دی فری لانسر کے محترم ذمہ داران اور اس کے معزز قارئین

رفیق احمد رئیس سلفی

پٹری بدلنے اور پھر رفتار پکڑنے میں جو وقت لگتا ہے وہ لگ چکا۔ فری لانسر رسالے سے پورٹل بن چکا ہے۔ مارچ دو ہزار نو میں پہلا شمارہ شائع ہوا تھا، ایڈوکیٹ جاوید صاحب کی تحریک پر بڑے بھائی اسماعیل سلفی کی قیادت میں کرلا ممبئی کے معروف نیتا جناب نواب ملک صاحب کے ہاتھوں اس کا اجراء بھی ہوگیا تھا۔ کرلا اسٹیشن کے باہر ویسٹ میں جلدی جلدی خریدی ہوئی وہ ڈیڑھ سو روپے کی شرٹ بھی کچھ کام نہ آئی تھی، کنوارے دولہا کی طرح لجائے شرمائے پسینہ پسینہ تھے ابن کلیم صاحب، ان کے ساتھ میں بھی اسٹیج کے نیچے ہی کھڑا رہ گیا تھا۔ اسماعیل بھائی کو تصویر اجراء میں فری لانسر کی نمائندگی اکیلے کرنی پڑی تھی۔ پانچ منٹ کی صرف یہ رسم ہماری تھی، پورا جلسہ کسی اور کا تھا۔
ایک دن ایسا بھی آیا کہ یہ فری لانسر ملک و ملت کے حساس موضوعات پر مکالمے کرنے لگا۔ سیمیناروں کے ایجنڈوں پر قلمی مباحثے کرانے لگا۔ انہی دنوں کی بات ہے جس کا ذکر رفیق صاحب نے اپنے اس محبت نامے میں کیا ہے۔ ذہن سازی اور وہ بھی سماج کے نمائندہ افراد کی یعنی علماء حضرات کی، یہی مقصد تھا فری لانسر کا اور اب بھی ہے، اسی سطح کی زبان بھی استعمال ہوتی تھی کیونکہ پریزنٹیشن میں عوام کی کوئی شعوری رعایت نہ کی جاتی تھی۔
فری لانسر کے متعینہ مشن کو پیش نظر رکھتے ہوئے پورٹل کی موجودہ صورت حال پر رفیق صاحب نے جس بے چینی کا اظہار کیا ہے وہ بجا ہے اور اس کی ذمّہ داری ذمہ داران فری لانسر پر عائد ہوتی ہے۔ اس مشن میں مجلس ادارت کی انفرادی شمولیت خاطر خواہ ہے مگر عصری مسائل پر اجتماعی مکالموں کے انعقاد کی کمی بجا طور پر محسوس کی جاسکتی ہے۔ یہی احساس ہے یہ پورا مضمون۔ جزاہ اللہ خیرا
اللہ سے دعا ہے کہ ہمیں علم دے اور عمل کی توفیق بھی۔ آمین

(ایڈیٹر)


دی فری لانسر جب رسالے کی شکل میں شائع ہوتا تھا، اس وقت اس میں جس طرح کے اصحاب قلم کی شرکت ہوا کرتی تھی اور جس طرح کے سلگتے موضوعات پر بے باکی سے اظہار خیال کیا جاتا تھا، اس سے ایک پیغام یہ عام ہورہا تھا کہ ملت کے جو مسائل ہیں اور ان کی جو زمینی حقیقت ہے، بغیر کسی تحفظ اور ذہنی دباؤ کے یہ رسالہ ان کو ملت کے سامنے لا رہا ہے۔ اپنی اسی شفافیت اور بے لاگ تجزیہ کی وجہ سے علمی حلقوں میں اسے پذیرائی بھی حاصل تھی اور اسے اہل علم ذوق و شوق کے ساتھ پڑھتے بھی تھے۔ صحافت جس غیر جانب داری اور حقیقت بیانی کا مطالبہ کرتی ہے اور جمہوری ممالک میں اسے جس طرح ایک اہم ستون کی حیثیت سے جانا جاتا ہے، اس کے تقاضوں کو بڑی حد تک یہ رسالہ پورا کررہا تھا۔
کمیوں اور خامیوں پر جس طرح کی باریک نظر ایک صحافی کی ہوتی ہے، وہ عام لوگوں کی نہیں ہوتی، عام لوگ اضطراب اور بے چینی تو محسوس کرتے ہیں لیکن اپنے احساسات کی ترجمانی نہیں کرسکتے، وہ اپنا درد الفاظ کے پیکر میں ڈھالنے سے عاجز ہوتے ہیں۔ اس وقت ایک صحافی میدان میں آتا ہے اور وہ سماج کا ترجمان بن جاتا ہے۔ جب ایک صحافی کی تحریر کسی مسئلے میں آجاتی ہے تو اسے عام لوگ اپنے دکھوں کا مداوا سمجھ کر اسی فکر کو ہر گلی کوچے میں بحث کا موضوع بنالیتے ہیں، پھر رائے عامہ ہموار ہوتی ہے اور اصلاح اور درستگی کے عمل کا آغاز ہوتا ہے۔ ایک صحافی ہمیشہ حزب اختلاف کا کردار ادا کرتا ہے، اقتدار میں رہنے والے لوگوں کی مدح سرائی تو ہر کوئی کرتا ہے لیکن ان کی ملمع سازی، دھاندھلی اور جھوٹ کا پردہ ایک صحافی ہی چاک کرتا ہے۔
دینی جماعتوں کے مسائل کچھ کم سنگین نہیں ہیں، تنظیم، مدارس، مساجد اور دعوت و تبلیغ کے ادارے اپنے اہداف کو حاصل کرنے میں ناکام ہیں۔ جن نتائج کی ان سے توقع کی جاتی ہے، وہ سامنے نہیں آرہے ہیں۔ ظاہر ہے کہ ان کے اسباب و عوامل کا بے لاگ تجزیہ وہ رسالے کیسے کرسکتے ہیں جو خود وہی ادارے شائع کرتے ہیں یا اس ادارے سے متعلق کوئی صحافی کھل کر ان کمزوریوں کی نشان دہی کیسے کرسکتا ہے جو ان کے مشاہرے پر کام کررہا ہے۔ یہ ایک بڑا خلا تھا جسے فری لانسر نے پوری جرأت، ہمت اور بصیرت کے ساتھ پُر کیا تھا۔ یہ کوئی روایتی قسم کا رسالہ نہیں تھا جس میں غیر ضروری چیزوں کو جگہ دی جاتی تھی بلکہ جہاں جہاں رخنے تھے اور جہاں جہاں پانی مررہا تھا، اس کو نمایاں کرنا اور پوری بصیرت اور اعتماد کے ساتھ اسے ملت کے سامنے لانا، وہ اپنا فریضہ سمجھتا تھا۔ پہلے کی طرح آج بھی ملت کی یہ ضرورت ہے کہ ملت کو اندر سے مستحکم رکھنے والے ادارے کیوں کامیاب نہیں ہیں۔ کارکنان، اساتذہ اور دوسرے ملازمین کی تنخواہوں میں کمی اس کی وجہ ہے یا انتظامیہ کی نااہلی اور اس کی سستی راستے کی رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔ ان کو مضبوط اور مستحکم کرنے کے لیے کس طرح کے موثر اقدام کی ضرورت ہے، یہ بتانا ایک بے باک صحافی کا کام ہے۔ فری لانسر سے وابستہ نوجوان یہ فرض ادا کرسکتے ہیں اور انھیں یہ لازمی طور پر کرنا چاہیے۔ لیپاپوتی کرنے اور مسائل کو ان کے صحیح پس منظر میں نہ دیکھنے سے ہی یہ خرابیاں پیدا ہوئی ہیں۔ ان کو دور کرنا ملت کے ساتھ خیرخواہی بھی ہے اور اس کی سب سے بڑی خدمت بھی۔
میرا اپنا احساس یہ ہے کہ ویب پورٹل بن جانے کے بعد رسالے کے یہ بلند مقاصد متاثر ہوئے ہیں اور وہ بتدریج ایک روایتی قسم کے عام دینی رسالے کی حیثیت اختیار کرتا جارہا ہے۔ ذمہ داران کے ساتھ میں اس کے قدیم و جدید قارئین سے بھی درخواست کروں گا کہ آپ سمت سفر تبدیل نہ کریں بلکہ اسی ڈگر پر چلیں جس پر پہلے دن آپ نے قدم رکھا تھا اور کئی ایک سالوں تک سود و زیاں کے احساس کو بالائے طاق رکھ کر چلتے رہے تھے۔
مجھے یہ بھی معلوم ہے کہ کاروان فری لانسر کے کئی ایک ساتھی، کسی وجہ سے کارواں سے بچھڑ گئے ہیں، ان کی شکایات یا مشکلات میں اگر معقولیت ہے تو اس کو سمجھنے اور دور کرنے کی ضرورت ہے۔ فانی بدایونی کا ایک شعر کبھی پڑھا تھا جو آج بھی یاد ہے، یہاں اسے نقل کرکے یہ درخواست کروں گا کہ کارواں کو دوبارہ منظم کریں اور ان مقاصد کے حصول میں لگ جائیں جو اول روز سے آپ حضرات کے پیش نظر تھے۔ شعر یہ ہے:
دل کا اجڑنا سہل سہی، بسنا سہل نہیں ظالم
بستی بسنا کھیل نہیں، بستے بستے بستی ہے
بلند مقاصد کے حصول کے لیے کسی بامقصد کارواں کا منظم ہونا کوئی آسان کام نہیں ہے، یہ فری لانسر سے وابستہ چند مخلص نوجوان تھے جن کو اللہ نے انتاجی صلاحیتوں سے نوازا تھا اور جو ملت میں موجود خلا کو پُر کرنے کے لیے پورے عزم و حوصلے سے آسمان صحافت پر نمودار ہوئے تھے، کوئی بھی مخلص خادم ملت نہیں چاہے گا کہ یہ کارواں بکھر جائے۔ کارواں سے وابستہ نوجوان مل بیٹھیں اور اسے زیادہ سے زیادہ موثر اور بامقصد بنانے کے جتن کریں۔ رجال کار بن جانا سعادت کی بات ہے، یہ ہر کسی کے نصیب میں نہیں ہوتا، خوش قسمت ہے آپ کی ٹیم جو ایک اعلی مقصد کو اپنا ہدف بنائے ہوئے ہے۔
اسلام کی نشأۃ ثانیہ اور ملت کو اس کا کھویا ہوا وقار واپس دلانے کے لیے جس فہم و بصیرت اور حکمت عملی کی ضرورت ہے اور جس تک عام مسلمانوں کا ذہن نہیں پہنچ پاتا، اس کی طرف رہنمائی ملت کے اصحاب فکرودانش ہی کا کام ہے۔ گزشتہ پچاس سالوں میں مسلمانوں کا جو خون بہا ہے اور ان کی معیشت تباہ کی گئی ہے اور پھر اس کے نتیجے میں دینی اور سماجی سطح پر جو فکری انتشار نمایاں ہوا ہے، اس کا تجزیہ اور مطالعہ کسی وجہ سے نہیں ہوپا رہا ہے اور ان کمزوریوں کی نشان دہی ہم نہیں کرپارہے ہیں جن کی وجہ سے ملت آج زوال و انحطاط کے آخری پائیدان پر ہے۔ آخر کون کرے گا یہ کام، اب زمین پر آسمان سے فرشتے اترنے والے نہیں ہیں اور نہ کسی نئے نبی کا ظہور ہونے والا ہے کہ وہ قوم و ملت کی ہر کل سیدھی کردے گا۔ یہ کام ملت کے بزرگوں کی سرپرستی میں ملت کے غیور نوجوانوں ہی کو کرنا ہے اور انہی کی کوششوں سے تمام منصوبوں میں رنگ بھرا جاسکتا ہے۔ مجھے یہ بھی احساس ہے کہ آپ تمام حضرات کے اپنے ذاتی مسائل بھی ہیں، فیملی ہے، کاروبار یا ملازمت ہے لیکن ان سب ذمہ داریوں کے ساتھ یہ اضافی ذمہ داری آپ نے اللہ کی توفیق سے قبول کی ہے، اسے کسی بھی حال میں نظر انداز نہ کیجیے اور نہ اپنے ذاتی مسائل کی الجھنوں سے پریشان ہوکر اس سے دور جانے کی کوشش کیجیے۔ یہی تو وہ کام ہے جو دنیا میں آپ کو وقار و احترام عطا کرے گا اور یہی تو وہ فریضہ ہے جسے ادا کرکے آپ ان شاء اللہ آخرت میں سرخ رو ہوں گے۔
ہمارے مسلم ممالک داخلی طور پر جن مسائل سے جوجھ رہے ہیں اور ان کے اندر قدیم و جدید اور مشرق و مغرب کی جو کشمکش جاری ہے، اس کے اسباب کا علم ہمیں فکر و نظر کا ایک وسیع میدان فراہم کرتا ہے اور ہم پوری درد مندی کے ساتھ مشکلات کا حل ڈھونڈھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ قرآن کا تدبر کے ساتھ مطالعہ، احادیث کا صحیح فہم اور سیرت نبوی کے نشیب و فراز اور مختلف مواقع پر رسول گرامی ﷺ کی طرف سے اپنائی جانے والی حکمت عملی کی تفہیم ہماری بصیرت میں اضافہ کرے گی۔ خلافت راشدہ کے بعد خلافت بنوامیہ، خلافت بنو عباسیہ، اندلس کی مسلم حکومت، آل عثمان کی حکم رانی اور ہندوستان میں مسلمانوں کی مختلف حکومتیں جس زوال و انتشار سے دوچار ہوئیں، اس کے اسباب و عوامل پر پوری بصیرت کی ساتھ روشنی ڈالنا، حال کی ہماری مشکلات کو حل کرے گا۔ بادشاہت اور مغربی جمہوریت میں سے کون ہے جسے اختیار کرنا ملت کے حق میں بہتر ہوسکتا ہے۔ بادشاہت کی خوبیاں اور خرابیاں کیا ہیں، اسی طرح مغربی جمہوریت اسلامی سیاست کے کن کن اصولوں کو پامال کرتی ہے، جب تک صحیح معنوں میں اس کی تفہیم نہیں ہوپاتی، اس وقت تک ہم موجودہ مسلم ممالک کی داخلہ اور خارجہ پالیسیوں کا کوئی تجزیہ نہیں کرسکتے۔ ہمارے بعض نوجوان مسلکی حزبیت میں گرفتار ہوکر جب اسلامی سیاست پر کبھی گفتگو کرتے ہیں، تو اندازہ ہوتا ہے کہ یہ موضوع کتنا تشنہ ہے اور ابھی تک کوئی ایسا مواد تیار کرنے میں ہم کامیاب نہیں ہوسکے ہیں جس کو دل و دماغ میں اتار کر ہمارے نوجوان کوئی سنجیدہ گفتگو کرسکیں۔ انھوں نے یہی پڑھا ہے اور ان کو یہی بتایا گیا ہے کہ ہمارے متقدمین نے اپنی کتابوں میں لکھ دیا ہے کہ زبردستی کسی ملک پر قبضہ کرنے والے حکم راں کی اطاعت بھی واجب ہے اور اس وقت تک واجب ہے جب تک وہ کفر بواح کا حکم نہ دے۔ آج کا کوئی حکمراں اتنا پاگل تو نہیں ہے کہ اپنی عیش و مستی کی زندگی کفر بواح کا حکم دے کر داؤ پر لگائے گا۔ اسی انتظار میں بیٹھے بیٹھے ہم نے اپنی تمام مسلم حکومتوں کو کھویا ہے۔ درباری شیخ الاسلاموں نے اس اسلام کی ترجمانی کبھی نہیں کی جو زمین پر اپنے اثرات دکھاتا ہے، عوام کو حصول جنت کے آسان راستے اوراد و وظائف کی شکل میں سجھاتے رہے اور اپنے شاہوں کی اطاعت کے دینی اور دنیاوی فوائد گنواتے رہے۔ آج کے وقت کا یہ انتہائی سنگین مسئلہ ہے جسے مکالمہ کی بحث میں پوری بصیرت کے ساتھ اٹھایا جانا چاہیے تاکہ صدیوں کی جمی گرد صاف ہو اور اسلام کا روشن چہرہ دنیا کے سامنے آئے۔ ہمارے ملک میں اس مکالمہ کا آغاز فری لانسر کے حساس اور بے دار نوجوانوں کے علاوہ کوئی دوسرا نہیں کرسکتا۔ ساحل پر کھڑے ہوکر تماشا دیکھنے کا وقت نہیں ہے بلکہ موجوں اور طوفانی لہروں سے روبرو ہوکر ہی دریا سے پار اترا جاسکتا ہے۔ ملت کا یہ عمومی مزاج بدلنے کا وقت آگیا ہے، دیکھیے کار تجدید کس کے نصیب میں آتا ہے۔
وطن عزیز میں مسلمانوں کی دن بہ دن گرتی ساکھ کہیں اس کے وجود کو نہ لے ڈوبے۔ ملک کے دونوں ایوانوں میں مسلم نمائندگی کا گراف بڑی تیزی سے نیچے جارہا ہے۔ شرپسند عناصر کے تھنک ٹینکس شب و روز اسی ادھیڑ بن میں مصروف ہیں کہ یہاں اسپین کی تاریخ کیسے دہرائی جائے۔زمانہ بدل گیا ہے، اب تو کہیں ہجرت نہیں ہوگی لیکن آپ کالعدم قرار دے دیے جائیں گے۔ سامنے کی یہ چیختی حقیقتیں ہمارے مسلکی جغادریوں کو نظر نہیں آتیں اور آج بھی وہ اپنے اپنے جتھے کو سنوارنے اور جتھوں کی مخلصانہ پیروی کرنے والوں کو جنت کا پروانہ تقسیم کرنے میں مصروف ہیں۔ الدنیا مزرعۃ الآخرۃ کی معنویت پر غور کیجیے، جب شہریت کے جملہ حقوق سے محروم کردیے جانے کے بعد کاشت کے لیے زمین ہی نہیں بچے گی تو کھیتی کیسے ہوسکے گی۔ جس ملک میں آپ اپنا وقار کھودیں گے، اس میں تو تن ڈھانکنے کے لیے کپڑے اور پیٹ بھرنے کے لیے روٹی کے لالے پڑے ہوں گے، ذرا سوچیے، ایسے لوگوں کی کوئی بات کسی کے ذہن میں کیسے آئے گی۔ انبیاء ہمیشہ اعلی خاندانوں میں بھیجے گئے، کبھی اس کی حکمت اور معنویت پر آپ نے غور کیا۔ آج ہماری بے چارگی کا عالم یہ ہے کہ وقت کا ایک فرعون بڑے غرور کے ساتھ یہ کہتا ہے کہ ہماری تائید اور نصرت کے بغیر آپ ایک ہفتہ زندہ نہیں رہ سکتے اور ہم اس کی اس فرعونیت کی خوبصورت تاویل کرکے اپنی خفت مٹانے کی ناکام کوشش کرتے ہیں۔ رفتار زمانہ کو سمجھنے اور اس کا رخ بدلنے کے لیے سامنے آنا ضروری ہے۔ پہلے فکر بنے گی، رائے عامہ ہموار ہوگی اور پھر بہ تدریج اقدامات کا آغاز ہوگا۔ دنیا میں اللہ کی سنت یہی ہے اور اللہ اپنی سنتوں کو کبھی بدلا نہیں کرتا۔
مسائل و موضوعات کا ایک انبار ہے جس پر کھل کر مکالمہ کرنے کی ضرورت ہے۔ فری لانسر کے اندر یہ ہمت اور جرأت ہے کہ وہ ان کو علم و آگہی کے تمام وسائل کے ساتھ ابھار سکتا ہے اور اللہ کی ذات سے امید ہے کہ اس کی آواز صدا بہ صحرا ثابت نہیں ہوگی۔ ابھی رات کی تاریکیوں میں اپنے آنسووں سے وضو کرنے والے ہمارے درمیان موجود ہیں۔ ناامیدی کفر ہے، ہم ابھی اپنی ملت سے مایوس نہیں ہیں بلکہ اقبال کی زبان میں کہنا چاہیں گے:
نومید نہ ہو ان سے اے رہبر فرزانہ
کم کوش تو ہیں لیکن بے ذوق نہیں راہی
اللہ سے ہمیشہ یہی دعا کرتا ہوں کہ اللہ ان مشکل حالات میں ہمارا سینہ کھول دے، ہماری مدد فرما اور ہماری دینی وسیاسی قیادت کو وہ بصیرت عطا فرما جس سے وہ زمین پر موجود اپنے دوستوں اور دشمنوں کی شناخت کرسکے۔ آمین

5
آپ کے تبصرے

avatar
3000
4 Comment threads
1 Thread replies
0 Followers
 
Most reacted comment
Hottest comment thread
5 Comment authors
سرفراز فیضیرفیق احمد رئیس سلفی(علی گڑھ)عبدالقدیرAther Aasimرشیدسلفی Recent comment authors
newest oldest most voted
رشیدسلفی
Guest
رشیدسلفی
بہت عمدہ اور چشم کشا تحریر،ہر سطر سے قوم وملت، فرد وسماج کا درد رس رہاہے،عالمی اور ملکی پیمانے پر ایک جامع نظر کے ساتھ متوازن تجزیہ کیا گیا ہے،لکھنے والوں کیلیے پھر ایک راہنما تحریرپیش کی گئی ہے،جو ترجیحات کو بتاتی ہے،دکھتی رگوں کوچھیڑتی ہے،خدشات ومخاوف کے مایوس کن اندھیروں میں قلمکاروں کو سمت بتاتی ہے،امید کے چراغ جلاتی اور واہموں کے کہر دور کرتی ہے۔شیخ محترم اس تحریر پر مبارکباد اور دعاؤں کے مستحق ہیں
Ather Aasim
Guest
Ather Aasim

#علماؤنا قتل عبد الله العبّاسي ٣٨ ألف مسلم بعد أن دمّر الدولة الأموية وأسّس الدولة العبّاسية، ودخل بخيله مسجد بني أُميّة! ولُقب تاريخيًا “بالسفاح” دخل قصرهُ وقال: أترون أحدا من النّاس يمكن أن يُنكر عليّ؟ قالوا له: لا يُنكِر عليك أحد إلّا الأوزاعي. فأمرهم أن يُحضِروه، فلمّا جاؤوا الإمام الأوزاعي وأخبروه بأن الحاكم يريده، قام -رحمهُ الله- فاغتسل ثم تكفّن بكفنه، ولبس فوقهُ ثوبه وخرج من بيته إلى القصر… فأمر الحاكم وزراءه وجنده أن يقفوا صفّين عن اليمين والشمال وأن يرفعوا سيوفهم في محاولة لإرهاب العلّامة الأوزاعي، رحمه الله. ثم أمرهم بإدخاله… فدخل عليه -رحمه الله- يمشي في وقار العلماء… Read more »

عبدالقدیر
Guest
عبدالقدیر
ماشاء اللہ… ایک اچھے اور حوصلہ افزا پیغام کو شیخ نے آخر میں جاکر تحریکت کے زہر میں ڈبو دیا….
کاش کہ شیخ درباری شیخ الاسلاموں میں سے دو ایک کا نام بھی پیش کر دیتے…
ابتدائی پیغام کو پڑھ کر جو خوشی ہوئی اس کو آخر میں ختم کر دیا شیخ نے… بہت افسوس ہوا آخری باتوں کو پڑھ کر….
اللہ ہم سب کو ہدایت دے… آمین
رفیق احمد رئیس سلفی(علی گڑھ)
Guest
رفیق احمد رئیس سلفی(علی گڑھ)

مضمون پڑھنے کا شکریہ۔ اس مصروف زندگی میں وقت نکال کر کچھ پڑھنا لکھنا اپنے میں خود ایک بڑا اور قابل تعریف عمل ہے۔۔دبستان اردو کے بھی تبصرے میری نظر میں آئےہیں۔بعض دوستوں نے حسب سابق اس تحریر میں بھی کچھ جملے تلاش کرلیے اور فیصلے صادر فرمادیے ۔اپنے درد مند اور سلفی کارواں کے مخلص نوجوانوں سے کوئی شکایت نہ کبھی تھی اور نہ آج ہے۔اسلام نے اظہار رائے کی جو آزادی ہمیں عطا کی ہے ،اس کا پورا پورا استعمال کرنے کا ہمیں حق ہے۔اس معاملے میں الگ الگ پیمانے قابل قبول نہیں ہوسکتے۔لکھنے بولنے اور پسند وناپسند… Read more »

سرفراز فیضی
Guest
سرفراز فیضی

*”زبردستی کسی ملک پر قبضہ کرنے والے حکم راں کی اطاعت بھی واجب ہے اور اس وقت تک واجب ہے جب تک وہ کفر بواح کا حکم نہ دے۔ آج کا کوئی حکمراں اتنا پاگل تو نہیں ہے کہ اپنی عیش و مستی کی زندگی کفر بواح کا حکم دے کر داؤ پر لگائے گا۔*” سوال یہ ہے کہ آج کیا کسی بھی دور میں کوئی حکمران اتنا پاگل نہیں تھا کہ اپنی عیش ومستی کی زندگی کفر بواح کا حکم دے کر داؤ پر لگا دے. اتنی آسانی سے سمجھ میں آنے والی بات جو مولانا کو بھی سمجھ… Read more »