مولانا نعیم الدین مرادآبادی اور ان کی تفسیر: ایک جائزہ

مولانا نعیم الدین مرادآبادی اور ان کی تفسیر: ایک جائزہ

عاصم افضال

مولانا نعیم الدین مرادآبادی رحمہ اللہ بریلوی مکتب فکر کے ایک جید عالم ہیں، آزادی سے قبل کے نامور علماء میں شمار کیے جاتے ہیں، یکم جنوری 1883 کو پیدا ہوئے گویا بیسویں صدی کا آغاز ان کی جوانی کا شباب تھا۔ مولانا آزاد علیہ الرحمۃ کے معاصر تھے، آپ کے مضامین بھی الہلال اور البلاغ کی زینت بنتے تھے، علمی خانوادے کے چشم و چراغ تھے، بیس سال کی عمر میں جملہ علوم نقلیہ و عقلیہ سے فراغت حاصل کرلی بعد ازاں دعوت و ارشاد اور تعلیم و تدریس سے جڑ گئے، مرادآباد میں جامعہ نعیمیہ کی بنیاد رکھی اور یہیں سپرد خاک ہوئے۔

مولانا نعیم الدین مرادآبادی کا تاریخی نام غلام مصطفی تھا والد کا نام مولانا معین الدین نزہت اور دادا کا نام مولانا امین الدین راسخ تھا، اردو و فارسی کی ابتدائی تعلیم والد گرامی سے حاصل کی پھر مولانا ابو الفضل فضل احمد سے عربی کی چند کتب پڑھی، بریلوی مسلک کے بڑے عالم مولانا سید گل محمد قادری رحمہ اللہ سے درس نظامی و غیر درس نظامی کے علوم و فنون حاصل کیے اور 1902 میں فارغ التحصیل ہوگئے، مولانا علم طب میں بھی کمال رکھتے تھے، حکیم فیض احمد صاحب امروہوی سے علم طب میں کسب فیض کیا اور پھر خلق کثیر آپ کی طبابت سے فیضیاب ہوئی۔ مولانا احمد رضا خاں بریلوی سے متاثر ہوکر ان کے ہاتھ پر بیعت کی اور ان کے مشن کو آگے بڑھایا، مولانا احمد رضا خان نے انھیں”صدر الافاضل ” کے خطاب سے نوازا۔

مولانا نعیم الدین مرادآبادی نے دین کی نشر و اشاعت کے مقصد سے 1328ھ مطابق 1910ء میں انجمن اہل سنت و جماعت کی بنیاد رکھی اور اس کے تحت مرادآباد میں ایک مدرسہ قائم کیا جو “مدرسہ انجمن اہل سنت و جماعت ” کے نام سے معروف تھا۔ لیکن 1352ھ مطابق 1934ء میں مولانا نعیم الدین کے نام پر اس مدرسہ کا نام جامعہ نعیمیہ رکھا گیا، مولانا زندگی بھر یہیں تدریسی فریضہ انجام دیتے رہے۔ علم التوقیت و الھیئۃ میں آپ کو مہارت حاصل تھی اور علم حدیث و فقہ سے خاص لگاؤ تھا، فتوی نویسی سے اطراف و اکناف کے عوام کے سماجی و دینی مسائل کا تصفیہ کرتے، مناظرانہ صلاحیت کے مالک تھے وہ دور مناظرہ کا دور تھا آریہ سماج کی گیدڑ بھبھکیاں اور صہیونی طاقتیں اسلام کو آنکھیں دکھا رہی تھیں، شدھی تحریک کے ذریعہ مسلمانوں کو اسلام سے متنفر اور مرتد بنایا جارہا تھا ایسے وقت میں تمام مسالک کے علماء نے باطل کی اِن شرانگیزیوں کو خاک میں ملا دیا اور حق فتحیاب ہوکر سرخرو رہا۔

باطل سے دبنے والے اے آسماں نہیں ہم
سو بار لے چکا ہے تو امتحاں ہمارا

مولانا نعیم الدین مرادآبادی ہندوستانی سیاست میں کافی دخیل تھے ایسے وقت میں جب مسلمانوں کا ایک بڑا طبقہ خلافت تحریک کا ہمنوا تھاـ آپ نے اس تحریک کی سخت مخالفت کی، جس سے ہندو مسلم اتحاد پر کافی ضرب پڑی۔ ان کی دلیل تھی کہ مسلمانوں کے دینی و ذاتی نوعیت کے مسائل میں کسی ہندو کی شمولیت یا قائدانہ رول ہمیں منظور نہیں، انھوں نے گاندھی جی اور مولانا آزاد کے نظریات کی نکیر کی اور قیام پاکستان کی تحریک کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا کیونکہ وہ دو قومی نظریہ پر کامل ایمان رکھتے تھے اور اس کی ترویج و اشاعت میں پیش پیش تھے، قیام پاکستان کے لیے رائے عامہ کو ہموار کرنے میں ان کا بڑا رول رہا ہے اس کے لیے انھوں نے اندرون ملک بڑے بڑے مقامات کے ہنگامی دورے کیے میٹنگیں کیں اجلاس طلب کیے، 1946 کی آل انڈیا سنی کانفرنس بنارس ان ہی کی سعی تھی جس کا مقصد ہی قیام پاکستان کی کوششوں کو بارآور بنانا تھا۔ اس کانفرنس میں ہزاروں سنی علماء اور لاکھوں سنی عوام اکٹھے ہوئے تھےـ قیام پاکستان کے بعد اسلامی دستور کی بازیابی کے لیے پاکستان کا سفر بھی کیا لیکن جس ملک کی بنیاد ہی اسلام کے نام پر عوام کو سبز باغ دکھا کر رکھی گئی ہو وہ اسلامی دستور کو کیسے روبعمل لا سکتا ہے؟

مولانا ایک مجلہ السواد الاعظم کے نام سے نکالتے تھے وہ مجلہ ان کے دینی و فکری نظریات کا ترجمان تھا، مسلکی منافست کا دور دورہ تھا، اس مجلہ میں اس کی جھلک بخوبی دیکھی جاسکتی تھی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے نور اور عالم الغیب ہونے کے دلائل تو کبھی تقویۃ الایمان اور عقائد وہابیہ کا رد، کبھی مقامات مقدسہ کی بازیابی تو کبھی اسلامی خلافت کی حفاظت کی دہائی غرض ہر طرح کے مضمون شامل اشاعت ہوتے، آپ نے اپنے پیچھے تصنیفات کا ایک گراں قدر سرمایہ چھوڑا، چند کتابیں درج ذیل ہیں:

۱: تفسیر خزائن العرفان
۲: الکلمۃ العلیا لاعلاء علم المصطفی
۳: اسواط العذاب علی قوامع القباب
۴: ارشاد الانام فی محفل المولود و القیام
۵: گلبن غریب نواز
۶: کشف الحجاب عن مسائل ایصال ثواب وغیرہ

مولانا کی وفات 23 اکتوبر 1948ء میں مرادآباد میں ہوئی۔ مولانا نعیم الدین مرادآبادی کی تصنیفات میں سب سے نمایاں و مشہور تصنیف تفسیر خزائن العرفان ہےـ آپ کی یہ تفسیر مولانا احمد رضا خاں بریلوی کے ترجمہ قرآن کنزالایمان پر حواشی ہے۔ یہ پورے قرآن کی ایک مکمل تفسیر ہے، اس کو نہ مختصر کہا جائے نہ طویل، تفسیر کے لیے درمیانی راہ اختیار کی گئی ہے۔ 1218 صفحات پر مشتمل یہ تفسیر میرے سامنے ہے جو سندھ پاکستان سے مطبوع ہے بلا شبہ یہ تفسیر علمی دنیا میں ایک بیش بہا اضافہ ہے۔

بریلوی مسلک کی یہ نمائندہ تفسیر ہے، کسی بھی مکتب فکر کی نمائندہ کتاب ہمیں یہ دعوت دیتی ہے کہ ہم اس کے منہج ومنہل کو سمجھیں، فکرونظر کے دریچوں کو وا کریں، اس کی فکری صلابت اور فقہی بصیرت کا جائزہ لیں، اس کے طرز استدلال اور استنباط مسائل کا استدراک کریں، یہ دیکھیں کہ ادب الخلاف اور سلیقہ اختلاف کا طریق کار کیا ہے، جرح و تعدیل کے اصول اور احادیث کے پرکھنے کا پیمانہ کیا ہے کیونکہ یہ تمام چیزیں ایک تفسیر کا جوہر اور ایک مفسر کی مفسرانہ شان کی آئینہ دار ہوتی ہیں۔

اس تفسیر میں مصنف نے ہر آیت کی جزئیات پر بحث کی ہے، اس کے معانی و مفاہیم کو بیان کیا ہے، آیتوں کے شان نزول کا ذکر کیا ہے، مصنف کی یہ خاصیت ہے کہ احکام کی آیتوں میں مسئلہ کا عنوان لگا کر بالترتیب احکامات بیان کرتے ہیں حدیث سے استدلال پیش کرتے ہیں، اختلافی مسائل میں اختلاف کا ذکر کر کے ترجیحی موقف کو واضح کرتے ہیں، حدیث کی صحت کا التزام بہت کم ہے جس کی وجہ سے ترجیحی موقف کو اختیار کرنے میں غلطی کے امکانات سے انکار نہیں کیا جاسکتا، فروعات میں اختلاف ہونا یقینی ہے، صحابہ کے دور میں بھی اختلاف تھے لیکن اصولیات میں اختلاف کرکے منہج سلف سے انحراف کرنا غضب خدا کو دعوت دینے سے کم نہیں۔

کوئی بھی کتاب مصنف کے فکر و عمل کا آئینہ ہوتی ہے اس تفسیر کو میں نے چیدہ چیدہ جگہوں سے پڑھا ہے اور میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ فروعی و اختلافی مسائل میں “الجمع بین الادلۃ” کا اصول پیش نظر رکھنا از حد ضروری ہے، یہ اہتمام بالغ نظری کا متقاضی ہے اس سے چشم پوشی امانت میں خیانت ہے، مصنف رحمہ اللہ سورہ فاتحہ کی تفسیر کرتے ہوئے وإياك نستعين کی وضاحت کچھ یوں کرتے ہیں “وإیاك نستعين میں یہ تعلیم فرمائی کہ استعانت خواہ بواسطہ ہو یا بے واسطہ ہر طرح اللہ کے ساتھ خاص ہے۔ حقیقی مستعان (مددگار) وہی ہے۔ باقی آلات و خدام و احباب وغیرہ سب عون الہی کے مظہر ہیں۔ بندہ کو چاہیے کہ اس پر نظر رکھے اور ہر چیز میں دست قدرت کو کارکن دیکھے۔ اس سے یہ سمجھنا کہ اولیاء و انبیاء سے مدد چاہنا شرک ہے عقیدہ باطلہ ہے کیونکہ مقربان حق کی امداد، امداد الہی ہے استعانت بالغیر نہیں، اگر اس آیت کے وہ معنی ہوتے جو وہابیہ نے سمجھے تو قرآن میں أعينوني بقوة اور استعینوا بالصبر و الصلوۃ کیوں وارد ہوتا اور احادیث میں اھل اللہ سے استعانت کی تعلیم کیوں دی جاتی”۔

خود ساختہ منہج پر اپنی فکر ونظر کی بنیاد رکھ کر کسی موضوع پر بات کرنا اور دلائل کو اپنے نظریات کے تابع کرنے کا ہی نتیجہ ہے کہ ہر فرد کتاب و سنت سے کافی دور ہوتا چلا جارہا ہے اور یہ چیزیں تفسیر، شروح حدیث اور دعوت و تبلیغ غرض دین کے ہر شعبے میں دکھتی ہے، یہ بڑا المیہ ہے، جس دروازے کو بند کرنے کے لیے اسلام کی آمد ہوئی تھی اسی باب کو وا کرنے کی شعوری کوششیں جاری ہیں۔ اسلام سے ماقبل اہل مکہ بتوں کے واسطہ سے اللہ کو پکارتے تھے اور اسی چیز کا عندیہ مصنف کی یہ تفسیر اس لفظ کے ساتھ دے رہی ہے کہ “اس سے یہ سمجھنا کہ اولیاء و انبیاء سے مدد چاہنا شرک ہے عقیدہ باطلہ ہے کیونکہ مقربان حق کی امداد، امداد الہی ہے استعانت بالغیر نہیں”

اس باب میں ہمیں یہ اصول جان لینا چاہیے کہ ہم ایسے شخص سے ہی استعانت مانگ سکتے ہیں جس کے اندر تین شرائط پائے جائیں
۱: وہ زندہ ہو
۲: سامنے موجود ہو
۳: اور استعانت پر قادر ہو
اس کے علاوہ کسی مرے ہوئے شخص سے چاہے وہ ولی ہو یا نبی اس سے استعانت نہیں طلب کی جاسکتی ہے کیونکہ شریعت مطہرہ نے ہمیں اس سے سختی سے منع فرمایا ہے۔ اللہ کا فرمان ہے:

إِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتَىٰ وَلَا تُسْمِعُ الصُّمَّ الدُّعَاءَ إِذَا وَلَّوْا مُدْبِرِين(َ سورة النمل :80) اور اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «لاَ تُطْرُونِي كَمَا أَطْرَتِ النَّصَارَى ابْنَ مَرْيَمَ، فَإِنَّمَا أَنَا عَبْدُهُ، فَقُولُوا: عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ»
أخرجه البخاري في كتاب أحاديث الأنبياء: باب قول الله: ﴿وَاذْكُرْ فِي الْكِتَابِ مَرْيَمَ إِذِ انتَبَذَتْ مِنْ أَهْلِهَا﴾[مريم:16]، برقم (3445)
وأخرجه مطوَّلاً في كتاب الحدود: باب رجم الحبلى من الزِّنا إذا أحصنت، برقم: (6830) اور ایک دوسری جگہ فرمایا: اللهم لا تجعل قبري وثنا، لعن الله قوما اتخذوا قبور أنبيائهم مساجد)
رواه الإمام أحمد في “المسند ” (12/314) وصححه الشيخ الألباني في كتاب “تحذير الساجد من اتخاذ القبور مساجد” (ص/24)

ان تمام دلائل کا عموم اس بات پر دال ہے کہ مردے سن ہی نہیں پاتے ہیں تو وہ جواب دینے اور واسطہ کے لیے فریاد کرنے سے بدرجہ اولی قاصر ہوں گے۔ اسی طرح اللہ کے رسول نے اپنی قبر کو عبادت گاہ بنانے سے روک کر یہ اعلان کر دیا کہ کسی نبی رسول کے پاس امداد اور عون کا کوئی اختیار نہیں ہے مدد کرنے والا صرف اللہ ہے جو شہہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے

وَنَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيدِ (سورہ ق 16)

اسی طرح ایک شخص اپنے نیک عمل کا واسطہ دے کر اللہ سے استعانت طلب کرسکتا ہے جیسا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی اسرائیل کے تین آدمیوں کا تذکرہ کیا ہے جو ایک غار میں پھنس گئے اور انھوں نے اپنے نیک اعمال کا واسطہ دے کر اللہ سے دعا کی تو اللہ نے انھیں نجات دے دی تو نماز صبر اور قوۃ سے مدد طلب کرنا اسی قبیل سے ہے۔
مولانا نعیم الدین مرادآبادی کی تفسیر کا یہ منہجی مطالعہ کسی تفریق کا نتیجہ نہیں ہے، علمی دنیا میں آپ کا تعارف اور آپ کی تفسیری خدمات کا جائزہ میرا مقصود ہے، کسی بھی دینی کام کے تجزیاتی نتیجہ میں منہج سلف کو سامنے رکھنا میرا طریق ہے اور یہ طریق کسی کی دل آزاری کا سبب نہیں بننا چاہیے، جدال بالاحسن کے تمام دروازے وا ہیں اسی دروازے سے حق کی آواز پہچاننا اہل حق کا شیوہ ہے اللہ تعالی ہمارا حامی و ناصر ہو۔ آمین

آپ کے تبصرے

avatar
3000