حیات لے کے چلو، کائنات لے کے چلو

رشید سلفی گوشہ اطفال

(تقریر)
حیات لے کے چلو، کائنات لے کے چلو
چلو تو سارے زمانے کو ساتھ لے کے چلو
موضوع گفتگو ہے:
ہیں لوگ وہی جہاں میں اچھے
آتے ہیں جو کام دوسرں کے
سامعین باتمکین!
خود غرضی، مفاد پرستی انسانیت کا شعار بن چکی ہے، نفس پروری اور حرص و طمع کے خول میں انسانی ضمیر قید ہے، دلوں میں پتھروں کی سنگلاخی اور طبعیتوں میں طوطا چشمی در آئی ہے، رفتار زمانہ کی ستم‌ رانی تو دیکھیے کہ ایک ایسا وحشتوں میں ڈوبا ماحول ہے جہاں انسانی درندے ننھی آصفہ کے معصوم وجود پر قیامت ڈھاتے ہیں اور کچھ لوگ ایسوں کی حمایت میں آواز اٹھاتے ہیں، جہاں ایک بے گناہ بوڑھے کو جمہوریت کی ناک کے نیچے پیٹ پیٹ کر مار ڈالا جاتا ہے اوراس کے اہل خانہ کو حوالہ زنداں کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ہمدردی، بہی خواہی، دادرسی اور غرباء پروری یہ کسی اور دنیا کی بات ہوگی، یہاں ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک مفاد و غرض کی ہوائیں چل رہی ہیں، رحم خود رحم کی بھیک مانگ رہی ہے، مروت لقمہ اجل بن چکی ہے۔ اب ہمدردی کا سراغ لگانے ہم کہاں جائیں، رحمدلی کی دریافت کے لیے کس دنیا کا چکر کاٹیں۔ لیکن نہیں، انسانیت کو بچانے کے لیے ہمیں پتھروں پر پھول کھلانے کا ہنر آزمانا ہوگا، گھور تاریکیوں میں امید کا چراغ جلانا ہوگا، خدشات اور واہموں سے اوپر اٹھ کر وقت کے باد مخالف سے ٹکرانا ہوگا اور غم انسانیت سے انسانیت کو آشنا کرنے کے لیے محمد رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے پیغام کو عام کرنا ہوگا۔ وہ پیغام یہ تھا:
درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو
ورنہ طاعت کے لیے کچھ کم نہ تھے کروبیاں

کتنا عظیم ہے یہ کام کہ ہم دوسروں کے لیے جینے لگیں، کتنا سکون ملتا ہے جب ہمارا کوئی لمحہ کسی کو سکون پہنچا جاتا ہے، کتنا مزہ آتا ہے جب ہماری قربانی سے کوئی پژمردہ چہرہ مسکرا اٹھے، کیا کسی بھوکے کو کھانا کھلا دینا کسی پیاسے کو پانی پلا دینا کسی مریض کا علاج کرادینا کسی مصیبت کے مارے کے لیے رنج و الم سے نجات کا سامان کردینا، کیا یہ گزرے ہوئے کل کی بات ہوجائے گی، کیا مجبور کو سڑک پر ایڑیاں رگڑتا دیکھ کر ایک نگاہ غلط انداز ڈال کر ہم گذر جائیں گے؟ کیا ضرورت مند بیمار کو علاج کے بغیر بستر مرگ پر تڑپتا چھوڑ کر میٹھی نیند سوئیں گے؟ کیا غریب کا بچہ حسرت و نامرادی کی آگ میں جلے گا اور ہمارے جگر گوشے عشرت کدوں کی زینت بنے رہیں گے، کیا غریب نان‌ شبینہ کے لیے ترسے گا اور ہمارے گھروں کے فاضل کھانے کچرے کے ڈبے کی نذر ہوں گے؟
یہ کتنی بڑی ستم ظریفی ہے کہ ایک بوڑھا چلتی بس میں ہچکولے کھا رہا ہے اور صحت مند اور نوجوان کرسیوں پر بیٹھے طوطا چشمی کا مظاہرہ کررہے ہیں، کاش کوئی جوان رعنا اٹھتا اور کہتا بابا آپ میری جگہ پر بیٹھ جائیں میں کھڑے کھڑے سفر کرلوں گا۔ کبھی ہم‌ نے کسی ڈوبتے کو بچایا کسی گرتے کو سنبھالا دینے کی کوشش کی، کسی روتے کی اشک شوئی کی، کسی کمزور کا بوجھ اٹھایا، شاعر کہتا ہے:
ڈوب رہا ہے دیکھو کوئی
بڑھ کے ساحل ہوجاتے ہیں
سامعین با تمکین!
بات آئی ہے دوسروں کے کام آنے کی تو کیوں نہ ہم اس انسانی مسیحا کے ذکر سے محفل کو مہکاتے چلیں جس کی زندگی کا ایک ایک لمحہ خدمت خلق میں بسر ہوا، وہ جس کا عنفوان شباب بیواؤں کی اشک شوئی، یتیموں کی داد رسی، کمزوروں کی خیر خواہی، غریبوں کی غمخواری میں قربان ہوگیا، جذبات اور ولولوں سے لبریز عالم شباب میں جس نے ایک چالیس سالہ بیوہ کو اپنی بیوی بنایا اور حق زوجیت اس طرح نبھایا کہ خدیجہ کی وفات کے بعد آپ کی دوسری بیویاں بھی خدیجہ رضی اللہ عنہا پر رشک کیا کرتی تھیں۔
عید کے دن دھول اور مٹی میں لپٹے ہوئے ایک بچے کو دیکھا تو تڑپ اٹھے گود میں اٹھا لیا اور عید کی ساری خوشیاں اس کے دامن میں نچھاور کردیں، ایک پریشان حال نے سوال کیا تو تنگدستی کے باوجود کہا اس وقت میرا دامن خالی ہے، جا مدینہ کے کسی بھی شخص سے میرا نام لے کر مانگ لے اور مجھے اس کا نام بتادے میں وہ قرض ادا کردوں گا۔ سچ تو یہ ہے کہ آپ کی زندگی شاعر کے اس خیال کے حقیقی مصداق تھی:
کانٹا چبھے کسی کو تڑپتے ہیں ہم امیر
سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہے
آپ نے کبھی سیاسی فایدے اور نیک نامی کے لیے کوئی کام نہیں کیا، بس اللہ کی خوشنودی کے لیے زندگی بھر دوسروں کے لیے جیتے رہے اور یہ کہتے رہے کاش میں کوئی درخت ہوتا جو کاٹ ڈالا جاتا اور لوگ اس کا پھل کھاتے۔ آج رفاہی ادارے، سماجی تنظیمیں بھی وہ کام‌ نہیں کرسکتیں جو آپ نے تن تنہا کیا، میں نے مانا کہ بعض لوگ کار خیر اور سماجی کام کرتے ہیں لیکن مصلحت اور مفاد کے بندے غریب کی عزت نفس اور انا کو چوٹ پہچانا نہیں بھولتے، کیا فیس بک اور واٹس ایپ پر سامان خورد ونوش کے ساتھ غریبوں کے ساتھ نام نہاد امیروں کی سیلفیاں آپ نے نہیں دیکھیں؟ کیا یتیم خانوں میں چیک دیتے ہوئے ارباب مال و دولت کی تصویریں آپ کی نظر سے نہیں گذریں؟ کیا اجتماعی شادیوں میں بڑے بڑے نیتاوں اور متمول شخصیات کی جہیز کے سامانوں کے ساتھ ویڈیوز سوشل میڈیا پر نظر نہیں آئیں؟ محمد رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے بھی غریبوں کی شادیاں کرائیں لیکن اس کی چہار دانگ عالم میں نمائش نہیں کی، آپ نے غریبوں کے گھر میں راشن بھی دیا لیکن غریب کے ساتھ کوئی سیلفی نہیں لی، آپ نے یتیموں کی پرورش بھی کی لیکن اسے اخبار کی سرخی نہیں بنایا۔ کمزوروں کے لیے مزدوروں کی طرح کام کیا لیکن کبھی دنیاوی تحسین و آفرین کی خواہش نہیں کی۔یہ تو وہ بے لوث انسان تھے جو کہا کرتے تھے داہنے ہاتھ سے دو تو بائیں کو خبر بھی نہ ہو۔
جناب صدر!
اسوہ رسول پیش کرنے کا مقصد دراصل انسانیت نوازی کی حقیقی روح سے انسان کو آشنا کرانا ہے، حقیقت تو یہ کہ “دوسروں کے کام آنا” یہ پیغام، اسلام اور پیغمبر اسلام کا دیا ہوا ہے، یہ تحریک ساڑھے چودہ سو سال پہلے چلائی گئی ہے، یہ آواز انسانیت کے آخری مسیحا کی طرف سے اٹھائی گئی ہے۔ آج ضرورت ہے اس مشن کے حقیقی روح کو سمجھ کر اسے انجام دینے کی۔
کیا دنیا میں غم والم کا وجود نہیں ہے، مصیبتیں نہیں ہیں، پریشانیوں سے لوگ محفوظ ہیں، ہرگز نہیں، اے وہ لوگو جو اپنے دلوں میں مفلوک الحال انسانیت کے لیے نرم گوشہ رکھتے ہو اپنے پہلو میں دل درد مند رکھتے ہو اپنے عشرت کدوں سے غربت و افلاس کی دھوپ میں جینے والوں کی روتی بلکتی زندگی میں جھانک کے دیکھو، مجبوروں اور گردش زمانہ کے شکار زندگیوں سے قریب ہو کر اس آنچ کو محسوس کرو جو ان کی خوشیوں کو جلا کر خاکستر کررہی ہے۔ اگر کچھ نہیں کرسکتے تو ان کے ہرے ہرے زخموں پر الفاظ تسلی کے مرہم ہی رکھ دو۔ آپ کی محبت کے دو بول کسی کے غم کو ختم نہیں تو ہلکا ضرور کرسکتے ہیں۔ اس شعر کے ساتھ رخصت ہوتا ہوں:
سر پہ ہے غم کی کڑی دھوپ کہاں ہیں احباب
کاش دو بول سے ہمدردی کے سایا کرتے

آپ کے تبصرے

avatar