ہالینڈ کے اسلام دشمن سیاست داں جو رام وان کلیورین دامن اسلام میں

عطا بنارسی

جو رام وان کلیورین حلقہ بگوش اسلام ہو گئے!!


وہی، ہالینڈ کے سخت ترین اسلام مخالف سیاست داں، ہالینڈ کے متشدد سیاسی رہنما گیئرٹ ولڈرز کی جماعت کے نائب چیئر مین جس نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے گستاخانہ خاکوں کے مقابلے کا اعلان کر کے پوری دنیا میں ہنگامہ برپا کر دیا تھا۔ یہ خبر نا قابل یقین مگر حقیقت ہے، جو رام کلیورین گزشتہ سال26اکتوبر کو اسلام قبول کر کے دائرہ اسلام میں داخل ہو گئے۔ اور اس سال 4فروری کو دنیا کے سامنے انھوں نے خود کے دائرہ اسلام میں داخل ہونے کا باقاعدہ اعلان کر دیا۔
کلورین کے اس اعلان سے ہالینڈ میں لوگ انگشت بدنداں ہیں، ان کے لیے یہ ایک ناقابل یقین حقیقت ہے۔ تبدیلی مذہب کے انکشاف سے کلورین کے دشمن اور دوست دونوں ہی ششدر ہیں۔ حامیوں کا ذہن یہ بات قبول کرنے سے قاصر ہے کہ ایک سخت ترین اسلام مخالف شخص جو اپنی پوری سیاسی زندگی میں اسلام پر تنقیدیں کرتا رہا وہ کیسے اسلام میں داخل ہو سکتا ہے۔ماضی میں کلیورین کے اسلام دشمن نظریات سے اختلاف رکھنے والے بھی حیرت زدہ ہیں۔

پاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سے
در اصل 2001 میں نائن الیون واقعہ کے بعد مسلمانوں اور خاص طور سے اسلامی تعلیمات پر خوب انگشت نمائی کی گئی۔ مسلمانوں کے لیے ابتلا، اذیت، پریشانی اور گوناگوں مشکلات کا دور شروع ہوگیا۔ انتہا پسند اور بنیاد پرست کے خطابات تو انھیں سوشلسٹ کے زوال کے بعد ہی مل چکا تھا لیکن اس اندوہناک سانحہ کے بعد، دہشت گرد جیسا منحوس تمغہ بھی اسلام اور مسلمانوں کے چہرے پر چسپاں کر دیا گیا۔ ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے ملبے سے اٹھنے والے سیاہ دھوئیں سے اسلام اور مسلمانوں کے چہرے کو داغدار کرنے کی کوششیں عروج پر پہنچ گئیں، یکے بعد دیگرے مسلم ممالک تاخت و تاراج کر دیے گئے اور یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ جتنی برائیاں، معاشرتی خامیاں اور انسانی زوال کے اسباب تھے ان سب کو اسلام سے جوڑنے کی پوری کوشش ہوتی رہی اور یہ اب تک جاری ہے مگر قدرت کا کرشمہ دیکھیے کہ وہ انہی دشمنان اسلام کے گروپ سے خادم اسلام کا انتخاب کرتا رہا ہے۔ جو لوگ اسلام کی شبیہ کو داغدار کرنے اور نیست و نابو کرنے کی تگ و دو کر رہے تھے وہی شجر اسلام کی آبیاری میں تن من سے لگ گئے ہیں۔ ایسے متعدد ناموں میں اب ایک اور نام ہالینڈ کی مسلم مخالف انتہا پسند جماعت کے سابق رکن جورام وین کلیورین کا بھی جڑ گیا ہے۔ جو رام وین کلیورین کے حلقہ بگوش اسلام ہونے کی کہانی بھی عجیب ہے۔ وہ چلے تھے اسلام کے خلاف دستاویز تیار کرنے لیکن دوران سفر ہی انھیں اس بات کا ادراک ہوگیا کہ جس کے خلاف وہ سرگرداں ہیں در حقیقت سچائی اور حقیقت وہی ہے۔ وہ تعلیم یافتہ اور ماہر سیاست داں تو تھے ہی، جب ان پر حقیقت آشکارا ہوئی تو وہ خود کو اسلام قبول کرنے سے روک نہیں پائے۔ ڈچ ریڈیو سے گفتگو کرتے ہوئے جورام وین کلیورین کا خود کہنا ہے کہ وہ اسلام مخالف کتاب لکھ رہے تھے، اسی دوران ان پر اسلام کی حقانیت آشکارا ہوئی اور ان کا دل بدل گیا۔ انھوں نے ڈچ میڈیا کے سامنے اعتراف کیا کہ مجھے تو اس کی برسوں سے تلاش تھی، یہ میرے لیے مذہبی طور پر گھر واپسی جیسا ہے۔
جو رام وین کلیورین ہالینڈ کی سیاست میں کافی سر گرم رہے۔انھوں نے ہالینڈ میں مسلم مخالف سخت گیر رہنما گیئرٹ ولڈرز کی سیاسی جماعت فریڈم پارٹی کے رکن کے طور پر سیاست میں اہم کردار ادا کیا۔ وہ سات سال ڈچ پارلیمنٹ کے ایوان زیریں کے رکن بھی رہے۔ ہالینڈ کی سیاست میں وہ ایک سخت گیر اور اسلام مخالف سیاست داں کے طور پر معروف رہے۔ انھوں نے اپنی پوری سیاسی زندگی میں اسلام کی جم کر مخالفت کی۔ مسلمانوں پر ہمیشہ تنقید کرتے رہے۔ کئی مواقع پر وہ اسلامی تعلیمات اور قرآن پر سخت تنقیدیں کرکے سرخیوں میں آئے۔ انھوں نے بارہا شعائر اسلام پر طنز کیا تھا۔ اپنی تقریروں میں ہالینڈ میں برقع اور مساجد کے میناروں پر پابندیوں کے مطالبے کیے تھے، کیونکہ ان کا کہنا تھا کہ اسلام ایک جھوٹ ہے، ہالینڈ میں ہمیں اسلام کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ اب جبکہ وہ حلقہ بگوش اسلام ہوچکے ہیں انھوں نے اسلام سے متعلق اپنے سابقہ بیانات پر شرمندگی کا اظہار کیا۔ ڈچ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ انھیں افسوس ہے کہ انھوں نے اسلام کے سلسلے میں لوگوں کے سامنے غلط شبیہ پیش کی۔ 40سالہ کلیورین کا کہنا ہے کہ وہ ایک اسلام مخالف ضخیم کتاب مرتب کر رہے تھے اس عمل کے تقریباً وسط میں ان کا ذہن تبدیل ہو گیا۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے اس ڈرافٹ کو کوڑے دان میں ڈال دیا ہے۔ اور اب آئندہ اس کے عوض میں ایک نئی کتاب تحریر کروں گا، جس میں اسلام کے مخالفین کے سوالات اور ان کے اعتراضات کے جواب ہوں گے۔ کلورین کے اسلام قبول کرنے پر ان کے پرانے سیاسی ساتھی گیئرٹ ورلڈز کا رد عمل ظاہر ہے افسوس ناک ہی ہوگا۔ اس نے کلورین کے دائرہ اسلام میں داخل ہونے پر کہا کہ یہ ایک سبزی خور کا کسی قصائی خانے میں کام کرنے جیسا ہے۔
اسلام قبول کرنے کے بعد کلورین کے اہل خانہ کا رد عمل ان کے سیاسی دوستوں کے برعکس اور قابل اطمینان رہا۔ انھوں نے بتایا کہ ان کے مذہب تبدیل کرنے پر ان کی اہلیہ کو کوئی اعتراض نہیں ہے۔ میری بیوی نے میرے اسلام قبول کرنے کو تسلیم کیا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ اگر تم خوش ہو تو میں روکوں گی نہیں۔
جورام کلیورین 2014 تک فریڈم پارٹی کے چیئر مین اور رکن پارلیمنٹ رہے۔ تاہم 2014 میں انھوں نے کو گیئرٹ ولڈرز سے سیاسی اختلاف کی بنا پر پارٹی کو الوداع کہہ دیا تھا۔ انھوں نے انکشاف کیا کہ فریڈم پارٹی کی یہ پالیسی تھی کہ جو چیز بھی سماجی اور معاشرتی طور پر غلط ہو اور جس کا منفی اثر سماج پر پڑسکتا ہے اس کو کسی نہ کسی طرح سے اسلام سے جوڑ دیا جائے۔ فریڈم پارٹی سے علیحدگی کے بعد انھوں نے اپنی ایک الگ پارٹی قائم کی مگر 2017 میں ہالینڈ میں ہوئے قومی انتخابات میں ناکامی کے بعد انھوں نے سیاست کو ہی خیر باد کہہ دیا۔
ہالینڈ، نیدرلینڈ کے بھی نام سے جانا جاتا ہے‌۔ ہالینڈ کی کل 1.7 کروڑ کی آبادی میں تقریبا 5فیصد مسلمان ہیں۔ ڈچ میڈیا کے مطابق آبادی میں ان کی تعداد تقریبا 8.5 لاکھ ہے۔ ماہرین کا اندازہ ہے کہ نیدرلینڈ میں آئندہ 2050 تک مسلمانوں کی تعداد دو گنی ہوسکتی ہے۔ یہ رپورٹ اس بات کو واضح کرتی ہے کہ ہالینڈ میں سیاسی لیڈروں کی اسلام مخالف شدت پسندی کے باوجود اسلام کا دائرہ وسیع تر ہوتا جارہا ہے۔
جورام کلیورین کے دائرہ اسلام میں داخل ہونے کے بعد دنیا بھر کے مسلمانوں میں خوشی کی لہر ہے۔ ایک سخت گیر اسلام مخالف کے اسلام قبول کرنے کے بعد ایک بار پھر یہ دنیا پر آشکار ہوگیا ہے کہ اسلام ہی حقیقی دین فطرت ہے۔ ایک ایسے ماحول میں جب پوری دنیا میں اسلام کو دہشت گردی کے متبادل مذہب کے طور پر متعارف کرانے کی کوششیں جاری ہیں، شعائر اسلام کو ہدف تنقید بنایا جا رہا ہے، کہیں اذان اور نمازوں پر پابندیوں کے قوانین بنائے جا رہے ہیں اور کہیں برقع پوش خواتین پر حملے کیے جا رہے ہیں، اسلامی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے والوں کو قدامت پسند، انتہا پسند جیسے تمغوں سے نوازا جارہا ہے۔ اس کے باوجود غیر مسلم تعلیم یافتہ طبقات میں اسلام کی مقبولیت مایوسی کے شکار مسلمانوں کے لیے راحت اور اطمینان کی خبر ہے وہیں دشمنان اسلام کے لیے بھی غور و فکر کا مقام ہے کہ وہ اسلام کا مطالعہ تخریبی نظریے اور منفی سوچ کے بجائے مثبت، اصلاح اور تلاش حق کی نیت سے کریں۔

1
آپ کے تبصرے

avatar
3000
1 Comment threads
0 Thread replies
0 Followers
 
Most reacted comment
Hottest comment thread
1 Comment authors
رفیق احمد رئیس سلفی(علی گڑھ) Recent comment authors
newest oldest most voted
رفیق احمد رئیس سلفی(علی گڑھ)
Guest
رفیق احمد رئیس سلفی(علی گڑھ)

محترم عطا بنارسی صاحب ! ایک بار پھر یہ ثابت ہوگیا کہ اسلام کے لیے نئے پودے لگانا اور چمن اسلام کو سدا بہار رکھنا اللہ رب العزت کا کام ہے۔اندھیرے میں امید کی یہ ایک ایسی کرن ہے جو ہمیں حوصلہ دیتی ہے ۔آپ سے درخواست ہے کہ ان کی سرگرمیوں پر نظر رکھیں اور اسلام کے تعلق سے ان کے خیالات اردو ہندی میں منتقل کرتے رہیں۔جس کتاب کا انھوں نے وعدہ کیا ہے،خدا کرے کہ وہ جلد دنیا کے سامنے آجائے۔اسی سے ان شاء اللہ اسلام پر ہونے والے اعتراضات بھی سامنے آجائیں گے جو معاصر دنیا… Read more »