حالات کی نزاکت اور اہل وطن کے ساتھ ہمارا طرز عمل

یاسر اسعد

وطن عزیز ہندوستان صدیوں سے مختلف ادیان و مذاہب کا گہوارہ رہا ہے۔ کثرت میں وحدت اس کی ایک بڑی خوبی مانی جاتی ہے۔ متعدد مذاہب کے لوگ یہاں باہم مل جل کر رہتے ہیں۔ ادیان و مذاہب کی کثرت کے سبب ہمیشہ یہاں مذہبی کشمکش بھی رہی ہے۔ اس کشاکش نے مذہب کے نام پر جنم لیا اور بعد میں سیاست کا روپ دھار کر سنگین حالات پیدا کیے۔ ہمیشہ سے یہاں ہندو مت اکثریت کا مذہب رہا ہے۔ مسلمانوں کے لیے یہ نہایت فخر کی بات رہی ہے کہ انھوں نے ۷۔۸؍ صدی تک اس ملک پر حکومت کی اور اسے پروان چڑھایا۔ رواداری اور مذہبی آزادی کے لحاظ سے یہ تاریخ ہند کا سب سے سنہری دور کہا جاسکتا ہے، یہاں تک کہ بعض شاہان ہند نے رواداری کے خمار میں شرعی حدود تک کی بھی پرواہ نہ کی۔ بہر حال، مسلمانوں کی طویل حکمرانی ایک سنہری دور رہی جہاں ایکتا، الفت و محبت اور یگانگی کے بے شمار مظاہر موجود تھے۔ ہندو اور مسلمان مذہبی لحاظ سے جداگانہ ہونے کے باوجود بھی باہم شیر و شکر ہوکر رہتے تھے۔
انگریز مغل حکومت کی شمع گل کرنے آئے، اس زمانے میں وطن عزیز کو سونے کی چڑیا کہا جاتا تھا، کاروبار اور تجارت کے نام پر آنے والے فرنگیوں نے اقتدار کو ہتھیانے کے لیے بے شمار چالیں چلیں، ان کا سب سے کامیاب حربہ “Divide and Rule” کی پالیسی ثابت ہوئی، انتھک سازشوں اور کوششوں سے ہندی مسلمانوں اور ہندؤں کے مابین خلیج پیدا ہوتی گئی، شدت پسند مذہبی عناصر نے بھی موقع کا فائدہ اٹھایا اور نفرت کی کاشت کی، ڈیوائڈ اینڈ رول کی پالیسی اتنی کار آمد ثابت ہوئی کہ انگریزوں کے انخلا کے بعد بھی دونوں قوموں نے ساتھ رہنا گوارہ نہیں کیا اور ہندوستان مذہب کے نام پر تقسیم ہوگیا۔
ہندوستان کی تقسیم مسلمانوں کے جذبات کے وقتی ابال کا نتیجہ تھی جس کے سبب فرقہ پرستی کو مزید بڑھاوا ملا، مسلمان مذہب کے نام پر اپنا ایک الگ ملک بنا چکے تھے، لہٰذا اب اکثریتی طبقہ کو بھی اپنے راشٹر کے قیام کا خواب ستانے لگا۔ ہندوستان آزادی کے بعد ایک سیکولر اسٹیٹ قرار پایا جہاں کسی مذہب کی بالادستی نہیں تھی، اس سے مسلمانوں کو ہندوستان میں باعزت رہنے کا جواز تو مل گیا لیکن تقسیم کے وقت کی مذہبی منافرت ابھی دلوں میں زندہ تھی اور تا حال باقی ہے۔ اکثریتی طبقے کے شدت پسند عناصر اسی منافرت کے سہارے آئے دن آزاد ہندوستان کی اقلیت کو نشانہ بناتے رہتے ہیں۔ ایوان اقتدار تک رسائی ہونے کے بعد مانو اس میں سرخاب کے پر لگ گئے ہوں۔ آئے دن وطن میں فرقہ پرستی کے مناظر سیکولرزم کا منہ چڑھاتے رہتے ہیں، روز بروز حالات حساس سے حساس تر ہوتے جارہے ہیں۔ ایسے پر آشوب وقت میں ہندوستانی مسلمانوں کے سامنے ایک اہم سوال ہے کہ ہمارا رشتہ و تعلق برادران وطن سے کیسا ہو، حالات کی نزاکت کے مد نظر ہمارے ان کے ساتھ تعامل کی نوعیت کیا ہو؟۔ لیکن اس سوال کا جواب ڈھونڈھنے سے قبل یہ ضروری ہے کہ ہم اپنے اس دور کو آنکھوں کے سامنے رکھیں جب یہاں ہماری حیثیت حکمراں کی تھی، لہٰذا بحیثیت حاکم یہاں کی غیر مسلم رعایا کے ساتھ ہمارا برتاؤ کیسا تھا۔

مسلم حکمرانوں کا غیر مسلم رعایا کے ساتھ برتاؤ:
شدت پسند عناصر مسلمانوں کو الزام دیتے ہیں کہ مسلمانوں نے اپنے دور حکمرانی میں غیر مسلم رعایا خصوصاً ہندؤں پر بہت مظالم ڈھائے، نیز ان کی کردار کشی کی پوری کوشش کی جاتی ہے، حالانکہ امر واقع اس سے یکسر مختلف ہے۔ تاریخ کے فراہم کردہ شواہد اشارہ دیتے ہیں کہ بعض مسلم سلاطین نے تو غیر مسلموں کی محبت میں اسلامی تعلیمات تک کا پاس و لحاظ نہیں رکھا۔ ہم تاریخ ہند سے رواداری کے کچھ ثبوت پیش کرتے ہیں:
۱۔ عموماً ہندوستان میں اسلام کی نشر و اشاعت ہندوستان پر بیرونی مسلم حملوں کا نتیجہ قرار دی جاتی ہے، حالانکہ برصغیر میں اسلام کی آمد اس سے بہت قبل ہوچکی تھی۔ محمد بن قاسم علیہ الرحمہ کے حملوں سے تقریباً دو تہائی صدی سے بھی زائد عرصے قبل ہی مسلمان عہد صحابہ میں ہندوستان آچکے تھے، ان کی دعوت و تبلیغ اور اخلاق و کردار سے لوگ مسلمان ہونا شروع ہوئے۔ طویل عرصے کے بعد محمد بن قاسم نے فوج کشی کی، لیکن اپنے دور قیام میں انھوں نے عدل گستری کے ایسے نمونے پیش کیے کہ غیر مسلم رعایا آپ کی گرویدہ ہوگئی، یہاں تک کہ سندھ کی ہندو عوام انھیں دیوتا کا درجہ دیتی اور ’’ان داتا‘‘ کے لقب سے یاد کرتی۔ محمد بن قاسم کے متعلق تاریخ کے غیر متعصب ہندو مؤرخین کے ساتھ مغربی تاریخ نگاروں نے بھی اعتراف کیا ہے کہ ان کے عہد میں مذہبی رواداری کی اعلیٰ مثال قائم ہوئی، چنانچہ مغربی مؤرخ ولکسی نے لکھا ہے کہ عراق کا گورنر حجاج بن یوسف اپنے ملک میں تیز مزاج مشہور تھا، اور عراق کے مسلمانوں نے اس کی سختیوں سے بھاگ کر ہندوستان کے جنوب میں کوکن اور کنیا کماری وغیرہ مقامات میں پناہ لی، سندھ کی فتح کے بعد محمد بن قاسم نے حجاج کو خط لکھ کر پوچھا کہ یہاں کے لوگوں کے ساتھ کیسا برتاؤ کیا جائے….. حجاج نے لکھا کہ ’’جبکہ ان لوگوں نے خود سپردگی کردی ہے اور خلیفہ کو ٹیکس دینا منظور کرلیا ہے تو ان سے کچھ بھی اور جائز نہیں، ہم نے انھیں اپنی حفاظت میں لیا ہے اور اب کسی بھی طرح ان کے جان و مال ہمارے لیے حلال نہیں۔ انھیں اپنے دیوتاؤں کی پوجا کرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔ ہرگز کسی شخص کو اپنے دھرم کی پابندی کرنے سے منع کرنا چاہیے نہ روکنا چاہیے۔ اپنے گھروں میں وہ جیسے چاہیں اس طرح رہیں۔‘‘ [اسلام اور دہشت گردی، مرتبہ فاروق ارگلی، ص: ۲۶]

۲۔ مشہور سیاح ابن بطوطہ نے لکھا ہے کہ ایک ہندو سردار نے قاضی کی عدالت میں سلطان محمد بن تغلق کے خلاف مقدمہ دائر کیا، قاضی نے محمد بن تغلق کو عدالت میں طلب کی اور مقدمے کی باقاعدہ سنوائی کے بعد ہندو کے حق میں فیصلہ دیا، سلطان نے فیصلے کے مطابق مدعی کو مطمئن کیا۔ [ہندوستان میں قومی یک جہتی کی روایات، بی.این.پانڈے، ص: ۱۳]

۳۔ ایک جرمن عالم فان کریمر لکھتا ہے:
’’سندھ میں محمد بن قاسم کی حکومت میں اور اس کے بعد بھی برہمنوں کی عزت اور ان کا رتبہ جیوں کا تیوں قائم رہا۔ زمین کی مالگذاری بھی حسب معمول جیوں کی تیوں تین فیصدی جاری رکھی گئی۔ ہندؤں کو کھلی اجازت تھی کہ اپنے مندر بنانے کے لیے وہ آزاد ہیں۔ ہندو تاجر مسلمان تاجروں کے ساتھ اپنی تجارت بڑھانے کے لیے جو طریقہ مناسب سمجھتے تھے عمل میں لاتے تھے۔ عربوں اور سندھیوں میں اس قدر باہمی تعلقات اور محبت کے رشتے قائم ہوئے کہ جس کی وجہ سے خلیفہ تک نے سندھ میں مندروں کو گرانے یا اسلام کے پرچار کی اجازت نہیں دی۔‘‘ [ہندوستان میں قومی یک جہتی کی روایات، بی.این.پانڈے، ص: ۱۱]

یہ نمونے مشتے از خروارے ہیں، تاریخ کے صفحات اس طرح کے واقعات سے بھرے پڑے ہیں۔ سب سے بنیادی بات یاد رکھنے کی یہ ہے کہ مسلمانوں کے فوجی حملوں سے بہت قبل ہی یہاں اسلام اپنے مبلغین کے حسن کردار اور تبلیغ سے پھیل چکا تھا، نیز مسلم حکمرانوں نے اتنے طویل عرصہ حکومت کے باوجود یہاں کی غیر مسلم رعایا سے بالکل تعصب نہیں برتا۔ اکثریتی طبقہ کے شدت پسندوں کے لیے یہ بات قابل غور وفکر ہے ؂
تمھیں لے دے کے ساری داستاں میں یاد اتنا ہے
کہ عالمگیر ہندوکش تھا، ظالم تھا، ستمگر تھا

مسلم دشمنی کا محرک:
برصغیر میں ہندو۔مسلم منافرت پیدا کرنے کا سہرا انگریزوں کے سر جاتا ہے، تجارت کا بہانہ لے کر قیادت کا خواب دیکھنے والوں نے بھانپ لیا تھا کہ اس کثیر ثقافتی ملک کے باشندوں کو اگر مذہبی بنیادوں پر آپس میں متصادم کردیا جائے تو بآسانی وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہوسکتے ہیں، چنانچہ ان کی ڈیوائڈ اینڈ رول (لڑاؤ اور حکومت کرو) کی پالیسی کامیاب ہوئی اور ہندو مسلم کے درمیان خلیج اتنی بڑھی کہ آج تک یہ قائم ہے۔ ۱۸۸۷ء میں وزیر خارجہ وسکاؤنٹ کراس نے گورنر جنرل ڈفرن کو ایک خط میں لکھا کہ ’’مذہبی احساس کی تقسیم ہمارے مفاد میں ہے، اور ہم ہندوستانی تعلیم اور تعلیمی مواد پر آپ کی تفتیشی کمیٹی سے اچھے نتائج کی امید کرتے ہیں۔‘‘ وزیر خارجہ جارج ہیملٹن نے گورنر جنرل لارڈ کزن کو لکھا کہ ’’اگر ہم ہندوستان کے تعلیم یافتہ طبقے کو دو حصوں (ہندو اور مسلمان) میں تقسیم کرسکتے ہیں تو اس سے ہماری پوزیشن مضبوط ہوگی، ہمیں درسی کتاب کو اس طرح تیار کرنا چاہیے کہ دونوں مذاہب کے اختلافات میں مزید اضافہ ہو۔‘‘ [ فرقہ پرستی اور اس کا تدارک، ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی، ماہنامہ ندائے اعتدال علی گڑھ، اکتوبر ۲۰۱۶ء، ص:۳۱]
آزادی کے بعد ہندوستان کی سیاست مذہب کے پہیے پر چلی، جس کے سبب آپسی تعلقات روز بروز سدھرنے کے بجائے کشیدہ ہوتے چلے گئے۔ روز اول سے ہی بھگوا عناصر پاکستان کو برصغیر کے تمام مسلمانوں کا ملک مان کر وطن عزیز کے مسلمانوں کا عرصۂ حیات تنگ کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ دقت نظر سے دیکھا جائے تو ان کی ساری عداوت کا ماخذ سیاست ہے، یہ نقطہ واقعی قابل غور ہے کہ مسلمان حد درجہ پسماندگی کے عالم میں ہیں، ان کے اندر دینی بیداری کی اشد ضرورت ہے، لیکن اگر مسلمان اپنی تمام ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہوجائیں تب بھی کفار کے دلوں میں ان کے خلاف جو غیظ و غضب ہے وہ کم نہیں ہوگا۔ مفکر ملت ڈاکٹر مقتدیٰ حسن ازہری علیہ الرحمہ اس بارے میں رقم طراز ہیں:
’’مسلم دشمن عناصر کا جو ٹولہ ہمارے سامنے ہے اسے نہ اپنے مذہب سے دلچسپی ہے نہ کسی دوسرے مذہب سے حقیقی عناد، بلکہ اصل مسئلہ سیاسی مفادات کا ہے۔ یہ ٹولہ اپنے سیاسی عزائم کی تکمیل کے لیے مسلم دشمنی کے نعرہ کو حربہ کے طور پر استعمال کررہا ہے، اقتدار کی کرسی میں اسے جو کشش نظر آرہی ہے اس کے سامنے حق و انصاف کے اصولوں اور ملکی روایات کی اس ٹولہ کی نظر میں کوئی وقعت نہیں۔ اس لیے اگر مسلمان اخلاق و عمل کی اعلیٰ ترین ذمہ داریوں پر بھی پہنچ جائیں تو اس ٹولہ کی ان کے ساتھ عداوت ختم نہ ہوگی۔ سورہ آل عمران کی آیات ۱۱۸ تا ۱۲۰ کے ترجمے پر توجہ کی ضرورت ہے، ان کے اندر اللہ تعالیٰ نے دشمنان اسلام کے غیظ وغضب کی تصویر پیش کی ہے۔‘‘ [اسلام اور مسلمانوں سے نفرت یا محبت کا اصل محرک کیا ہے؟، از ڈاکٹر مقتدیٰ حسن ازہری، ماہنامہ محدث بنارس، مئی ۱۹۹۷ء، ص:۸]

برادران وطن سے مسلمانوں کا تعامل اور ان کی ذمہ داریاں:
مسلمان قوم کے لیے فی الوقت وطن عزیز کی صورت حال ایک زبردست چیلنج ہے جس سے نبرد آزما ہونے کے لیے کتاب و سنت کی روشنی میں اقدام کرنا بے حد ضروری ہے۔ قرآنی نقطۂ نظر سے دیکھیں تو واضح انداز میں ارشاد ہے:

(لا ینھاکم اللہ عن الذین لم یقاتلوکم في الدین ولم یخرجوکم من دیارکم أن تبروھم وتقسطوا إلیھم) [ممتحنہ:۸]

امام نووی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:

’’فلو تصدق علی فاسق أو علی کافر من یھودي أو نصراني أو مجوسي جاز، وکان فیہ أجر في الجملۃ‘‘ [المجموع: ۶؍۲۳۷]

مسلمانوں کو جب مدینے میں اقتدار حاصل ہوا تو حضور اکرم ﷺ نے سب سے پہلے مسلمانوں اور یہود کے مابین اتحاد قائم فرمایا جسے ’’معاہدۂ مدینہ‘‘ یا ’’میثاق مدینہ‘‘ کے نام سے جانا جاتا ہے، اس میں باہمی ہمدردی، خیر خواہی، مظلوم کی مدد اور دشمن کے خلاف اتحاد جیسی اہم بنیادوں پر یہ معاہدہ ہوا۔ اسی سے ملتا جلتا ’’حلف الفضول‘‘ بھی ہے جس میں زمانہ جاہلیت میں مختلف قبائل کے ذریعہ امن و سلامتی، انسانی ہمدردی، مظلوموں کا تعاون، ظالموں کا مقابلہ جیسے اہم عناصر پر اتحاد ہوا، نبی اکرم ﷺ بعد میں خواہش ظاہر کیا کرتے تھے کہ:

’’لقد شھدت في دار عبد اللہ بن جدعان حلفا ما أحب أن لي بہ حمر النعم ولو أدعی بہ في الإسلام لأجبت‘‘ [السنن الکبری للبیھقي:۶؍۵۹۶، ح: ۱۳۰۸۰]

مولانا اختر امام عادل اس ضمن میں لکھتے ہیں: ’’اس کا مطلب یہ ہے کہ مسلمانوں پر اگر ایسے حالات آجائیں جن میں وہ اپنے ملی تشخص، مفادات کے تحفظ اور دیگر نیک مقاصد کے لیے غیر مسلموں سے مشترکہ بنیادوں پر (جن میں کوئی بات خلاف شریعت نہ ہو) اتحاد قائم کریں تو اس کی گنجائش ہے، بالخصوص غیر مسلم ممالک جہاں مسلمان اقلیت کی حیثیت سے رہ رہے ہوں۔‘‘ [غیر مسلم ملکوں میں مسلمانوں کے مسائل، از مولانا اختر امام عادل، ص:۷۷]
دین حق کی یہ تعلیمات واضح کرتی ہیں کہ جو انصاف پسند غیر مسلم ہیں وہ ہمارے حسن سلوک اور اچھے برتاؤ کے یقیناً مستحق ہیں۔ ہندوستان میں جہاں کہ ان کی اکثریت ہے ہمارا فرض بنتا ہے کہ حسن سلوک اور اخلاق کے ذریعہ ان کا دل جیتنے کی کوشش کریں۔ اس کی مختلف نوعیتیں ہوسکتی ہیں، تجارتی سطح پر ان کے ساتھ بہترین تعلقات استوار ہوسکتے ہیں، وہ مسائل جو مشترکہ ہیں ان کے حل کے لیے اتحاد کیا جاسکتا ہے۔ مسلمانوں کے لیے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ہندوستان میں رہتے ہوئے وہ دیگر برادران وطن سے بالکل کٹ کر اپنی زندگی نہیں گزار سکتے اور نہ ہی یہ ان کے لیے مفید ہے۔ امام الہند مولانا ابو الکلام آزاد رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
’’میرا عقیدہ ہے کہ ہندوستان میں ہندوستانی مسلمان اپنے بہترین فرائض انجام نہیں دے سکتے، جب تک کہ وہ ان احکام اسلامیہ کے ماتحت ہندوستان کے ہندؤں سے سچائی کے ساتھ اتحاد و اتفاق نہ کر لیں۔‘‘ [ خطبات آزاد، مولانا ابو الکلام آزاد، ص:۴۶]
غیر مسلم ممالک میں مسلمانوں کو درپیش مسائل کو عموماً ’’یجوز في الضرورۃ ما لایجوز في غیرھا‘‘ کے قاعدے کے تحت حل کیا جاتا ہے، لیکن اس فقہی ضابطے کو استعمال کرنے کے لیے مولانا ابو العاص وحیدی چند اصولی باتیں ذکر کرتے ہیں:
۱۔ تعبدی امور چونکہ توقیفی ہوتے ہیں اور ان میں قیاس و رائے کا دخل نہیں ہوتا اس لیے ان میں عصری ضرورت کا لحاظ نہیں کیا جائے گا۔
۲۔ حقوق و معاملات اور تعلقات عامہ جو غیر تعبدی امور ہیں ان میں عصری ضروریات اور تقاضوں کا لحاظ کیا جائے گا۔
۳۔ حقوق و معاملات وغیرہ میں جو احکام منصوص ہیں جن کی حیثیت حدود اللہ کی ہے ان سے بالکل تجاوز نہیں کیا جائے گا۔
۴۔مذکورہ فقہی قاعدہ استعمال کرتے ہوئے اس بات کا لحاظ بہر حال ضروری ہے کہ مسلمان اپنا دینی و ملی تشخص باقی رکھیں۔ [غیر مسلم ممالک میں آباد مسلمانوں کے مسائل (مجموعہ )، ص:۵۴۹]

دعوت و تبلیغ اور شبہات کا ازالہ:
برادران وطن کے ساتھ حسن تعامل ہمارے دعوتی کاز کے لیے انتہائی مفید ثابت ہوگا۔ میڈیا کے ذریعہ ان کے اذہان و قلوب میں جو زہر بھرے گئے ہیں ان کا ازالہ ہوگا اور یہ چیز انھیں اسلام سے قریب کرنے میں معاون ثابت ہوگی۔ ڈاکٹر سعود عالم قاسمی اس طرف توجہ دلاتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’ہندوستان میں اسلام کی دعوت و اشاعت میں درپیش مشکلات کا اہم سبب جس کی طرف ہم نے اشارہ کیا اسلام کے سلسلے میں برادران وطن کی غلط فہمی اور اس پر مبنی منافرت اور عناد کا رویہ ہے، جس کی آبیاری انگریزوں نے منصوبہ بند طریقے سے کی ہے۔ چونکہ انگریزوں نے مسلمانوں سے اقتدار چھینا تھا اور ہمیشہ وہ مسلمانوں سے خوف زدہ رہتے تھے کہ کہیں دوبارہ وہ اقتدار پر قابض نہ ہوجائیں، لہٰذا انہوں نے ہندؤں کو مسلمانوں سے لڑانے کی کوشش کی۔ انھوں نے جان بوجھ کر مسلمانوں کی امیج بگاڑی۔ پھر اس بگڑی ہوئی تصویر کو ہندوؤں کے ذہنوں میں بٹھانے کی جدوجہد کی۔ اس مقصد کے لیے انھوں نے تاریخ کو توڑ مروڑ کر پیش کیا اور تعلیمی نصاب کی کتابوں میں مسلمانوں کی کردار کشی پر مبنی زہریلا مواد بھر دیا۔‘‘ [اسلام اور عصر حاضر کے مسائل، ڈاکٹر سعود عالم قاسمی، ص:۱۳۶]
عظیم صحافی مولانا محمد عثمان فارقلیط علیہ الرحمہ اس ضمن میں نصیحت فرماتے ہیں کہ ’’ہندوستانی مسلمانوں کو اگر کوئی تاریخی رول ادا کرنا ہے تو اس کا ایک عملی پہلو یہ ہے کہ ان کا ہر فرد دوسروں سے شخصی رابطہ پیدا کرے اور ان کے دل میں اترنے کے لیے کوئی تدبیر سوچے، مسلمان جس کو اپنا سب سے زیادہ مخالف سمجھیں، وہ اسی کے پاس پہنچیں اور اس کی سن کر اپنی سنائیں اور اس کی غلط فہمیوں کو دور کرنے کی کوشش کریں………… شخصی ملاقات او ر تعلقات سے جو نتائج برآمد ہوسکتے ہیں وہ کسی کانفرنس کی دس قراردادوں سے بھی برآمد نہیں ہوسکتے۔ پس اپنے مخالف کو یہ باور کراؤ کہ تم اس کے حریف نہیں ہو، پھر افہام وتفہیم کا تیر نشانہ پر بیٹھ جائے گا اور اس کی غلط فہمیاں بدلی کی طرح چھٹتی چلی جائیں گی۔ اگر مردہ زمین بارش کے چھینٹوں سے ازسر نو زندہ ہوسکتی ہے تو محبت کے چھینٹوں سے مردہ دلوں کو بھی از سر نو زندگی مل سکتی اور مایوسی امید میں بدل سکتی ہے۔‘‘ [عظیم صحافی مولانا محمد عثمان فارقلیط کے منتخب اداریے، مرتبہ سہیل انجم، ص:۷۶]

اخلاق و کردار کی ضرورت:
دعوت و تبلیغ اور تعامل میں حسن اخلاق کا کلیدی کردار ہوتا ہے، اس کے بغیر داعی کی ذات مؤثر نہیں ہوپاتی، پیچھے بیان ہوا کہ ہندوستان میں اسلام کی اشاعت میں اس کے مبلغین کی دعوت اور ان کا کردار سبب بنا، موجودہ حالات میں اس کی اہمیت دو چند ہوجاتی ہے، مسلمان اپنے اخلاق و کردار کے ذریعہ غیر مسلموں کا دل جیتنے کی کوشش کریں، یہی کردار ہمارا مستقبل طے کرے گا۔ امام الہند فرماتے ہیں:
’’ہندو مجارٹی کا خوف دل سے نکال دیجیے…… اصل شہ قوموں کی معنوی قوت ہے جو اس کے اخلاق، اس کے کیرکٹر، اس کے اتحاد اور دراصل ہماری اصطلاح میں مشیت الٰہی اور اعمال حسنہ سے پیدا ہوتی ہے۔‘‘[ الہلال، ۱۸؍دسمبر ۱۹۱۲ء]
اپنے کردار کا مظاہرہ ہم متعدد مواقع پر کرسکتے ہیں، بالخصوص جب کوئی ہنگامی صورت حال درپیش ہو۔ فرقہ وارانہ فسادات ہوں یا کوئی آسمانی آفت، زلزلے ہوں یا سیلاب، ان تمام ناگہانی صورتوں کے رونما ہونے کے وقت ریلیف اور رضاکارانہ خدمات پیش کرنے کے لیے مسلمانوں کی نمائندگی از حد اہمیت رکھتی ہے، اس میں بلا تفریق مسلک و مذہب خدمت ایک انسانی فریضہ ہے، چنانچہ مولانا تنظیم عالم قاسمی رقمطراز ہیں:
’’جب کوئی قدرتی آفت آتی ہے تو بلا تفریق سماج کے تمام افراد اس کے شکار ہوتے ہیں اور سبھی مدد کے محتاج ہوتے ہیں۔ ایسے وقت میں مسلم ریلیف تنظیموں کو صرف انسانیت کو پیش نظر رکھ کر فیصلہ کرنا چاہیے، مذہبی تعصب کی اجازت نہیں، چاہے غیر مسلم تنظیمیں مسلمانوں کو تعصب کے نقطۂ نظر سے دیکھیں یا تعاون کریں، اس لیے کہ عوض میں احسان کرنے کا نام صلہ رحمی نہیں ہے، سامنے والے چاہے اخلاق کے اعتبار سے جیسے بھی ہوں، ان کے ساتھ نرم مزاجی اور حسن گفتار کا حکم دیا گیا ہے، حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا:

’’لیس الواصل بالمکافي ولکن الواصل الذي إذا انقطعت رحمہ وصلہا‘‘ (ترمذی:۲؍۱۳)‘‘

[غیر مسلم ممالک میں آباد مسلمانوں کے مسائل ، ص:۴۴۲]
کوئی بزم ہو کوئی انجمن، یہ شعار اپنا قدیم ہے
جہاں روشنی کی کمی ملے، وہیں اک چراغ جلا دیا

مشترکہ مسائل کے حل میں اتحاد:
حسن تعامل کی ایک اور صورت یہ بھی ہوسکتی ہے کہ سماج کے وہ مسائل جو مشترک ہیں اور جن میں مذہب کا عمل دخل نہیں ان کو غیر مسلموں کے اشتراک سے حل کیا جائے، اور آپسی تعلقات مضبوط کیے جائیں، اس بابت مولانا سلطان احمد اصلاحی لکھتے ہیں:
’’سماج کی مشترکہ ذمہ داریوں اور اچھی باتوں کی ترویج اور منکرات کو روکنے کے لیے غیر مسلموں کے اشتراک سے کام کیا جاسکتا ہے، اور ایسے ادارے اور تنظیمیں قائم کی جاسکتی ہیں جن میں مسلمانوں اور غیر مسلم بھائیوں کا اشتراک ہو، حیات طیبہ علی صاحبہا الصلاۃ والسلام میں حلف الفضول کے معاہدے اس کے حق میں نظیر ہیں، جس کے لیے نبوت کے بعد بھی آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: اگر آج بھی مجھ کو اس جیسے کسی معاہدے کے لیے طلب کیا جائے تو میں آنے کے لیے تیار ہوں یہاں تک کہ یہ میرے لیے عرب کے قیمتی ترین مال سرخ اونٹوں سے بھی بہتر اور محبوب ہوگا۔ (ابن ہشام، السیرۃ النبویہ: ۱؍۱۴۸، ۱۴۹)‘‘ [ غیر مسلم ممالک میں آباد مسلمانوں کے مسائل ، ص:۵۳۰]

بھڑکیلے اور فرقہ وارانہ بیانات سے پرہیز:
اسلامی نقطۂ نظر سے بھی یہ بات نازیبا ہے کہ غیر مسلموں کے معبودان باطلہ کو برا بھلا کہا جائے اور پھر وہ نادانی میں اللہ کی ذات کو نشانہ بنائیں۔ لیکن ہندوستان کی سیاست میں مسلم طبقے کے بعض جوشیلے مقررین اور سیاستدانوں کی جانب سے بسا اوقات ایسی طنزیہ باتیں سامنے آتی ہیں جو ایک طرف غیر مسلموں کو برگشتہ کرتی ہیں تو دوسری طرف اس کو جواز بنا کر اسلام، قرآن اور پیغمبر اسلام پر نازیبا تبصرے کیے جاتے ہیں۔

تعامل کی دیگر شکلیں:
برادران وطن سے تعلقات بہتر بنانے اور ان کے دلوں سے اسلام کے بارے میں غلط فہمی کو دفع کرنے کے لیے متعدد ذرائع اپنائے جاسکتے ہیں۔ ایسا ہونا چاہیے کہ ہم اپنے مدارس و مکاتب میں ہونے والے پروگراموں میں ان کو مدعو کریں اور ان کے سامنے اسلام کی بابت اچھا تاثر پیش کریں، مدارس پر دہشت گردی کے الزامات کے ازالے کے لیے یہ چیز ضروری ہے۔ اسی طرح غیر مسلموں کے ذریعہ منعقد کیے گئے پروگراموں میں بھی علماء کو جانا چاہیے اور اپنی بات رکھنی چاہیے۔ اس سلسلے میں بین مذاہب مکالمے کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ بے شمار موضوعات ہیں جن پر مسلک و مذہب سے اوپر اٹھ کر غور کرنے اور سوچنے کی ضرور ت ہے۔

ضروری وضاحت:
غیر مسلموں کے ساتھ معاملہ کرتے وقت اس بات کو یاد رکھنا ہوگا کہ اسلام اور کفر کی راہیں جدا جدا ہیں، مسلمان کبھی اپنی ترقی کی کسوٹی اہل کفر کو نہیں بنا سکتا، اور نہ ہی ان کے نقش قدم پر چلنا اس کے لیے شرعی لحاظ سے مشروع ہے۔ ولاء اور براء کے شرعی قاعدے کو پیش نظر رکھنا ضروری ہے۔ بحیثیت مسلمان ہمیں اپنا عقیدہ، اپنا ایمان اور اپنا تشخص بہر حال عزیز رہے گا۔ مولانا سید ابو الحسن علی ندوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’ہم مسلمانوں نے پورے عزم کے ساتھ سوچ سمجھ کر ہندوستان میں رہنے کا فیصلہ کیا ہے…. ہمارے اس فیصلے کو ارادۂ الٰہی کے سوا کوئی طاقت نہیں بدل سکتی، ہمارا یہ فیصلہ کسی کم ہمتی، مجبوری یا بے چارگی پر مبنی نہیں، ہمارے آس پاس اور دور و نزدیک بہت سے اسلامی ممالک ہیں جہاں ہم منتقل ہوسکتے ہیں، لیکن ہم نے سوچ سمجھ کر یہیں رہنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ہمارا دوسرا فیصلہ یہ ہے کہ ہم اس ملک میں اپنے پورے عقائد، دینی شعائر اور اپنی پوری مذہبی اور تہذیبی خصوصیات کے ساتھ رہیں گے۔‘‘ [ماہنامہ الفرقان لکھنؤ، ستمبر ۔دسمبر ۲۰۱۴ء، ص:۶]
اللہ رب العز ت ہم سب کو اپنے دینی وملی تشخص و وقار کے ساتھ رہنے کی توفیق بخشے اور وطن عزیز کو امن وامان عطا فرمائے۔

وصلی اللہ علی خیر خلقہ محمد، وعلی آلہ وصحبہ وسلم۔

1
آپ کے تبصرے

avatar
3000
1 Comment threads
0 Thread replies
0 Followers
 
Most reacted comment
Hottest comment thread
1 Comment authors
سعد احمد Recent comment authors
newest oldest most voted
سعد احمد
Guest
سعد احمد
بہترین.