فرشتہ بن نہیں سکتے مگر…

فرشتہ بن نہیں سکتے مگر…

عبدالعلیم عبدالعزیز

انسان گناہوں کا پتلا ہے، گناہوں کا صدور ایک فطری امر ہے؛ کیونکہ اللہ نے انسان کی تخلیق ملکوتی فطرت پر نہیں کی ہے بلکہ شہوات اور خواہشات اس کے اندر کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہیں جو گناہوں کا سرچشمہ اور منبع ہیں، جو ہمیشہ انسان کو رب کی نافرمانی اور شریعت کی مخالفت پر آمادہ کرتی ہیں، ساتھ ہی شیطان لعین جو بدخواہ اور ازلی دشمن ہے گناہ اور رب کی مخالفت میں مبتلا کرنے کے لیے مختلف حربے استعمال کرتا رہتا ہے۔ بلکہ اس نے انسانوں کو گمراہ کرنے کا حلف اٹھا رکھا ہے، چنانچہ اللہ نے اس کی بات کو قرآن میں نقل کرتے ہوئے فرمایا:

{قَالَ رَبِّ بِمَاۤ اَغۡوَیۡتَنِیۡ لَاُزَیِّنَنَّ لَہُمۡ فِی الۡاَرۡضِ وَ لَاُغۡوِیَنَّہُمۡ اَجۡمَعِیۡن اِلَّا عِبَادَکَ مِنۡہُمُ الۡمُخۡلَصِیۡنَ} (الحجر:39-40)

“(شیطان نے) کہا اے میرے رب! چونکہ تو نے مجھے گمراہ کیا ہے مجھے بھی قسم ہے کہ میں بھی زمین میں ان کے لیے معاصی کو مزین کروں گا اور ان سب کو بہکاؤں گا بھی، سوائے تیرے ان بندوں کے جو منتخب کرلیے گئے ہیں”۔
معلوم ہوا کہ معصیت کا مرتکب انسان ہوگا، وہ لامحالہ گناہوں سے اپنے دامن کو پراگندہ اور صحیفہ اعمال کو سیاہ کرے گا، اور اللہ کی صفت رحمت و غفاریت بھی اسی کا تقاضا کرتی ہے، انسان فرشتہ نہیں بن سکتا:

“ٌ لَّا یَعۡصُوۡنَ اللّٰهَ مَاۤ اَمَرَهُم وَ یَفۡعَلُوۡنَ مَا یُؤۡمَرُوۡن”(التحریم:6)

“اللہ تعالٰی جو حکم دیتا ہے اس کی نافرمانی نہیں کرتے بلکہ جو حکم دیا جائے بجا لاتے ہیں” کی صفت اس کے اندر نہیں آسکتی، اور اگر بفرض محال وہ ملکوتی صفت کا حامل ہوجائے، تو اللہ اسے مٹادے گا، اسی بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

“وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَوْ لَمْ تُذْنِبُوا لَذَهَبَ اللَّهُ بِكُمْ، وَلَجَاءَ بِقَوْمٍ يُذْنِبُونَ، فَيَسْتَغْفِرُونَ اللَّهَ فَيَغْفِرُ لَهُمْ “. (مسلم:2749)

“اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر تم گناہ نہ کرتے تو اللہ تمھیں ہلاک کر دیتا اور ایسی قوم لے آتا جو گناہ کرتی پھر اللہ سے مغفرت طلب کرتی تو اللہ انھیں معاف فرما دیتا”۔
یعنی اللہ نے بنی آدم کی تخلیق فرشتانہ فطرت پر نہیں کی ہے، لہذا اس سے گناہوں کا صدور ہوگا، لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ جان بوجھ کر گناہوں کا ارتکاب اور احکامات الہیہ سے بغاوت کی جائے کیونکہ انبیاء علیہم السلام کی بعثت ہی اس وجہ سے ہوئی تھی کہ وہ لوگوں کو گناہوں میں ملوث ہونے سے روکیں اور اس سے بچنے کی تلقین کریں بلکہ اس حدیث میں اللہ کی رحمت اور عفو و درگزر کا بیان ہے کہ جس طرح اللہ اپنے نیکوکار بندوں کو نوازنا پسند کرتا ہے اسی طرح خطاکاروں سے درگزر کرنا بھی اسے محبوب ہے۔ اسی لیے بار بار توبہ کی ترغیب دلائی ہے بلکہ توبہ کرنے والے کو سب سے بہترین انسان کہا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

 “كُلُّ ابْنِ آدَمَ خَطَّاءٌ، وَخَيْرُ الْخَطَّائِينَ التَّوَّابُونَ “.

(سنن الترمذي:2499، شیخ البانی رحمہ اللہ نے حسن کہا ہے)
“ہر انسان گناہگار ہے اور سب سے بہترین خطاکار وہ ہے جو توبہ کرنے والا ہو”۔
لہذا جب بھی انسان سے کوئی گناہ سرزد ہو فورا جہان کردگار کی بارگاہ کا رخ کرے اور اس سے بخشش کا طلبگار ہو؛ لیکن ہر ایک کے ساتھ ایسا ہوتا ہے کہ جب وہ گناہوں سے توبہ کرنے کے لیے دست دعا دراز کرتا ہے، سجدے کی حالت میں رب حقیقی سے سرگوشی کی کوشش کرتا ہے تو اس کے سارے گناہ اس کے چاروں طرف طواف کرنے لگتے ہیں، شیطان اس کے دل میں وسوسے ڈالتا ہے، شبہات پیدا کرتا ہے اور یہ کہہ کر عار دلاتا ہے کہ تجھے شرم نہیں آتی ہمیشہ رب کی مخالفت کرکے اپنے دامن کو گناہوں سے آلودہ کرتا ہے پھر اس کے سامنے توبہ کرنے چلا آتا ہے، بار بار ایک ہی گناہ کرتا ہے اور ہمیشہ معاصی سے اجتناب اور احکامات الٰہیہ سے بغاوت نہ کرنے کا عہد وپیمان کرتا ہے اور پھر اس کی مخالفت کرکے بلاشرم توبہ کرنے بیٹھ جاتا ہے … یہ سوچ انسان کے دل میں پیدا ہوتی ہے اور اس کا دل بیٹھ جاتا ہے، یاس و ناامیدی اس کے چہرے سے ٹپکنے لگتی ہے اور توبہ سے پھر جاتا ہے، شیطان بغل میں کھڑا قہقہہ لگا رہا ہوتا ہے کہ اپنے حربے میں کامیاب ہوگیا۔
لوگو! شیطان چاہتا ہے کہ تم اس بات پر قانع ہوجاؤ کہ تم ابلیس ہوچکے ہو، شرم کے چور دروازے سے داخل ہوکر رب سے تمھارا رشتہ کاٹنا چاہتا ہے، جس طرح اس نے امر الہی کی مخالفت کے بعد توبہ و استغفار کی بجائے تکبر اور نخوت و غرور کے نشے میں چور ہوکر اعتراف جرم سے انکار کردیا، جیسا کہ اللہ نے قرآن میں اس کو بیان کیا ہے، فرمایا:

{قَالَ یٰۤاِبۡلِیۡسُ مَا مَنَعَکَ اَنۡ تَسۡجُدَ لِمَا خَلَقۡتُ بِیَدَیَّ ؕ اَسۡتَکۡبَرۡتَ اَمۡ کُنۡتَ مِنَ الۡعَالِیۡن قَالَ اَنَا خَیۡرٌ مِّنۡہُ ؕ خَلَقۡتَنِیۡ مِنۡ نَّارٍ وَّ خَلَقۡتَہٗ مِنۡ طِیۡن}.(سوره ص:75-76) “

فرمایا اے ابلیس! تجھے اسے سجدہ کرنے سے کس چیز نے روکا جسے میں نے اپنے ہاتھوں سے پیدا کیا کیا تو کچھ گھمنڈ میں آگیا ہے؟ یا تو بڑے درجے والوں میں سے ہے، اس نے جواب دیا کہ میں اس سے بہتر ہوں، تو نے مجھے آگ سے بنایا اور اسے مٹی سے بنایا ہے”۔
اسی طرح چاہتا ہے کہ تم بھی رب کے باغی ہوجاؤ، اور گناہوں کے صدور کے بعد ندامت و شرمندگی اور اعتراف جرم کی بجائے فرعونیت اور ابلیسیت کی راہ پر چل پڑو، لہذا شیطان کے اس چال سے دھوکہ نہیں کھانا چاہیے۔ بلکہ جیسے ہی دانستہ یا غیر شعوری طور پر کوئی گناہ سرزد ہوجائے فورا رب کی طرف رجوع کریں، اور در اصل یہی رب سے حیا کا مطلب ہے۔ کیونکہ حکم ربانی کی مخالفت کے بعد جب دل میں ندامت اور شرمندگی کا احساس ہوا تبھی ہم نے رب کی بارگاہ کا رخ کیا، آنکھوں میں شرمندگی کے جھملاتے آنسوؤں کو لے کر اس کی جناب میں رحمت اور معافی کے طلب گار ہوئے، اور حقیقت میں ندامت ہی توبہ ہے، جیسا کہ فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے:

“الندم توبة”.

(سنن ابن ماجه، كِتَابُ الزُّهْدِ، ‘4252’ شیخ البانی رحمہ اللہ نے صحیح کہا ہے)
اور جو گناہوں کا اعتراف کرتے ہوئے اس سے رک جائے تو وہ ایسے ہوجاتا ہے گویا اس نے کوئی گناہ کیا ہی نہیں، نیز اللہ اپنے بندے کی توبہ سے بےحد خوش ہوتا ہے، رسول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:

“لَلَّهُ أَشَدُّ فَرَحًا بِتَوْبَةِ أَحَدِكُمْ مِنْ أَحَدِكُمْ بِضَالَّتِهِ إِذَا وَجَدَهَا “.(مسلم 2675).

 “اللہ کی قسم اللہ اپنے بندے کی توبہ پر اس سے زیادہ خوش ہوتا ہے جتنا تم میں سے کوئی اپنی گمشدہ سواری کو جنگل میں پا لینے سے خوش ہوتا ہے”۔
بلکہ توبہ کی وجہ سے اللہ اپنے بندوں کے ہر گناہ معاف کردیتا ہے، فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے:

“قَالَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى : يَا ابْنَ آدَمَ، إِنَّكَ مَا دَعَوْتَنِي وَرَجَوْتَنِي غَفَرْتُ لَكَ عَلَى مَا كَانَ فِيكَ، وَلَا أُبَالِي. يَا ابْنَ آدَمَ، لَوْ بَلَغَتْ ذُنُوبُك عَنَانَ السَّمَاءِ ثُمَّ اسْتَغْفَرْتَنِي غَفَرْتُ لَكَ وَلَا أُبَالِي “.(سنن الترمذي:3540)

“اللہ فرماتا ہے: اے ابن آدم! جب تک تو مجھ سے دعائیں کرتا رہے گا اور مجھ سے اپنی امیدیں وابستہ رکھے گا میں تیرے سارے گناہ بخشتا رہوں گا، اور مجھے کوئی پرواہ نہ ہوگی، اے ابن آدم! اگر تیرے گناہ آسمان کو پہنچ جائیں پھر تو مجھ سے بخشش کا طلبگار ہو تو تجھے بخش دوں گا اور مجھے کوئی پرواہ نہ ہوگی”۔
نیز اللہ نے توبہ کے دروازے کو ہمیشہ کھلا رکھا ہے کہ جب بھی کوئی گناہ سرزد ہو بندہ ارحم الراحمین کی چوکھٹ پر پہنچ کر اس کی معافی کرالے، اور اپنی طرف رجوع کا حکم بھی دیا، فرمایا:

{فَفِرُّوۡۤا اِلَی اللّٰہِ} (الذاریات:50)

“پس تم اللہ کی طرف رجوع کرو”. لہذا ہمیشہ انسان کو باب توبہ کھٹکھٹاتے اور گناہوں کی بخشش طلب کرتے رہنا چاہیے.
اللہ تعالی ہمیں گناہوں سے بچنے اور ہمیشہ توبہ و استغفار کی توفیق دے۔ آمین

آپ کے تبصرے

avatar
3000