آپ کس کو ووٹ دیں گے؟

ڈاکٹر عبدالکریم سلفی علیگ

آپ کس کو ووٹ دیں گے پریوار واد کو یا تانا شاہ سرکار کو؟
فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے۔ پریوار واد کانگریس میں ہے لیکن کیا بقیہ پارٹیاں اس سے محفوظ ہیں، آپ غور کریں… بقیہ بھی اسی ڈھرے پر چل رہی ہیں چاہے بی جے پی ہو، سپا ہو، آرایس ایس ہو، شیو سینا ہو۔
آپ نے ٢٠١٤ کا الیکشن تو دیکھ ہی لیا، چوکیدار صاحب نے کیا گل کھلائے، جن وعدوں کے ذریعہ مودی جی کی پارٹی نے پچھلے الیکشن میں جیت درج کی تھی اب وہ وعدے بھی نہیں کر سکتی کیونکہ وہ سارے وعدے حلق سے نیچے نہیں اترے زبان پر ہی رہ گئے۔
مودی سرکار ٢٠١٩ کے الیکشن میں جو وعدے دوبارہ نہیں کر سکتی وہ وہی ہیں جو اس نے ٢٠١٤ میں کیے تھے، وہ اب منہ دکھانے کے لائق ہی نہیں بچی۔ پردھان سیوک نے اپنے پچھلے پانچ سال کے دورانئے میں ایک بھی پریس کانفرنس نہیں کی، اگر کچھ بولے بھی تو گودی میڈیا کے سامنے، اور سوالات بھی ایسے کہ جو پردھان سیوک کو پسند ہوں اور ساتھ ہی ساتھ ان سوالات کے جوابات کے رد عمل میں مزید سوال بھی نہیں کیے جا سکتے یعنی (Cross Questions) کی اجازت نہیں۔
وہ وعدے جو اب دوبارہ نہیں کر سکتے وہ مندرجہ ذیل ہیں:
١۔ بلٹ ٹرین کا وعدہ: بلٹ ٹرین چلا رہے تھے جو پٹری پر اتر نہ سکی، اور ملک کی جنتا بے وقوف بنا دی گئی۔ حالانکہ ملک کی جنتا اس کے مخالف بھی ہے کیونکہ وہ صرف امیروں کو لے کر بھاگے گی غریبوں کے بس نتھنوں تک پہنچے گی اور وہ بھی اس کی دھول۔
٢۔ اسمارٹ سٹیز کا وعدہ: ١٠٠ اسمارٹ سٹی کا اعلان ہوا تھا۔ ہم لوگ خوش ہوگئے کہ اب تو شہر روشن و منور ہو جائے گا، خوب ترقی ہوگی، سڑکیں بالکل اسمارٹ کلاسز کی طرح صاف ستھری ہوں گی لیکن کچھ نہیں ہوا، کچھ شہروں کے ایک دو ایرئے کو ٹارگیٹ کرکے تھوڑی بہت صفائی ستھرائی کر دی گئی اور فوٹو پردھان سیوک کا آگیا کہ اسمارٹ سٹی کی شروعات، لیکن سب ویسے کے ویسے ہی پڑے ہیں، بلکہ پہلے سے بھی زیادہ ابتر حالت میں۔
٣۔ دو کروڑ نوکریاں ہر سال دینے کا وعدہ: جو وعدہ ہی رہ گیا اب یہ دوبارہ اس کا وعدہ نہیں کر سکتے کیونکہ نوکریاں دینے کے بجائے تقریبا ایک کروڑ لوگوں کی ملازمت ہی چھوٹ گئی، کہاں کہہ رہے تھے کہ ہم بدلاؤ لائیں گے اور کہاں اس بدلاؤ کا شکار عام جنتا ہوگئی۔
٤۔ میک ان انڈیا Make In India : کہ اپنے ملک کو مینوفکچرنگ کا ہب(Manufacturing Hub)
بنائیں گے، یہ وعدہ بھی وعدہ ہی رہا نہ تو کوئی کمپنی باہر سے آئی اور نہ ہی ملک مینوفکچرنگ ہب بنا۔ ہاں اتنا ضرور ہوا کہ جو کمپنیاں پہلے سے یہاں تھیں وہ بھی پلائن کرنے لگیں۔ رافیل ہیلی-کاپٹر کا مسئلہ تو یاد ہی ہوگا جسے انڈیا میں نہ بنوا کر روس میں کئی گنا زیادہ پیسے دے کر بنوانے کا وعدہ مودی جی کرکے آگئے، جو ملکی کمپنیاں تھیں ان کو ان کی حالت پر ہی چھوڑ دیا گیا۔
٥۔ سب کا ساتھ سب کا وکاس: یہ بھی بہت بڑا جھوٹ کا نعرہ تھا، ان کے دوران حکومت ہمارے ملک نے دیکھا کہ غریب مسلم اور دلت کو کیسے کیسے مارا گیا، ان کی عزت و آبرو سے کھلواڑ کیا گیا، معصوموں کو پیٹ پیٹ کر جان سے مار دیا گیا، جلا کر راکھ کر دیا گیا لیکن ہمارے پردھان سیوک کو کچھ بھی احساس نہیں ہوا۔ پھر اسی موبلنچر نے قانون کے محافظ یعنی پولیس والوں تک کو گولیوں سے بھوننا شروع کردیا، تو سب کا ساتھ سب کا وکاس کا نعرہ اس بار مودی جی نہیں دے پائیں گے۔
٦۔ سوچھ بھارت: اس کی بھی خوب واہ واہی ہوئی لیکن جب گندگی من میں بھری پڑی ہے تو بھارت سوچھ کیسے ہوگا، جب گندے نیتا ملک کی بچیوں کو بیچتے ہوئے پکڑے جاتے ہیں، بچیوں کا بلاتکار کیا جاتا ہے تو پھر صفائی کس بات کی، اور ہاں مودی جی اپنے شہر بنارس جہاں سے الیکشن جیت کر آئے تھے وہاں گنگا کی صفائی میں کتنا کامیاب ہوئے پورا ملک جانتا ہے، تو سوچھ بھارت ہیرو اور ہیروئین کے ساتھ ساتھ نیتاوں کا عالیشان اور صاف ستھری جگہوں پر جھاڑو لگا کر حاصل نہیں ہوگا بلکہ سماج میں زمینی سطح پر کام کرنے سے ہوگا۔
٧۔ پندرہ لاکھ ہر اکاؤنٹ میں آئیں گے جب پردھان سیوک کالا دھن واپس لے کر آئیں گے: نہ کالا دھن آیا نہ پندرہ لاکھ روپے البتہ ملک کے بڑے بڑے لٹیروں کو مودی سرکار نے باہر ملک ضرور بھیج دیا۔ مزید ان کو بچانے کے لیے ریزروبینک آف انڈیا سے دباؤ بنا کر روپئے اینٹھنے کی پلاننگ جاری ہے جس کی وجہ سے ریزرو بینک کے گورنر کو باہر کا راستہ دکھا دیا گیا۔
٨۔ بیٹی بچاؤ بیٹی پڑھاؤ: اب یہ نعرہ بھی مودی سرکار نہیں لگاسکتی کیونکہ ملک میں آئے دن بچیوں کا ریپ اور ان کا قتل ہو رہا ہے لیکن سرکار سو رہی ہے، بچیوں کا قتل اور زنا بالجبر بڑھتا جا رہا ہے، اسکول و کالجز کی بچیوں پر درندوں کی نگاہیں گڑی رہتی ہیں اور اس میں سرکار کے کئی نیتا بھی شامل ہیں۔ تو بیٹی پڑھاؤ بیٹی بچاؤ صرف ایک نعرہ ہی رہ گیا کیونکہ خواتین ان کے سیشن میں سب سے زیادہ غیر محفوظ پائی گئی ہیں۔
٩۔ اجول یوجنا: یعنی بجلی، گیس کا یوجنا جو بالکل فیل ہوگیا، بجلی کے کھمبے تو گاؤں میں لگ گئے لیکن بجلی کب آئے گی کوئی پتہ نہیں، گیس کی قیمت آسمان چھو رہی ہے، لوگ لکڑی، کنڈے وغیرہ سے کھانا بنانے پر مجبور ہیں۔ تو اب یہ نعرہ بھی نہیں دے پائیں گے۔
وعدے تو وعدے اس کے ارادے بھی کم خوفناک نہیں ہیں۔ اس کے کالے کرتوتوں کی فہرست سازی کی جائے تو دل دہل جائیں۔
عوام کی طرف سے جمع کیے گئے انکم ٹیکس کے پیسوں کو غلط جگہوں پر خوب استعمال کیا گیا، چھوٹے چھوٹے کاروباریوں کو تباہ کیا گیا، جی ایس ٹی کے نام پر لوگوں کو کنگال بنانے کا کام کیا گیا اور ان پیسوں کو استعمال کیا گیا اسٹیچو آف یونٹی بنانے میں جس میں تین ہزار کروڑ خرچ ہوئے، کمبھ کے میلے میں جو الہ آباد میں ہوتا ہے اس میں چار ہزار دو سو کروڑ روپئے خرچ کیے گئے، مزید دس لاکھ سادھؤں کو پنشن دینے کا اعلان ہوا ہے، شہروں کا نام بدلنے میں کروڑوں خرچ کیا گیا، نیتاوں کی بہار آگئی لیکن بھولی جنتا بے حال ہوگئی۔
تعلیم گاہوں کو نشانہ بنایا گیا اور وہاں اپنے چاہنے والوں کو رکھ کر تعلیم کی شناخت کو مٹانے کی کوشش کی گئی، تعلیم کے سالانہ خرچ کو کافی کم کیا گیا، بچوں اور اساتذہ کو اپنے نظریات کو اپنانے پر مجبور کیا گیا، ملک کی نامور یونیورسٹی جے این یو( جواہر لال نہرو یونیورسٹی) اور اے ایم یو (علی گڑھ مسلم یونیورسٹی) کو تباہی کے دہانے پر پہنچانے کی سازش کی گئی۔
اب آپ خود غور کریں کہ ووٹ کسے دینا ہے، کسے دوبارہ سرکار میں دیکھنا چاہتے ہیں، تانا شاہی بھلی لگ گئی تو تانا شاہ کو پھر لایا جائے یا پریوار واد آپ کو برا لگتا ہے اس لیے انھیں نہ لایا جائے؟

آپ کے تبصرے

avatar
3000