ابن احمد نقوی: ایک بصیرت افروز شخصیت

عاصم افضال

عبدالقدوس اطہر نقوی جماعت اہل حدیث کی وہ شخصیت ہے جو ایک زمانے سے دنیائے علم و ادب کو فیض پہنچا رہی ہے، ابن احمد نقوی کے معروف لقب سے ملقب آپ دین اسلام اور جمعیت و جماعت کی آج بھی آبیاری کر رہے ہیں،آپ کی اصل شناخت ایک شاعر اور صحافی کی ہے، شاعری آپ نے اردو انگلش ہر دو زبان میں کی، اردو کے چار اور انگلش کے دو مجموعے زیور طبع سے آراستہ ہیں، صحافت میں آپ کو ایک لمبا تجربہ رہا ہے آپ مسلسل چالیس سال سے زائد عرصہ تک التوعیہ، استدراک اور ترجمان جیسے مجلات میں اپنی صحافتی خدمات کو صرف کرتے رہے اس کے علاوہ ملک کے مختلف جرائد و مجلات میں آپ کی علمی و فکری تحریریں بکھری ہوئی ہیں ـ

عبدالقدوس نام، اطہر تخلص اور ابن احمد نقوی کنیت ہے، آپ کی پیدائش ضلع بدایوں کے مشہور و معروف علاقہ سہسوان میں 13 اگست 1935ء کو ہوئی،بدایوں صوبہ اتر پردیش کا قابل ذکر ضلع ہے جو اولیاء اللہ اور علماء کرام کا مرکز رہا ہے، یہاں کی مٹی سے بڑی بڑی شخصیات نے جنم لیا ہے، یہیں سے آپ نے اپنی ابتدائی تعلیم حاصل کی، پنجاب یونیورسٹی سے بی اے کی تعلیم مکمل کی اور دلی یونیورسٹی سے فارسی زبان میں ایم اے کیا-

آپ کے والد بزرگوار کا نام سید تقریظ احمد سہسوانی تھا،آپ ایک سادہ سے مولوی تھے اور مولانا محمد صاحب جوناگڑھی علیہ الرحمۃ( متوفی 1940)کے مکتبہ میں ملازمت کرتے تھے، مولانا محمد جوناگڑھی نے وفات سے قبل اپنا مکتبہ اور اخبار محمدی انہیں کو سونپ دیا تھا، مجلہ اہل حدیث نکلا تو اس کے مدیر بنے، مدیر مسئول کی حیثیت سے مولانا حکیم عبدالشکور شکراوی متعین ہوئے ـ اداریہ حکیم صاحب ہی لکھتے تھے، سید صاحب کو لکھنے سے کوئی خاص نسبت نہیں تھی، باڑہ ہندو راؤ پرانی دہلی میں مولانا جونا گڑھی کے مکان کے پاس کی مسجد میں آپ کی رہائش تھی اور یہیں پوری زندگی تج کردی ـ

ابن احمد نقوی سن 1950 ء میں دہلی وارد ہوئے ، اپنے والد علیہ الرحمۃ کے پاس مسجد میں قیام پذیر ہوئے اور یہیں سے اپنی تعلیم جاری رکھی بی اے، ایم اے کیا، مدرسہ بورڈ کی ڈگری حاصل کرنے کا بھی شوق پیدا ہوا، اس زمانہ میں مدرسہ بورڈ کے امتحان بہت سخت ہوا کرتے تھے طلبہ کو کافی محنت سے کام لینا پڑتا تھا، استاد تلاش کرنا اور امتحان کی تیاری کرنا بڑا مشقت بھرا عمل ہوتا تھا، جنون شوق نے آپ کو مجاز اعظمی علیہ الرحمۃ کے در پر لا کھڑا کردیا ـ
مجاز اعظمی رحمہ اللہ (متوفی 24 دسمبر 2011 ء) دارالحدیث رحمانیہ کے فارغ ایک جید عالم اور عظیم صحافی تھے، ملک کی تقسیم کے بعد ہندوستان میں جب جمعیت اہل حدیث نے اپنا شیرازہ جمع کیا اور مجلہ ترجمان کا اجراء عمل میں آیا تو اس کے سب سے پہلے مدیر مجاز صاحب بنائے گئے، آپ نے اسے اپنے خون جگر سے سینچا، آپ پرانی دہلی کے کشن گنج محلہ کی ایک مسجد میں امامت کرتے اور وہیں سے مجلہ کی ادارت سنبھالتے، مجلہ کی ادارت سے لیکر ترتیب و تسوید کے تمام کام خود انجام دیتے تھے ـ مجاز صاحب چھ سال تک یہ خدمت انجام دیتے رہے بعد ازاں جماعت اسلامی کے مجلہ دعوت سے وابستہ ہوگئے ـ

باڑہ ہندو راؤ سے مجاز صاحب کی مسجد کا فاصلہ تقریبا ایک کلو میٹر تھا یہیں سے آپ نے مجاز اعظمی رحمہ اللہ سے عربی اور اسلامیات کی تعلیم لی ـ جلالین، اصول الشاسی، منطق، متنبی کے اشعار اور القراءۃ الرشیدۃ کے چاروں حصے پڑھے، اس وقت کے مصری مجلہ الاھرام کی عربی عبارتوں کا ترجمہ کرتے اور جو نہ سمجھ میں آتا مجاز صاحب سے پوچھ لیتے اس طرح آپ نے عربی اور اسلامی علوم میں مہارت حاصل کی ـ ابن احمد نقوی صاحب نے اسی مسجد میں مجاز صاحب سے عربی زبان و ادب کی تعلیم حاصل کی لیکن احباب کی عدم دلچسپی کی وجہ سے الہ باد بورڈ کا امتحان نہ دے سکے پھر آپ کی دہلی میونسپل کارپوریشن میں نوکری لگ گئی اور سرکاری عہدہ پر فائض ہوگئے، آپ اس محکمہ میں شعبہ محصولات و ٹیکس سے وابستہ تھے اور تقریبا 58 سال تک اس ادارہ سے جڑے رہے اور 1993ء میں ڈپٹی کلکٹر کے عہدہ سے مستعفی ہوئے ـ

ابن احمد نقوی صاحب نے ایک سلفی العقیدہ کہنہ مشق قلمکار کی حیثیت سے اپنا لوہا منوایا ہے، آپ شروع ہی سے جمعیت و جماعت سے جڑے رہے، مولانا عبد السلام رحمانی اور مولانا عبد الحميد رحمانی رحمھما اللہ کے دور نظامت میں بطور اسسٹنٹ سکریٹری کام کیا اور جمعیت و جماعت کو اپنی علمی لیاقت اور عملی تجربات سے فیض پہنچایا بعد کے ادوار میں آپ نے التوعیۃ اور جریدہ ترجمان کی ادارت سنبھالی اسی طرح جماعت کے انگلش مجلہ دی سمپل ٹروتھ میں بھی برابر مضامین لکھتے رہے،امیر جمعیت کی گزارش پرآپ نے چمن اسلام کا چھٹا حصہ بھی تیار کیا ہے جو کہ آج بھی جمعیت کی نظر کرم کا محتاج ہے، جماعت کے دیگر اہم کاموں کی طرح یہ بھی عدم توجہی کا شکار ہے جس پر آپ نے بڑے دکھ کا اظہار کیا اور جمعیت کی موجودہ صورت حال سے بے اطمینانی درج کرائی ـ

ابن احمد نقوی حفظہ اللہ علمی دنیا کے گوہر نایاب ہیں، آپ نے اپنے ادارتی دور میں سیاسی و سماجی مسائل پر جس بے باکانہ انداز میں خامہ فرسائی کی ہے وہ سنہرے حروف سے لکھے جانے لائق ہے، ہندوستان کے بے شمار مجلات اس کے گواہ ہیں، جولانی قلم کے جوہر اور فکری پرواز کی لطافت نے انہیں بے مثال شاعر بنادیا اور اس فن میں خوب زور آزمائی کی، انگلش زبان و ادب سے خاص لگاؤ تھا جس کی بنیاد پر انگلش زبان میں بھی اشعار کہے اور کئی عربی و اردو کتابوں کا انگلش میں ترجمہ بھی کیا آپ کی کاوشوں کی ایک ہلکی سی جھلک ملاحظہ ہو:
1: فکر اقبال (علامہ اقبال کے فارسی کلام کا تجزیہ )
2: نزھت حق(منظوم تاریخ اہل حدیث)
3: توحید خالص( بلال فلپس کی انگلش کتاب کا ترجمہ )
4: اسلام کا فقہی ارتقاء (بلال فلپس کی انگلش کتاب کا ترجمہ)
5: جنات (بلال فلپس کی انگلش کتاب کا ترجمہ )
6: محاسن اسلام
7: دیار حرم (منظوم سفرنامہ حج )
8: چراغ منزل اور شعلہ احساس (مجموعہ کلام)
9: چمن اسلام چھٹا حصہ( غیر مطبوع)
10: The salafis (تاریخ اہل حدیث در زبان انگلش)
11: Umar bin Abdul Azeez
12: The prayer (صفۃ صلاۃ النبی کا ترجمہ)
13: The daughters of Islam (اسحاق بھٹی علیہ الرحمۃ کی کتاب کا ترجمہ)
14: Lament of Layman( منظوم تعزیت نامے )
15: The Torch Bearers of The pristine Faith (نظمیں)

ابن احمد نقوی صاحب اس وقت غفور نگر( بٹلہ ہاؤس ) دہلی میں اپنے مکان پر اپنے اہل خانہ کے ساتھ زندگی گذار رہے ہیں،بینائی کمزور ہوچکی ہے، آنکھوں کا آپریشن ہوا ہے صاف دیکھ نہیں سکتے اسی لیے لکھنے پڑھنے سے دور رہنا پڑ رہا ہے، نحیف ولاغر ہوچکے ہیں، دواؤں کا سہارا ہے اور دعائیں کام رہی ہیں، شاعری آج بھی کرتے ہیں صاف لکھ نہیں پاتے تحریر پڑھوا کر تصحیح کراتے ہیں ، حافظہ ابھی تک مضبوط ہے، فرمائش پر مجاز صاحب کی مکمل فارسی نظم فورا سنادی، جماعت کی تاریخ سے دلچسپی رکھنے والے ان سے بھرپور فائدہ اٹھا سکتے ہیں اور جماعت آج بھی ان قدیم سیپیوں کو استعمال میں لا سکتی ہے، آج بھی ان بزرگ ہستیوں سے علمی کام لیے جاسکتے ہیں جس سے جماعت کو فائدہ ہوگا اور ان بزرگوں کی کفالت کا کچھ انتظام بھی ہوجائے گا لیکن یہ افسوس کے ساتھ لکھنا پڑتا ہے کہ یہاں نہ بزرگوں کی قدر دانی ہے نہ نوجوانوں کی صحیح رہنمائی کے لیے کوئی لائحہ عمل!!! ( ابن احمد نقوی سے گفتگو کا ماحصل)

7
آپ کے تبصرے

3000
5 Comment threads
2 Thread replies
0 Followers
 
Most reacted comment
Hottest comment thread
6 Comment authors
newest oldest most voted
M.A.Farooqi

یہ تو مختصر تعارف ہے، تشنگی رہ گئی
ان کی علمی اور صحافتی خدمات متنوع اور وسیع ہیں، اہل حدیثوں میں شائد تنہا صحافی ہیں جو بیک وقت اردو اور انگلش دونوں زبان میں لکھتے تھے، انگلش میں جامعہ سلفیہ کا پہلا تعارفی کتابچہ آپ ہی کا لکھا ہوا تھا، اللہ صحت و عافیت کے ساتھ آپ کا سایہ دراز رکھے، افسوس کہ دلی میں رہتے ہوئے بھی آپ کے نیاز نہ حاصل کر سکا۔

abdul azeez

thodi si maloomaat aour mi sakti hai kya inke bare mein

abdul azeez

8108893621
my phone number

رفیق احمد رئیس سلفی (علی گڑھ)

عاصم افضال صاحب کی سعادت مندی ہے کہ انھوں نے جماعت کی بزرگ شخصیت ابن احمد صاحب حفظہ اللہ کے موجودہ حالات سے ہمیں واقف کرایا۔آپ سے درخواست ہے کہ محترم کے پاس بار بار جائیں اور جماعت کی تاریخ اور جماعت کی شخصیات کے سلسلے میں ان کی یادیں مرتب کرتے رہیں۔کاش جماعت کا کوئی ادارہ ماہنامہ التوعیہ میں شائع ہونے والے ان کے تفصیلی اداریے شائع کردیتا ۔ان اداریوں میں عالمی اور ملکی صورت حال کی جو تصویر ابن احمد صاحب نے مختلف ممالک کے حوالے سے پیش فرمائی ہے،وہ حد درجہ معلوماتی اور بصیرت افروز ہے۔عاصم افضال… Read more »

ھلال ھدایت

عاصم بھائی اللہ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے کہ آپ نے ہمیں ایسی شخصیت کے بارے میں بتایا ترجمان میں جن کے اداریے پڑھے تھے جو نہایت معلوماتی ہوتے تھے۔ آپ نے ان کا تعارف پیش کیا بہت بہت شکریہ

فؤاد أسلم المحمدي المدني

اللہ ہمیں اپنے بزرگوں کی قدر و قیمت پہچاننے کی توفیق بخشے ۔ آمین۔۔۔۔۔۔

کہاں گمراہوں کے یہاں شخصیات پوج لی جاتی ہیں اور ہمارے یہاں عظماء کو پوچھ لیا جانا بھی ممکن نہیں ہو پا رہا ہے ۔
اللہ ہمارے حال پہ رحم فرمائے

محمد نسیم اختر سلفی

ماشاء اللہ، اللہ آپ کے قلم کو مزید طاقت دے
برادرم عاصم افضال آپ کے کاوشوں کو سلام