حساس اداروں میں آر ایس ایس کا بڑھتا اثر و رسوخ

ریاض الدین مبارک

مورخہ 4/1/2018 انڈین اکسپریس نے اپنے ایک کالم میں بھارتی سپریم کورٹ کے سابق جج عزت مآب کے ٹی تھوماس کے تعلق سے بات رکھی ہے۔ آنریبل جج اتوار کے روز کوٹایام کیرلا میں RSS کے انسٹرکٹرز ٹریننگ کیمپ کو خطاب کرتے ہوئے فرما رہے تھے کہ آئین اور مسلح افواج کے علاوہ ہندوستانی عوام کو اگر کسی اور شیئ نے تحفظ فراہم کیا ہے تو وہ کوئی اور نہیں صرف اور صرف RSS ہے۔ جناب والا نے مزید فرمایا کہ ایمرجنسی کی لعنت سے ملک کو نجات دلانے کا سہرا اگر کسی تنظیم کو جاتا ہے تو وہ RSS ہے۔
تھوماس جی کہہ رہے تھے کہ انہیں ایسا لگتا ہے کہ ملک کی سلامتی کے لئے سنگھ اپنے رضاکاروں کو نظم و ضبط کی تعلیم دیتا ہے۔ جسطرح سانپ اپنے اوپر کئے جانے والے حملے سے بچنے کے لئے اپنے زہر کو ایک ہتھیار کے روپ میں استعمال کرتا ہے ٹھیک اسی طرح آدمی کی طاقت کسی اور پہ حملہ کرنے کے لئے نہیں بلکہ دوسروں کے حملوں سے بچنے کے لئے ہے۔ ان کے بقول یہی وجہ ہے کہ وہ RSS کی سراہنا کرتے ہیں۔ یہی اسکا ایمان ہے اور اسی کی وہ تعلیم دیتے ہیں۔ جج صاحب سمجھتے ہیں کہ RSS کی جسمانی تربیت ملک اور سماج کے لئے دفاع کا کام دے گی۔ ان کے بقول RSS ایک مضبوط اور منظم عملی تنظیم ہے جس نے ایمرجنسی کے وقت کے پرائم منسٹر اندرا گاندھی کو یہ سوچنے پہ مجبور کردیا تھا کہ ایمرجنسی زیادہ دیر نہیں چل سکتی!
آر ایس ایس کے تعلق سے اس طرح کی باتیں آئے دن ہوتی رہتی ہیں، مسئلہ آر ایس ایس کی سراہنا یا انکے تنظیمی ڈھانچے کے مقاصد کی مدح کرنا آج ایک عام بات ہے۔ اگتے سورج کو تو سبھی سلام کرتے ہیں اور آج کی اس دنیا میں سر پھرے نایاب ہیں ہاں مصلحت پسند بہتیرے نظر آجاتے ہیں۔
ان سب کے باوجود یہاں دو باتیں کافی اہم ہیں؛ ایک تو مسٹر تھوماس کا سپریم کورٹ کا سابق جسٹس ہونا اور دوسرا مذہب کے اعتبار سے ان کا مسیحی ہونا وہ بھی اس درجہ کہ انہوں نے اپنی آپ بیتی کا نام بھی مسیحی رنگ میں “Honeybees of Solomon” رکھا !
ایک جسٹس کا یہ نظریہ اور وہ بھی اپیکس کورٹ کا جسٹس، اپنے آپ میں ان گنت سوالوں کو جنم دیتا ہے۔ ایک جج جو آئین کا حلف لیتا ہے اور دوسروں کو حلف دلواتا بھی ہے وہ ایک ایسی تنظیم کی سراہنا کیسے کرسکتا ہے جو علی الاعلان دستور کی دھجیاں اڑاتا ہے، جو ہندوستانی ترنگے کو باعث عار سمجھتا ہے، جو ملک کی اقلیتوں کو دوسرے درجے کا شہری تصور کرتا ہے، جو جانوروں کے تقدس کو انسانوں کے وقار پر فوقیت دیتا ہے، جہاں دیومالائی کہانیوں کا ذکر مقدس آیات کی شکل میں ہوتا ہے۔ جس تنظیم کے پرچارک کھلے عام دہشت پھیلاتے ہوں، جو تنظیم خود کو قوم پرست کہتی ہے لیکن قومی سلامتی کو غارت کرنے میں کوئی فروگذاشت نہیں چھوڑتی! کسی جج کے ذریعے ایسی تنظیم کی تعریف کچھ اور ہی ثابت کرتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ آر ایس ایس ایک منظم اور مضبوط آرگنائزیشن ہے۔ اس نے بھارت ونش کے ہر طبقے کو اپنے دام میں پھنسا لیا ہے، بھارت کے اہم ستون سمجھے جانے والے تمام ادارے وہ چاہے دستور ہو یا عدلیہ ہو یا مسلح اور غیرمسلح فوج ہو، میدان تعلیم ہو کہ بیوروکریسی ہو اس تنظیم نے ہر جگہ سیندھ لگائی ہے اور اب ہر کوئی انہیں کے مطلب کی راگ الاپ رہا ہے۔ ابھی تک اقلیتیں اس تنظیم سے مکمل نا اتفاقی رکھتی تھیں لیکن اب تو وہ مسلم ہوں کہ سکھ ہوں کہ کرسچین ہوں سب انہیں کی ڈفلی بجا رہے ہیں! جج صاحب کے اس بیان اور بے لاگ ستائش کے تعلق سے باتیں تو اور بھی ہیں دل بھی چاہتا ہے کہ مزید لکھوں لیکن کیا کروں
مصلحت کا جبر ایسا تھا کہ چپ رہنا پڑا
ورنہ اسلوب زمانہ پر ہنسی آئی بہت

After Constitution, Army, RSS keeps Indians safe: Supreme Court ex-judge
After Constitution, Army, RSS keeps Indians safe: Former Supreme Court judge

آپ کے تبصرے

avatar