ان کے سامنے آسکے اور سلفیوں کی دعوت کا منہج و منہاج اور ان کے عقیدہ و عمل کی تصویر بھی نکھر جائے۔ ملک کے ستر فی صد حنفی مسلمانوں کی طرف سے وکالت کرتے ہوئے ایک مجلس کی تین طلاقوں کو جس طرح جائز بتایا جارہا ہے اور اس کے نتیجہ میں حلالہ جیسی گھناؤنی اور ملعون چیز کی قباحت و شناعت کو کم کرکے دکھانے کی کوشش کی جارہی ہے، وہ اسلام کے روشن چہرے پر ایک بد نما داغ ہے۔ حنفی کتب فقہ میں جن کمزور دلائل کا سہارا لے کر حلالہ کو کار ثواب بتایا گیا ہے، اس کو پڑھتے ہوئے سرپیٹ لینے کو جی چاہتا ہے۔ زبان سے نکاح موقت کی بات نہ کرے لیکن دل میں یہ خیال موجود رہے کہ اس بے چاری عورت کو اپنے بچوں کی پرورش کرنے کے لیے اس کے سابق شوہر کے لیے حلال کرنا ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ دل کی بات دنیا نہیں جانتی لیکن اللہ کو علم ہے کہ حلالہ کرنے والا یہ شخص ایک غلط فتوے کی بنیاد پر ایک معصوم عورت کے جسم و روح کو ایسا زخم دے رہا ہے کہ جب کبھی وہ اپنے شوہر کے سامنے جائے گی تو اس کا ضمیر اسے ملامت کرے گا، وہ اپنی نظروں میں گر جائے گی اور شوہر کی غیرت و حمیت بیوی کو دل و جان سے اپنا بنانے کی راہ میں ہمیشہ رکاوٹ بنی رہے گی۔ آج دنیا ہم سے سوال کررہی ہے کہ غلطی شوہر نے کی ہے، اس کی سزا ایک معصوم عورت کو کیوں دی جارہی ہے، ہمارے پاس اس سوال کا کوئی معقول جواب نہیں ہے۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ غیر مسلم اہل علم قرآن مجید کی طلاق سے متعلق آیات کا مطالعہ کرکے یہ کہتے ہیں کہ اس سے بہتر طلاق کی کوئی صورت نہیں ہوسکتی اور جس طلاق بدعت کو مسلم معاشرے میں موثر بنادیا گیا ہے، اس کی کوئی دلیل قرآن میں موجود نہیں ہے لیکن تقلید کی بندشوں نے ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑا اور ہم آج بھی طلاق کو بندوق کی گولی سے تشبیہ دیے جارہے ہیں۔ فقہ کے اس جزئیہ پر غور و فکر کرکے اسے نامعقول قرار دینے میں کیا پریشانی لاحق ہے، یہ بات سمجھ سے پرے ہے۔ اسلام اور اس کا نظام طلاق سر بازار رسوا ہورہا ہے، اس کی ہنسی اڑائی جارہی ہے اور ہم اپنی جگہ سے ٹس سے مس ہونے کے لیے تیار نہیں۔
مولانا قاسمی ملکی پارلیمنٹ کے ایک معزز رکن ہیں، وہ ہندوستانی مسلمانوں کی آواز ہیں۔ ہم ان کا احترام کرتے ہیں اور معافی مانگ لینے کے بعد اب اس ناخوش گوار واقعہ کو بھول جانا چاہتے ہیں۔ ہمیں معلوم ہے کہ آسام کے مسلمان ایک سنگین صورت حال سے دوچار ہیں۔ اس مشکل گھڑی میں اللہ کے بعد اگر ان کو کہیں سے مضبوط سہارا مل سکتا ہے تو وہ اس صوبے میں ان کی سیاسی وحدت اور اجتماعیت ہے۔ مولانا سے یہ درخواست کروں گا کہ خود آسام کے مسلمانوں میں ان کے اس حالیہ بیان سے جو بے چینی پھیلی ہے، اس کا ازالہ کریں اور اہل حدیث اور حنفی علماء کو ایک اسٹیج پر بلا کر مسلکی بھید بھاؤ کی تفریق کو دور کریں تاکہ ان کی سیاسی وحدت انتشار کا شکار نہ ہو۔
مسلمانوں کے درمیان اندرونی فقہی اختلافات ہمارے اپنے گھر کی باتیں ہیں، دعوت و تبلیغ کی مثبت کوششیں جاری رہیں تو کسی نہ کسی دن مسلمانوں کی سمجھ میں یہ بات ضرور آجائے گی کہ اسلام کے بنیادی مصادر: کتاب، سنت، اجماع اور قیاس کے سلسلے میں اہل سنت والجماعت کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے۔ شرط صرف یہ ہے کہ ان مصادر کو ان کا واقعی اور جائز مقام دیا جائے۔
اہل حدیث دعوت کا مرکزی محور یہی ہے اور اسی کی تفہیم یہ دعوت ہمیشہ کراتی رہی ہے۔ اگر کسی تعلیم یافتہ نوجوان کی سمجھ میں یہ بات آجاتی ہے اور وہ خود کو اہل حدیث مسلک اور فکر سے وابستہ کرلیتا ہے تو یہ اس کی سعادت ہے، اس پرچراغ پا ہونے کی بجائے خوش ہونا چاہیے کہ ایک نوجوان سمجھ بوجھ کر نیک اور صالح بنا ہے۔ اہل حدیث مسلک نعوذ باللہ کفر وضلالت تو نہیں ہے کہ اس پر اتنا واویلا مچایا جائے اور اپنی نجی مجلسوں میں اس پر شدید برہمی کا اظہار کیا جائے۔ بات سخت ہے لیکن اس موقع پر مجبوری میں کہنا پڑرہا ہے کہ تقلید کی دعوت میں اگر کوئی معقولیت ہے تو اسے بھی آزادی ہے، ایسے نوجوانوں کی گھر واپسی کی تحریک چلائیے، جمہوری اور سیکولر ہندوستان میں اس کی بھی آزادی ملی ہوئی ہے۔ آخر زرد رنگ والوں نے بھی تو یہ ’’کاروبار‘‘ شروع کررکھا ہے اور اپنے تمام وسائل کے ساتھ میدان میں ہیں لیکن حشر ہم سب کو معلوم ہے۔ سچائی کے خلاف جھوٹ کتنا ہی منظم کیوں نہ ہوجائے، اس کا انجام ہمیشہ پسپائی کی صورت میں سامنے آتا ہے۔
اصل پریشانی اور الجھن اس وقت پیش آتی ہے جب ہم متاخرین کے وضع کردہ بعض کمزور اصولوں کو استعمال کرکے نصوص کتاب وسنت کو رد کردیتے ہیں۔ دو صحیح حدیثوں میں اپنی سمجھ کے مطابق تعارض دکھا کر دونوں کو رد کردینا اور پھر قیاس کو فیصلہ کن تسلیم کرکے فتوی صادر کرنا، اسی طرح نصوص میں ابہام ثابت کرکے قیاس کو مقدم کردینا یا حدیث کو خبر واحد کے زمرے میں ڈال کر شریعت کی توضیح عقل سے کرنا وغیرہ بعض ایسے غیر منطقی اور غیر شرعی اصول ہیں، جن کی وجہ سے فقہی مسائل میں شدید اختلا فات پیدا ہوئے ہیں۔ آج کا ذہن بڑی حد تک اندھی تقلید کی تاریکیوں سے باہر آچکا ہے اور وہ کتاب وسنت کی بالادستی کو سمجھ چکا ہے، اللہ کی ذات سے امید ہے کہ ہماری اپنی کوتاہیوں کے نتیجے میں اسلامی شریعت کے روشن چہرے پر جو گرد جمی ہوئی تھی، وہ اب صاف ہورہی ہے اور عالمی سطح پر رجوع الی الکتاب والسنۃ کا رجحان عام ہوچکا ہے۔ دنیا کے ابلیسی نظام کو بجا طور پر ملت کی اس بیداری سے خوف محسوس ہورہا ہے اور وہ اس بیداری کو سبوتاژ کرنے کے لیے طرح طرح کے ہتھکنڈے اپنا رہا ہے۔
بدعات، توہمات اور بزرگ پرستی کی دنیا میں زندگی گزارنے والے افراد اگر واقعی مسلمان ہیں، انھیں اللہ کی کتاب اور اپنے نبی کی سنت پاک سے محبت ہے تو انھیں اپنے خود ساختہ مسلک اور جتھے کی طرف داری کرتے ہوئے ابلیسی نظام کے علم برداروں کی آواز میں آواز ملانے کی بجائے رجوع الی الکتاب والسنۃ کی موجودہ بیداری کو خوش آمدید کہنا چاہیے۔ یہ پروپیگنڈہ ختم کیا جانا چاہیے کہ اس بیداری نے ائمہ اسلام اور فقہائے اسلام کی عزت و ناموس کو چیلنج کیا ہے، رسول گرامی ﷺ کی حرمت و تقدس کا کماحقہ پاس و لحاظ نہیں رکھا جارہا ہے اور کسی نئے دین کی بنا ڈالی جارہی ہے۔
اہل علم اور اصحاب بصیرت کو اچھی طرح معلوم ہے کہ سلفی فکر اور اہل حدیث مسلک میں نصوص کتاب و سنت کو جو احترام و تقدس ملتا ہے اور بغیر کسی بے جا تاویل کے ان کو قبول کیا جاتا ہے، اسی میں ساری امت کی بھلائی کا راز پنہاں ہے۔ فقہائے امت کا احترام اور ان کے اجتہادات اور فتاوی سے بغیر کسی فرق و امتیاز کے اگر کوئی استفادہ کرتا ہے تو اہل حدیث مسلک ہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے ترجیحی اقوال کبھی امام اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے مسلک سے ہم آہنگ ہوتے ہیں اور کبھی امام شافعی رحمہ اللہ سے، کبھی وہ امام مالک کے فتوے کو اقرب الی الکتاب و السنہ سمجھتے ہیں تو کبھی امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کے مسلک کو۔ قرون مشہود لہا بالخیر میں عام مسلمانوں کے فہم دین کا جو طریقہ مروج تھا، اور اسلام پر عمل کرنے کے لیے جس فہم کو استعمال کیا جاتا تھا، اہل حدیث مسلک میں صرف اسی کی دعوت دی جاتی ہے۔ اس مسلک سے وابستہ علماء نے ہمیشہ یہی طرز فکر وعمل اختیار کیا ہے، دوسرے مسالک کی بات جانے دیں، اگر ہم مسلک عالم دین نے کبھی کوئی ایسا مسئلہ بیان کیا ہے جو کتاب وسنت اور فہم سلف کے خلاف ہے تو آگے بڑھ کر اسی کے معاصر ہم مسلک علماء نے اس کی تردید کو اپنی دینی ذمہ داری سمجھی ہے، تاریخ میں اس کی مثالیں بھری پڑی ہیں یہاں گنجائش نہیں کہ ان کو بیان کیا جائے۔
مولانا بدرالدین اجمل قاسمی صاحب نے جن ستر فی صد حنفی مسلک کے حامل مسلمانوں کا تذکرہ کیا ہے، ان میں پچاس فی صد تعداد ان لوگوں کی ہے جو حنفی مسلک رکھنے کے باوجود عقیدہ کے باب میں بریلی، بدایوں، کچھوچھہ اور مارہرہ سے وابستہ ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ان مراکز سے تعلق رکھنے والے علماء اپنی عوام کو کتاب وسنت پر مبنی دین کی تعلیم دینے کی بجائے بزرگان دین کے طلسماتی واقعات، کائنات میں ان کے روحانی تصرفات اور حاجت روائی اور مشکل کشائی میں ان کے ناموں کی برکات کا تذکرہ بڑی دھوم دھام سے کرتے ہیں۔ قوالی اور میلاد شریف رسول گرامی اور بزرگان دین سے محبت کی سب سے بڑی دلیل ہے۔عرس، نیاز، فاتحہ، تیجہ اور چالیسواں مردوں کی مغفرت اور ان کے رفع درجات کے لیے ضروری ہے۔ بڑی خاموشی سے باقی مسلمانوں کو وہابی کہہ کر ان سے ہر طرح کے تعلقات ختم کرنے کی تاکید کی جاتی ہے۔ وہابی کی پیچھے عام نمازوں کی اقتدا تو بہت دور کی بات ہے، اگر کسی غیر وہابی نے کسی وہابی کے جنازے میں شرکت کرلی تو اس کی بیوی سے اس کا نکاح فسخ ہوجائے گا اور ازسرنو نکاح کے بعد ہی وہ وظیفۂ زوجیت ادا کرنے کا مجاز ہوگا۔ اسلام اور اہل اسلام سے محبت کرنے والی عوام کنفیوژ ہے کہ وہ کیا کرے اور اپنے ہی مسلمان بھائیوں کے ساتھ کیسے اور کس قسم کے روابط رکھے۔ ملکی ہی نہیں بلکہ عالمی سطح پر اسلام کی اس الٹی تعبیر کو امن و سلامتی کا ضامن بتایا جارہا ہے۔ مولانا اجمل قاسمی صاحب کے ہم مسلک لوگوں نے ان سے ایک طویل جنگ لڑی ہے لیکن ’’زلزلہ‘‘ نامی کتاب کا آج تک کوئی معقول جواب نہیں دیا جاسکا جس کا خلاصہ مولانا عامر عثمانی کی زبان میں یہ ہے کہ ’’یہ ہے دیوبندی تصوف جو بریلوی تصوف کو آنکھیں دکھاتا ہے‘‘۔
اہل حدیث فکر و عقیدہ کا تجزیہ اس قسم کے حنفی مسلمانوں کے بارے میں یہ ہے کہ ان کے مسلمان ہونے میں کوئی شک نہیں، جاہلیت اورجہالت کے اندھیرے ان پر غالب ہیں، کتاب و سنت کی روشنی جس قدر عام ہوتی جائے گی، یہ سیاہ بادل چھٹتے چلے جائیں گے۔ نصوص کی بے جاتاویلات اور بے سند حکایات پر ان غیر اسلامی عقائد کی عمارت کھڑی ہے، بھٹکے ہوئے نوجوان بڑی تیزی کے ساتھ دعوت کتاب و سنت سے وابستہ ہورہے ہیں۔ یہی عمومی بیداری پریشانی کا سبب بنی ہوئی ہے اور سلفیوں کو مختلف خطابات سے نوازا جارہا ہے۔ دونوں حلقے کے ذمہ دار علماء ہی بتادیں کہ سلفیان ہند عام مسلمانوں کو کتاب وسنت کی طرف دعوت دیں یا اندھی تقلید اور بے سند حکایات کی طرف م۔ سینوں میں اگر ایمان کی روشنی موجود ہے تو سلفی دعوت کے اس منہج کو غلط یا برا نہیں سمجھا جاسکتا۔
اہل حدیث مسلک اور سلفی فکر سے معاصر اسلامی تحریکات کو بھی کئی ایک شکایات ہیں اور وہ معاصر دنیا کو یہ بتانے میں مصروف ہیں کہ ہم تو اسلامی نظام کے قیام اور اس کی بالادستی کے لیے سرگرم عمل ہیں اور اہل حدیث حضرات اسلامی نظام کے قیام کی راہ میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ یہ انتہائی قبیح نوعیت کی بدظنی ہے جو تحریکی برادران کے دل ودماغ پر مسلط کردی گئی ہے۔ اسلامی نظام حکومت کا ایک عام شہری بن کر اور اس میں ایک ادنی خدمت گار ہوکر زندگی گزار لینا اہل حدیث مسلک سے وابستہ افراد کی اولین ترجیح ہے۔ شرط صرف یہ ہے کہ وہ واقعی اسلامی نظام حکومت ہو جس میں کتاب و سنت کو بالا دستی حاصل ہو اور اسلام کے عقیدۂ توحید اور جذبۂ اتباع سنت کا کسی ’’مقصد اعلی‘‘ کے حصول کے لیے سودا نہ کیا گیا ہو۔
امام حسن البنا، مولانا سید ابوالاعلی مودودی اور اسلامی تحریک کے بعض دوسرے رہنماؤں سے سلفی فکر کو جو اصولی اختلافات رہے ہیں، ان کو مصر، پاکستان، ہندوستان، سعودی عرب اور الجزائر وغیرہ میں بارہا بیان کیا جاتا رہا ہے، ان کو دہرانے کی ضرورت نہیں ہے۔
معاصر اسلامی تحریکات کا یہ دعوی ہرگز قابل قبول نہیں ہوسکتا کہ معاصر دنیا کی سمجھ صرف ہمیں ہے، اللہ کی زمین پر اللہ کا قانون نافذ کرنے کی جو جدوجہد ہم کررہے ہیں، صرف وہی صحیح ہے، باقی سب فضول اور طاغوت کی چاکری ہے۔ یہ ایک ایسا دعوی ہے جو صرف منصب رسالت سے کیا جاسکتا ہے، کوئی امتی اس طرح کا دعوی کرنے کا مجاز نہیں۔ یہ ایک طرح کی تعلّی اور غرور ہے جو دین داری کے تقاضوں کے خلاف ہے۔ کار تجدید کا فریضہ انجام دینے والے کے چاروں طرف اس طرح کی جاہلیت نہیں ہوتی جس طرح کی جاہلیت نبی کے سامنے ہوتی ہے۔ ’’خذ ماصفا ودع ماکدر ‘‘ کے اصول پر عمل کرتے ہوئے ایک مجدد کار تجدید کا فریضہ انجام دیتا ہے۔ سلسلۂ نبوت و رسالت کے ختم ہوجانے کے بعد امت کو خواب غفلت سے بیدار کرنے اور اس کے اندر نئی روح ڈالنے کا یہی ایک طریقہ باقی ہے۔
امت کی تاریخ میں مجددین کی جو روشن تاریخ ہے، وہ ہمیں بتاتی ہے کہ جب جب اسلام سے عمومی انحراف شروع ہوا ہے اور اسلام کے جس شعبے میں شروع ہوا ہے، اللہ نے اپنے فضل و کرم سے کسی شخصیت کو اٹھا کھڑا کیا ہے اور اس نے پٹری سے اتر جانے والی گاڑی کو ٹریک پر پہنچا کر کار تجدید کا فریضہ انجام دیا ہے۔ مولانا مودودی کے اپنے لفظوں میں مجددیت دعوی کرنے کی نہیں کچھ کرکے دکھانے کی چیز ہے۔یہ فیصلہ نتائج سامنے آنے کے بعد کیا جائے گا کہ یہ کار تجدید تھا یا کار فساد۔ معاصر اسلامی تحریکات کے فکر و عمل کے نتائج سامنے آرہے ہیں، دیر سویر امت یہ فیصلہ کرلے گی کہ پون صدی پر محیط ان تحریکات نے ملت کو عروج وارتقا سے ہم کنار کیا ہے یا زوال وخسارے سے۔ امت اتحاد و اتفاق کی سیسہ پلائی مستحکم دیوار بنی ہے یا انتشار و افتراق کی خلیج مزید وسیع اور گہری ہوئی ہے۔ آنکھیں کھلی رکھیں، صبر کریں، عجلت سے کام لینے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

معاصر اسلامی تحریکات سے سلفیوں کو نفرت و عداوت کبھی نہیں رہی اور نہ آج ہے بلکہ ابتدا میں ان تحریکات نے اپنا جو اصولی موقف اپنایا اور جس دستور کو اپنے لیے راہ عمل بنایا چوں کہ اس میں کوئی بات ایسی نہیں تھی جس سے اختلاف کیا جائے، اسی لیے ہم دیکھتے ہیں کہ عالمی سطح پر سلفیوں نے ان تحریکات کا ساتھ دیا ہے اور ان کے تمام ملی کاموں میں ان کے دوش بدوش رہے ہیں۔ برصغیر میں تو صورت حال بہت نمایاں رہی ہے، چوٹی کے بعض اہل حدیث علماء نے تحریک اسلامی کی رکنیت قبول کی ہے اور ہم دردوں کی تعداد تو شمار بھی نہیں کی جاسکتی لیکن جب ان تحریکات نے اپنے ہی بنائے ہوئے اصولوں کی خلاف ورزی شروع کردی اور اسے بدلتے ہوئے حالات کا تقاضا قرار دینے لگیں تو سلفیوں نے خاموشی سے علاحدگی اختیار کرلی۔
ہندوستان میں علمائے دیوبند نے تحریک اسلامی کے تعلق سے جو رویہ اپنایا، وہ رویہ سلفیوں نے کبھی نہیں اپنایا اور جس طرح سے تحریک کے اکابرین نے علمائے دیوبند سے رسم و راہ مضبوط کرنے کی لگاتار جد وجہد کی، وہ سعی و جہد سلفی علماء سے روابط استوار رکھنے میں کبھی نہیں کی گئی لیکن ان تمام بے اعتدالیوں کے باوجود سلفیوں نے پورے ملک میں تحریک کے تمام دینی اور رفاہی کاموں میں ان کی معاونت کی اور آج بھی جماعت اہل حدیث اپنے اسی اصولی موقف پر قائم ہے۔ نوجوان تحریکی قلم کار اپنے ناقص علم اور مطالعہ کی بنا پر سلفیوں کو اپنا حریف سمجھ بیٹھے ہیں اور آئے دن ان کے قلم سے دل آزار تحریریں نکل رہی ہیں، انھیں تحریک اسلامی کی تاریخ کا مطالعہ کرنا چاہیے اور یہ دیکھنا چاہیے کہ کب کس نے تحریک اسلامی کے تعلق سے کیا کہا ہے اور کیوں کہا ہے۔ فقہی فروعات میں تقلیدی روش اور عقیدۂ توحید وسنت کے ابعاد و جہات تک ان کی عدم رسائی موجودہ ناہموار تحریروں کی ذمہ دار ہے۔ فکری اصابت و صلابت کتاب وسنت کے مطالعہ سے پیدا ہوتی ہے اور موجودہ تحریکی قلم کاروں کی اکثریت اس صفت سے عاری ہے، چند ایک اردو کی کتابوں نے انھیں انقلابی بنا دیا ہے اور یہ پوری دنیا میں اسلامی انقلاب لانے کا خواب آنکھوں میں سجائے زندگی گزار رہے ہیں۔ تحریک سے وابستہ علماء کی ذمہ داری ہے کہ ایسے نوجوان قلم کاروں کی صحیح تربیت کریں، ورنہ یہ پوری تحریک اسلامی کو طرح طرح کی آزمائشوں میں مبتلا کردیں گے۔
دوسری اہم بات یہ ہے کہ معاصر اسلامی تحریکات بڑی عجلت میں ہیں۔ ایک ایسے معاشرے کی تشکیل کے بغیر جس کی اکثریت عقیدہ و عمل میں ممتاز اور پختہ ہو، اسلامی نظام کا قیام ناممکن ہے۔ دنیا میں مسلم معاشرے کی حالت یہ ہے کہ آج کی تاریخ تک ہم مسلمان عورتوں کو پردے کی اہمیت و ضرورت نہیں سمجھا سکے اور اختلاط مردوزن کی نمایاں خرابیاں ان پر واضح نہیں کرسکے جو ایک صالح اسلامی معاشرے کی پہچان ہے تو اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ اسلام کی دوسری اساسی تعلیمات کا کیا حال ہوگا بلکہ تحریک سے متاثر یا اس کے ہمدرد کئی ایک عالمی سطح کے دانش ور مسلمان عورت کو اسی سطح پر دیکھنا چاہتے ہیں جس سطح پر ان کو مغرب لے کر گیا ہے۔ کئی ایک معروف اسلامی اسکالرس مسلم معاشرے کو ایک دقیانوسی معاشرہ سمجھتے ہیں اور عورت کی مظلومیت کی دہائی دیتے ہوئے اسے مردوں کے غلبہ والا سماج قرار دیتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اس مسئلے میں یہ کنفیوژن کیوں ہے؟ مردوں کے دوش بدوش رہ کر عورت کسب معاش کرے گی تبھی مسلمانوں میں خوش حالی آئے گی اور وہ آزادی کی اسی نعمت سے بہرہ ورہ ہوگی جو مغرب نے اسے دے رکھی ہے، تب کہیں جاکر صحیح اسلامی انقلاب برپا ہوگا؟یہ تو ایک مثال دی گئی ہے ورنہ مغربی افکار سے مرعوبیت سیاسیات اور معاشیات کے شعبوں میں اس قدر عام ہے کہ آج تک ہم یہ طے ہی نہیں کرسکے کہ اسلامی سیاست اور اسلامی معاشیات کے وہ امتیازات کیا ہیں جو اسے مغربی افکار سے الگ کرتے ہیں۔ اگر اسلامی انقلاب کا مقصد مغرب کی سیاسی جمہوریت اور اس کے دریافت کردہ اصول معاشیات کو اپنے ہاتھوں نافذ کرنا ہے تو وہ تو پہلے ہی سے دنیا میں مروج ہے، اس پر اسلام کا لیبل لگانے کی ضرورت کیا ہے۔
معاصر اسلامی تحریکات کے فکر و نظر کے یہی انحرافات ہیں جو اسے کبھی امام خمینی کے انقلاب کی طرف لے جاتے ہیں اور کبھی کمیونزم کی مخالفت کرکے سرمایہ داری کی گود میں بٹھادیتے ہیں۔ سعودی عرب کی بادشاہت آنکھوں میں کھٹکتی ہے اور شیعیت کی بنیاد پر استوار ایران کی جمہوریت اسلام کی نمائندگی کرتی نظر آتی ہے۔ پاکستان میں تحریک اسلامی کی سیاست میں بھرپور شرکت کی تاریخ اور اس کے نتائج ہمارے سامنے ہیں۔ ہندوستان میں سیاست کے تعلق سے تحریک اسلامی کا روز بروز تبدیل ہونے والا نظریہ بھی ہمارے سامنے ہے۔ امت کی اصلاح اور تربیت کا ایک بیش قیمت دور جو کم وبیش پچہتر سالوں پر محیط ہے،ہ
ہم نے ضائع کردیا اور کسی ایک ملک میں کوئی ایسا صالح معاشرہ وجود میں لانے میں ناکام رہے جو دل و دماغ کی پوری آمادگی کے ساتھ اسلامی نظام کو قبول کرنے پر آمادہ دکھائی دے۔
معاصر اسلامی تحریکات کے فکر و نظر کے انحراف کا ایک تکلیف دہ پہلو یہ بھی ہے کہ اس نے اپنے ہی مسلم ممالک کے خلاف ایک سرد جنگ کا آغاز کردیا۔ مجددین امت کی پوری تاریخ میں مسلم حکومتوں کے خلاف اس نوعیت کی محاذ آرائی کبھی نہیں ہوئی۔ علمائے وقت نے اپنی پشت پر تازیانے برداشت کرلیے لیکن عوام کو اپنے حکم رانوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کی آواز کبھی نہیں لگائی کیوں کہ انھیں معلوم تھا کہ حکومتوں کے خلاف عام بغاوت شروفساد ہے، اس میں معصوموں کا خون بہے گا، حرمتیں پامال ہوں گی اور وسائل حیات جو تنکا تنکا کرکے جمع کیے گئے ہیں، آن واحد میں خاکستر ہوجائیں گے۔ معاصر اسلامی تحریکات نے خلافت وملوکیت کی جو بحث چھیڑی ہے، اس کے پیچھے بھی یہی فکر کارفرما ہے۔ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے اپنی جان دے دی لیکن امت کو عام تباہی سے بچانے کی پوری کوشش کی اور شہر نبی کے تقدس کو پامال ہونے سے محفوظ رکھا۔خلافت بنوامیہ اور بنوعباسیہ میں جس طرح ائمۂ اہل بیت کو بعض طالع آزماؤں نے اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کیا اور انھیں عوامی شورش کا حصہ بنانے کی کوشش کی، اس کا نتیجہ ہمارے سامنے ہے۔ امت کے زہاد اور اتقیاء کو شہید کیا گیا اور بے شمار لوگوں پر حکومتوں کا عتاب نازل ہوا۔ امام احمد بن حنبل کا بھی ایک اسوہ ہمارے سامنے ہے۔ خلق قرآن کے مسئلے میں تین تین بادشاہتوں نے مسلسل ظلم کیے لیکن انھوں نے ان حکومتوں کے خلاف عوام کو بھڑکانے کی کبھی کوشش نہیں کی۔ اپنی پیٹھ پر کوڑے کھاتے رہے اور یہی کہتے رہے کہ مجھے کتاب وسنت کے دلائل سے مطمئن کردو۔
جابر و ظالم حکم رانوں کے سامنے کلمۂ حق کا اعلان افضل الجہاد ہے۔ عوام میں شورش پیدا کرنے کی بجائے ذمہ داروں سے مکالمہ کرنا چاہیے ممکن ہے کہ مسئلے کے وہ پہلو بھی سامنے آجائیں جو جذبات کی رو میں بہہ جانے کی وجہ سے سامنے نہیں آسکے تھے۔ ہم یہ دیکھ رہے ہیں کہ کئی ایک مسلم ممالک میں خود کو اسلام پسند کہنے والے نوجوانوں نے اپنی ہی حکومتوں کے خلاف تحریک چلائی، ان کو اپنے بزرگوں کی سرپرستی بھی حاصل رہی لیکن انجام ہمارے سامنے ہے۔ کتنے ہی بے گناہ لوگ تختۂ دار پر لٹکادیے گئے، کتنوں نے تاحیات قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں، بے شمار گھر اجڑگئے اور بے شمار زندگیاں اندھیروں میں ڈوب گئیں۔ منزل حاصل کرنے اور حکومتوں کا تختہ پلٹنے کے لیے جب یہ نوجوان آگے بڑھے تو اسلام دشمنوں کا آلۂ کار بن گئے اور مسلم ممالک کے دشمنوں نے انھیں اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کیا، یہ اور بات ہے کہ بہتوں کو اس کا ادراک بھی نہیں ہوسکا کہ وہ کس کے لیے کام کررہے ہیں۔
ایران کے شیعی انقلاب کا تجربہ سنی ممالک میں دہرانا مشکل ہی نہیں ناممکن ہے۔ ایران کی اکثریت شیعہ مسلمانوں کی تھی، شاہ کی فیملی بہت زیادہ دنوں تک عوامی شورش کو دباکر نہیں رکھ سکتی تھی، فوج بھی شاہ کا ساتھ دینے پر آمادہ نہیں تھی کیوں کہ اس میں شامل افراد بھی تو شیعہ ہی تھے، وہ اپنے لوگوں پر گولیاں کیسے برسا سکتے تھے۔ نتیجہ وہی ہوا جس کا پہلے سے ہی اندازہ تھا کہ خمینی نے پیرس میں بیٹھے بیٹھے ایران میں انقلاب برپا کردیا اور شاہ فیملی کو ملک سے بھاگ کر اپنی جان بچانی پڑی۔ معاصر اسلامی تحریکات کا ایران کی طرف جھکاؤ کی یہ وجہ بے سود ہے، ان کو وہاں سے کچھ نہیں مل سکتا اور نہ سنی ممالک میں اس طرح کی کوئی عوامی شورش پیدا کرنے میں وہ کامیاب ہوسکتی ہیں۔
زیادہ صحیح، مثبت اور قابل عمل صورت صرف یہ ہے کہ اگر واقعی آپ سنی ممالک میں اسلامی نظام کی بالادستی کے لیے سرگرم عمل ہیں تو مسلم ممالک میں حزب اختلاف کا کردار ادا کرنے کی بجائے ان کے مثبت اور تعمیری کاموں میں ان کا ساتھ دیجیے، غیر شرعی کاموں میں تعمیری تنقید کا رویہ اپنائیے اور ملک کی داخلہ اور خارجہ پالیسی پر بغیر سوچے سمجھے کوئی ایسی تنقید مت کیجیے جو خود ان ممالک کے لیے نقصان دہ ثابت ہو۔ مسلم معاشرے کی دینی تربیت پر پوری توجہ مرکوز کریں اور عوامی اکثریت کا مزاج دینی بنائیں۔
معاصر اسلامی تحریکات کے فکر و فہم کا ایک مسئلہ حدیث و سنت کے تعلق سے ان کا ڈھل مل یقین بھی ہے۔ درس قرآن، فہم قرآن اور رجوع الی القرآن کے تمام تر دعووں کے باوجود صورت حال یہ ہے کہ ہم ابھی تک مسلم معاشرے میں عقائد کی وہ پختگی پیدا نہیں کرسکے جو قرآن میں موجود ہے، ان اخلاقی تعلیمات کی روشنی میں عوام کی تربیت نہیں کرسکے جو قرآن کی سورتوں میں پائی جاتی ہیں۔ سورہ انفال اور سورہ توبہ جیسی سورتوں کی بعض آیات کو جن کا تعلق جنگی حالات سے ہے، درس و مطالعہ کا موضوع بناکر مسلم معاشرے کی دینی تربیت نہیں کی جاسکتی۔ فکر و فہم میں جو اعتدال و توازن مطلوب ہے، وہ ہاتھوں سے پھسل جائے گا۔سنت و حدیث اور فہم سلف سے بے نیاز ہوکر قرآن کی تفسیر بڑے خسارے کا سودا ہے۔ قرآن کی آیات کو معاصر افکار کے چوکھٹے میں فٹ کرنا ایک عام سی بات ہوگئی ہے، اس کے نمونے جگہ جگہ دیکھے جاسکتے ہیں۔ حدیث و سنت ساتھ رہے تو انسان قرآن کی بے جا تاویل سے محفوظ رہتا ہے۔ اگر اس فکر و فہم کے ساتھ دنیا کے کسی خطے میں اسلامی نظام قائم ہوا تو پتا چلے گا کہ مقاصد شریعت کے مظاہر کی تعیین کرتے ہوئے حدیث و سنت کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا ہے۔
سلفی فکر قرآن اور حدیث کو توأم تسلیم کرتا ہے۔ دونوں ایک ساتھ رہیں گے تو اسلام کی تفہیم ممکن ہوسکے گی، اپنی خواہش کے مطابق ایک کو آگے اور دوسرے کو پیچھے کیا گیا تو سب کچھ الٹ پلٹ جائے گا۔ اصول فقہ کے بعض وہ اصول جن پر متکلمین اور فلسفیوں کی چھاپ ہے، کس طرح قرآن کے اجمال کی حدیثی تشریح کو ایک زائد حکم اور نسخ کہتا ہے اور اس کے نتیجے میں کن کن صحیح احادیث کو رد کردیا جاتا ہے، اہل علم سے مخفی نہیں۔ اسلام کے معاشرتی قوانین میں جو پیچیدگیاں ہمیں نظر آرہی ہیں اور اسلام کے معاشرتی قوانین کی کئی ایک دفعات جن الجھنوں کا شکار بنی ہیں، ان کے پیچھے وہی فقہی اصول ہیں جن کے تقدس کا پرچار کیا جاتا ہے خواہ ان کی وجہ سے قرآن و حدیث کے کتنے ہی واضح قوانین کو رد کرنا پڑے۔ تحریک اسلامی سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کو مولانا مودودی کی کتاب حقوق الزوجین کا مطالعہ کرنا چاہیے جو انھوں نے جماعت اسلامی کو قائم کرنے سے پہلے لکھی تھی اور جس کے بعض مباحث کی وجہ سے علمائے دیوبند نے ان سے ہمیشہ کے لیے رشتہ ختم کرلیا تھا۔افسوس کی بات ہے کہ تحریک سے وابستہ بڑے علماء فقہ حنفی کے ذہنی دباؤ سے باہر نہیں نکل سکے اور آج بھی مکھی پر مکھی مارے چلے جارہے ہیں۔

4
آپ کے تبصرے

avatar
3000
4 Comment threads
0 Thread replies
0 Followers
 
Most reacted comment
Hottest comment thread
4 Comment authors
عبدالقدیرKhan jalaluddinFauwazKashif Shakeel Recent comment authors
newest oldest most voted
Kashif Shakeel
Guest
Kashif Shakeel
بہترین لائق مطالعہ مضمون
علم و تجزیہ سے لبالب
ادب کی چاشنی سے معمور
دعوت و اصلاح سے بھرپور
Fauwaz
Guest
Fauwaz
بے حد جاندار
Khan jalaluddin
Guest
Khan jalaluddin

(1)جماعت اہل حدیث کے مشہور قلم کار محترم رفیق احمد رئیس سلفی حفظہ اللہ کی یہ تحریر شر کے پہلو سے نکلنے والے خیر کی بہترین مثال ہے ۔جس میں معاندین سلفیت کو سنجیدگی کے ساتھ اصولوں کی روشنی میں ٖغور و فکر کی دعوت دی گئی ہے ۔ تاریخی تناظر میں اسلام دشمنوں کی کوششوں کو بیان کرتے ہوئے واضح کیا گیا ہے کہ سلفیت کے تعلق سے پھیلائے جارہے تمام پروپیگنڈٖے خواہ داخلی سطح پر ہوں یا خارجی اسی دشمنی کا تسلسل ہیں ۔ (2)مضمون نگار نے طلاق ثلاثہ ،حلالہ یا دیگر بدعی معاملات کے تعلق سے امت… Read more »

عبدالقدیر
Guest
عبدالقدیر
ماشاء اللہ۔۔۔
شیخ نے اس مفصل مضمون میں نہ صرف حالیہ مسئلے کا بلکہ ایک طرح سے مکمل تاریخ کا شاندار تجزیہ پیش کیا ہے۔۔۔ ایک ایک پیراگراف توجہ سے پڑھنے کے لائق ہے۔۔۔ سوشل میڈیا پر متحرک نوجوانوں کو یہ مضمون ضرور پڑھنا چاہیے۔۔۔۔۔ شیخ کی جتنی بھی تحریریں میں نے پڑھی ہیں ان میں سے اب تک کی سب سے شاندار اور جان دار تحریر لگی۔۔۔۔
رب العالمین شیخ کو صحت و عافیت کسے نوازے۔۔۔۔ آمین
جزاکم اللہ خیرا۔۔۔۔