جب میں اک پردہ نشیں سے لڑگیا

بیلن بلرامپوری شعریات

میں سناتا ہوں تمہیں اک ماجرا

کس طرح مشکل میں، اک دن پڑگیا

چل رہا تھا دھن میں ہو کر میں مگن

جا کے اک پردہ نشیں سے لڑگیا


وہ اٹھی اور مجھ پہ گرمانے لگی

داڑھی پر وہ طنز فرمانے لگی

زور سے پھر مجھ پہ چلانے لگی

اتنے میں سینڈل بھی برسانے لگی


میں یہ بولا کہ شریف انسان ہوں

اس قدر تو مت مچائیں شور آپ

اس پہ وہ پردہ نشیں گویا ہوئی

شکل سے تو لگ رہے ہیں چور آپ


سن کے محترمہ کے منہ سے لفظ چور

لوگ دوڑے اور بڑھے سب میری اور

قبل اس کے کچھ میں سمجھاتا انھیں

بے بسی کا حال بتلاتا انھیں


اس طرح سب لوگ مجھ پر پل پڑے

ہر کسی نے منہ پہ دو گھونسے جڑے

ان کا غصہ کم نہ پھر بھی ہوسکا

اس قدر تھا ان میں جوش و ولولہ


خوب دھویا جس کو بھی موقع ملا

ہو گیا تبدیل پھر نقشہ مرا

آ گیا اس میں اک ایسا سر پھرا

وہ تو سیدھا سینے پر ہی چڑھ گیا


بیٹھک اُٹھک مجھ سے کروایا گیا

یہ عمل سوبار دہرایا گیا

کچھ نے پکڑا ہاتھ اور پھر کچھ نے پیر

پھر فضا میں مجھ کو لہرایا گیا


استرے سے بال منڈوایا گیا

چہرے کو بھی کالا کروایا گیا

جوتیوں کا ہار پہنایا گیا

اور گدھے پہ مجھ کو ٹہلایا گیا


جس گلی سے میں کبھی واقف نہ تھا

اس گلی تک مجھ کو لے جایا گیا

کیا بتاؤں شرم کی یہ بات ہے

کچھ حسیناؤں سے پِٹوایا گیا


مارنے کی ان کی تھی ایسی ادا

آرہا تھا جانے کیوں مجھ کو مزا

کر رہا تھا رب سے یہ دل میں دعا

ختم جلدی ہو نہ یہ میری سزا


پھر اچانک کچھ ٹپوری آگئے

آتے ہی وہ لوگ مجھ پر چھا گئے

دے کے وہ اپنی شرافت کی قسم

زندگی کے گر مجھے سمجھا گئے


لڑکیوں سے دور ہی رہنا سدا

تجھ کو تیری جان کا ہے واسطہ

پھر کبھی آیا اگر ہم کو نظر

جان سے جائے گا تو اے بے خبر


عرض کی میں نے نہ گزروں گا کبھی

بھول کر بھی لڑکیوں کے پاس سے

اپنی بیگم کے تعلق سے بھی اب

معذرت کر لوں گا اپنی ساس سے


ڈر کے مارے حال کیسا ہوگیا

پہلے سے میں اور دبلا ہوگیا

بات تو کچھ بھی نہ تھی، دیکھو ذرا

اک غلط فہمی میں کیا کیا ہوگیا


9
آپ کے تبصرے

avatar
9 Comment threads
0 Thread replies
0 Followers
 
Most reacted comment
Hottest comment thread
9 Comment authors
Parwez SadafShaukat ParvezNoorمحمد اشرف یاسینسحر محمود Recent comment authors
newest oldest most voted
Kashif Shakeel
Guest
Kashif Shakeel
اپنی بیگم کے تعلق سے بھی اب
معذرت کر لونگا اپنی ساس سے
ہہہہہہہہہہہہہہہ
لاجواب
مزیدار
گریٹ
ریاض مبارک
Guest
ریاض مبارک
کیا بات ہے !! بہت خوب قطعات سے بڑھ کر اب سیدھا مرثیہ وہ بھی اپنا ہی!!! لا جواب !!!
آپ نے ان ۔۔۔۔۔ سب کے خلاف کوئی FIR نہیں درج کرائی؟
یونہی پٹ کے آگئے؟
مارنے کی ان کی تھی ایسی ادا
آرہا تھا جانے کیوں مجھ کو مزا
کر رہا تھا رب سے یہ دل میں دعا
ختم جلدی ہو نہ یہ میری سزا
یہ قطعہ تو لاجواب ہے !!! ڈھیروں داد وصول کریں!!
ریاض مبارک
Guest
ریاض مبارک
بھائی FIR لکھوایا یا نہیں ؟؟

لاجواب ! Bravo! Keep it up

شمس الرب خان
Guest
شمس الرب خان
چھا گئے گرو۔ ویسے اچھا بہانہ ملا ہے، ساس سے معذرت کرنے کے لیے۔۔۔ ھھھھھھھ
شکل سے تو لگ رہے ہیں چور آپ۔۔۔
اس نظم کا سب سے سچا مصرعہ ہے 😂😂😂
سحر محمود
Guest
سحر محمود
بہت خوب
کلام پر ڈھیروں داد
اور جو روداد آپ نے پیش کی اس پر اللہ آپ کو صبر جمیل عطا فرمائے
آمین
محمد اشرف یاسین
Guest
محمد اشرف یاسین
واہ ملک بھائی آپ نے ماشاء اللہ بہت شاندار لکھاہے، بیگم سے بیلن کھاتے کھاتے اب آپ دوسری دوشیزاؤں سے پِٹنے لگے اچھی ترقی کی ہےـ
Noor
Guest
Noor
ماشاءاللہ
اچھا ہوا آپ نے انجام سے آگاہ کردیا
ممبرا کی بھیڑ میں تو زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے
Shaukat Parvez
Guest
Shaukat Parvez
بہت عمدہ!
آج مجھے پتہ چلا کہ بیلن بلرامپوری آپ ہیں۔

You have nicely portrayed the ordeal of a person accidentally bumping into
a woman and then getting beaten up

What an amazing poem

Parwez Sadaf
Guest
Parwez Sadaf
ماشاء اللہ
اب تو کسی کے سایے کے قریب بھی نہیں جاؤں گا 😄